"ذوالفقار علی دانش" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 11: سطر 11:
=== پیشیہ ورانہ زندگی ===
=== پیشیہ ورانہ زندگی ===


کچھ  عرصہ  واہ  کینٹ  اور  حسن  ابدال  میں  کلینک  بھی  کیا  ۔  آج  کل  آپ  اپنی  آن  لائن  میڈیکل  ٹرانسکرپشن  کی  فرم  چلا  رہے  ہیں  اور  امریکہ  کے  ایک  کارڈیالوجی  کلینک  سے  وابستہ  ہیں  ۔    اس  کے  علاوہ  آپ  اپنی  مادرِ  علمی  کیڈٹ  کالج  کوہاٹ  کے  ایکس  کیڈٹس  کی  ایسوسی  ایشن  کوہاٹینز  ایسوسی  ایشن  کے  جوائنٹ  سیکرٹری  کے  عہدے  پر  بھی  فائز  ہیں  ۔  آپ  شفا  انڑنیشنل  ہسپتال  اسلام  آباد  سے  وابستہ  کِنڈل  فاؤنڈیشن  کے  گزشتہ  تین  سال  تک  جوائنٹ  سکیرٹری  رہے  اور  آج  کل  بطور  سیکرٹری  پریس  ،  انفارمیشن  اور  میڈیا  خدمات  سرانجام  دے  رہے  ہٰیں۔  
کچھ  عرصہ  واہ  کینٹ  اور  حسن  ابدال  میں  کلینک  بھی  کیا  ۔  آج  کل  آپ  اپنی  آن  لائن  میڈیکل  ٹرانسکرپشن  کی  فرم  چلا  رہے  ہیں  اور  امریکہ  کے  ایک  کارڈیالوجی  کلینک  سے  وابستہ  ہیں  ۔    اس  کے  علاوہ  آپ  اپنی  مادرِ  علمی  کیڈٹ  کالج  کوہاٹ  کے  ایکس  کیڈٹس  کی  ایسوسی  ایشن  کوہاٹینز  ایسوسی  ایشن  کے  جوائنٹ  سیکرٹری  کے  عہدے  پر  بھی  فائز  ہیں  ۔  آپ  شفا  انڑنیشنل  ہسپتال  اسلام  آباد  سے  وابستہ  کِنڈل  فاؤنڈیشن  کے  گزشتہ  تین  سال  تک  جوائنٹ  سکیرٹری  رہے  اور  آج  کل  بطور  سیکرٹری  پریس  ،  انفارمیشن  اور  میڈیا  خدمات  سرانجام  دے  رہے  ہٰیں۔


=== ادبی خدمات ===
=== ادبی خدمات ===

نسخہ بمطابق 20:20، 23 فروری 2017ء


ذوالفقار علی ملک 31 جنوری ]]1978[[ بروز منگل ملک خاندان کے چشم و چراغ عبدالحمید ملک کے گھر میں پیدا ہوئے ۔

آپ آبا و اجداد سے شہر حسن ابدال کے مالکان میں سے چلے آ رہے ہیں ۔ والدِ گرامی ، دادا ، پردادا سچے سُچے عاشقانِ رسول ہو گزرے ہیں ۔ آپ کے دادا ایک روحانی شخصیت تھے اور والد صاحب اگرچہ خود شعر نہیں کہتے تھے لیکن بہت بلند پایہ ذوق رکھتے تھے اور اساتذہ کے ہزارہا اردو اور فارسی اشعار انھیں ازبر تھے اور اکثر و بیشتر انھیں گنگنایا بھی کرتے تھے۔ بعد ازاں ذوالفقار علی ملک سلطان الشعرا عبد القیوم طارق سلطانپوری کی رفاقت بھی نصیب رہی ۔ اور انھی کے زیرِ سایہ عمر کی منازل طے کرتے رہے ۔ تقاریر، قرات و نعت خوانی کا شوق بچپن سے ہی تھا اور والد بزرگوار اور عبد القیوم طارق سلطانپوری اس میں رہنمائی کا فرض سر انجام دیتے تھے ۔ گھر میں بھی سالانہ محافلِ میلاد کا اہتمام ہوتا تھا ۔ سلسلہِ طریقت میں آپ حضرت پیر مہر علی شاہ کے پوتے پیر سید شاہ عبدمالحق المعروف چھوٹے لالہ جی سے سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہیں ۔

رسمی تعلیم

آپ نے ابتدائی پرائمری تعلیم حسن ابدال پبلک اسکول سے حاصل کی ۔ سرسید کالج واہ کینٹ سے مڈل کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا ۔ بعد ازاں کیڈٹ کالج کوہاٹ میں میرٹ سکالرشپ پر صوبہ پنجاب کی اکلوتی سیٹ پر سیلیکٹ ہوئے ۔ میٹرک تک کیڈٹ کالج کوہاٹ میں تعلیم حاصل کی ، ایف ایس سی سائنس ڈگری کالج واہ کینٹ سے کی ۔ بعد ازاں سن 97- 1996 پشاور میں میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا ۔ اسی دوران سن 2000 میں پینجاب یونیورسٹی سے سوشیالوجی اور فارسی میں بھی گریجویشن کی ۔ بعد ازاں سن 2012 میں کینٹ ہومیوپیتھک میڈیکل کالج حسن ابدال سے ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی ڈگری بھی حاصل کی ۔ اسی سال ہیلنگ انرجی کے سرٹیفیکیٹ کورسز بھی کیے ۔

پیشیہ ورانہ زندگی

کچھ عرصہ واہ کینٹ اور حسن ابدال میں کلینک بھی کیا ۔ آج کل آپ اپنی آن لائن میڈیکل ٹرانسکرپشن کی فرم چلا رہے ہیں اور امریکہ کے ایک کارڈیالوجی کلینک سے وابستہ ہیں ۔ اس کے علاوہ آپ اپنی مادرِ علمی کیڈٹ کالج کوہاٹ کے ایکس کیڈٹس کی ایسوسی ایشن کوہاٹینز ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر بھی فائز ہیں ۔ آپ شفا انڑنیشنل ہسپتال اسلام آباد سے وابستہ کِنڈل فاؤنڈیشن کے گزشتہ تین سال تک جوائنٹ سکیرٹری رہے اور آج کل بطور سیکرٹری پریس ، انفارمیشن اور میڈیا خدمات سرانجام دے رہے ہٰیں۔

ادبی خدمات

ادبی طور پر آپ ملک گیر ادبی تنظیم چوپال پاکستان کے ریجن کے صدر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ اس کے علاوہ محفلِ نعت پاکستان ، بزمِ حمد و نعت اسلام آباد ، لوح و قلم فاؤنڈیشن واہ کینٹ کے رکن ہیں ۔

شاعری

شعر  کہنے  کا  آغاز  غالباً  چھٹی  کلاس  میں    1988  میں  کیا  ۔  دانش  تخلص  کرتے  ہیں  اور  قلمی  نام  ڈاکٹر  ذوالفقار  علی  دانش  ہے  ۔  ابتدا  میں  کافی  عرصہ  غزل  اور  نظم  و  نثر  کی  طرف  مائل  رہے  ۔  قریباً  سن  2000  میں  نعت  کا  پہلا  شعر  کہا  ۔  شاعری  میں  کوئی  باقاعدہ  استاد  نہیں  رہا  ،    کسی  حد  تک  عبد  القیوم  طارق  سلطانپوری    سے  کبھی  کبھار  رہنمائی  لیتے  تھے  ۔    لیکن  بوجہ  ادب  و  احترام  کبھی  ان  کے  سامنے  کسی  مشاعرے  میں  یا  ویسے  اپنا  کلام  سنانے  کی  جرات  نہیں  کی  ۔    سن  2014  میں  والدِ  گرامی    کے  وصال  اور  پھر  اگلے  ہی  سال  سن  2015  میں  عبد  القیوم  طارق  سلطانپوری  کے  وصال  کے  بعد  باقاعدہ  نعت  گوئی  کے  میدان  میں  آئے  ۔  اور  کچھ  اس  انداز  سے  کہ  نعت  گوئی  ہی  ان  کا  حوالہ  بن  گیا      خود  اپنی  ایک  نعت  کے  مقطع  میں  اس  فخر  کا  اظہار  کچھ  ان  الفاظ  میں  کرتے  ہیں    

میں دانش اپنے مقدر پہ کیوں نہ ناز کروں کہ نعت گوئی ہی اب تو مرا حوالہ ہے ۔


نمونہ ء کلام

مزید دیکھیے =

حافظ محبوب احمد | ذوالفقار نقوی | محمد عارف قادری