<?xml version="1.0"?>
<feed xmlns="http://www.w3.org/2005/Atom" xml:lang="ur">
	<id>https://naatkainaat.org/api.php?action=feedcontributions&amp;feedformat=atom&amp;user=182.185.156.245</id>
	<title>نعت کائنات - صارف کی شراکتیں [ur]</title>
	<link rel="self" type="application/atom+xml" href="https://naatkainaat.org/api.php?action=feedcontributions&amp;feedformat=atom&amp;user=182.185.156.245"/>
	<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php/%D8%AE%D8%A7%D8%B5:%D8%B4%D8%B1%D8%A7%DA%A9%D8%AA%DB%8C%DA%BA/182.185.156.245"/>
	<updated>2026-06-27T17:17:43Z</updated>
	<subtitle>صارف کی شراکتیں</subtitle>
	<generator>MediaWiki 1.40.4</generator>
	<entry>
		<id>https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%DB%81_%D9%88_%D9%86%D8%B9%D8%AA%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%85%D9%84_%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%DB%94_%D8%AD%D9%84%DB%8C%D9%85_%D8%94_%D8%B5%D8%A7%D8%A8%D8%B1&amp;diff=20071</id>
		<title>حمدیہ و نعتیہ ادب پر امتیازی خصوصیت کا حامل دبستان ِ نعت ۔ حلیم ؔ صابر</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%DB%81_%D9%88_%D9%86%D8%B9%D8%AA%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%AF%D8%A8_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2%DB%8C_%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5%DB%8C%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D8%AD%D8%A7%D9%85%D9%84_%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%DB%94_%D8%AD%D9%84%DB%8C%D9%85_%D8%94_%D8%B5%D8%A7%D8%A8%D8%B1&amp;diff=20071"/>
		<updated>2018-03-23T20:03:16Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;182.185.156.245: نیا صفحہ: حلیمؔ صابر( کلکتہ )  حمدیہ و نعتیہ ادب پر امتیازی خصوصیت کا حامل  ’’دبستان ِ نعت ‘‘  آغازِ اسلام سے...&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;حلیمؔ صابر( کلکتہ )&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حمدیہ و نعتیہ ادب پر امتیازی خصوصیت کا حامل&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’دبستان ِ نعت ‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آغازِ اسلام سے لے کر اب تک چودہ سو سے زائد عرصے پر محیط حمدیہ و نعتیہ ادب کا گراں قدر سرمایہ جو شعرائے متقدمین کی عربی و فارسی نعت گوئی کے حوالے سے موجود ہے اُس میں اردو حمد و نعت نے مزید اضافہ کیا وہ ایسی ایمان افروز شاعری پر مشتمل ہے جس کی مثال دیگر مذاہب کے پیشواؤں کی شان میں لکھے گئے قصائد پیش نہ کر سکے۔ لہٰذا شاعری کی تاریخ اس کا اعتراف کرتی ہے کہ اسلامی عقیدے کی رو سے حمدیہ و نعتیہ جیسی پاکیزہ صنف سخن پر طبع آزمائی کرنے والوں نے دینی شعائر کے تحت اتنا بڑاا کارنامہ انجام دیا ہے جس کی حیثیت لا محدود ہے لیکن اس کے باوجود نعتیہ ادب پر بھر پور توجہ صرف نہیں کی گئی جس کے سبب نعتیہ شاعر ی کے بہت سارے گوشے چشم ِعالم سے اب تک اوجھل رہے اور اردو کے محققین اور ناقدین اس کے تعلق سے نا وا قفیت کے دائرے میں گھرے رہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خدا کا شکر ہے کہ چند بندگانِ خدا جن کا شمار اہلِ دانش میںہوتا ہے انہوں نے اس جانب اپنی توجہ صرف کی اور پچھلے پانچ سو برسوں سے آج تک کے نعتیہ کلام کا جائزہ لیا اور نعتیہ ادب کی ترویج و توسیع اور فروغ کے لئے حمد و نعت پر مشتمل تحقیقی و تنقیدی جریدہ ’’ دبستان ِ نعت ‘‘ ششماہی کا اجراء بڑی شان و شوکت کے ساتھ اتر پردیش کے شہر خلیل آباد سے کیا ، جس کا پہلا شمارہ جو چار سو صفحات پر محیط ہے مجھے اُس کے مدیر محترم ڈاکٹر سراج احمد قادری نے ایک ادب نواز اور مخلص انسان جناب فیروز احمد سیفی نیو یارک ،امریکہ کے حوالے سے تحفتاًارسال فرمایا ہے۔ جس کا مطالعہ میرے حق میںیقینامفید ثابت ہوگا۔ ابھی میں نے سرسری طور پر اُس کا مطالعہ کیا ہے جس پر اپنی مختصر رائے قلم بند کر رہا ہوں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس سے پہلے کہ میں ’’ دبستانِ نعت ‘‘ پر خامہ فرسائی کروں یہ چاہتا ہوں کہ اس عالمی جریدے کے سرپرست پروفیسر ڈاکٹر سید حسین احمد ،سجادہ نشین خانقاہ حضرت دیوان شاہ ارزانی، پٹنہ ، بہار ، اس کے نگراں فیروز احمد سیفی، نیو یارک ، امریکہ اور مدیرِ با وقارڈاکٹر سراج احمد قادری کے علاوہ اس کے عالمی معاونین سید صبیح الدین صبیحؔ رحمانی (کراچی)، ڈاکٹر عبد القادر غیاث الدین فاروقی (نیو یارک )اور قاضی اسد ثنائی، حیدرآباد کو تہ دل سے مبارک باد پیش کروں جن کی محنت شاقہ کے نتیجے میں یہ جریدہ ملّت اسلامیہ کے بہی خواہوں تک پہنچ پایا اور زینت نگاہ بن کر ان کی عقیدتِ قلبی کو تسکین بخشنے کا سبب ثابت ہوا۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ دبستانِ نعت ‘‘ کے مدیرِ اعلیٰ اپنے اداریہ میں رقم طراز ہیں ، ملاحظہ فرمائیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ اس مجلے کوپیش کرنے کا ہمارا بنیادی مقصد حمد و نعت کے فروغ و ارتقأ کے حوالے سے ادبا، شعرأ اور محققین کی ان کاوشوں سے اہلِ علم کو رو شناس کرانا ہے جو اب تک ناقدینِ ادب کی توجہ سے محروم رہی ہیں۔ آج بھی اردو ادب کا گراں قدر سرمایہ مخطوطات کی شکل میں  یونیورسٹیز اور دیگر کتب خانوں میں محفوظ ہے۔ انہیں مخطوطات میں نعتیہ ادب کے گلِ سرسبد شعرائے کرام کے مسودے اور بیاضیں بھی ہیں جن کو اب تک اہلِ علم کے درمیان متعارف نہیں کرایا جا سکا۔ ‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نعتیہ ادب کے حوالے سے ’’ دبستانِ نعت ‘‘ کی پیش کش ایک مستحسن قدم ہے جس سے نعتِ پاک کی افادیت پر بھر پور روشنی پڑے گی اور ایمان و یقین کی ضو فشانی عقیدتمندوں کے دلوں کو منوّر کرے گی۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس جریدے میں نعت گو شعرأ کے حوالے سے صرف مسلم شعرأ کے تذکرے شامل نہیں کئے گئے بلکہ غیر مسلم شعرأ جنہوں نے سرورِ دو عالم ﷺ کی شان میں نعتوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ان کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور نمونہ ٔ نعت بھی شامل ہے۔ جس سے کتاب کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر جہاں عالمی شہرت یافتہ شاعروں کے تذکرے نعت گوئی کے حوالے سے قلم بند کئے گئے ہیں وہیں غیر معروف شعرأ پر بھی مضامین شامل گئے گئے ہیں اور ان کی نعتیں بھی شامل کی گئی ہیں جس سے نعتیہ شاعری کے بہت سارے ایسے گوشے بھی سامنے آئے ۔ جو اب تک پردۂ خفا میں تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’دبستانِ نعت‘‘ میں شامل سارے مضامین بے حد معلوماتی ہیں جن کے مطالعے سے ذہن و دل نور ایماں جگمگا اٹھے ہیں۔ ڈاکٹر خسرو حسینی نے ’’ فنِ نعت اور نعت گوئی‘‘ کے تعلق سے ۳۰؍ صفحات پر مشتمل جو مضمون پیش کیا وہ ہر نعت گو شاعر کے لئے رہنُما ثابت ہو سکتا ہے اگر اُس پر عمل کیا جائے ۔ ڈاکٹر عزیز احسن ( کراچی ) نے ’’ نعت اور ہماری شعری روایت ‘‘ کے عنوان سے لفظ ’’ہماری‘‘ کی وسعتوں کو بیان کرتے ہوئے عرب و عجم کیااسلامی معاشروں کی شعری روایت سے گزر کر اردو کی اقلیم نعت تک رسائی حاصل کی ہے۔ مرزا ساجد حُسین ساجد امروہوی نے نعت اور اس کی ارتقأ پر خامہ فرسائی کی ہے ڈاکٹر فہیم احمد کا مضمون شہرۂ آفاق غیر مسلم شاعر کرشن کمار طورؔکی نعتیہ شاعری کے تعلق سے معلوماتی ہے۔ طورؔ کانعتیہ مجموعہ ’’ چشمہ ٔ چشم ‘‘ ۲۰۰۰؁ء میں شائع ہوا تھا۔ فیروز احمد سیفی (نیو یارک) نے سر زمین گل برگہ شریف سے تعلق رکھنے والی بلبل باغ رسالت ڈاکٹر صغریٰ عالم جو شعبہ ٔ درس و تدریس سے وابستہ تھیں کا ذکر حمدیہ و نعتیہ شاعری کے حوالے سے کر کے عظیم شاعرہ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شاعری کی ایک صنف غیر منقوطہ شاعری ہے جس کو برتنے والے شاید دو چار فیصد ملیں گے۔ طاہرؔ سلطانی ( کراچی ) نے غیر منقوطہ حمدیہ و نعتیہ شاعری کا جائزہ لیا ہے اور مولانا ولی رازی جن کا غیر منقوطہ نعتیہ مجموعہ ۱۹۸۰؁ء میں شائع ہوا ان پر اپنی رائے کا اظہار احسن انداز میں کیا ہے۔ ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری (پونہ ) نے خواجہ محمد اکبر وارثی کی کتاب ’’ میلادِ اکبر ‘‘ کے حوالے سے مضمون سپردِ قلم کیا ہے اور اکبر ؔ وارثی کی دو لوری بھی شامل کر دی ہے جو بزبان حلیمہ سعدیہ انہوں نے پیش کی ہے۔میلادِ اکبر کے کئی ایڈیشن دہلی سے شائع ہو چکے ہیں۔ بی بی حلیمہ کی زبان میں جو لوری نبی کریم ﷺ کے تعلق سے ہے اس میں گیارہ اشعار ہیں تین اشعار جو مضمون نگار نے کوڈ کئے ہیں ملاحظہ فرمائیں۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ حلیمہ کہ رہی ہے میرے گل عذار سو جا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ترے جاگنے کے صدقے مری جانِ زار سو جا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بنی سعد کا قبیلہ ہوا باغ باغ تجھ سے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرا دودھ پینے والے نو گلِ بہار سو جا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرا دل ہو تجھ پہ واری مری جان تجھ پہ صدقے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرے نورِ عین سو جا مرے شیر خوار سو جا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نعتیہ شاعری کا تاریخی پسِ منظر علیم صبا نویدی ( چنئی) نے مختصر طور پر مگر جامع انداز میں پیش کیا ہے۔ جس میں عربی نعتوں کے حوالے سے حضور اکرم ﷺ کی ارفع و اعلیٰ صفات اور خصوصیات کا عکس پاکیزہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پندرہویں صدی کے صوفی شاعر نورالدین عبد الرحمن جامیؔ جن کی وفات ۱۴۹۲؁ء میں ہوئی۔ فارسی شاعری میں ایک مقام رکھتے تھے۔ ان کے تعلق سے تنویر پھول ؔ( نیو یارک ) ، ڈاکٹر سید یحیٰ نشیط اور ڈاکٹر رضوان انصاری کے مضامین بھی اس میں شامل ہیں جن سے جامیؔ کی نعتیہ شاعری کے اسرار کھلتے ہیں۔ جنہوں نے کہیں صرف فارسی تو کہیں فارسی و عربی کی آمیزش سے ہر ایک مصرع تیاّر کیا ہے جس کا مطالعہ ایمان افروز ہونے کے علاوہ لطف سے خالی نہیں ہے۔ ’’ وہ شعر ملاحظہ فرمائیں جس کا ہر مصرع آدھا فارسی اور آدھا عربی ہے‘‘۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دو چشمِ نر گسینش را ما زاغ البصر خوانند &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دو زلف عنبرینش را کہ والّیل اذا یغشیٰ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ز سرّ سینہ اش جامیؔ الم نشرح لک بر خواں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ز معراجش چہ می پرسی کہ سبحان الّذی اسریٰ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے علاوہ بہت سے مشہور و معروف اہلِ قلم نے حمدیہ و نعتیہ شاعری سے متعلق مضامین قلم بند کئے ہیں جو اس جریدے کی افادیت میں اضافہ کرتے ہیں اور ان کے مطالعے سے معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ’’ دبستان ِ نعت ‘‘ کا سلسلہ ٔ اشاعت آئندہ بھی جاری رہے اس کے لئے بھی کوشش کرنی چاہئے اور زیادہ سے زیادہ قارئین کو اس سے متعارف کرایا جائے تاکہ نعتیہ ادب کے حوالے سے مزید ایسے گوشے ان کے سامنے آئیں جو نظروں سے اب تک اوجھل ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مدیر کا رابطہ نمبر 9415875761 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
(اخبار مشرق۔ کلکتہ مورخہ ۱۵؍ستمبر ۲۰۱۶؁ء)&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>182.185.156.245</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%94_%D8%B7%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86%DB%8C&amp;diff=20070</id>
		<title>دبستانِ نعت پر ایک نظر ۔ طاہر سلطانی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%94_%D8%B7%D8%A7%DB%81%D8%B1_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86%DB%8C&amp;diff=20070"/>
		<updated>2018-03-23T20:01:38Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;182.185.156.245: نیا صفحہ: طاہر حسین طاہرؔ سلطانی(کراچی)   دبستانِ نعت پر ایک نظر   جناب ڈاکٹر سراج احمد بستوی صاحب  محترم فیرو...&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;طاہر حسین طاہرؔ سلطانی(کراچی) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دبستانِ نعت پر ایک نظر&lt;br /&gt;
 &lt;br /&gt;
جناب ڈاکٹر سراج احمد بستوی صاحب&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محترم فیروز احمد سیفی صاحب&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
امید ہے آپ خیر و عافیت سے ہوں گے۔ آپ حضرات کی عقیدت و محبت اور خلوص کا آئینہ ’’دبستانِ نعت‘‘ (ششماہی) موصول ہوا۔ دل کے آنگن میں، سبحان اللہ سبحان اللہ کی صدائیں گونجنے لگیں۔ آپ دونوں صاحبان اور اس شمارے میں لکھنے والے تمام ہی اہل علم و قلم کے لیے قلب کے ہر گوشے سے دعائے خیر کے کلمات زبان پر آگئے۔ اللہ عز و جل، حضور پرنور آنحضرت ﷺ کے طفیل آپ کی سعی کو قبول و منظور فرماپے۔ (آمین)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’دبستانِ نعت‘‘ کے پہلے شمارے کے مشمولات کو دیکھنے کے بعد یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ آپ نے اُردو نعتیہ ادب کو ایک یادگار و شاندار اور معیاری رسالہ ’’دبستانِ نعت‘‘ کی شکل میں دیا ہے جو وابستگانِ نعت کے لیے بہارِ جاں فزا ثابت ہوگا۔ تحمید و تقدیس کے باب میںربِّ ذوالجلال کی بارگاہ میں ترانہ حمد سے آغاز ، جناب تنویر پھول،ؔ جناب ابرارؔ کرت پوری اور راقم الحروف کے حمدیہ کلام سے کیا گیا ہے۔ گوشۂ گنجینۂ نقد و نظر، ڈاکٹر سید حسین احمد کا مضمون ’’کیا نعت صنف ِسخن ہے‘‘ میں تشنگی محسوس ہوتی ہے۔۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حمد و نعت لکھنا، پڑھنا اور سماعت کرنا باعث ِسعادت و برکت ہے۔ تمام اصنافِ سخن حمد و نعت کے آگے ہاتھ جوڑے محو ِ التجا ہیں کہ آپ ہمارے سر کا تاج ہیں۔ دوسرا مضمون، ڈاکٹر سید خسرو حسینی کا ’’فن نعت اور نعت گوئی‘دبستانِ نعت کی زینت بنا ہے۔ جسے حصہ اوّل قرار دیا گیا ہے۔ دوسرے حصے کے مطالعے کے بعد (انشاء اللہ) بھرپور تبصرہ کیا جائے گا۔ تیسرا مضمون ڈاکٹر صابر سنبھلی نے تحریر فرمایا ہے’’حدائقِ بخشش کے صنائع بدائع پر ایک اور نظر‘‘ محدثِ بریلوی شاہ احمد رضا خاں کی نعتیہ شاعری کے حوالے سے مختصر مگر خوبصورت مضمون ہے ا مام اہلسنت شاہ احمد رضا خاں کی نعتیہ شاعری پر بہت زیادہ لکھا گیا، مزید یہ سلسلہ جاری ہے، راقم الحروف کو بھی یہ سعادت حاصل ہوچکی ہے کہ 2005ء میں ’’جہانِ حمد‘‘(کتابی سلسلہ۔کراچی) کا عاشق رسول امام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ نمبر میں شائع کیا۔ جس کے صفحات 544ہیں۔ اس کتاب نما رسالے کی شہرِ حمد و نعت کراچی میں دو اہم تقریب تعارف منعقد ہوئیں، پہلی تقریب ڈاکٹر فرمان فتح پوری مرحوم کی صدارت میں آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوئی، مہمانِ خصوصی پروفیسر سحر انصاری تھے دیگر مقررین میں اد یب رائے پوری مرحوم، بابا صوفی معین الدین چشتی ظہوری، صوفی الحاج محمد کمال میاں جمیلی سلطانی وغیرہ شامل تھے۔ ظہوری، صوفی الحاج محمد کمال میاں جمیلی سلطانی وغیرہ شامل تھے۔درباارِ سلطانی کی جانب سے فقیر پُر تقصیر کی تاج پوشی غیر اعلانیہ طور پر کی گئی، جس کی مجھے خبر نہیں تھی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دوسری تقریب شہر قائد کی سب سے بڑی جامع میمن مسجد، بولٹن مارکیٹ میں حضرت علامہ مفتی محمداختر رضا خاں بریلوی کی صدارت میں ’’اہلسنّت کانفرنس‘‘ کے انعقاد کے موقع پر عاشق رسولﷺامام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ نمبرکی خصوصی اشاعت کی تقریب تعارف بدست مبارک مفتی اعظم ہند علامہ محمد اختر رضا خاں بریلوی ہوئی جو راقم کے لیے نہ صرف یہ کہ ایک بڑی سعادت تھی بلکہ ایک بڑا اعزاز بھی۔راقم کا مضمون ’’اعلیٰ حضرت کی نعتیہ شاعری میں مناقب‘‘ دبستانِ نعت کے لیے حاضر ہے۔ اگر مناسب سمجھیں تو ’’دبستانِ نعت‘‘ کا مولانا احمد رضا حمد و نعت نمبر کی اشاعت کا اہتمام ضرور کریں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’نعت اور ہماری شعری روایت‘‘ مختصر مگر اچھا مضمون ہے، اسے تحریر کیا ہے ڈاکٹر عزیز احسن نے۔ مرزا ساجد حسین امروہوی نے ’’نعت رسول ﷺ اور اس کی ارتقاء‘‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’دلوں کو تڑپادینے والے اشعار کہے نہیں جاتے ہوجاتے ہیں‘‘۔ غیر مسلم نعت گو شاعر، کرشن کمار طورؔ کی نعتیہ شاعری کا جائزہ لیا ہے۔ ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی نے مجموعہ نعت ’’چشمۂ چشم‘‘ کے شاعر کرشن کمار طور ؔ فرماتے ہیں، میری حمدیں اور نعتیں اس بات کی عین گواہ ہیں کہ میرا باطن ربُّ العزت کے حکم سے روشن ہے۔ طورؔ کے حمدیہ و نعتیہ کلام سے یہ بات ثابت بھی ہورہی ہے، مگر؟ دعا ہے کہ وہ کلمۂ طیبہ کے فیضان سے فیضیاب ہوں (آمین)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فہیم صدیقی نے چھ صفحات پر مشتمل مضمون کے ذریعے طور ؔکا تعارف سلیقے سے کرایا ہے۔ ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بھارت میں حمدیہ و نعتیہ مجموعے تواتر سے شایع ہورہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان کی آمد پاکستان، بالخصوص شہرِ حمد و نعت کراچی میں نہیں ہوپاتی، ضرورت اس امر کی ہے کہ مصنّفین، ناشر حضرات اور کم از کم جو ادارے اور رسائل و جرائد حمد و نعت کے فروغ کے لیے کام کررہے ہیں، انہیں اپنی کتابیں ضرور ارسال فرمائیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فیروز احمد سیفی ایک مطاہر قلب کے مالک ہیں، عاجزی ان کا سرمایہ ہے۔ فروغِ حمد و نعت کے لیے دامے درمے سخنے قدمے پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ کا مضمون ’’ڈاکٹر صغریٰ عالم ایک خوش فکر نعت گو شاعرہ‘‘ دبستانِ نعت کی زینت بنا ہے۔ ہم شکر گزار ہیں سیفی صاحب کے کہ اُنہوں نے ایک صوم و صلوٰۃ کی پابند نعت گو شاعرہ سے متعارف کرایا۔ ’’حرفِ آرزو‘‘ منیر احمد ملک نے عقیدت و مودت اور علم و ادب کی خوشبوؤں سے سجایا ہے۔ ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سرورِ دیں ﷺکی محبت کے سوا کچھ نہ خدارا مانگو، یہی تو زندگی کا اصل مقصد ہے، اندازِ بیاں دلکش ہے۔ ’’دبستانِ نعت‘‘ میں صفحہ ۱۱۵ پر مضمون ’’ناعت پر فیضان منعوت‘‘ شامل کیا گیا ہے، اس کے مصنف قاضی محمد رفیق فائز ؔفتح پوری ہیں۔ مضمون کی بنیادی باتیں اوّل: فیضان نعت، دوم: حدیث قدسی، اے محبوب اگر آپ کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں یہ دنیا ہی پیدا نہ کرتا۔ مگر دیدئہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے۔ سید اقبال حیدر ممتاز شاعر و ادیب کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کے مضمون کا عنوان ’’انسانِ کامل ﷺ کا ذکرِ خیر‘‘ ہے۔ آپ ﷺ کے کمال اخلاقِ کریمانہ کا بیان اور آپ کے بلند اقوال کا تذکرہ ’’سبحان اللہ۔۔۔۔۔‘‘۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مظفرؔ وارثی کا حمدیہ آہنگ ، ڈاکٹر عزیز احسن نے مذکورہ مضمون تحریر کیا ہے۔ مظفرؔ وارثی مرحوم، حمدیہ و نعتیہ شاعری کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ کا حمدیہ مجموعہ ’’الحمد‘‘ پاکستان میں شایع ہونے والے مجموعہ ہائے حمد میں دوسرے نمبر پر آتا ہے، پہلے نمبر پر عبدالسلام طور کا مجموعہ حمد ’’پتھر میںآگ‘‘ ہے۔ جو۱۹۸۰ء میں شائع ہوا۔ مظفر وؔارثی کی حمدیہ شاعری پر ایک مضمون، اقبال عالم نے تحریر کیا تھا جو ’’جہانِ حمد‘‘ میں شایع کرنے کی سعادت راقم کو ہوئی۔ مظفر ؔوارثی پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور مزید لکھا جائے گا۔ عزیز احسن لکھتے ہیں ’’مظفرؔ وارثی کی شاعری میں مترنم بحروں، صوتی مناسبتوں، لفظیاتی نغمگی کے التزام اور معنوی بوقلمونی سے ایک صحیفۂ عقیدت بھی وجود میں آیا ہے اور رنگارنگ فنی نگار خانہ بھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مظفرؔ وارثی کا نام دنیائے حمد و نعت میں ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کے نعتیہ مجموعہ ’’نعت روشنی‘‘ کا تنقیدی مطالعہ کیا ہے محسن اعظم محسنؔ ملیح آبادی نے، مضمون گیارہ صفحات پر مشتمل ہے، اگر وقت ملے تو آپ بھی مطالعہ کیجئے گا۔ مذکورہ مجموعہ نعت سے پہلے راقم الحروف کے مجموعہ ہائے نعت ’’مدینے کی مہک‘‘، ’’نعت میری زندگی‘‘، ’’ہر سانس پکارے صل علی‘‘، مجموعہ ہائے حمد ’’حمد میری بندگی‘‘، ’’حمد کردگار‘‘ جہانِ حمد پبلی کیشنز، حمد و نعت ریسرچ سینٹر اور ادارئہ چمنستانِ حمد و نعت کے زیر اہتمام شہر حمد و نعت کراچی سے شایع ہوچکے ہیں، ان مجموعوں کے علاوہ دس سے زائد نثری کتب بھی شامل ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’حمد الہ جل جلالہ و مدحت رسول ﷺ‘‘ (غیر منقوطہ حمدیہ و نعتیہ شاعری کا اجمالی جائزہ ہے) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کا مذکورہ مقالہ صفحہ154تا 179 پر محیط ہے۔ یہ تحقیقی مقالہ حمدیہ و نعتیہ ادب میں اوّلین کوشش ہے۔ جو ہمیں غیر منقوطہ حمدیہ و نعتیہ شاعری کے بارے میں اچھی خاصی معلومات فراہم کرتا ہے۔ مضمون بالا کے مطالعے کے بعد شعراء کرام میں غیر منقوطہ حمدیہ و نعتیہ شاعری کا ذوق و شوق پیدا ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’میلادِ اکبر ایک مطالعہ‘‘ مضمون نگار ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری ’’میلاد اکبر‘‘ اور اس کے مصنف خواجہ محمد اکبر وارثی میرٹھی کی نثر و نظم کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے ہیں اور جس اثر پذیری کا ذکر فرمایا ہے۔ اس میں ذرّہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں، حق تو یہی ہے کہ ’’میلاد اکبر‘‘ کے پاک و ہند سے بیسیوں ایڈیشن شایع ہوچکے۔ خود میرے حمد و نعت ریسرچ سینٹر میں تین پبلشرز کے طبع شدہ ’’میلاد اکبر‘‘ موجود ہیں۔ راقم الحروف نو عمری سے نعت خوانی اور صلوٰۃ و سلام پڑھنے کی سعادت حاصل کررہا ہے۔ سلام تو بہت لکھے گئے، خود راقم نے ایک کتاب بنام ’’سلام‘‘ مرتب کرکے شایع کی جس میں کم و بیش ڈیڑھ سو شعراء کا سلامیہ کلام شامل ہے، مگر راقم بچپن سے دو سلام ’’یا نبی سلام علیک‘‘ اور ’’مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘، اوّل خواجہ اکبر وارثی ، دوم اعلیٰ حضرت عظیم البرکت شاہ احمد رضا خاں محدث بریلوی کا کلام ہے، پڑھنے کی سعادت حاصل کررہا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ عالمِ اسلام میں بسنے والے غلامانِ رسول ﷺ مذکورہ سلاموں کو حد درجہ پسند کرتے ہیںاور عشاقانِ رسول اکرم ﷺ انتہائی و الہانہ انداز میں کیف و سرور اور وجدانی کیفیت کے ساتھ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں مذکورہ صلوٰۃ و سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری نے بجا فرمایا ہے ’’میلاد اکبر محض منظوم نعتیہ کلام کا نسخہ نہیں ہے بلکہ اس میں نثری قصیدے کے گل بوٹے بھی مصنف کے زورِ قلم کا نتیجہ ہیں‘‘۔ جیسا کہ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے ’’میلادِ اکبر‘‘ یعنی حضور پرنور آنحضرت ﷺ کی ولادت کا صاف و شفاف اور عام فہم زبان میں بیان، نثری قصیدے کا یہ ابتدائی حصہ انشاء پردازی کا بہترین نمونہ ہے۔ فصاحت اور بلاغت کے باوجود ایک عام مسلمان کی سمجھ میں بھی بات آسانی سے آجاتی ہے۔ یہ مقفی، مسجیٰ اور رواں دواں نثر منظوم توصیف نامے سے بھی زیادہ پراثر ہے۔ مثلاً ’’بے یاروں کا یار، بے مددگاروں کا مددگار، بے وسیلوں کا وسیلہ، بے بھروسوں کا بھروسہ، بے بسوں کا بس، بے کسوں کا کس، ٹوٹے دلوں کا سہارا اور اللہ کا پیارا‘‘ سبحان اللہ۔ مصنف کے قلم نے کیسے موتی رولے ہیں، کیسے بول بولے ہیں، یہ تحریر پڑھتے وقت یوں لگتا ہے جیسے کسی نے منہ میں مصری کی ڈلی رکھ دی ہو‘‘۔ خواجہ محمداکبر وارثی عالم باعمل اور عاشق رسولﷺ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے نعتیہ کلام کو آج بھی اسی طرح پسند کیا جاتا ہے جس طرح ماضی میں پسند کیا جاتا تھا۔ اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے۔ (آمین)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’نعتیہ شاعری کا تاریخی پس منظر‘‘ علیم صبا نویدی نے ایک بڑے موضوع کو انتہائی مختصر اندازمیں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ مقبول بارگاہِ رسالت نعت گو شاعر حضرت رؤفؔ امروہوی مرحوم … کی نعتیہ شاعری، ڈاکٹر صابر ؔسنبھلی کی نظر میں۔ زیر نظر مضمون کو پڑھ کر حضرت رؤفؔ امروہوی کے حالات زندگی معلوم ہوئے۔ بارگاہِ رسالت ﷺ میں ان کے بلاوے کا تذکرہ پڑھ کر مجھے عاشق رسول ﷺحضرت بہزادؔ لکھنوی یاد آگئے کہ ان کا بلاوا بھی اسی طرح آیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کی ڈیوٹی لگائی کہ ہمارے عقیدت مند بہزادؔ لکھنوی کو ہمارے دربار میں بھیجا جائے۔ بہرکیف عاشق رسول ﷺ زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔ کیوں کہ ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عشقِ نبی ﷺ ہو دل میں تو ضُوبار ہے حیات&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دولت اگر نہیں یہ تو بے کار ہے حیات&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
(طاہر سلطانی)		&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عاشقِ رسول بہزادؔ لکھنوی 1957ء کو حرمین شریفین روانہ ہوئے اور عاشق رسول رؤف ؔامرہووی 1978ء کو۔ شکریہ، ڈاکٹر صابرؔ سنبھلی ، ڈاکٹر سراج احمد بستوی، آپ نے عاشق رسول رؤفؔ امروہوی کا تعار ف ہم پاکستانیوں سے کرایا- ہم نے ’’جہانِ حمد ‘‘کا بہزاؔد لکھنوی حمد و نعت نمبرنومبر 2001ء میں شائع کیا ، یہ خصوصی اشاعت 208صفحات پر مشتمل ہے۔ جناب احمد حسین سیفی ابن رؤف امروہوی اگر سطور بالا پڑھیں تو اپنے والد محترم کے مجموعہ ہائے کلام راقم الحروف کے پتے پر ضرور ارسال فرمائیں، راقم آپ کا شکر گزار رہے گا۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’علمائے گھوسی کی نعت نگاری‘‘ ڈاکٹر شکیل احمد اعظمی کا یہ مضمون گھوسی کے نام ور علمائے کرام و نعت گویان کے بارے اور ان کی نعت گوئی کے حوالے سے خاصی معلومات فراہم کرتا ہے۔ گھوسی کے نعت گویان کی ایک فہرست ڈاکٹر شکیل کے مطابق ۳۷ نعت نگار علماء کے اسمائے گرامی موجود ہیں۔ تذکرہ نعت گویانِ گھوسی (علماء کرام) کا آغاز، علامہ غلام جیلانی اویس برکاتی کے تعارف سے کیا گیا ہے۔ علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمیؔ، علامہ عبدالمصطفیٰ ماجدؔ ازہری کے باب میں ڈاکٹر شکیل رقمطراز ہیں کہ حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی کے قابل فخر فرزند تھے۔ آپ کی ولادت ۱۳۳۴ھ میں محلہ کریم الدین پور گھوسی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے میں حاصل کی۔ والد محترم کے ساتھ اجمیر شریف چلے گئے، ابتدائی عربی، فارسی سے متوسطات تک تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۳۲ء میں بریلی شریف جاکر شمس بازغہ اور امور عامہ کی تکمیل کی۔ ۱۹۳۲ء ہی میں جامعہ ازہر مصر میں آپ نے داخلہ لیا، چار برس جامعہ ازہر کے معتبر علماء کرام سے اسلامیات اور ادبیات کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۵۸ء سے دارالعلوم امجدیہ کراچی میں زندگی کے آخری ایام تک خدمات انجام دی‘‘۔ دارالعلوم امجدیہ میں عرس اعلیٰ حضرت کے موقع پر طرحی نعتیہ مشاعرے کا انعقاد ہوا کرتا تھا۔ مسند صدارت پر آپ رونق افروز ہوتے، کراچی کے نامور نعت گو شعراء کرام شریک ہوتے، راقم الحروف کو بھی کئی مرتبہ، طرحی مشاعرے میں اپنا طرحی کلام سنانے کی سعادت حاصل ہوئی، مصرع طرح: اعلیٰ حضرت کی نعت سے دیا جاتا تھا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ازہری صاحب کے انتقال کے بعد نعتیہ طرحی مشاعرے کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ راقم نے دارالعلوم امجدیہ کی انتظامیہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی، مگر نتیجہ صفر؟۔ علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری جب قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تو راقم کے بڑے بھائی زاہد حسین قادری (سابق کونسلر لیاقت آباد کراچی) اور راقم نے قبلہ ازہری صاحب، شاہ فرید الحق صاحب، محمد عثمان خاں نوری وغیرہ کے اعزاز میں ’’انجمن غلامانِ غوث الاعظم‘‘ اور ادارئہ چمنستانِ حمد و نعت‘‘ کے زیر اہتمام شاندار و یادگار تقریب کا انعقاد کیا تھا۔ ازہری صاحب کے علاوہ ڈاکٹر شکیل کے مضمون کی زینت بننے والے شعراء کرام میں علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی، مولانا قاری محمدعثمان اعظمی، مولانا محمد رمضان، مولانا غلام ربانی فائقؔ، مولانا اکرام الحق اکرام نقشبندی، علامہ بدرزؔالقادری بدر وغیرہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر شکیل احمد اعظمی کا مذکورہ مضمون تحقیقی مضمون ہے جو ہمیں علمائے گھوسی کی نعت نگاری اور ان کی حیات کے بارے میں جان کاری دیتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’نثار ؔکریمی ایک قادر الکلام شاعر‘‘ نثارؔ کریمی کی نعتیہ شاعری کے حوالے سے مولانا وصال احمد اعظمی نے نثارؔ کریمی کے حالات زندگی اور ان کی نعتیہ شاعری بالخصوص ان کے طرحی نعتیہ کلام کو مضمون کی زینت بنایا ہے۔ نثار ؔکے کلام میں عقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ سیرتِ مصطفی ﷺ کے مختلف پہلو نمایاں ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی ایک طرحی نعت کا مطلع و مقطع ملاحظہ ہو۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خواہش نہیں کہ سارے جہاں کی خوشی ملے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بس ہے یہ آزو کہ رضائے نبی ﷺ ملے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو عندلیب باغ مدینہ ہے اے نثارؔ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ گیت گا کہ ُروح کو بالیدگی ملے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس بحر میں میری ایک حمد کا مطلع اور مقطع آپ کے ذوقِ حمد کی نذر۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خواہش مجھے کہاں ہے کہ شمس و قمر ملے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تاعمر تیری حمد لکھوں وہ ہنر ملے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حمد و ثنا کی روز سجائے یہ محفلیں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
طاہرؔ کو اے کریم کوئی ایسا گھر ملے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نثار ؔکریمی کا نعتیہ مجموعہ پاکستان بالخصوص شہر حمد و نعت کراچی میں نایاب ہے۔ نثارؔ کریمی کے فرزند سے بتوسط جناب سراج احمدبستوی درخواست ہے کہ دو کاپی حمد و نعت ریسرچ سینٹر اور ’’جہانِ حمد‘‘ میں تبصرے کے لیے ضرور بھیجیں۔ دعا ہے کہ اللہ عز و جل نثارؔ کریمی کے درجات بلند فرمائے۔ (آمین)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فارسی کے نعت گو شعراء کرام میں عاشقانِ رسول ﷺ کی فہرست میں ایک نمایاں نام مولانا نورالدین جامیؔ کا لیا جاتا ہے۔ اسی طرح اُردو نعت گویان میں عشاقانِ رسول ﷺ کے بیسیوں نام لیے جاسکتے ہیں۔ ان ناموں میں امام اہلسنّت مجدد دین و ملت شاہ احمد رضا خاں محدث بریلوی کا نام سرفہرست ہے۔ ’’دبستانِ نعت‘‘ میں ڈاکٹر سراج احمد قادری نے ایک گوشہ عاشق رسول مولانا جامی ؔکے لیے مختص کیا ہے۔ ممتاز شاعر و ادیب تنویر پھولؔ نے مولانا کی دو نعتوں کی تفسیر بیان کی ہے۔ ’’مولانا جامیؔ کی نعت نگاری‘‘ یہ مضمون ڈاکٹر یحییٰ نشیط کے زور قلم کا نتیجہ ہے، جس سے قاری کو خاصی معلومات حاصل ہوجاتی ہے۔ ’’مولانا عبدالرحمن جامی ؔنادرِ روزگار شخصیت ‘‘ یہ تحریر ڈاکٹر رضوان انصاری کی فکر کا آئینہ ہے۔ رضوان انصاری رقمطراز ہیں کہ ’’آپ کا اسم گرامی عبدالرحمن، لقب نور الدین ،22؍شعبان 817ھ مطابق 7؍نومبر1414ء کو بوقت عشاء پیدا ہوئے۔ والد نظام الدین احمد بن محمد الدمشقی تھے جو نہایت عابد و متقی تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنی جائے ولادت میں حاصل کی۔ پھر فقہ، حدیث اور تفسیر وغیرہ علوم و فنون کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ہرات، مشہد اور بغداد جیسے مراکز علوم کا سفر کیا۔ وقت کے عظیم المرتبت روحانی دنیا کے بزرگ صوفی شیخ سعدی کاشغری کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے۔ شیخ موصوف نے اپنے مرید اور روحانی بیٹے کی ایسی تربیت فرمائی کہ مولانا جامیؔ علیہ الرحمۃ اپنے پیر طریقت کے پردہ فرمانے کے بعد ان کے سجادہ نشیں ہوئے۔ ۸۱ برس کی زندگی میں علم و ادب کی خدمت اور عرفانی خدمات میں بسر کی۔ ان کی پوری زندگی تین ادوار میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔ دورِ اوّل : علوم و فنون کا زمانہ۔ دورِ دوم: تصانیف و تالیفات پر مشتمل رہا۔ دورِ سوم: یہ دور آپ کی زندگی کا سب سے اہم اور انقلاب آفریں رہا ہے۔ آپ نے سلسلۂ نقشبندیہ خواجہ سید بہاء الدین عمر بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے عرفانی اور روحانی فیوض و برکات سے مستفیض ہونے کا شرف حاصل کیا۔ آپ کا وصال ۸؍محرم ۸۹۸ھ مطابق ۹؍نومبر۱۴۹۲ء برز جمعہ بمقام ہرات ہوا اور اپنے استاد پیر طریقت اور خسر مولانا سعد الدین کاشغری کے مزار شریف کے پہلو میں خواب سرمدی میں آرام فرما ہیں۔ اللہ کریم حضور پرنور آنحضرت ﷺ کے صدقے میں آپ کے درجات بلند فرماکر آپ کی لحد کو منور و معطر فرمائے۔ (آمین) المختصر یہ کہ ڈاکٹر رضوان انصاری کی تحریر ایک عاشق رسولﷺ کے بارے میں اچھی خاصی معلومات فراہم کرتی ہے۔ صفحہ299 تا 344 تک مولانا جامیؔ کا فارسی نعتیہ کلام اُردو ترجمے کے ساتھ اپنی جلوہ سامانیوں کے ساتھ صفحۂ قرطاس پر جگمگارہا ہے۔ صفحہ 354 تا 396 تک ’’گلہائے عقیدت‘‘ کے عنوان سے مختلف شعراء کرام کا نعتیہ کلام شایع کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سراج احمد قادری بستوی کا انتخاب قابل تعریف ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آخر میں تین خطوط، مرزا ساجد حسین ساجد امروہوی، ڈاکٹر صابر سنبھلی اور ڈاکٹر رضوان انصاری کے ’’دبستانِ نعت‘‘ کے زینت بنے ہیں۔ مجموعی طور پر مدیر ڈاکٹر سراج احمد قادری اور نگراں فیروز احمد سیفی کی یہ کوشش و کاوش قابل تحسین و ستائش ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دعا ہے کہ اللہ کریم آقائے نامدار تاجدار انبیاء ﷺ کے طفیل ہر دو حضرات کی سعی کو قبول و منظور فرماکر، انہیں اس کا اجر عظیم عطا فرمائے اور ’’دبستانِ نعت‘‘ کو ترقی و سرفرازی عطا فرمائے۔ (آمین) آخر میں ڈاکٹر سراج احمد قادری بستوی کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ اپنے مضامین و کلام سے ضرور مستفیض فرمائیں۔ آپ نے اعلیٰ حضرت کی نعتیہ شاعری پر پی ایچ ڈی کیا ہے، آپ اپنے اس مقالے کو قسط وار بھی شایع کریں تو نوازش ہوگی۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ازراہِ کرم ’’گوشہ نعت نگار‘‘ کا سلسلہ جاری رکھیے گا۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>182.185.156.245</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%DB%81_-%D9%85%D9%81%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%94_%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%8C&amp;diff=20069</id>
		<title>دبستان ِ نعت ایک جائزہ -مفتی توفیق احسن ؔ برکاتی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%DB%81_-%D9%85%D9%81%D8%AA%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82_%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%94_%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%8C&amp;diff=20069"/>
		<updated>2018-03-23T19:50:28Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;182.185.156.245: نیا صفحہ: مفتی توفیق احسنؔ برکاتی( ممبئی)   دبستان نعت : ایک جائزہ   صنف نعت یک موضوع رہتے ہوئے بھی حد درجہ متنو...&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;مفتی توفیق احسنؔ برکاتی( ممبئی) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دبستان نعت : ایک جائزہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صنف نعت یک موضوع رہتے ہوئے بھی حد درجہ متنوع،ہمہ رنگ،مشکل تر اوربہتر صنف سخن ہے جو شعر کی تمام ہیئتوں میں پیش کی جا سکتی ہے۔اس کا موضوع اگر چہ ذاتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے لیکن اس ایک ذات میں اتنے بلندترین اوصاف و کمالات جمع ہیں کہ کما حقہ ان سب کا احاطہ ناممکن امر ہے۔یہی ہمہ جہتی صنف نعت کو ہمہ رنگ بنادیتی ہے اوراس سے تحقیق، تنقید، تدوین، تذکرہ اور تجزیہ جیسی کئی اصناف نثرمتعلق ہوجاتی ہیں۔امام نعت گویاںامام احمد رضا قادری قدس سرہ حد درجہ ثناخوانی اور نعت گوئی کے باوصف یہ کہتے نظر آتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے رضاؔ خود صاحبِ قرآن ہے مداحِ حضور&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نعت گوئی کا یہ سلسلہ عہد رسالت تک دراز نظر آتا ہے جس کا سراغ حضور اکرم ﷺ کے چچا ابو طالب کے ان اشعار میں پوشیدہ ہے جو آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایام طفلی میں کہے گئے تھے،جس کا ایک مشہور شعر یہ ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وابیض یستسقی الغمام بوجہہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ثمال الیتٰمیٰ ، عصمۃ للارامل&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خود ممدوح کائنات محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر کو استحسان کی نگاہ سے ملاحظہ فرمایا ہے۔ صحیح البخاری کتاب الاستسقاء میں کئی احادیث میں یہ شعر موجود ہے -سیرت ابن ہشام میں ابو طالب کا یہ پورا کلام شامل کیا گیا ہے- مختلف اوقات میں جماعت صحابہ کے عربی شعرابشمول حسان بن ثابت ،کعب بن مالک ، عبد اللہ بن رواحہ وغیرہم نے جس شان و شوکت سے ذاتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نعتیہ شاعری کا حصہ بنایا اس کی ایک مستقل تاریخ ہے۔گویا نعت نگاری سنتِ صحابہ ہوئی،نعت گوئی کا یہ سلسلہ عہد صحابہ سے آج تک دراز ہے اور قیامت تک منقطع ہونے والا نہیں ہے۔ مشکل رہتے ہوئے بھی ہر دردمند ایمان والا اس سلسلۃ الذہب سے خود کو جوڑ نا باعثِ فخر سمجھتا ہے اور خوب خوب کہنے کے بعد یہ کہہ کر قلم روک لیتا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لایمکن الثناء کما کان حقہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عربی نعت نگاری کا رنگ شیخ سعدی ؔاور علامہ جامیؔ وغیرہ پر چڑھا تو فارسی زبان مالامال ہوئی اور فارسی سے اردو زبان کو یہ حسن و جمال میسر آیاتو زبانِ اردو میںکہی گئی نعتیں دلوں میں محبتوں کا قندیل روشن کرنے لگیں۔بر صغیر ہند وپاک کے علاوہ اردو کی نئی بستیوں میں رہائش پذیر شعرا بھی اس کے حسن پر فریفتہ ہوئے اور اب اتنی مقدار میں نعتیہ نغمات کہے جانے لگے کہ ہر سال سیکڑوںکی تعداد میں نعتیہ مجموعے شائع ہورہے ہیںاور محافل میں ان کا زور قائم ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نعت گوئی کے ساتھ تنقید نعت اور تفہیم نعت کی اہمیت بھی فزوں تر ہو جاتی ہے کیوں کہ اس کے بغیر اچھی نعت کہی ہی نہیں جاسکتی۔چوں کہ نعت میں وہی مضامین برتے جاسکتے ہیں جو شانِ رسالت سے ہم آہنگ ہوں ،بے جا مبالغہ آرائی یا تقصیر شان پر مبنی خیال کی یہاں بالکل ہی گنجائش نہیں ہے۔قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں ذات محمدی،عظمتِ رسول،شمائل وخصائل نبوی،سیرت کے مہتم بالشان کارنا مے،نبوی معجزات،نبوی کمالات، اختیارات نبوت اور اعلیٰ ترین اوصاف ہی نعت میں منظوم کیے جا سکتے ہیں اور وہ بھی مکمل حدود کی رعایت کے ساتھ۔ایسی مبالغہ آمیزی کہ شرک و توحید سے ہم رشتہ ہوجائے نعت میں کسی طرح گوارا نہیں کی جاسکتی اور ایسی تقصیر کہ ذاتِ رسول عام سی دکھائی دینے لگے یہ بھی ناقابل برداشت ٹھہرے گی۔اس لیے تنقید نعت کی اہمیت مسلم ہوجاتی ہے۔نعت کی تاریخ، نعت گو شعرا کے تذکرے،نعتوں کا انتخاب،تدوین، نعت شناسی اور بھی بہت کچھ دبستان نعت میں سمائے ہوئے ہیں اور یہ سب وقتًا فوقتًا منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہندستان کے بالمقابل پاکستان میں نعت شناسی اور تفہیم نعت کا یہ سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے جس میں چند ممتاز محققینِ نعت کی ادبی کا وشیں کافی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں۔نور احمد میرٹھی ، راجہ رشید محمود،طاہر سلطانی،ابوالخیر کشفی،عبد الحکیم اختر شاہ جہان پوری،صبیح رحمانی،عزیز احسن وغیرہ پاکستانی محققین کا نام اس وقت ذہن میں آرہا ہے اور ہندستانی محققین میںسیدشمیم گوہر، طلحہ رضوی برق ، صابر سنبھلی،فاروق احمد صدیقی، ابوسفیان اصلاحی،ڈاکٹریحییٰ نشیط،سراج احمدبستوی،حلیم حاذق، شرر مصبا حی ،امجد رضا امجد ،مشاہد رضوی اور غلام ربانی فدا کا نام لیا جاسکتا ہے جو نعت نگار بھی ہیں اور ناقدینِ نعت بھی -پاکستان میںتو ایک زمانے سے باقاعدہ حمد و نعت کے مستقل رسائل شائع ہو رہے ہیں جن میں نعت رنگ،سفیر نعت،حمد و نعت ، فروغِ نعت وغیرہ جرائد کو خصوصی مقام و شہرت حاصل ہے۔ہندستان میں صرف موضوع نعت و حمد کو اجالتے جرائد نہ کے برابر ہیں۔مولانا غلام ربانی فداکرناٹک سے ششماہی جہان نعت نکالتے ہیںاور اب سنت کبیرنگر۔یوپی سے ڈاکٹر سراج احمد قادری کی ادارت میں ’’دبستان نعت‘‘ کا آغاز ہو رہا ہے البتہ نعتیہ شاعری کے آغاز و ارتقا پر انڈیا میں کچھ کتابیں ضرور طبع ہوئی ہیں مگر وہ انفرادی کوششیں ہیں یا یونیورسٹی میں پیش کیے گیے پی،ایچ،ڈی اور ایم فل کے مقالات جنھیں بعد میں کتابی شکل میں شائع کیا گیاہے۔ایسے میں شش ماہی ’’دبستان نعت‘‘ کی اشاعت یک گونہ طمانیت بخشتی ہے جو پروفیسر سید حسین احمد سجادہ نشیں خانقاہ دیوان شاہ ارزانی،پٹنہ کی سرپرستی اور فیروز احمد سیفی۔ نیویارک کی نگرانی میں شائع ہوا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’دبستان نعت‘‘ حمد و نعت پر مشتمل ایک تحقیقی و تنقیدی جریدہ ہے جس کا پہلا شمارہ جنوری تا جون ۲۰۱۶ء چار سو صفحات کو محیط اس وقت راقم کے پیش نگاہ ہے۔نعت و حمد کے موضوع پر تحقیقی،تاریخی و تنقیدی و تجزیاتی مقالات کے ساتھ عاشق رسول حضرت علامہ جامی ؔعلیہ الرحمہ کا ایک مختصر گوشہ بھی شامل ہے اور اس جریدے کا انتساب بھی انھیں کے نام ہے۔مدیر جریدہ ڈاکٹرسراج احمد قادری خود ایک ممتاز ناقد و محقق ہیں۔ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین ہند و پاک کے مؤقر جرائد میں جگہ پا رہے ہیں۔نعت رنگ کراچی میں انھوں نے مستقل لکھا ہے۔امام احمد رضا کی نعتیہ شاعری پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی،ایچ ، ڈی کی سند پائی ہے اس لیے تحقیقی و تنقیدی نعت ان کے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔’’دبستان نعت‘‘ کا اجرا اسی مزاج کا پرداختہ ہے۔ اداریہ کے علاوہ یہ جریدہ چھ مستقل کالموں سے سجاہوا ہے اور اس کا ساتواں حصہ’’ گوشۂ علامہ جامیؔ‘‘ ہے۔ادارتی تحریر میں ڈاکٹر سرا ج احمد قادری نے اس مجلے کے اجرا کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے جس میں ان کا دردِ دل اور جذبۂ پر خلوص صاف دکھائی دیتا ہے۔لکھتے ہیں:ـ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’اس مجلے کو پیش کر نے کا ہمارا بنیادی مقصد حمد و نعت کے فروغ و ارتقا کے حوالے سے ادبا،شعرا اور محققین کی ان کاوشوں سے اہل علم کو روشناس کرانا ہے جو اب تک ناقدین ادب کی نگاہ شوق سے محروم رہی ہیں۔آج بھی اردو زبان و ادب کا گراں قدر سرمایہ مخطوطات کی شکل میں یونیورسٹیز اور دیگر کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔انھیں مخطوطات میں نعتیہ ادب کے گل سر سبد شعراے کرام کے مسودے اور بیاضیں بھی ہیں جن کو اب تک اہل علم کے درمیان متعارف نہیں کرایاجاسکا۔ہماری کوشش ہے کہ ان تک رسائی کر کے منصۂ شہود پر لاکر اہل علم و فن کے درمیان متعارف کرایاجائے جس سے کہ نعت کی عظمت کی جیوتی ان کے دلوں کو جگمگا سکے اور وہ اس عظیم فن کی جانب متوجہ ہوسکیں-‘‘(ص ۹)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آگے انھوں نے اور بھی قیمتی تاریخی حقائق پیش کیے ہیں جن کا تعلق نعت،تحقیقِ نعت اور تنقیدِنعت سے ہے اور پھر موجودہ اربابِ تنقید کو دعوت فکر دی ہے۔ابواب کا تعارف اور ان میں شامل اہم مقالات کا مختصر جائزہ بھی شاملِ اداریہ ہے جس کی وجہ سے پورے جریدے کا اجمالی خاکہ ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔ابواب یہ ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’تحمید و تقدیس،گنجینۂ نقد و نظر،رحمتِ بیکراں،مقالات، گوشہ علامہ جامی، گلہاے عقیدت،پیام مدحت۔‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تحمید و تقدیس اور گلہاے عقیدت میںنعتیہ و حمدیہ نغمات کو جگہ دی گئی ہے اورپیام مدحت میں اہل علم کے مکاتیب رکھے گئے ہیں ، بقیہ ابواب میں مضامین و مقالات درج ہیں۔گنجینۂ نقد و نظر میں پانچ مضامین ہیں:کیا نعت صنف سخن ہے؟(ڈاکٹر سید حسین احمد)،فن نعت اور نعت گوئی (ڈاکٹرسیدخسرو حسینی)،حدائق بخشش کے صنائع بدائع پر ایک اور نظر(ڈاکٹر صابرؔ سنبھلی)،نعت اور ہماری شعری روایت(ڈاکٹر عزیز احسنؔ)نعت رسول مقبول اور اس کا ارتقا(ساجدؔ حسین امروہوی)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر سید حسین احمد کا موقف جو ان کے مضمون کے مطالعے سے سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ نعت صنف سخن نہیں بن سکتی کیوں کہ نہ اس کی ہیئت اور فارم متعین ہے نہ اجزائے ترکیبی۔جس طرح غزل، قصیدہ،مرثیہ،مثنوی اور رباعی کا فارم مقرر ہے اور اس کے اجزاے ترکیبی بھی متعین ہیں،اصناف کی مختلف مثالوں سے اپنی بات کو مؤثق کرتے ہوے اخیر میں رقم طراز ہیں:’’جس طرح اردو اور فارسی شاعری کا بڑا حصہ صوفیانہ اشعار پر مشتمل ہے لیکن اسے صنف سخن کا درجہ حاصل نہیں،ٹھیک اسی طرح نعتیہ شاعری مضامین سخن میں سے تو ہے لیکن صنف سخن نہیں-‘‘ (ص :۲۲ ) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ سچ ہے کہ اسلاف ادب نے نعت کو صنف کا درجہ نہیں دیا ہے لیکن بعد کے ناقدین و محققین ادب نے اسے مستقل صنف کا درجہ دیا ہے اور اس پر بحثیںکی ہیںاس لیے یہ موقف مکالمے اور نئی بحث کا آغاز کرسکتاہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر سید خسروحسینی کا مقالہ ’’فن نعت اور نعت گوئی‘‘اپنے موضوع پر ایک جامع اور معلومات افزا مقالہ ہے اور تیس صفحات پرمشتمل ہے۔مقالہ نگار نے اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے پیش کیا ہے۔حصہ اول میں فن ادب،فن شعراے عہد جاہلیت اور شعراے اسلام اور شعر پر اپنی تحقیقات لکھی ہیں اور حصہ دوم میں نعت کے لفظی اور اصطلاحی معنی و مفہوم،احکام نعت،موضوع نعت،مضامین نعت، احکام نعت گو،اور نعت گوئی کے لوازمات و مقتضیات زیر بحث آئے ہیں۔نعت گوئی میں حفظ مراتب کا لحاظ رکھنا از حد ضروری ہے۔ ساتھ ہی طریقۂ خطاب و انتخابِ الفاظ میں حسن و ضبط اور پاکیزگی لازم ہے۔حفظ مراتب کے ذیل میں مقالہ نگار نے ایک جگہ ممتاز حسن کا یہ قول نقل کیا ہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’خدا اور بندے کا فرق اسلام کے بنیادی تصورات میں سے ہے، رسول کی بشریت پر قرآن نے اور خود رسول نے بار بار زور دیا ہے۔قل انما انا بشر مثلکم اور ماعرفناک حق معرفتک اس پر شاہد ہیں-‘‘مقالہ نگار نے ممتاز حسن کے قول پر یہ کمینٹ کیا ہے:’’بشر مثلکم پر تو بہت کچھ کہا جاسکتا ہے،یہاں ہم صرف اتنا کہیں گے کہ کسی بھی چیز کی مثل اصل (محمد)جیسی نہیں ہو سکتی،اصل اور مثل میں نمایاں فرق ہے-‘‘(ص: ۵۱)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہاں رک کر تبصرہ نگار یہ کہنا چاہتا ہے کہ عام طور پر ناقدین نعت ’’ قل انما انا بشر مثلکم‘‘کو اتناہی بیان کرتے ہیں اور’’ یوحیٰ الیّ‘‘اسی سے بالکل متصل حصے کو چھوڑ دیتے ہیں، حالاں کہ ضابطے کے تحت مکمل آیت پیش کرنی چاہیے جس میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بشریت کو ’’یوحیٰ الّی‘‘ کے حقائق سے آراستہ کر کے نمایاں کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس استدلال کی روشنی میں ناقدین کے مخاطب وہ لوگ کم ہی ہوتے ہیںجو رسول کی بشریت کے منکر ہیں اور میری معلومات کی حد تک اس وقت دنیا میں شاید ہی کوئی ہو جو ’’بشریت مصطفی ‘‘کا انکار کرتا ہو پھر ایسے کسی گروہ کو مخاطب کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ تیسری بات یہ کہ ممتاز حسن کی تحریر کا یہ جملہ ثبوت و شواہد کا متقاضی ہے:’’رسول کی بشریت پہ قرآن نے اور خود رسول نے بار بار زور دیا ہے-‘‘ تبصرہ نگار سوال کرتا ہے کتنی بار قرآن میں اور کتنی بار رسول نے اس پر زور دیا ہے؟۔ ’’بار بار ‘‘کی بار بار تکرار سے یہ ناقد کیا نتیجہ نکالنا چاہ رہے ہیں؟ ہم جانتے ہیں کہ خدا، خدا ہے اور رسول، رسول ہیں اور دونوں ذاتوں میںحفظ مراتب کا خیال رکھنا ایمانی تقاضا ہے لیکن اس کے ثبوت کے لیے:’’قل انما انا بشر مثلکم‘‘ (’’یوحیٰ الی‘‘سے صرفِ نظر کرکے)جیسی آیت ہی پیش کرنا لازم ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم بشریت مصطفی کو اپنی تمام تر بصیرت و بصارت کے باوجود کما حقہ سمجھ نہیں سکتے۔نبوت و رسالت کے بقیہ اوصاف و امتیازات مصطفی کی وضاحتوں کی روشنی میں بھی تو حفظ مراتب کا عقدہ حل کیا جا سکتاہے۔جہاں خدا اور بندے کا فرق اسلام کے بنیادی تصورات میں سے ہے وہیں رسول اور امتی کا فرق بھی اسلامی حقیقت ہے،اس پر بھی غور کرنا ہمارا ایمانی و ادبی فریضہ ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر صابر سنبھلی نے امام نعت گویاں امام احمد رضا قادری کی نعت گوئی پر مستقل مضامین تحریر کیے ہیں۔زیر نظر مضمون حدائق بخشش کے صنائع و بدائع پر ایک اور نظر، ایک الگ جہت سے روشنی ڈالتا ہے، اس کا تعلق فنی خوبیوں کی نشان دہی اور امام احمد رضا کی قادر الکلامی سے ہے جوبلاغت کے کئی ابعاد روشن کرتا ہے۔ڈاکٹر عزیز احسنؔپاکستان کے محققین نعت میں نمایاں مقام رکھتے ہیں،تحقیق و تنقیدِ نعت پر قیمتی مقالات کے ساتھ مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں۔نعت اور ہماری شعری روایت پریہ مختصر مضمون ایک جائزہ ہے جس میں تحقیق کا پہلو کم اور تجزیے کا پہلو زیادہ ہے۔اسی باب میں مرزا ساجد حسین امروہوی کا مضمون نعت رسول مقبول اور اس کی ارتقا کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے جس میں نعت گوئی کی تاریخ مختلف ادوار کی وضاحت کے ساتھ مع مثال پیش کی گئی ہے۔اشعار کا انتخاب بھی خوب ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
باب سوم رحمت بیکراں میں شامل دونوں مضامین’’ عصرحاضر کے بلند قامت غیر مسلم نعت گو شاعر حضرت کرشن کمار طورؔ‘‘(ڈاکٹرفہیم احمد صدیقی)اور ’’ڈاکٹر صغریٰ عالم ایک خوش فکر نعت گو شاعرہ‘‘ (فیروز احمد سیفی)باب چہارم کے مقالات میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔یہ دونوں مضامین الگ باب میں کیوں آ گئے؟مرتب نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔پہلے مضمون کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ مرتب کے الفاظ میں:’’میگزین کا نصب العین غیر مسلم نعت گو شعرا، خواتین نعت گو شعرا کی نمائندگی کو ترجیح دے کر اردو ادب میں ان کا جائز مقام و مرتبہ دلانا بھی ہے‘‘۔(ص۱۳)اس لیے ایک علاحدہ باب متعین کر دیا گیا ہے لیکن دوسرے مضمون پر سوال کھڑا ہوسکتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس جریدے کا ایک اہم باب ’’مقالات نعت‘‘ ہے جس میں مختصر اور طویل تیرہ مضامین و مقالات شامل ہیں،عنوانات یہ ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حرف آرزو(منیر احمد ملک) ،ناعت پرفیضان منعوت (قاضی محمد رفیق فائز ؔفتح پوری)،انسان کامل ﷺ کا ذکر خیر(سید اقبال حیدر )، مظفرؔر وارثی کاحمدیہ آہنگ (ڈاکٹر عزیز احسنؔ)،طاہرؔ سلطانی کے نعتیہ کلام نعت روشنی کا تنقیدی مطالعہ(محسن اعظمؔ ملیح آبادی)، غیر منقوط حمدیہ و نعتیہ شاعری کا اجمالی جائزہ (طاہرؔ سلطانی)،میلاداکبر: ایک مطالعہ (ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری)،نعتیہ شاعری کا تاریخی پس منظر(علیم صبا نویدی)،مقبول بارگاہ رسالت نعت گو شاعر رؤفؔ امروہوی(صابرؔ سنبھلی)،اعجازؔ کامٹوی کی نعتیہ شاعری(ڈاکٹر محمد حسین مشاہدؔ رضوی)، علماے گھوسی کی نعت نگاری(ڈاکٹر شکیل احمد اعظمی)،مولانا فروغ احمد اعظمی اور ان کی نعتیہ شاعری(مولانا نور الہدیٰ مصباحی)اور نثارؔ کریمی ایک قادرالکلام شاعر(مولانا وصال احمد اعظمی)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چند کو چھوڑ کر بقیہ مضامین نئی بحثوں پر مشتمل ہیں اور انھیں مقالات نعت میں شامل رہنے کا حق ہے۔علیم صبا نویدی تحقیق و تنقید اور شعر و شاعری کا بڑا نام ہے مگر ان کا مضمون نعتیہ شاعری کا تاریخی پس منظرکافی ہلکا پھلکا دکھائی دیتا ہے اور اس کا موضوع باب دوم سے میل کھا تاہے۔منیر احمد ملک،عزیز احسنؔ،طاہر ؔسلطانی،صابر ؔ سنبھلی، مشاہد رضوی،شکیل اعظمی،نور الہدیٰ مصباحی اور وصال اعظمی کے مقالا ت میں تحقیق کے ساتھ تجزیے اور تنقید کا پہلو موجود ہے جن میں طاہرؔ سلطانی کا ’’غیر منقوط حمدیہ و نعتیہ شاعری کا اجمالی جائزہ‘‘ اور شکیل احمد اعظمی کا’’ علماے گھوسی کی نعت نگاری‘‘ کافی مبسوط اور تاریخی حقائق کا ترجمان ہے۔ڈاکٹر صابر ؔ سنبھلی نے ممتاز نعت گو شاعر محترم رؤفؔ امروہوی پر مشاہداتی و مطالعاتی گفتگو کی ہے اور ان کی نعتیہ شاعری کے امتیازات گنوائے ہیں۔ رؤفؔ امروہوی اپنے دولت کدے پر ہفتہ وار نعت خوانی کی بزم منعقد کرتے تھے،بعد نماز جمعہ یہ محفل جمتی تھی،آپ سرکاری اسکول میں مدرس تھے،حافظ قرآن تھے،جگرؔ مرادآبادی سے شرف تلمذ رکھتے تھے،ہفتہ وار منعقد ہونے والی بزم نعت خوانی کے تمام اخراجات وہ خود ادا کرتے تھے اور جب سے نعت خوانی کا یہ ہفتہ وار پروگرام شروع ہوا تھا کسی مجبوری یا ناگریز وجہ سے اس کا ایک بھی پروگرام ناغہ نہیں ہوا۔رؤفؔ امروہوی کے شعری مجموعے ’’گل رنگ تخیل‘‘میں شامل پروفیسر نثار احمد فاروقی کے پیش لفظ سے پتہ چلتاہے:’’اس باون سال میں اندازہ ہے کہ دوہزار چھ سو باون نشستیں اس کی ہو چکی ہوںگی -‘‘ (ص: ۱۰)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ بہت بڑی سعادت ہے جو کم لوگوں کے حصہ میں آتی ہے۔ اسی وجہ سے مقالہ نگار نے ’’مقبول بارگاہ رسالت نعت گو شاعر حضرت رؤفؔ امروہوی مرحوم‘‘کے عنوان سے یہ مقالہ تحریر کیا ہے۔حضرت رؤفؔ امروہوی کے تین شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔گل رنگ تخیل کے علاوہ لخلخۂ محامد اور کوثر رحمت،لخلخۂ محامد اور کوثر رحمت تقدیسی شاعری پر مشتمل ہیں اور اول الذکر مجازی کلام ہے۔لخلخۂ محامد کے مطالعے کے وقت ڈاکٹر صابر ؔسنبھلی کے نہاں خانے میں رؤفؔ امروہوی کے درج ذیل شعر کا خیال محفوظ ہو گیا تھا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
رؤفؔ ان کی غلامی میں بس اتنی فکر ہے مجھ کو&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہیں وہ یہ نہ کہہ دیں ہم تجھے آزاد کرتے ہیں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مقالہ نگارجب اپنانعتیہ دیوان’’دیوان صابرؔ‘‘مکمل کررہے تھے توایک شعریہ بھی تحریرکیاتھااوروہ دیوان نعت میں شامل بھی ہے :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
با ادب ہیں حاضرِ در ہم غلامانِ حضور&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو بھی چاہیں دیں مگر درکار آزادی نہیں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مقالہ نگار ڈاکٹر صابر ؔ سنبھلی لکھتے ہیں : ’’اگر چہ اب تک کسی نے نہ تو ٹوکا ہے اور نہ اعتراض کیا ہے مگر میں خود اعتراف کر تا ہوں کہ یہ مضمون اصل میں رؤف ؔصاحب کا ہی ہے جس نے ایک مدت بعد میرے شعر کا روپ لے لیا،ورنہ میرے ذہن کی رسائی شاید یہاں تک نہ ہوتی-‘‘ (ص :۱۹۶ )اس اعترافِ نارسائی اور شرمندگی کے بعد لکھتے ہیں کہ میں ’’دیوان صابرؔ ‘‘کی دوسری اشاعت میں اپنے اس شعر کو خارج کر دوں گا اور جس کے پاس یہ دیوان ہے وہ اس شعر کو قلم زد کردیں-‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ بہت بڑی بات ہے جو صابرؔ سنبھلی جیسے کمیاب حق گویوں اور معترفین کے قلم سے نکلی ہے ورنہ ارباب شعر وہ گل کھلاتے ہیں کہ’’ توارد‘‘ کیا،’’سرقہ‘‘ بھی سرپیٹتا رہ جاتاہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’گوشہ جامیؔ‘‘ میں معروف نعت گو شاعر تنویر پھولؔ امریکہ کا مضمون ’’علامہ جامیؔ کی دو مشہور نعتیں‘‘،ڈاکٹر یحییٰ نشیط پونے کا ’’مولانا جامیؔ کی نعت نگاری‘‘ اور ڈاکٹر رضوان انصاری کا’’ حضرت عبد الرحمن جامیؔ :نادر زورگار شخصیت‘‘ شامل کیا گیا ہے۔اسی گوشہ کا ایک اہم حصہ علامہ جامیؔ کے فارسی نعتیہ کلام کا اردوترجمہ بھی ہے جسے ڈاکٹر نور احمد ربانی کی کتاب ’’کشف العرفان‘‘سے اخذ کیا گیا ہے۔یہ کل اکتیس نعتیہ کلام ہیں اور سب انتخاب ہیں۔ڈاکٹر یحییٰ نشیط اور ڈاکٹر رضوان انصاری کا مقالہ حاصل گوشہ ہے جس کے مطالعے سے علامہ جامیؔ کی نعتیہ شاعری اور ان کی علمی و قلمی خدمات کے مختلف گوشے سامنے آتے ہیں۔ناقدین نعت کا عام رویہ ہے کہ جب وہ گزشتہ صدی یا موجودہ نعت گو شعرا کے نعتیہ سرمائے کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو استمداد ، استعانت،شفاعت طلبی،اختیاری حقائق اورمراسم اہل سنت کے مضامین و خیال کی موجودگی کو غلط نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یک رخی تنقید کر کے قلم کو زخمی کر ڈالتے ہیں۔بسا اوقات الزام کفر و شرک یا شائیہ کفر تک پہنچ جا تے ہیں لیکن ان کا یہی رویہ اس وقت تحسین آمیز ہوجاتا ہے جب اسی طرز کا مضمون و خیال اسلاف شعرا کی شاعری میں انھیں دکھائی دیتا ہے۔ علامہ عبد الرحمن جامی ؔعلیہ الرحمہ کا سن ۱۴۱۴ء اور سن وفات ۱۴۹۵ء ہے ہجری اعتبار سے ۸۱۷ھ میں ولادت اور ۸۹۸ھ میں وفات ہوئی گویا آپ نویں صدی ہجری اور پندرہویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتے ہیں۔ڈاکٹر یحییٰ نثیط نعتیہ شاعری کے لوازمات پر گفتگو میں احتیاطی تدابیر کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’بعض اوقات عقیدت کا یہ غلو حدود شرعیہ کو پھلانگ جاتا ہے اور عقیدت کے مبالغے میں شان الوہیت میں استخفاف کا پہلو نکل آتا ہے اسی لیے اکثر عقیدت مندان رسول اور صوفی شعرا نے حبّ رسول کے اظہار کے لیے اپنے نعتیہ کلام میں احتیاط برتی۔جامیؔ کا شمار ایسے ہی محتاط شعرا کے سلاسل میں ہوتا ہے-‘‘(ص :۲۸۲)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عقیدت میں غلو اور عقیدت میں مبالغہ کی چند مثالیں بیان بھی کی ہیں۔ ان میں مسئلہ امتناع النظر،آقا و مولیٰ،بگڑی بنانے والے ، ذات اول و آخر،ظاہر و باطن،دیدار خداوندی سے مشرف،عالم غیب جیسے تراکیب کو نمایاں کیا ہے اور لکھا ہے کہ’’ انھیں یا ان جیسی تراکیب کو اوصاف نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں شمار کر لیا گیا ہے-‘‘ لیکن علامہ جامیؔ کی نعتیہ شاعری کا تجزیہ کرتے وقت کئی مقام ایسے ضرور آئے ہوں گے جہاں ڈاکٹر یحییٰ نشیط کو اپنا یہ احتیاطی بیان بار بار یاد آیا ہوگا مگر تحسین آمیز روشنائی میں قلم کو ڈبو کر وہ اسے جامیؔ کے فکر و فن کا کمال کہتے ہیںچاہے وہ مضمون و خیال وہی ہو جس کا اوپر انھوں نے تذکرہ کیا ہے ، آخر اس دو رنگی کی وجہ کیا ہے؟یہی ناکہ یہاں معاملہ علامہ جامیؔ کا ہے جن کا شمار محتاط شعرا کے سلاسل میں ہوتا ہے۔یقین نہ آئے تو ڈاکٹریحییٰ نشیط کے یہ جملے پڑھ لیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’جامیؔ نے ایک نعت گنہ گاروں کی شفاعت طلبی میں رقم کی ہے۔اس میں تضرع و الحاح اوج پر دکھائی دیتا ہے۔شاعر کی بے بسی ، بے کسی کے احساس میں اضطراب و بے قراری کی جھلک نمایاں ہے۔ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے استمداد اورشفاعت کی امید میں تڑپ بھی شامل ہے اور اسی اضطراری کیفیت کے ساتھ کہتے ہیں-‘‘(ص:۲۸۴)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’یا رسول اللہ جیسی ترکیب کی مخالفت مین زمین و آسمان ایک کردینے والے ناقدین علامہ جامیؔ کے اس کلام کے متعلق کیا فتویٰ دیں گے جس کے ہر آخری مصرع میں یہ ترکیب موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تنم فرسودہ جاں پارہ ز ہجراں یا رسول اللہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دلم پر درد آوارہ ز عصیاں یا رسول اللہ!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ پورا کلام نقل کرنے بعد ڈاکٹر یحییٰ نشیط لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’مذکورہ بالا نعتیہ اشعار میں جامیؔ کا تضرع، فراق ، شوق ، حضوری،دل رنجوری،بے بسی،خوف گناہ اور شفاعت کی آس تمام کیفیات جمع ہوگئی ہیں۔حبّ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان اشعار میں جھلک پڑتا ہے،یقینا جامیؔ کی نعتیہ شاعری کبھی بھی صرف نظر کا شکار نہ ہوگی اور حبّ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شمع دوسروں کو بھی روشن کرتی رہے گی-‘‘(ص: ۲۸۶)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر رضوان انصاری کے مقالے میں علامہ جامیؔ کی شخصیت ، سوانحی پہلو،علمی و قلمی خدمات کو فوکس کیا گیا ہے اور مثالوں کی روشنی میں ان کے افکار زیر بحث لائے گئے ہیں اور ان کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ علامہ عبد الرحمن جامیؔ کی بلند پایہ ذات اور ان کی متصوفانہ وعاشقانہ شاعری عہد آفرین فکریات رکھتی ہے اور اس کے معنوی ابعاد میں فکر و فن کی لا تعداد جہتیں پوشیدہ ہیں۔ضرورت ہے کہ انھیں نکال کر اہل علم تک پہنچایا جائے اور ان پر تحقیق و تنقید کی جائے۔ان کی فارسی شاعری زبان وادب کا قیمتی سرمایہ ہے اور ان کے افکار و خیالات تصوف و عشق کا بیش بہاخزانہ ہیں جس کی چمک دمک آج بھی باقی ہے اور دل ودماغ کو روشن کررہی ہے۔’’گوشہ جامیؔ ‘‘گوکہ مختصر ہے مگر یہ دونوں مضامین تشنہ ہی سہی ،فرض کفایہ ادا کررہے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شش ماہی’’ دبستان نعت‘‘ کا یہ پہلا شمارہ ،لگتاہے کافی عجلت میں ترتیب دیا گیا ہے اس لیے پروف کی خامیاں قدم قدم پر اختلاج کا سبب بنتی ہیں۔چند جگہوں پرقرآنی آیات بالکل غلط کمپوز ہوئی ہیں جسے کسی طرح روا نہیں ٹھہرا یا جاسکتا۔جب نعتیہ شاعری ادب کا حصہ ہے تو اس کے باطنی حقائق کے ساتھ ظاہری لباس بھی نکھرا ستھرا ہونا چاہیے اور نعت پر جو مضامین ومقالات تحریر کیے جائیں ان میں ادبی زبان اور قواعد انشا واملا کی رعایت بھی ضروری ہے ورنہ اس کے تقدس کو زک پہنچے گی۔’’ دبستان نعت‘‘ کے کچھ حصوں میں یہ غفلت دکھائی دیتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ شماروں میں ان گزارشات پر دھیان دیا جائے گا۔اخیر میں’’ دبستان نعت‘‘ کی پوری ٹیم اور جملہ مقالہ نگاران وشعرا کو مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ ان کی اجتماعی کوششوں سے یہ چشمہ علم وادب ہم جیسے تشنہ علموں کی سیرابی کا سامان کررہاہے اور شائقین نعت سے گزارش ہے کہ وہ اس جریدے کو خرید کر اپنی یادداشت کا حصہ بنالیں اور اپنی لائبریری میں محفوظ کر لیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مدیرسے رابطہ:09415875761&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>182.185.156.245</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%81_-%D9%81%DB%81%DB%8C%D9%85_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84%D8%94&amp;diff=20068</id>
		<title>دبستانِ نعت ایک مطالعہ -فہیم بسملؔ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%81_-%D9%81%DB%81%DB%8C%D9%85_%D8%A8%D8%B3%D9%85%D9%84%D8%94&amp;diff=20068"/>
		<updated>2018-03-23T19:45:01Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;182.185.156.245: نیا صفحہ: فہیم بسمل ( شاہ جہاں پور )   دبستانِ نعت : ایک مطالعہ  دبستان ِ نعت کا اوّل شمارہ ڈاکٹر سراج احمد کی اد...&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;فہیم بسمل ( شاہ جہاں پور ) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دبستانِ نعت : ایک مطالعہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دبستان ِ نعت کا اوّل شمارہ ڈاکٹر سراج احمد کی ادارت اور فیروز احمد سیفی کی نگرانی میں اشاعت کی منزل سے گزر کر منظر عام پر آیا ہے۔ جو حمد و نعت کی شعری و نثری تخلیقات کا ایک ایسا گلدستہ ہے جس کا ورق ورق ایمان پرور خوشبوؤں کا مخزن ہے۔ یایوں کہیے کہ ایمان افروز خوشبوئیں بکھیر رہا ہے۔ مضامین لکھنے والے قلم کاروں نے اسلامیات سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے جہاں خالقِ کائنات کی حمدبیان کی ہے وہیں سرکارِ دو عالم ﷺ کی نعت بھی جذبۂ ایمانی کے ساتھ بیان کی ہے۔ جذبے کی شدت ملاحظہ فرمائیں۔    ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ساری تعریفیں اگرسو ہیں خدا کے واسطے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک کم سو ہیں محمد مصطفی کے واسطے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نثارؔ امروہوی		&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مضامین کے عنوانات ،مذکورہ شمارے کی حمد و نعت کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کے لیے بھی کافی ہیں مثلاً ’’ کیا نعت صنفِ سخن ہے ‘‘ ، ’’ فنِ نعت اورنعت گوئی‘‘ ،’’ حدائق بخشش کے صنائع بدائع پر ایک نظر‘‘، ’’ نعت ہماری شعری روایت‘‘، ’’ نعت ِرسولِ مقبول ﷺ اور اس کا ارتقا‘‘ یہ مضامین دبستانِ نعت میں گنجینۂ نقدو نظر کے عنوان کے تناظر میں شائع کیے گئے ہیں۔ جو اپنے عنوان کے علمی وقار کو بلند رکھتے ہیں جس کااظہار ڈاکٹر سراج احمد قادری نے اپنے اداریہ میں بہت ہی عمدگی کے ساتھ کیا ہے اور دبستانِ نعت کو سجانے کے مقصد پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ مثلاً اداریہ کا ابتدائی حصہ ملاحظہ فرمائیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ مجلہ دبستانِ نعت ‘‘ ششماہی کا پہلا شمارہ آپ کے پیش نظر ہے۔ دبستانِ نعت کا یہ گراں مایہ تحفہ پیش کرتے ہوئے ہمیں دلی مسرت کا احساس ہو رہا ہے۔ اس مجلے کو پیش کرنے کا ہمارا مقصد حمد و نعت کے فروغ و ارتقا کے حوالے سے ادبا و شعرا اور محققین کی ان کاوشوں سے اہلِ علم کو روشناس کرانا ہے جو اب تک ناقدینِ ادب کی نگاہِ توجہ سے محروم رہی ہیں۔ آج بھی اُردو زبان و ادب کا گراں قدر سرمایہ مخطوطات کی شکل میں یونیورسٹیز اور دیگر کتب خانوں میںمحفوظ ہے۔ انھیں مخطوطات میں نعتیہ ادب کے گل سر سبد شعراے کرام کے مسودے اور بیاضیں بھی ہیں جن کو اب تک اہلِ علم کے درمیان متعارف نہیں کرایا جا سکا۔ ہماری کوشش ہے کہ ان تک رسائی کرکے منصہ شہود پر لاکر اہلِ علم وفن کے درمیان متعارف کرایا جائے۔ جس سے نعت کی عظمت کی جیوتی دلوں کو جگمگا دے۔اور وہ اس عظیم فن کی جانب متوجہ ہو سکیں۔‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اداریہ کے یہ نقرئی الفاظ دبستانِ نعت کی اشاعت کے مقصد کو پوری طرح عیاں کر دیتے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ دبستانِ نعت ، حمدو نعت کے تخلیقی حوالے سے ایک مشن کی صورت میں کام کرے گا اور شعرا کو حمد و نعت کی تخلیق پر مائل کرے گا۔ ڈاکٹر سراج احمد قادری نے جیسا کہ اداریہ میں تحریر کیاہے کہ وہ دبستانِ نعت کو وسیلہ بنا کر ایسے مسودات کو بھی منظر عام پر لائیں گے جو آج تک اشاعت کے لمس سے محروم ہیں۔ اگر خدا کے فضل سے ڈاکٹر سراج احمد قادری کا یہ خواب تعبیر کی منزل میں قدم رکھنے میں کامیاب ہوگیا تو اسلامی شعریات کے گلشن پر یقینانئی بہارچھا جائے گی۔ کیونکہ اسلامی شعریات کے تعلق سے جتنا کام پرانے شعرا و ادبا نے کیا ہے اس کے مقابلے میں نئے فنکاروں کا کام تو نظر ہی نہیں آتا ہے۔ مجھے اُمید ہی نہیں یقین ہے کہ انشا ء اللہ دبستانِ نعت کے اجرا کے ساتھ اس منظر میں کچھ تبدیلی ہوتی ہوئی نظر آنے لگے گی اور نئے لکھنے والوں کے دلوں کو اسلامی شعریات کے تخلیقی نور سے آباد کر دے۔ مذکورہ شمارے کے اداریے کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ چار سو صفات پر پھیلے ہوئے شمارے کا تذکرہ صرف نو صفحات میں اس خوبی کے ساتھ کیا ہے کہ کوئی بھی ادبی اہم منظر اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا ہے۔ جسے اداریے کے ان الفاظ میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔’’ چنانچہ مشہور صوفی شاعر اور رعاشقِ رسول حضرت عبد الرحمن نور الدین جامیؔ رحمتہ اللہ کے درج ذیل شعر پر ایک عمیق نظر ڈال کر دیکھیں کہ خود سپردگی کی کیا کیفیات ہیں۔ دنیا کا کوئی ذی شعور انسان اس کی صداقت پر انگشت نمائی نہیں کر سکتا ہے۔  ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جامیؔ اگر یافتے قبولِ غلامیّت&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غاشیہ بردوش در عنان تو بودے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دبستانِ نعت کے اشاعتی مقصد کو نظر میں رکھتے ہوئے علامہ جامی کے گوشے کو بھی دبستانِ نعت میں ترتیب دیا گیا ہے۔ جس میں ان کے تخلیق کردہ حمد و نعت کے بے مثل نمونوں کو بہت ہی اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا ہے اور رسولِ اکرم سے ان کی محبتوں کو مضامین کے پھولوں کی شکل میں اس طرح پرویا گیا ہے کہ ان کا حرف حرف توحید کی خوشبو سے مہک گیا ہے۔ جس میں تنویر پھولؔ نے علامہ جامی ؔکی نعتوں کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ ڈاکٹر سیّد یحییٰ نشیط نے علامہ کی نعت نگاری کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر رضوان انصاری نے ان کی شخصیت اور سیرت پر بہت ہی صادق انداز میں بصیرت افروز روشنی ڈالی ہے۔ جو اس دور کے لوگوں کے لیے زندگی کا بہترین سبق کے مترادف ہے اور ڈاکٹر نور احمد رباّنی نے علامہ جامی کے فارسی نعتیہ کلام کا اُردو ترجمہ کیا ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ مذکورہ مضامین اور ان کے کلام نے گوشے کو خاصے کی چیز بنا دیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دبستانِ نعت میں غیر مسلم شعرا کی بھرپور نمائندگی کے طور پر ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی نے کرشن کمار طور ؔکی حمد و نعت کے تعلق سے جو گفتگو کے چراغ روشن کیے ہیں ان کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس شعری کائنات کے حوالوں میں غیر مسلم شعرا کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ مدیر نے مذکورہ شمارے کی انفرادیت کو شاہ کار بنانے کے لیے قلم کاروں کو عنوانات دے کر جو مضامین لکھوائے ہیں انھوں نے بھی دبستانِ حمد ونعت کو اہم بنا دیا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر نذیر ؔفتح پوری نے ’’ میلادِ اکبر‘‘ کے وجود کی اہمیت پر اصرار کرکے گزرے ہوئے وقتوں کی میلاد خوانی کی یادوں کو ایک بار پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شعرا کی فہرست طویل ضرور ہے لیکن سب نے ہی اپنے قلم کے جوہر بہ حسن و خوبی دکھائے ہیں اور حمد و نعت کے باب کو اپنے ایمانی جذبوں کے نور سے اس طرح منور کیا ہے کہ دلوں کی سیاہیاں مطالعہ کے دوران منھ چھپانے کے لیے جاے اماں ڈھونڈتی نظر آتی ہیں اور آنکھیں اپنے شفاف آنسوؤں سے دلوں کے منظروں کو پھر سے جگمگا دیتی ہیں اس لیے دبستانِ نعت کو ہر گھر میں ہو ناچاہیے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کیا ہی اچھا ہوتا ہے کہ اس میں اسلامیات سے متعلق اہم کتابوں کے اشہارات دیے جاتے اور نئے حمد ونعت کے مجموعات پر تبصرے بھی شائع کیے جاتے۔ چونکہ یہ سفرکا آغاز ہے اس لیے مجھے قوی اُمید ہے کہ آیندہ تمام گوشوں پر کام کیا جائے گا کیونکہ اس کے حوالے سے حمد و نعت کا تخلیقی سلسلہ دراز ہوتا ہی رہے گا بہر حال ڈاکٹر سراج احمد قادری اور محترم فیروز احمد سیفی نے دبستانِ نعت کو اسلامی شعریات اور ذکر روایات و حکایات سے اس طرح سجا سنوار کر پیش کیا ہے کہ اُرددو والے دعائیں کررہے ہیں کہ خدا اس مجلے کو رہتی دنیا تک قائم رکھنا کیونکہ یہ تیرا اور تیرے محبوب کا قصیدہ خواں ہے۔ (آمین)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آخر میں چند پسند یدہ نعتیہ اشعار کے ساتھ اپنی با ت ختم کرتا ہوں ۔    ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضورِ شہِ بحرو بر جانے والے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لیے جا ہماری نظر جانے والے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زائر ِ حرم حمید ؔصدیقی 	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سیّد صبیحؔ رحمانی	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صفت ان کی حامدِؔ بے نوا جو بیاں کرے بھی تو کیا کرے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کوئی آج تک نہ سمجھ سکا جو نبی کا عزو وقار ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حامد اؔمروہوی	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
توفیق تیری فکر میں شامل نہ ہو اگر&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میری ہے کیا بساط ہی جو کھل سکے دہن&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ولی اللہ ولی عظیم آبادی		&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ زمین و زماں یہ مکین و مکاں یہ مہ و مہر انجم ہیں جن کے لیے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اُس نبی کی ولادت کے موقع پہ ہم کیوں نہ اپنے گھروں میں جلائیں دیے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اجمل ؔسلطان پوری	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یقینِ کامل ہے شرطِ اول خلوصِ دل سے پکار دیکھو&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر ہوں مشکل کشا نبی تو کوئی بھی مشکل بڑی نہیں ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قاضی اسدؔ ثنائی	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آپ کا نام ہے بس وجہِ سکونِ بیمار&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آپ کا ذکر ہی بس راحتِ جاں ہوتا ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسرار رازیؔ	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
درودِ پاک کا یہ مشغلہ بھی خوب کام آیا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ دنیا خیر و برکت کی ہمارے گھر چلی آئی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
رباب ؔرشیدی	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کیوں لب پہ سوال آئے مرے بخیہ گری کا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سرکار ہیں مینار وسیع النظری کا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قاسمؔ حبیبی	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مشغول جب سے نعتِ شہِ انبیا میں ہوں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محسوس ہو رہا ہے جوارِ خدا میں ہوں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر تابش ؔمہدی	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرے احساس پر وہ چھا گئی ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مدینے کی فضا یاد آگئی ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فراز ؔفتح پوری	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عظمت مرے حضور کی دیکھو کہ کیا ہیں آپ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعد از خدا بزرگ ہیں اور مصطفی ہیں آپ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نثار ؔاحمد راہی فتحپوری	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہو کے اُمی لقب زمانے میں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
منبع علمِ جامعات ہیں آپ&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>182.185.156.245</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84%DB%82_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84:%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D8%B7%D8%B1%DB%8C%DA%BA_-%D8%AE%D8%A7%D9%86_%D8%AD%D8%B3%D9%86%DB%8C%D9%86_%D8%B9%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%94&amp;diff=20067</id>
		<title>تبادلۂ خیال:دبستان ِ نعت پر چند سطریں -خان حسنین عاقبؔ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84%DB%82_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84:%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%DA%86%D9%86%D8%AF_%D8%B3%D8%B7%D8%B1%DB%8C%DA%BA_-%D8%AE%D8%A7%D9%86_%D8%AD%D8%B3%D9%86%DB%8C%D9%86_%D8%B9%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%94&amp;diff=20067"/>
		<updated>2018-03-23T19:10:35Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;182.185.156.245: نیا صفحہ: خان حسنین عاقب( مہاراشٹرا)   ’’دبستانِ نعت ‘‘ پر چند سطریں  اردو زبان کا شعری ادب اتنا ضخیم ہے کہ ا...&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;خان حسنین عاقب( مہاراشٹرا) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’دبستانِ نعت ‘‘ پر چند سطریں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اردو زبان کا شعری ادب اتنا ضخیم ہے کہ اگر اسے ڈیجیٹل طور پر جمع کرنے کی کوشش کی جائے تو شائد ہزاروں ٹی۔بی۔ یعنی ٹیٹرا بائٹ ڈاٹا درکار ہوگا۔ اردو ادب کی ایک اہم قسم ہے تقدیسی ادب جس میں حمد، نعت اور منقبت وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ تقدیسی ادب میں بھی تخصیص کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ کے سیرت نگاری اور آپ کے تئیں امتیوں کی عقیدت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جو شعری ادب تخلیقی کیا جاتا ہے ، اسے نعتیہ ادب کہاجاتا ہے۔ اردو میں شعری ادب تو بہت شائع ہوتا ہے اور یار لوگ جو اردو زبان و ادب کا ذرا بھی درک رکھتے ہوں، ہر موضوع پر بے تکان لکھتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ نہایت بے کار سی اصناف تک ایجاد کرلی جاتی ہیں اور ان اصناف کو منوانے اور تسلیم کروانے کے لئے رسائل کے صفحات کے صفحات سیاہ کئے جاتے ہیں۔ لیکن نعت جیسی اہم اور بلیغ صنفِ شاعری پر کوئی مستقل رسالہ اب تک نہیں تھا۔ کافی عرصہ قبل پاکستا ن سے جناب سید صبیح الدین رحمانی صاحب نے نعت رنگ نامی مستقل رسالہ جاری کیا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے اختراعی اور موضوع کے اعتبار سے نہایت وقیع ہے۔ لیکن ہمارے وطنِ عزیز سے اس سمت کوئی پیش رفت اب تک نہیں ہوئی تھی۔ خوشا وہ وقت بھی آیا اور کچھ دیوانے ، ذاتی سود و زیاں کے تفکرات سے پَرے، محبت و عقیدتِ محمدﷺ سے لبریز ہوکر ایک رسالے یعنی ’دبستانِ نعت‘ کا اجراء کربیٹھے۔ اللہ ان کی مساعی کو قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔مجھے شیخ ابراہیم ذوقؔ کی یاد آرہی ہے جنہوں نے کہا تھا۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہُوا حمدِ خُدا میں دل جو مصروفِ رَقم میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
الف الحمدِ رب العالمیں کا ہے قلم میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
رہے نامِ محمد ﷺ لب پہ یارب اول و آخر&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اُلٹ جائے بوقتِ نزع جب سینے میں دَم میرا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محبت اہلِ بیتِ مصطفی ﷺ کی نورِ بر حق ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ روشن ہوگیا دل مثلِ قندیلِ حرم میرا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دبستانِ نعت نامی اس رسالے کے مدیر ہیں جناب ڈاکٹر سراج احمد قادری صاحب۔ سراج احمد قادری صاحب سے ہمیشہ فون پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ نہایت سلیقہ مند اور سعادت مند ، با اخلاق اور منکسر مزاج شخص ہیں۔ دراصل دبستانِ نعت اور سراج احمد قادری صاحب کا تعارف مجھ سے فیروز احمد سیفی صاحب ( مقیم نیویارک، امریکہ) نے کروایا تھا۔ ان کے دورۂ ہند کے درمیان انہیں کسی نے میری کتاب ’خامہ سجدہ ریز‘ کا نسخہ دیا تھا جو میری حمد و نعت کا مجموعہ ہے۔ موصوف نے بڑی تفصیل سے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور امریکہ جاکر وہاں سے مجھ سے رابطہ کیا اور دبستانِ نعت اور قادری صاحب کے بارے میں تفصیل بتائی۔ فیروز احمد سیفی صاحب دبستانِ نعت کے نگراں کار ہیں۔ اس رسالے کو پروفیسر ڈاکٹر سید حسین احمد صاحب (سجادہ نشین خانقاہِ حضرت دیوان شاہ ارزانی، پٹنہ ، بہار) کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس رسالے کے معاونین میں ایک تو نعت رنگ (کراچی) کے مدیر جناب سید صبیح الدین رحمانی ہیں، ان کے علاوہ ڈاکٹر عبدالقادر غیاث الدین فاروقی صاحب (نیویارک، امریکہ) ہیں اور پھر ہندوستان ہی سے ہمارے دوست جناب قاضی اسد ثنائی صاحب (حیدرآباد، بھارت) ہیں جو ادب کا نہایت اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں اور اردو ادب کے مختلف موضوعات پر کانفرنسیس اور سیمینارس منعقد کرواتے رہتے ہیں۔ غرض کافی فعال شخص ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خیر، میرے پاس دبستانِ نعت کا جو شمارہ پہنچا ، وہ جنوری تا جون ۲۰۱۶؁ کا شمارہ ہے۔ معلنہ طور پر یہ رسالہ ششماہی ہے لیکن اس رسالے کی ضخامت کچھ مہینوں سے کچھ زیادہ ہی کی کمی پوری کردیتی ہے۔ یعنی یہ رسالہ ۴۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس درجہ ضخیم شمارے کی ادارت اور پھر اس کی اشاعت کے تمام تر انتظامی و معاشی مراحل کو طے کرپانا آسان نہیں ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایں سعادت بزورِ بازو نیست &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لیکن مدیرِ محترم اور ان کے سرپرستوں اور معاونین کی ان کاوشوں کے لئے مجھے حافظؔ کا یہ شعر زیادہ مناسب لگتا ہے کہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو و طوبیٰ ، و ما و قامت ِ یار &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فکرِ ہر کس بہ قدرِ ہمتِ اوست&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آئیے، اس ضخیم شمارے کے مشمولات پر کچھ بات ہوجائے۔ عمومی طور پر رسائل شعری تخلیقات سے اتنے لبریز ہوتے ہیں کہ الامین الحفیظ۔ رسالہ، رسالہ نہ ہوکر کسی شعری صنف کا انتخاب لگنے لگتا ہے۔ اور پھر نعت گوئی پر کوئی مستقل رسالہ جاری کرنا اولاً تو نہایت مشکل ہے ، جس کو توفیق مل جائے، وہ کامیاب لیکن اس کے لئے مواد کہاں سے جمع کیا جائے؟ اس لئے کہ ہمارے سہل پسند حضرات اس متبرک صنفِ سخن پر خامہ فرسائی کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ نعتیہ شعری ادب کے علاوہ شعبۂ نعت میں نقد و نظر اور تحقیق کا کوئی ذخیرہ موجود نہیں ہے یعنی اگر کسی کو اس سمت سفر کرنا ہے تو اسے اپنے سنگِ میل بھی خود بنانے ہوں گے، راستے بھی خود طے کرنے ہوں گے اور زادِ راہ کا انتظام بھی خود ہی کرنا ہوگا۔ بھائی صبیح رحمانی نے یہ مشکل کام کیا ہے اور ان سے جُڑے لوگ شعبۂ نعت میں نئے زاویوں کی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ برادر سراج احمد قادری نے ملکِ عزیز میں یہی کام انجام دیا ہے۔ اس ضخیم شمارے میں ۲۹۷ صفحات مکمل طور پر تنقیدی اور تحقیقی مضامین کے لئے مختص ہیں۔ درمیان میں کہیں بھی کوئی شعری تخلیق نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مدیرِ محترم اور ان کے سرپرستوں اور معاونین کونعت نگاری کے تئیں نہایت مخلص اورکُل وقتی قلمکاروں کا تعاون حاصل ہے۔ اس شمارے کی تخصیص مولانا عبدلرحمن جامی ؔخصوصی گوشے کی اشاعت ہے جس میں مولانا جامیؔ پر تنویر پھولؔ کا مضمون ’مولانا جامیؔ کی دومشہور نعتیں‘، مشہور محقق اور ماہرِ لسانیات و مترجم جناب ڈاکٹر سید یحییٰ نشیطؔ صاحب کا مضمون ’مولانا جامیؔ کی نعت نگاری‘ ڈاکٹر رضوان انصاری کا مضمون ’حضرت عبدالرحمن جامیؔ، نادرِ روزگار شخصیت‘ اورڈاکٹر نور احمد ربانی کی پیش کش ’مولانا عبدالرحمن جامیؔ کافارسی نعتیہ کلام کا اردو ترجمہ‘ خاصے کی چیز ہے۔ پچاس صفحات پر مشتمل یہ گوشہ اہمیت اور افادیت کے لحاظ سے اپنی نظیر آپ ہے۔ مولانا جامی ؔ عالمی نعتیہ ادب کے سرخیلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ محبانِ محمدﷺ کی فہرست میں ان کا نام صفحۂ اول پرنمایاں ہے۔ اگر شخصی مضامین کی بات کریں تو ہمیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانصاحب بریلوی (ڈاکٹر صابر سنبھلی)، مظفر وارثیؔ( ڈاکٹر عزیز احسن) ، ڈاکٹر صغریٰ عالم(فیروز احمد سیفی)، جناب طاہر سلطانی(محسن اعظم محسن ملیح آبادی) ، رئوف امروہوی(ڈاکٹر صابر سنبھلی)،اعجاز کامیٹھوی(ڈاکٹر مشاہد رضوی)، مولانا فروغ اعظمی(مولانا نورالہدیٰ مصباحی)، نثار کریمی(مولانا وصال احمد اعظمی) جیسے نعت گو شعراء کی شخصیت کا سیر حاصل تعارف اور ان کے فنِ نعت گوئی کا کماحقہُ جائزہ ملتا ہے۔ خصوصی طور پر اردو کے ایک اہم اور بزرگ اور بلند قامت شاعر جناب کرشن کمار طورؔ کی نعت گوئی پر بھی ایک علاحدہ مضمون شامل ہے جس سے فنِ نعتِ نبیﷺ پر صرف مسلمانوں کا اجارہ نہ ہونے کی حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اردو نعتیہ ادب میں تنقیدی و تحقیق کے نئے دریچے وا کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے انجام دینے کی سکت بہت کم لوگوں میں ہے۔ کچھ لوگ جو یہ کام انجام دینے کی اہلیت رکھتے ہیں، یا تو یہ کام ان کی ترجیحی فہرست میں شامل نہیں ہے یا پھر انہیں توفیقِ الٰہی نصیب نہیں ہوئی۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ان کا قلم اس سمت رواں ہوجائے تاکہ فنِ نعت گوئی میں تنقید و تحقیق پر کام کی رفتار بڑھ جائے۔ اس شمارے میں فنِ نعت گوئی پر تنقیدی و تحقیق مضامین کی کہکشاں دکھائی دیتی ہے۔ کیا نعت صنفِ سُخن ہے؟ اس موضوع پر جناب ڈاکٹر سید حسین احمد نے سیر حاصل بحث کی ہے۔ یہ ابتداء ہی سے ایک تحقیق طلب موضوع رہا ہے کہ کیا نعت کو ایک علاحدہ صنفِ سُخن تسلیم کیا جائے؟ اس بات سے اتفاق یا اختلاف ثانوی حیثیت رکھتا ہے لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ اس موضوع پر گفتگو رفتار پکڑ رہی ہے۔ فنِ نعت اور نعت گوئی (ڈاکٹر سید خسرو حسینی صاحب) نعت اور ہماری شعری روایت (ڈاکٹر عزیز احسنؔ) نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور اس کا ارتقاء(ساجد حسین ساجدامروہوی) ناعت پر فیضانِ منعوت (قاضی محمد رفیق فائزؔ فتح پوری) انسانِ کامل ﷺ کا ذکرِ خیر (سید اقبال حیدر) نعتیہ شاعری کا تاریخی پس منظر( علیم صبا نویدی) ایسے مضامین ہیں جن کے مطالعے کے بعد فنِ نعت گوئی کے تعلق سے ہمارے بہت سے اشکالات کے تشفی بخش جواب ملتے ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ مضامین جن کے مطالعے سے فنِ نعت گوئی کی کچھ لسانی اور تحقیقی جہتوں کے باب وا ہوتے ہیں، وہ ہیں حدائقِ بخشش کے صنائع بدائع پر ایک اور نظر (ڈاکٹر صابر سنبھلی) حرفِ آرزو (منیر احمدملک) غیر منقوط حمدیہ و نعتیہ شاعری کا اجمالی جائزہ(طاہر سلطانی)میلادِ اکبر ایک مطالعہ(ڈاکٹر نذیر فتح پوری) علمائے گھوسی کی نعت نگاری۔ بعد ازاں یعنی سب سے آخر میں صفحہ ۳۴۶ سے صفحہ ۴۰۰ تک ، کُل ۵۴ صفحات پر نعتیہ شعری تخلیقات ہیں۔ کتاب عمدہ کاغذ، بہترین روشنائی، خوبصورت سرورق سے مزین ہے۔ مدیرِ محترم کی تمام تر محنت یقینا ہماری تحسین کی متقاضی ہے۔ اللہ ، اس کتاب کو مدیرِ مکرم ، سرپرست موصوف، نگرانِ اعلیٰ اور دیگر معاونین کی نجاتِ اخروی کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
امید تو قوی ہے کہ یہ سلسلہ ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں تبدیل ہوجائے گا کیونکہ یہ کام کسی دنیاوی لالچ یا غرض کے پیشِ نظرنہیں کیا گیا ہے بلکہ محبتِ رسول ﷺ ہی اس کام میں مقدم رہی ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>182.185.156.245</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://naatkainaat.org/index.php?title=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA_%D9%88_%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_-%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D9%85%D9%86%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%AD%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C&amp;diff=20066</id>
		<title>مقالات و مضامین پر ایک تحقیقی نظر -ڈاکٹر سید منیر محی الدین قادری</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php?title=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA_%D9%88_%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C_%D9%86%D8%B8%D8%B1_-%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D9%85%D9%86%DB%8C%D8%B1_%D9%85%D8%AD%DB%8C_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86_%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C&amp;diff=20066"/>
		<updated>2018-03-23T19:06:30Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;182.185.156.245: نیا صفحہ: ڈاکٹر سیدمنیر محی الدین قادری ( آندھرا پردیش )  ’’ دبستان ِ نعت ‘‘ کے تحقیقی و تنقیدی  مقالات ومضا...&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;ڈاکٹر سیدمنیر محی الدین قادری ( آندھرا پردیش )&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ دبستان ِ نعت ‘‘ کے تحقیقی و تنقیدی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مقالات ومضامین پر ایک تنقیدی نظر &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ کیا نعت صنفِ سخن ہے ؟‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر سید شاہ حسین احمد صاحب اپنے مضمون ’’ کیا نعت صنف سخن ہے ؟ ‘‘ میں جو بحث کی ہے وہ باعتبار فن کے سنی اور سمجھی جا سکتی ہے۔وہ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ’’ ابھی تک اس کافارم مقرر ہوا ہے اور نہ اجزائے ترکیبی ‘‘، پھر ترتیب وار انہوں نے مرثیہ ، رباعی ، غزل اور مثنوی کے ہیئت کو بیان کرتے ہوئے ’’ نعت ‘‘ کے لیے ایک مخصوص ہیئت اور اجزائے ترکیبی کی فکرکوظاہر کیاہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کے خیال میں کسی بھی صنف سخن کو مقرر ہ اصول و ضوابط کے حدود میں قید کرکے بنائے گئے اجزائے ترکیبی کے خطوط میںجاری ہونے کا نام ’’ صنف سخن ‘‘ ہے۔ جو کہ فن کے اعتبار سے فنی اصول و ضوابط کے تابع رہتے ہیں۔ ان تمام اصناف سخن کے مقررہ  اصول و ضوابط سے ہٹ کر’’ نعت ‘‘ کے فن کو مقرر کرنے کا خیال نہ ہی ماہرانِ فن کو پیدا ہوا اور نہ ہی پیدا ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ کیوں کہ ’’ نعت ‘‘ وہ صنف سخن ہے جس کو مقررہ حدود میں قید کرنا یا اس کے لئے کوئی اصول و ضوابط کا طے کرنا عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس طرح ’’ نعتِ پاک‘‘ کو صنفِ سخن جیسے حدود میں قید کرنا اس کی شان کے خلاف ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جس طرح خدا کی ذات کو محدود کرنا اس کی شان کے خلاف ہے اسی طرح پیارے نبی آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں تعریف و توصیف کے لئے کسی زبان کا بھی سہارا لینا اور کسی بھی بحر و اوزان میں عقیدت و محبت اور ادب و احترام کے خیال کو سمونے کے لئے حدود مقرر کرنا بھی آپﷺ کی شان کے خلاف ہے۔ جس طرح خداکی ذات لا محدود ہے اسی طرح لباسِ بشریت میں پیارے نبی ﷺ کی ذات با برکت بھی لا محدود ہے۔خدائے تعالیٰ آج تک اور انشا اللہ قیامت تک ہر ماہرعلم ِعروض و فن کو یہ اختیار نہیں دئے گا کہ وہ ’’ نعت پاک ‘‘ جیسے مقدس صنفِ سخن کے لئے کوئی فنی حدود مقرر کرے۔ بلکہ یہ وہ فن ہے جس کے لئے کوئی حد مقرر نہیںکی جاسکتی۔نعت پاک کو ہر صنفِ سخن میں لایا جا سکتا ہے یہ تو نعت گو شعرأ پر منحصر ہے۔ وہ اپنے پاکیزہ و مقدس خیالات کی ترسیل کے لئے کسی بھی صنف سخن کو اپنا سکتے ہیں۔ اوریہ مقدس عمل مشیت خداوندی اور توفیقِ الٰہی پر منحصر ہے۔ نہ کہ بندوں کے اختیار پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پیارے نبی آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذاتِ والا برکات کی شایان شان کے خلاف ہے کہ نعت پاک کو صنف سخن کے محدود پیمانے میں نہ صرف ناپا جا سکتا ہے بلکہ اس کے تصور سے ہی بے ادبی کی جھلک نمایاں ہونے لگتی ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہم نعت پاک کے سلسلہ کومختلف اوزان و بحور میں لا سکتے ہیں اس کے لئے نعت گو شعرأ پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس مقدس فن کے لئے کوئی فنی حدود مقرر کئے جاسکتے ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فاضل مقالہ نگار ڈاکٹر سید شاہ حسین احمد صاحب نے آگے لکھا ہے کہ ’’ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے سراپا کا تعلق ہے۔رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا سوال ہے ، اس طرف شعرا ئے اردو نے توجہ کم دی ہے۔‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شاید فاضل مقالہ نگار کی نگاہوں سے مذکورہ موضوعات پر مبنی نعتیہ اشعار نہیں گذر رہے ہوں گے۔ ہمارے والد بزرگ وار حضرت سید شاہ غوث محی الدین چشتی قادری المعروف بہ نہال ؔ مخدومی علیہ الرحمہ نے اپنی نعتیہ شاعری میں آپ ﷺ کے اخلاق اور آپ ﷺ کے اسوہ ٔ حسنہ پر اشعار کہنے کی سعادت حاصل کی ہے۔میں چاہوں گا کہ ’’ کلام نہال ‘‘ کاوہ ضرور مطالعہ کریں تو یہ تشنگی شاید دور ہو جائے۔ اس طرح بہت سے ایسے شعرأ بھی ہیں جنہوں نے مذکورہ موضوعات پر اپنی نعتیہ شاعری میں تذکرہ کیا ہے۔آگے چل کر آپ نے لکھا ہے کہ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ اور بھی نعتیہ مجموعے میری نگاہ سے گزرے ہیں جن میں اس طرح کا اعلان موجود ہے۔ نعت لکھنے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ نعت صرف توشۂ آخرت نہیں بلکہ ادب بھی ہے اسے پرکھنے اور اس کی ادبی قدر و قیمت متعین کرنے کا ناقد کو پورا پوار اختیار ہے۔‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذکورہ تحریر میں جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ حقیقت پر مبنی ہیں۔ واقعی نعت صرف توشۂ آخرت نہیں بلکہ ادب بھی ہے۔ میرے خیال میں اردو ادب میں اس وقت نکھار آئے گا اور جولانی پیدا ہوگی جبکہ نعت پاک کے صنف کو اردو ادب میں شامل کیا جائے گا۔ اردو ادب کو جلا بخشنے کا اگر کوئی واحد ذریعہ ہے تو وہ ’’ نعت شریف ‘‘ ہے۔ نعت پاک بھی ادب کے سرِ فہرست دائرہ میں شامل ہے اور وہ بھی ادبی پارہ کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نعت پاک ادبِ عالیہ کا ایک بلند وبالا حصہ ہے۔ اس صنف میں ادبی چاشنی کے سرور و انبساط کے علاوہ ادب و احترام عشق و محبت کے جملہ لوازمات بر سرِ پیکار نظر آتے ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اردو کے کسی بھی تنقید نگار کو باعتبار فن کے پرکھنے کا پوارا پوارا اختیار ہے جبکہ وہ ادب و احترام کے دائرہ میں رہ کر اس مقدس ادب کی قدر و قیمت متعین کرے۔ راقم الحروف کو اس اہم مقصد کی تکمیل کے لئے توفیقِ لٰہی اور تاجدار مدینہ ﷺ کے نظر ِ کرم کاصلہ ملا کہ وہ ’’ دبستان ِ نعت ‘‘ کے ہر ایک تحقیقی مضمون پر اظہارِ خیال کی نہ صرف جسارت کی بلکہ حدود و اصول و ضوابط کو ’’ نعت پاک ‘‘ سے مستثنیٰ کروانے کے خیال کو ظاہر کیا۔ ’’ نعت ِ پاک ‘‘ بلا شک و شبہ ادب ِعالیہ کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ ’’نعت ِپاک ‘‘ بیشک ادب بھی ہے۔ اور وہ زمرۂ ادب میں سرِ فہرست شامل ہے اور یہ وہ ادبی صنف ہے جس کے لئے کوئی فنی حدود مقرر کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ وہ ادبی صنف ہے جو ہر صنفِ سخن میں کہی جا سکتی ہے۔ اب رہی بات اس کی ادبی قدر و قیمت متعین کرنے کی ناقد کو پورا پورا اختیار ہے۔ وہ صرف اوزان و بحور کی پابندی اور الفاظ کے استعمال کے طور و طریقہ کو پرکھا اور جانچا جا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ فن نعت اور نعت گوئی ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر خسرو حسینی نے تفصیل کے ساتھ فن نعت کے لغوی اور اصطلاحی معنوں کو بڑے عمدہ پیرائے میں پیش کیا ہے۔ آپ کا مضمون معلومات کا ایک خزانہ ہے۔ جو لوگ ’’ نعت پاک ‘‘ کو صنف کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں ساری تفصیلات انہیں اس مضمون میں مل جائے گی۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کے خیال میں یہ مضمون ماہرانِ علم و فن کے لیے خضرِ راہ کا کام دئے گا۔ میں ڈاکٹر خسرو حسینی صاحب کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے تشنگان ِ علم و فن کو صنفِ نعت کے ضمن میں ایک معلومات افزا بیش بہا علمی خزانہ بہم پہنچایا ہے۔ میں چاہوںگا کہ ہر ایک ماہر علم و فن اس مضمون سے استفادہ ضرور کرئے۔ تحقیقی پیرائے میں یہ مضمون قابلِ غور و فکر کا سامان لئے ہر ایک قاری کو مطمئن کر جاتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نعتِ نبی ﷺ کے سلسلہ میں ڈاکٹر خسرو صاحب نے مختلف زبانوں عربی ، فارسی اور اردو پر تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔تحقیقی اور تنقیدی آرأ کی جھلکیاں پورے آب و تاب کے ساتھ ان کے مضمون میں دکھائی دیتی ہیں۔ ’’ دبستان ِ نعت ‘‘ شمارہ کے لیے یہ مضمون بڑی اہمیت کا حامل نظر آتا ہے۔ خدا کرے ایسے مضامین بار بار چھپتے رہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’حدائق بخشش کے صنائع بدائع پر اک اور نظر ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر صابر سنبھلی کا لکھا ہوا مضمون ’’حدائق بخشش کے صنائع بدائع پر اک اور نظر ‘‘ میں حضرت رضا ؔبریلوی علیہ الرحمہ کے شاعرانہ خوبیوں پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ میرا خیال ہے کہ فنی پہلو پر فکری پہلو کی نسبت کم توجہ دی گئی ہے ‘‘ صفحہ ۵۷&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذکورہ تحریر کے ذریعہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت رضاؔ بریلوی علیہ الرحمہ کے کلام میں موجود فنی پہلوؤں کو یہ اجاگر کر رہے ہیں جبکہ ان سے پہلے تنقید نگاروں نے اس طرف توجہ نہ دی ہے۔ اس کے ثبوت میں انہوں نے تقریباً چھ اشعار کی تشریح بھی کی ہے جو اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر صابرؔ سنبھلی صاحب نے عنوان کا جو انتخاب کیا ہے۔ ایک عام قاری کو سمجھنے میں بڑی مشکل ہوتی ہے کہ ’’ حدائق بخشش ‘‘ کیا یہ کسی شاعر کا نام ہے یا کسی مجموعہ کلام کا ؟ بڑی مشکل کے بعد قاری کو پوارا مضمون پڑھنے کے بعد معلوم ہونے لگتا ہے کہ یہ مجموعہ کلام کا نام ہے۔ اگر مضمون نگار صاحب پہلے ہی قوسین میں اس کی وضاحت کرتے تو بہتر ہوتا۔ یا حضرت رضا بریلوی کے مجموعہ کلام یا حضرت رضا بریلوی کی تصنیف ’’ صنائع بدائع پر اک نظر ‘‘ اس طرح کا عنوان انتخاب کیا جاتا تو قاری کو عنوان کے سمجھنے میں آسانی ہو جاتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ شمال کے رہنے والے ان کی تصانیف کے نام اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ مگر جنوب کے قاری ان کی تصانیف سے نا واقف ہیں۔ امید کہ آئندہ کے مقالوں میں اس بات کی جانب توجہ دی جائے گی۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نعت اور ہماری شعری روایات ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر عزیز احسن (کراچی ) کا تحقیقی مضمون ’’ نعت اور ہماری شعری روایات ‘‘ تقریباً سات صفحات پر مبنی بڑاہی فکر انگیز دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے مقالہ کے ذریعہ قاری کو اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ نعت نبی ﷺ کے لئے گو خاص ہیئت یا کوئی خاص صنف سخن مخصوص نہیں ہے۔ شاعر جس صنفِ سخن میں مہارت رکھتا ہو وہ نعتیہ اشعار کہہ سکتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے عربی اور فارسی شعرأ کے علاوہ اردو زبان کے شعرأ پر بھی ایک تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ ان کے مضمون سے ثابت ہوتا ہے کہ ’’ نعت شریف‘‘ کے مخصوص صنف کو ہر صنفِ سخن میں لایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب تو نعت لکھنے کے لئے غزل اور قصیدہ کا ’’ پیٹرن (Pattern ) ہی سامنے رکھا لیکن محسنؔ کاکوروی نے غزل قصیدہ اور مثنوی میں اپنے فن کے وہ جوہر دکھائے کہ انہیں نعت گوئی کا فن شناس شاعر تسلیم کیا گیا۔ پھر حالی ؔ نے اپنی مسدس میں نعتیہ اشعار اس درد مندی سے لکھے کہ عوام و خواص کے دلوں پر یہ نقش ہوگئے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
(دبستان ِ نعت صفحہ۶۵ )	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کے مذکورہ اقتباس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نعت شریف ، غزل ، قصیدہ ، مثنوی اور مسدس میں لکھی جا چکی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے ہند و پاک کے مختلف شعرأ کی وہ فہرست پیش کی ہے جنہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں نعت شریف کو لکھنے کی سعادت حاصل کی ہے اور وہ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ’’ پاکستان میں جب عہدِ ضیا الحق ‘‘ قائم ہوا تو سرکاری سطح پر نعت خواں حضرات کی پزیرائی ہونے لگی تو مزید شعرأ اس مقدس صنف کی طرف راغب ہوئے اور سلسلہ پورئی تیزی کے ساتھ آج تک رواں دواں دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے چند شعرأ کی فہرست کا ذکر کیا ہے۔ وہ آگے لکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ کیوں کہ ان شعرأ نے تسلسل کے ساتھ قدیم و جدید شعری اسالیب کے امتزاج سے نعتیں کہی ہیں۔ جدید شعری اسالیب میں نعتیہ ادب تخلیق کرنے والے شعرأ میں عبد العزیز خالدؔ ، عارف عبد المتین ، احمد ندیم قاسمی، ریاض مجید ، ریاض حسین چودھری، سرشار صدیقی و غیرہم کے نام ہمیشہ درخشاں ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گے۔‘‘ (دبستانِ نعت۔ صفحہ ۶۷)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قدیم و جدید چاہے ان کا تعلق ہندوستان سے ہو یا کستان سے ہر ایک شاعر نے مختلف اصنافِ سخن میں نعتیہ ادب کو تخلیق کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔راقم الحروف نے اس سے پہلے کے تحقیقی مضمون اور تبصرہ میں اس بات کا ذکر کر چکا ہے کہ ’’ نعتیہ ادب کے لئے کوئی خاص صنفِ سخن مخصوص نہیں بلکہ وہ ہر صنفِ سخن میں تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ نہ تو ہم نعتیہ ادب کے لئے کوئی خاص صنفِ سخن مخصوص کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس مقدس صنفِ ادب کے لے مخصوص صنفِ سخن مقرر کیا گیا ہے۔ اس طرح ’’نعت ‘‘کے لیے کوئی بھی صنف سخن مقرر کرنے سے اس کا دائرہ ادب محدود ہوجاتا ہے۔ حالانکہ یہ صنف ادب محدود نہیں بلکہ لا محدود ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہم تمام شعرأ کو اس بات کا اختیار ہے کہ ہم جس صنفِ سخن میںکیوں نہ ہو اپنی عقیدت و محبت کے پھول کو بارگاہِ نبوی ﷺ میں نہایت ہی ادب و احترم کے ساتھ نچھاور کر سکتے ہیں۔ اس کو نہ کوئی روک سکتا ہے اوراس کے لیے نہ کوئی حدود مقرر کر سکتا ہے۔ راقم الحروف کے خیال میں شاعر کو پوری آزادی ہے کہ وہ دائرہ ادب میںرہ کر مختلف اصناف میں اپنی نعتیہ شاعری کو تخلیق کر سکتا ہے۔ اس طرح نعتیہ ادب کے لئے صنفِ حدود مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کیا جائے تو بے ادبی کا سبب بن سکتا ہے اس سے ہر ایک شاعر کوبچنا چاہیئے ۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نعتِ رسول ﷺ اور اس کی ارتقاء ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جناب ساجدؔ امروہوی اپنے مضمون ’’ نعتِ رسول ﷺ اور اس کی ارتقأ ‘‘ میں اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ’’نعت ‘‘کے لئے کوئی صنفِ سخن مخصوص نہیں۔ وہ آگے لکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نعت کے اس معنی میں نثر اور نظم کی کوئی تخصیص نہیں ‘‘( دبستانِ نعت صفحہ ۶۹)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فاضل مقالہ نگار نے اس مضمون کے ذریعہ عربی ، فارسی اور اردو زبان کے شعرائے کرام کا مستند حوالوں کے ساتھ شعرأ کا ایک ایک شعر پیش کرکے قارئین کی معلومات میں اضافہ کیا۔ خدا ان کے قلم کو مزید تقویت بخشے۔آمین۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ساجدؔ صاحب کا یہ مضمون ہماری معلومات میں اضافہ ہی اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہوئی کہ آپ نے ہمارے پیارے نبی ﷺ کے عم محترم حضر ت ابو طالب سے منسوب عربی شعر پیش کرکے واقعی ’’ فن نعت ‘‘کے ابتدائی منازل کا پتہ ہمیں بتایا ہے جو کہ عام قاری ان باتوں سے ناواقف ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نعت کا قدیم ترین ماخذ ’’ تبع حمیری ‘‘ کے اشعارکو ایک ایسے معتبر حوالہ سے پیش کیا ہے جس کا نام تفسیر ابن کثیر جلد ۴ کے صفحہ ۱۴۶ پر مرقوم ہے۔ حوالے دیے گئے اشعار سے ایک عام قاری اب تک لا علم تھا جس کو انہوں نے بڑی خوبی کے ساتھ تحقیقی پیرائے میں پیش کیا ہے۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عبد اللہ ابن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اشعار پیش کرکے تحقیق کا حق ادا کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے فارسی زبان میں کہے گئے نعتیہ اشعار کو بھی ترتیب وار پیش کیا ہے جیسا کہ حضرت شیخ سعدی ، حضرت حافظ شیرازی، مولانا جامیؔ ، خاقانی کے علاوہ حضرت محی الدین جیلانی علیہ الرحمہ عرفی شیرازی اور قدسی ایرانی کے اشعار وغیرہ۔ اس کے بعد انہوں نے اردو زبان کے شعرأ میں علی الترتیب حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ، حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ ، اسد اللہ غالبؔ اور سر سید احمد خاں کے فارسی اشعار کو لکھا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کو یہ بات اچھی لگی کہ انہوں ے سر سید احمد خاں کا نعتیہ شعر ڈھونڈھ نکالا جو کہ عام قاری کی نظروں سے اب تک نہیں گزرا۔ لہٰذا قابلِ مبارک باد ہیں ساجد ؔامروہوی صاحب انہوں نے سر سید احمد خاں کا حسب ذیل شعر پیش کیا۔     ؎   &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ز جبرئیل امیں قرآں بہ پیغام ِ نمی خواہم &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہمہ گفتار معشوق است قرآنے کہ من دارم &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس طرح اردو شعرأ کی تحقیق بھی بڑے عمدہ پیرائے میں کی ہے جس میں تاریخی شواہد کی تفصیلات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ آپ نے ایک ایسے شاعر کی نشان دہی کی جنہوں نے نعت گوئی کے سلسلہ کو تا حیات جاری رکھا جن کا نام ہے کرامت علی شہیدی۔ شاید قارئین کے لئے یہ ایک نئی دریافت ہوگی۔ امیر ؔمینائی ایک ایسے با کمال شاعر ہیں جنہوں نے ایک نعتیہ دیوان ’’ محامد خاتم النبین ‘‘ اپنی یادگار چھوڑا ہے۔ میرے خیال میں یہ دیوان دیگر نعت گو شعرأ کے لیے خضرِ راہ کا کام دئے گا۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے کئی دیوان معرضِ وجود میں آئیں گے۔ جدید نعت گو شعرأ کی انہوں نے جو فہرست بیان کی ہے وہ بھی معلومات کا ایک ذخیرہ دکھائی دیتی ہے۔ میرے خیال میں شمالی ہندوستان کے یہ شعرأ ہیں اگر جنوبی ہند کے چند شعرأ کو بھی اس میں شامل کیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ اس کے علاوہ مختلف شعرأ کے ایک ایک شعرکو پیش کرکے قارئین کے دلوں میں جذبہ ٔ عشق رسولﷺ کو بڑھا دیا۔ مضمون کے آخری حصے میں آپ نے ایک ایسی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ جو عشقِ رسول ﷺ کی زندہ مثال ہے جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’اصل میں دلوں کو تڑپا دینے والے اشعارکہے نہیں جاتے ہو جاتے ہیں ‘‘ بڑا معنی خیز جملہ ہے جو کہ حقیقت ِ حال پر مبنی ہے۔ میری دعا ہے کہ ا س طرح کے مضامین اگلے شماروں میں آتے رہیں۔ عاشقان رسول ﷺ کو سامان ِ عشق مہیا کرتے رہیں۔ آمین۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی کا مضمون :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ حاضر کے بلند قامت غیر مسلم نعت گو شاعر حضرت کرشن کمار طور ؔ ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذکورہ عنوان کی روشنی میں اگر مضمون دیکھا جائے تو درمیانی حصہ میں ایک جھول نظر آتا ہے ، وہ ان کی غزل گوئی کے محاسن پر بات کی ہے اگر اس بات کو مضمون سے نکال دیا ہوتا تو مضمون کے ساتھ انصاف ضرور ہوتا۔ بات نعت گوئی کی ہو رہی ہے درمیان میں غزل گوئی کو لایا گیا جو کہ مضمون آفرینی کی راہ میں حائل ہو گیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فاضل مقالہ نگار نے ان کی حمدیہ اور نعتیہ شاعری کو ان کے ہی اشعار سے ان کے اندر وحدانیت و رسالت پناہ ﷺ سے بے حد عقیدت و محبت کے اظہار کا ذریعہ بنا۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ آپ اہمیت کی حامل تو نظر آتی ہیں۔ لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود وہ بنیادی طور پر طور ؔ صاحب نعمت ایمان سے محروم رہ گئے ہیں۔ کاش وہ اگر دولتِ ایمان سے مالا مال ہو جاتے تو میرے خیال میں ان کی نعتیہ شاعری سرِ فہرست رکھی جا سکتی۔ اور پیارے نبی آقا ﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ میں مقبولیت کا درجہ رکھتی۔ اور آپ کے نام کے ساتھ فاضل مقالہ نگار نے جو لفظ ’’ حضرت ‘‘ استعمال کیا ہے۔ وہ بھی اسم با مسمیٰ ہو جاتا۔ کاش اگر ایسا ہوتا۔ ورنہ لفظ ’’ حضرت ‘‘ کا استعمال راقم کے خیال میں غلط اور غیر مناسب ہے۔ یہ وہ مقدس لفظ ہے جو صرف پیغمبر حضرات جیسی بلند مقام شخصیات اور عام مسلمانوں میں جو بھی مقام عرفان الٰہی یا عشق نبوی ﷺ سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ان کے لئے ہی استعمال کیا جائے تو مناسب ہوگا۔ آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ طور ؔ صاحب کی نعتیہ اور حمدیہ شاعری قابلِ قبول و لائق تحسین ہے۔ صرف ادبی محاسن کے ضمن میں اور خیال آفرینی کی بلندی میں جو کہ عقیدت و محبت کی قوت ِپر واز رکھتی ہیں۔ راقم کی دعا ہے خدا طور ؔصاحب کو ایمان کی دولت سے مالامال کر دے آمین ثم آمین۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فاضل مقالہ نگار ڈاکٹر فہیم احد صدیقی صاحب نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ انہیں مختلف اکاڈمیوں سے انعامات بھی دئے گئے ہیں۔ خوشی کی بات ہے۔ لیکن راقم کے خیال میں انہیں اکادمیوں سے انعامات تو مل چکے کاش وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہو جاتے تو خدا کے ایوارڈ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرفراز ہو جاتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ڈاکٹر صغریٰ عالم ایک خوش فکر نعت گو شاعرہ ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جناب فیروز احمد سیفی صاحب ( نیو یارک) کا یہ مضمون فن ’’ نعت گوئی ‘‘ کے ضمن میں ایک نئی دریافت کی حیثیت رکھتا ہے۔ تحقیق اس کو کہتے ہیں جو بات عام قاری کی معلومات سے باہر ہو۔ اس بات کو قاری کی معلومات کے لئے مختص کی جائے تو وہ اہمیت کی حامل ہو جا تی ہے۔لہٰذا سیفی صاحب نے اپنے مضمون کے ذریعہ تحقیق کے اصول پر پابند ہوتے ہوئے انہوں نے حق تحقیق کو مذکورہ مضمون کے ذریعہ ادا کیا ہے۔ وہ قابل ِ مبارک باد ہیں۔ میں یہ کہوںگا کہ ان کے اس مضمون سے ’’ نعت گو‘‘ شعرأ کی فہرست میں بالخصوص شاعرات کی فہرست میں اضافہ ہوا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صغریٰ عالم صاحبہ کا نام جنوبی ہند کی ’’ نعت گو ‘‘ شاعرات میں ایک نئی دریافت کا درجہ رکھتا ہے۔ ’’ نعتیہ شاعری ‘‘ ہر کوئی شاعر نہیں کر سکتا جبکہ ا سکے قلب و ذہن بلکہ اس کے پورے وجود پر عشق نبی ﷺ کا مبارک و مسعود جذبہ غالب نہ ہو۔ آپ کی شاعری کو پڑھنے کے بعد دل یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ تو عاشقہ ہے جو اپنے رسول ﷺ سے ہر درجہ عقیدت و محبت رکھتی ہے ان کے اشعار قاری کو عاشق رسول ﷺ بنا نے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ راقم نے حسب ذیل اشعار میں یہ کیفیت دیکھی ہے و ہ اشعارملاحظہ ہوں۔    ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
با وضو رہتی ہیں ہر دم مری آنکھیں دونوں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تیرے دیدار کا کیا اور سلیقہ ہوگا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میں نہ لکھ پاونگی توصیف محمد ﷺ صغریٰؔ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اتنا آسان نہیں توصیف پیمبر ﷺ لکھنا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان کے صدقے میں لُٹا دوں یہ مری عمر رواں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہیں مری روح، مری جان، رسول عربی ﷺ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میرے خیال میں خوابوں میں روضہ اطہر &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سراغ اپنا خدا نے یوں دیا ہے مجھے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس طرح کے بہت سے اشعار ہیں جو ان کے جذبات حقیقی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ میں نے ان کے آخری شعر میں ان کے خاتمہ بالخیر ہونے کے جذبہ کو دیکھا ہے خدا ضرور ان کا خاتمہ بالخیر کیا ہوگا۔ میری دعا ہے کہ وہ جو ار رحمت خداوندی میں رسالت پناہ ﷺ کی قربت کی دولت سے مالا مال ہو جائیں۔ آمین اس مضمون کے صفحہ ۸۵ پر لفظ ’’ رحمۃ العالمین ‘‘ لکھا ہوا ہے شاید کتابت کی غلطی ہوئی ہوگی اس کی اسطرح تصحیح کرنی چاہیئے ۔ ’’ رحمۃ اللعالمین ‘‘ اسی طرح ’’ انّا اعطینا‘‘ کی بجائے اعطینی لکھا ہوا ہے یہ بھی کتابت یا ٹائپنگ کی غلطی ہوگی۔ اصلاح کر لی جائے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صفحہ ۸۴ پر مقالہ نگار موصوف نے لکھا ہے کہ ’’ پھر وہ عظیم ترین نیّر اعظم ﷺ جن سے خود اس ذات مقدس نے محبت کی اور اپنے بندوں کو اس ذاتِ ستودہ صفات رسول اکرم ﷺ سے محبت کرنے کا حکم صادر فرما کر یہ درس دیا ہے کہ یہی ’’ صراط مستقیم ‘‘ ہے۔ راقم کے خیال میں ’’ صرط مستقیم ‘‘ کی بجائے ’’ معراج انسانی ‘‘ ہے لکھ دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ دوسرا وہ جملہ صفحہ ۸۵ پر لکھا ہوا ’’بشرطیکہ نعت گو بارگاہ مصطفی ﷺ کی لا زوال عظمتوں ، لطافتوں اور دل آویزیوں سے حتی الامکان آشنا اور اپنے موضوع کی نزاکتوں کا ‘‘ ادب شناس ہو۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذکورہ جملہ میں ’’ ادب شناس ‘‘ ہو کی بجائے ’’ واقف ہو ‘‘ لکھا جاتا تو بہتر ہوتا۔ میرا اپنا خیال ہے شاید پسند آئے۔ مذکورہ مقالہ تحقیقی اعتبار سے قابلِ قبول و لائقِ ستائش ہے۔ خدا کرے اس طرح کے اور مضامین فاضل مقالہ نگار لکھتے رہیں۔ اصل میںیہی تحقیق ہے۔ اس طرح کے مضامین قارئین کی معلومات میں اضافے کا سبب بنیںگے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ حرفِ آرزو‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
منیر احمد ملک ( اسلام آباد ) کا مضمون ’’ حرفِ آرزو‘‘ اپنے عنوان کی معنویت میں اسم با مسمّیٰ نظر آتا ہے۔ صاحب موصوف کو پیارے نبی ﷺ سے حد درجہ عقیدت و محبت ہے جس کی جھلکیاں ان کے مقالے کے ہر ایک لفظ سے عیاں ہوتی نظر آتی ہیں۔انہوں نے جو زبان اختیار کی ہے وہ مقفّیٰ و مسجع انداز تحریر کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ یہاں تو دو باتئیں ذہن نشیں ہونی چاہیئے۔ پہلی بات ادبی نقطۂ نظر سے مقفّیٰ و مسجّع طرز تحریر کو موجودہ دور میں اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی کہ آسان و سہل زبان میں بات کو سمجھایا جائے ’’ یہ تو رہی ادب جدید کی بات ‘‘ دوسری اہم بات یہ ہے کہ منیر صاحب کی تحریروں میں ہر ایک نقطہ سے عقیدت ومحبت کی وہ خوشبو جو مشک و عنبر سے کم نہیں قاری کے ذہن و قلب کو معطر کرتی چلی آرہی ہے عقیدت کی وہ اُٹھان جس میں ادب و عقیدت کو ملحوظ رکھا گیا ہے ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے ’’ اردو ادب ‘‘ کے حلقہ میں شاید ان کا انداز تحریر قابلِ قبول ہو نہ ہو لیکن بارگاہ ِ رسالت مآب ﷺ میں ضرور قبولیت کا درجہ حاصل کر ئے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عقیدت کی زبان کچھ اور ہے ادب کی زبان کچھ اور۔منیر صاحب نے واقعی مقالے کے شروع میں اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے وہ لکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’میں نہ تو سخن ور ہوں کہ شوخی گفتار سے آپ کے شعلہ ٔ نفس کو گرما سکوں اور نہ ہی قلم کار کہ لفظوں کے خزف ریزوں سے ہیرے تراش سکوں۔‘‘(دبستانِ نعت، صفحہ ۹۵)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
منیر صاحب نے واقعی اپنی تحریروں میں اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ وہ جو کچھ لکھ رہے ہیں یا لکھ چکے ہیں ان کی تحریروں کے پیچھے ان کی ذاتی کاوشیں اور فنی کمال کی حُسن کاری نہیں ہے بلکہ ان کی تحریروں کی تخلیق محض اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور پیارے نبی ﷺ کا نذرکرم ہے ورنہ وہ کچھ بھی نہیں۔ حسب ذیل تحریر میں ہم اِس صداقت کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں ، ملاحظہ کیجئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ تحریر کے ابرِ ریشم میں حُسن تربیت کا فقدان اور الفاظ کی کم مائیگی شاید زبان حال سے پکارتی نظر آئے تو اسے میری تقصیر سمجھئے گا اور اگر کسی لفظ کا حُسن کسی خیال کی ندرت آپ کی نگاہ جمال بن کر دل کے تاروں کو چھو لے اور محبوبِ انس و جاں ﷺ کی محبت کی دھنک ستاروں کی طرح پلکوں پہ اتر آئے تو یہ میرا کمال نگارش نہیں بلکہ احسان خداوندی اور آقائے دو جہاں ﷺ کی نذرِ کرم کا صدقہ ہوگا۔‘‘ (دبستان نعت، صفحہ ۹۶)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ادبی تحقیق میں تحریروں کا اصول یہ ہے کہ جو بھی بات آپ بیان کریں اس کا حوالہ ضرور دیا کریں۔ کیوںکہ جو بات حوالے کے ذریعہ کہی جاتی ہے وہ اصولِ تحقیق کے عین مطابق ہوتی ہے۔ بغیر حوالے کے جو بات کہی جاتی ہے وہ ادبی نقطہ ٔ نظر سے معیوب سمجھی جاتی ہے۔ میری مراد منیر صاحب نے اپنے مقالہ میں جو تحریری انداز اختیار کیا وہ بہت ہی ادبی حُسن وجمال سے مزیّن ضرور ہے لیکن تحقیقی اصول و ضوابط کی روشنی میںغیر مستند ہیں کیوں کہ انہوں نے جو اشعار پیش کیئے ہیں اس کا حوالہ نہیں دیا ہے۔ قاری کو اشعار پڑھ کراس کا ذہن اچمبھے میں پڑ جاتا ہے کہ یہ اشعار خود منیر صاحب کے ہیں یا کسی اور کے ؟ یہ سلسلہ صفحہ ۹۵ سے صفحہ ۱۰۷ تک کا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے صفحہ ۱۰۸ میں جو اشعار لکھے ہیں باقاعدہ طور پر حوالہ دیا ہے۔ مثلاً مولانا ظفر علی خاں ، شورش کاشمیری ، ریاض حسین چودھری ، علامہ اقبالؔ وغیرہ۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
منیر صاحب کا یہ طویل مقالہ جو تقریباً بیس صفحات پر مشتمل ہے۔ آپ نے مقالہ بہت ہی اچھا تحریر فرمایا ہے۔ معلومات افزأ اور قابل ِ قرآت ہے۔ آخر میں آپ حوالہ جات دیے ہوتے تو اس مقالے میں اور بھی حُسن و خوبی پیدا ہوتی ، امید کہ فاضل مقالہ نگار ضرور اس جانب توجہ فرمائیںگے۔ اور جو بھی ناچیز نے اپنے خیالات کا اظہار تنقیدی و تحقیقی پیرائے میں کیا ہے اس طرف آپ التفات فرمائیں گے۔ بحیثیت مجموعی آپ اپنے مضمون کے ذریعہ قاری کے اندر جوش و جذبات کا ایک خوبصورت پیکر لیے متاثر کرجاتے ہیں۔ امید کہ صاحب ِ مقالہ نگار میرے دئے ہوئے مشوروں پر عمل پیرا ہو کر اگلے مقالوںکو اور بھی خوبصورت بنائیںگے۔ بس اسی امید کے ساتھ اپنی تحریر کو ختم کرتا ہوں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ناعت پر فیضان ِ منعوت ‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قاضی محمد رفیق فائز فتح پوری کا یہ مضمون ’’ ناعت پر فیضان ِ منعوت ‘‘جو کہ تقریباً تیرہ صفحات پر مشتمل ہے۔ تحقیقی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس مضمون کو فقہی دلائل پر مبنی مستند اور مدلل قرار دیا جا سکتا ہے۔ آپ نے جو بات کہی ہے وہ اصول فقہ کی روشنی میں راست اور درست قرار دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں مستند حوالوں سے بات کہی ہے۔ تحقیق میں مستند حوالوں کی بڑی اہمیت ہے۔وہ مضمون جو بغیر مستند حوالوں کے لکھا جاتا ہے، اصول تحقیق کی روشنی میں نا قابلِ قبول قرار دیا جاتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نعت ‘‘ شریف کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے مضمون کی شروعات ہی بڑے ہی خوبصورت انداز میںکی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نعت جیسے عبادتی موضوع پر خامہ فرسائی کرنے کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش بھی عبادت کے زمرے میں ہی آتی ہے۔‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
(’’دبستان نعت‘‘۔صفحہ ۱۱۵ )	&lt;br /&gt;
آپ نے ایک اہم اور پتے کی بات یہ کہی کہ نعت شریف کی اساس کلمہ ٔ طیبہ پررکھی گئی ہے وہ لکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ اس کی اساس و بنیاد خود کلمہ ٔ طیبہ ہے جو دو جزوں پر مشتمل ہے ‘‘ صفحہ ۱۱۵ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فقہی نقطہ ٔ نظر سے بھی آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ تو جب کلمہ ٔ طیبہ کے جز اوّل پر اجر وثواب مرتب ہوگا تو جز ثانی پر کیوں نہیں۔‘‘(’’دبستان نعت ‘‘۔ صفحہ ۱۱۶) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نعت ‘‘ پاک وہ صنفِ سخن ہے جس کے لئے نہ تو نظم کی قید لگائی جا سکتی ہے اور نہ ہی نثر کی بلکہ ’’ نعت پاک ‘‘ نظم و نثرکے مختلف اصناف میں کہی جا سکتی ہے اس مقدس صنف کو مقید کیانہیں جا سکتا کیوں کہ وہ لا محدود صنفِ سخن ہے ۔‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قاضی محمد رفیق صاحب نے اسی بات کی تصدیق اس طرح کی ہے :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ اردو ادب میں’’ نعت ‘‘ کو مقید و محصور کیا گیا ہے۔ ورنہ تو ’’نعت‘‘ کے معنی خوبیاں ، اور اوصاف و خصائل بیان کرنا ہے۔ اس میں (نظم) و نثر کی کوئی قید نہیں۔‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آگے چل کر آپ نے کلمہ ٔ طیبہ کے معنوی پسِ منظر میں حمد باری تعالیٰ کے ساتھ نعت نبی ﷺ کا بھی ذکر کرتے ہوئے حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک شعر نقل کیا ہے جو کہ قابلِ غور ہے وہ لکھتے ہیں :۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ اور جب حمد ِ باری تعالیٰ پر عبادت کا اطلاق ہوتا ہے تو نعت نبی ﷺ کا انکار کیونکر کیا جاسکتا ہے۔ جوبقول حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔  ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ضم الہ اسم النبی باسمہ ان قال فی الخمیس الموذن اشھد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کا نام اپنے نام کے ساتھ ایسا ملایا ہے کہ جس کی گواہی موذن پانچ وقت اذان میں دیتا ہے۔ تو جو کام خود اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور نبی کریم ﷺ کے صحابہ ٔ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا ہو اس کے عبادت ہونے سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے۔‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صاحب مضمون نگار نے یہ ثابت کیا ہے کہ سب سے پہلے زمین پر حضرت آدم علیہ السلام نے حضور اکرم ﷺ کے وسیلۂ مبارکہ سے آپ کی شان میں نعت شریف کے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے خدا سے اپنے گناہوں کی معافی چاہی وہ نعتیہ الفاظ جس کا وسیلہ لے کر آپ نے اپنی مغفرت طلب کی وہ یہ ہیں۔ ’’ بحق محمد الا غفرت لِی ‘‘ اس طرح آپ نے مختلف احادیث کے ذریعہ آپ کی شفاعت کبریٰ کے دلائل کو بھی پیش کیا ہے۔ بہر حال مجموعی طور پر آپ کا یہ مضمون نہ صرف قابلِ قبول ہے بلکہ قابلِ تقلیدبھی کہا جا سکتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ناعت پر فیضان ِ منعوت ‘‘میں کتابت کی بہت جگہ غلطیاں ہوگئی ہیں انہیں درست کر لیا جائے تو مناسب ہوگا جن کی تفصیلات حسب ذیل بیان کی جا رہی ہیں :۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
۱۔ ’’ ترمزی شریف ‘‘ صحیح لفظ ’’ ترمذی سریف ‘‘ صفحہ ۱۲۴&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
۲۔ ’’ حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘‘ ’’ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحیح ہے۔ صفحہ ۱۲۴&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
۳۔’’ بحق محمد الا غفرت لی ‘‘ ’’ الا غفرت لی ‘‘ صحیح ہے۔ صفحہ ۱۲۶&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ مضمون ’’ ناعت پر فیضان ِ منعوت ‘‘ کا آخری حصہ موضوع سے ہٹا ہوادکھائی دیتا ہے کیوں کہ آپ ناعت و منعوت کی بات کے بجائے شفاعت کبریٰ کا ذکر مفصل طور پر کیا ہے جس سے موضوع کا کوئی تعلق نہیں۔ اس جانب توجہ کر لیں تو مناسب ہوگا۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ انسانِ کامل ﷺ کا ذکرِ خیر ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سید اقبال حیدر ( ہیوسٹن ) کا مضمون ’’ انسان کامل ﷺ کا ذکرِ خیر ‘‘ چار ذیلی عنوانات کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ انہوں نے ’’ علامہ ماوردی کے مضمون ‘‘ سے استفادہ کرکے جن چار ذیلی عنوانات کو ’’ ابجد ‘‘ کی ترتیب کے ساتھ لکھا ہے۔ اس میں ان کی طرف سے کوئی تحقیقی یا تنقیدی پہلو دکھائی نہیں دیتا۔ مضمون نگار کو چاہیئے تھا کہ وہ اپنی طرف سے کوئی تحقیقی پہلو اور تنقیدی آرا ٔ کو شامل کر لیا ہوتا تو یہ مضمون تحقیقی نقطۂ نظر سے قارئین کو متاثر کر جاتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میرا مشورہ ہے کہ مضمون نگار سید اقبال حیدر صاحب مزید مطالعہ کرکے تحقیقی و تنقیدی پہلوؤں سے اگلے مضمون کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔علامہ کا جو نام انہوں نے لکھا ہے شاید کتابت کی غلطی سے نام میں تبدیلی ہوئی ہوگی۔ اصلاح کر لیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ مظفر وارثی کا حمدیہ آہنگ ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر عزیز احسن ( کراچی ) کا مضمون ’’ مظفر وارثی کا حمدیہ آہنگ ‘‘تحقیقی اعتبارسے دیکھا جائے تو اس میں بہت سی معلومات کو یک جا کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایک عام قاری کو معلومات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ انہوں نے اسلوبیات پر کھل کر بحث کی ہے۔ جیسا کہ انہوں نے ’’ ما فیہ و اسلوب ‘‘ ، ’’ طیف ‘‘ ، مجرد خیال کو تجسیمی بنانا ، تمثال آفرینی اور کا سمک ویزن وغیرہ کو مثالوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر عزیز صاحب ! اپنے مقالہ میں دونوں اجزا کا بھر پور استعمال کیا ہے جس سے مقالہ میں ایک ادبی نکھار دیکھنے کو ملتا ہے۔ دونوں اجزا سے مراد تحقیق و تنقید ہے۔ ایک کامیاب ادیب کی نشانی یہ ہے کہ وہ بر موقع بر محل ان کیفیات کو بیان کرکے جیسا کہ انہوں نے اشعارکے اسلوبیاتی اور معنوی پیکر میں سمودیا ہے۔ راقم الحروف کے خیال میں آپ کے مقالہ میں تحقیقی و تنقیدی دونوں پہلو واضح نظر آتی ہیں۔ یہی بات ایک تجربہ کار محقق اور نقاد میں ہوا کرتی ہے۔ اسی اعتدال پسندی کی وجہ سے فن کا حقیقی مرتبہ قاری کے سامنے کھل کر آتاہے۔ ایک کامیاب نقاد و محقق تحقیق و تنقید کے اصول و ضوابط کا پابند نظر آتا ہے یہ کیفیت ہمیں ڈاکٹر عزیز احسن کے مقالہ میں دکھائی دیتی ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر صاحب نے اشعار کی تشریح اس کے معنوی پس منظر میں وضاحتی پیرائے میں پیش کی ہے۔ جس سے نہ صرف شاعر بلکہ ناقد کے بصیرت افروز انداز بیاں کا بخوبی اظہار دکھائی دیتا ہے۔ مظفر وارثی کی حمدیہ شاعری کا انہوں نے بغائر مطالعہ کیا۔ا شعار میں چھپے معنوی پیکر کو وضاحتی انداز بیان کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جس کے لیے میں فاضل مقالہ نگار ڈاکٹر عزیز احسن صاحب کو مبارک باد پیش کرتاہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ اپنے آئندہ لکھے جانے والے نعتیہ ادب پر مشتمل مقالہ میں بھی اسی کیفیت کو بر قرار رکھیں گے۔ آمین۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بحیثیت مجموعی آپ کا مقالہ تمام فنی نقائص سے پاک دکھائی دیتا ہے۔ ( راقم احروف ) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مظفر وارثی کے اشعار کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے ایک جگہ لفظ ’’ صحیفہ ٔ عقیدت‘‘ لکھا ہے وہ مناسب نہیں کیوں کہ یہ لفظ آسمانی کتابوں کے نزول کے لیے مختص ہے جوکہ پیغمبران ِ اسلام پر نازل ہو ئے۔ بجائے لفظ ’’ صحیفہ ٔ عقیدت ‘‘ کے ’’ گلہائے عقیدت ‘‘ ، یا کتاب ِ عقیدت لکھ دیتے تو مناسب تھا۔اس طرف ڈاکٹر صاحب توجہ دیں۔ ( راقم الحروف ) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ لسان الحسان طاہر ؔسلطانی کے نعتیہ کلام ’’ نعت روشنی ‘‘ کا تنقیدی جائزہ‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جناب محسن اعظم محسن ؔ ملیح آبادی ( کراچی ) کا مضمون’’ لسان الحّسان طاہر سلطانی کے نعتیہ کلام ’’ نعت روشنی ‘‘ کا تنقیدی جائزہ پڑھنے کے بعد راقم کو اس بات کا واضح اندازہ ہوا کہ آپ نے جو طرزِ ادا اشعار کی تشریح کے لیے اپنایا ہے وہ طوالت لیے ہوئے ہے۔ اشعار کی تشریح اگر چہ انتہائی عقیدت و محبت کے پیرایہ میں کی گئی ہے۔بات کو اس طرح پیش کرنا چاہیے کہ قاری کو طوالت کا احساس نہ ہو اور نہ ہی مقفع مسجع الفاظوں میں چھپے معنوی پیکرکی تراشی کی جائے بلکہ اشعار کی وضاحت فصیح و بلیغ پیرائے میں کی جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو زبان فصاحت و بلاغت کے لئے استعمال کی جاتی ہے وہ قاری کے سمجھنے میں آسانی ہواور اس کے دل پر اثر کرے۔ جہاں تک تنقیدی اصول و ضوابط کا تعلق ہے وہاں زبان کو اس طرح استعمال کی جائے جس سے قاری کے سمجھنے میں آسانی ہو مترادف الفاظ یا مختلف لفظیات کے ذریعے معنی کی یکائی ظاہر کرنا قاری کو مشکلات میں ڈال دیتا ہے یہ الگ بات ہے کہ اس زبان سے ایک ادیب ضرور محظوظ ہو سکتا ہے عام قاری نہیں۔ ایک کامیاب ادیب کے پیشِ نظر وہی زبان ملحوظ رہتی ہے جو افہام و تفہیم کی راہ میں ممد و معاون ثابت ہو۔ اسی زبان کے ذریعہ ادیب قاری کو اپنی بات سمجھانے میں کامیاب و کامران نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایسے الفاظ کا استعمال کرتا ہے جو معنی کی ترسیل میںموثر ثابت ہواہے۔ جن میں تفہیم کی لذت کے ساتھ تاثیر کی حلاوت قاری کو متلذّذ کر جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب رہی بات طاہر ؔ سلطانی صاحب کے ان اشعار کی جن کے ہر ایک لفظ سے لذتِ تفہیم کی جھنکار کے ساتھ ساتھ حلاوت کی چاشنی دیر پا اثر چھوڑ جاتی ہے۔ عقیدت و محبت سے بھرے جذبات کی لَے میں ڈوبئے ہر ایک شعر میں عشق و محبت کی حرارت ایمان و یقین کو استحکام بخشتی جارہی ہے۔واقعی طاہرؔ سلطانی صاحب کے ہر ایک شعر میں احساسات و جذبات کاایک حقیقی پیکر دیکھنے کو ملتا ہے۔ محسن ملیح آبادی اگر آسان اور موثر زبان کو استعمال کرتے تو قاری کے سمجھنے میں اور شاعر کے سمجھاتے ہوئے معنوی پیکر میں ہم آہنگی پیدا ہو سکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی زبان صرف ادیبوں کے لیے ہے ایک عام قاری کی سمجھ سے باہر نظر آتی ہے۔ امید کہ اس جانب توجہ دی جائے گی ( راقم الحروف) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ان کی نعت رسمی نہیں ‘‘(دبستانِ نعت، صفحہ ۱۴۳ )&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محسن صاحب نے لکھا ہے کہ ان کی نعتیں رسمی نہیں۔ جہاں تک نعت نبی ﷺ کا مقام و مرتبہ ہے وہاں لفظ رسمی کا استعمال کرنا بے اد بی کے زمرہ میں داخل ہوتاہے۔ نعت شریف نعوذ باللہ رسمی نہیں ہوا کرتی بلکہ وہ تو توحید کے ہر دو جز کے معنوی پسِ منظر میں رسالت مآب ﷺ کے مجسم سراپا ، مجسم اوصاف ِ حمیدہ ، رحمۃ للعالمینی کے ہر ایک حُسنِ ادا ، ہر ایک حسن معاملہ کی تصویر کشی سے متعلق ہوتی ہے۔ اس مقدس صنف میں ’’ رسمی ‘‘ کا لفظ استعمال کرنا میرے خیال میں غیر مناسب لفظ دکھائی دیتاہے۔ہاں ہو سکتا ہے کہ بعض غیر مسلم حضرات نے جو نعت شریف لکھی ہیں اُن کو صنف ِ ادب کے تحت نعت ِ رسمی میں استعمال کیا گیا ہو۔ غیر مسلم شعرأ سے ہٹ کر جتنے بھی مسلم شعرأ اپنی عقیدت و محبت کا اظہار ’’ صنف نعت ‘‘ سے کیا کرتے ہیں اُن کے لیے ’’ رسمی نعتیں ‘‘ کہنا غیر مناسب و ادب کے خلاف ہے۔ اُن کا یہ جملہ میری سمجھ میں نہیں آیا ’’ کچھ اشعار ایسے بھی ہیں جن میں نسبت رسول مصور ملتی ہے ‘‘ معنوی اعتبار سے یہ جملہ جھول پیدا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس جملہ کو اس طرح لکھا جاتا تو بہت ہی بہتر ہوتا وہ یوں ہے ’’ کچھ اشعار ایسے بھی ہیںجن میں نسبت ِ رسول کی تصویر کشی ہمیں بخوبی دیکھنے کو ملتی ہے ‘‘ معنوی پس منظر میں یہ جملہ بہت ہی خوب نظر آتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ آگے چل کر لکھتے ہیں :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ان کے طرزِ اظہار میں سلیقہ ٔ شاعرانہ ہے ‘‘ یہ جملہ بھی کھٹکتا ہوا نظر آتا ہے بجائے اس کے سلیقۂ عقیدت مندی دکھائی دیتی ہے ‘‘ لکھ دیتے توبہت ہی اچھا ہوتا۔ان کی تحریر میں عربی تراکیب کے جملے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں بھی بعض قاری ایسے بھی ہیں جن کو عربی زبان پر عبور حاصل نہیں ہے ایک عام قاری کو عربی تراکیب کے جملے پڑھ کر سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بالاستیعاب پڑھا ہے۔سریع التاثیر ی(دبستان نعت، ص: ۱۴۵؎)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نعت شریف ‘‘ کے الفاظ خود حد درجہ تازگی کا احساس دلاتے ہیں۔ جن کی کیفیات کو ہم الفاظ کے ذریعہ بیان نہیں کر سکتے محسوس ضرورکر سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں محسن صاحب کا یہ جملہ ’’ جن سے ان کی نعتوں میں تازگی کا احساس ہو تا ہے۔‘‘ غیر مناسب دکھائی دیتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
(دبستان نعت،۔ صفحہ ۱۵۰ )&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ جملہ بھی غیر مناسب دکھائی دیتا ہے وہ لکھتے ہیں۔’’ اُس کی شاعری اس منطقہ میں پہنچ جاتی ہے جہاں لفظ سانس لیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔‘‘ لفظ منطقہ کو ایک عام قاری سمجھ نہیں سکتا۔ اشعار کی شرح میں اس طرح کے مشکل الفاظوں کو نہ استعمال کریں تو وہ ادبی پیرائے میں خوب نکھر کر قاری کے سامنے آ سکتے ہیں۔ اس جانب توجہ کی جائے۔ ( راقم الحروف ) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بحیثیت مجموعی آپ کے مضمون کو پڑھنے کے بعد جو اشعار آپ نے طاہر سلطانی صاحب کے پیش کئے ہیں ہر ایک شعر میں عشق و محبت اور عقیدت مندی کے ملے جلے حقیقی جذبات ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں کوئی بھی شعر اپنی شعریت اور عقیدت و محبت کے علاوہ ادب و احترام سے جدا دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے اشعار کو پڑھنے کے بعد ذہن بار بار کہتا ہے کہ پھر سے پڑھو پھر سے پڑھواور پڑھتے رہو یوں ہی زندگی گذر جائے آمین۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حمدِ الٰہ جلّ جلالہ و مدحِ رسول اللہ ﷺ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
( غیر منقوط حمدیہ و نعتیہ شاعری کا اجمالی جائزہ)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذکورہ مضمون طاہر ؔ سلطانی ( کراچی ) صاحب کا لکھا ہوا پڑھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے مختلف شعرأ کے وہ مجموعہ ہائے کلام جو کہ غیر منقوطہ ہیں ہر ایک کا اجمالی جائزہ لیا ہے۔ غیر منقوطہ کلام جس کو ’’ صنعتِ عاطلہ‘‘ کہتے ہیں۔ بڑا ہی مشکل فن ہے۔ لیکن خدائے تعالیٰ جس کو اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائے وہ بڑے خوش نصیب شعرأ ہوتے ہیں بالخصوص ’’ نعت پاک ‘‘ جیسی صنفِ سخن میں طبع آزمائی کا مقام آئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
طاہر ؔ سلطانی صاحب نے بڑے سلیقہ کے ساتھ نہایت عمدہ پیرائے میں بغیر کسی طوالت کی بات کو سمجھاتے ہوئے ہر ایک شاعر کا نہ صرف تعارف کروایا ہے بلکہ اشعار کی تشریح بھی کی ہے۔ فیضی ؔ ، حفیظ ؔجالندھری، مولانا رازی ، سید محمد امین علی شاہ نقوی ، راغب ؔ مراد آبادی ، لطیف اثر ؔ ، تابش ؔ الوری ،یوسف طاہر قریشی، صادق علی صادقؔ بستوی، محسنؔ اعظم محسن ملیح آبادی ، مولوی قدرت اللہ بیگ مراد ملیح آبادی وغیرہ کی غیر منقوطہ مجموعہ کلام کا تبصرہ بڑے ہی عمدہ پیرائے میں کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہر ایک شاعر کا انتخابی کلام بھی بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ آپ کے مبسوط مقالہ پڑھنے کے بعد ایک عام قاری کو اس بات کا احساس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے شعرأ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے پیشِ نظر غیر منقوط کلام کو معلومات میں اضافہ کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگرچہ کہ طاہر ؔ سلطانی صاحب کا مضمون طویل ہونے کے باوجود پر کیف دکھائی دیتا ہے۔ بعض جگہ انہوں نے اپنی بات کو سمجھانے میں غیر ضروری طوالت کواختیار کیاہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ میلادِ اکبر ایک مطالعہ ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر نذیر فتح پوری کا مقالہ ’’ میلادِ اکبر ایک مطالعہ ‘‘ مختصر ہونے کے باوجود قاری کی معلومات میں اضافہ کا سبب بنا ہواہے۔ قاری کوجن باتوں کا علم نہیں تھا ڈاکٹر نذیر صاحب نے بڑے ہی سلیقہ کے ساتھ بات کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ میلاد ِ اکبر ‘‘ کی اہمیت و افادیت کو انہوں نے رسالہ کے کئی اشاعت کو سبب ٹھہرایا ہے۔ واقعی یہ بات قابلِ قبول ہے کہ جو تصنیف عوام میں زیادہ مقبول ہونے لگتی ہے اس کے ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ لے لئے جاتے ہیں۔اس طرح طابع و ناشر مزید ایڈیشن شائع کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔مرے خیال میں اس کتاب کی سب سے بڑی مقبولیت اشعار میں موجود نغمگی و سلاست کے علاوہ عقیدت و محبت کے ملے جلے جذبات قاری کے قلب و ذہن کو متاثر کر جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قاری ان اشعار کو کئی مرتبہ پڑھنے کے بعد محسوس کرنے لگتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کو خواجہ محمد اکبر وارثی کے وہ اشعارپسند آئے جس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت حلیمہ سعدیہ اپنے پیارے محبوب کو لوریاں دے کر سلایا کرتی تھیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ حلیمہ کہ رہی تھی میرے گُلِ عذار سو جا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ترے جاگنے کے صدقے مری جان ِزار سو جا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بنی سعد کا قبیلہ ہوا باغ با غ تجھ سے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرا دودھ پینے والے گل نو بہار سو جا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرا دل ہو تجھ پہ واری مری جاں تجھ پہ صدقے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرے نورِ عین سو جا مرے شیر خوار سو جا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ میلاد اکبر ‘‘ کے نہ صرف نعتیہ اشعاربلکہ درود شریف سے متعلق اشعار بھی قابل ِدکھائی دیتے ہیں۔ جن کو حسب ذیل پیش کئے جارہے ہیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہر درد کی دوا ہے صلی علیٰ محمد ﷺ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تعویز ِ ہر بلا ہے صلی علیٰ محمد ﷺ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو درد لا دوا ہو گھول کر پلا دو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کیا نسخہ ٔ شفا ہے صلی علیٰ محمد ﷺ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کی نجات ہوگی رحمت بھی ساتھ ہوگی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو پڑھ کے مر گیا ہے صلی علیٰ محمد ﷺ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میرے خیال میں ’’ میلاد اکبر ‘‘ نہ صرف ہند و پاک بلکہ دنیا کے ہر خطہ میں شائع ہو کر پڑھا جاناچاہیے۔ تاکہ عاشقانِ رسول ﷺ کے قلوب میں گرمی ِ محبت زیادہ سے زیادہ بڑھتی جائے۔ ان ممالک میں عشق رسول ﷺ کے مقابلے مادیت پرزیادہ زور دیا جاتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بحیثیت مجموعی یہ مقالہ بہت ہی پر اثر دکھائی دیتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نعتیہ شاعری کا تاریخی پسِ منظر ‘‘ 	 &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علیم صبا نویدی نے اپنے مضمون ’’ نعتیہ شاعری کا تاریخی پسِ منظر ‘‘میں عنوان کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہے عنوان کا تقاضہ یہ ہے کہ نعتیہ کے سلسلہ کی شاعری میں عرب ممالک کے علاوہ دیگر ممالک کے’’ نعت گو‘‘شعرأ کا تذکرہ کیا جانا چاہیے تھا۔ حالاںکہ ایسا نہیں ہوا اس کے ساتھ ساتھ شاعری کا آغاز و ارتقأ پر سیر حاصل بحث نہیں کی گئی ہے۔ صاحب موصوف نے عربی اشعار پر اکتفا کرتے ہوئے نہ تو فارسی شعرأ کا تعارف کروایا ہے اور نہ ہی اردو شاعری کے چند مشہور و معروف شعرأ کا تعارف ان کی شاعری کے حوالہ سے کیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بحیثیت مجموعی علیم صبا نویدی کا یہ بہت ہی مختصر مضمون اپنے موضوع کے ساتھ انصاف کرنے سے قاصر رہا۔ علیم صبا نویدی کو چاہئے تھا کہ بات کو مختصر ہی سہی تینوں زبانوں کے شعرأ کا ایک مختصر تعارف ان کے اشعار کے حوالے سے کرتے تو بہت ہی بہتر ہوتا حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ قاری اس اچنبھے میں پڑ جاتا ہے کہ صرف عربی کے اشعار ہی کو وہ تاریخی پس منظر سمجھنے لگتا ہے۔ تحقیقی رو سے یہ تذکرہ غیرمستند دکھائی دیتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تحقیقی نقطۂ نظر سے علیم صبا نویدی کا مضمون ’’ تحقیق طلب ‘‘ ہے۔ اس مضمون میں ’’ نعتِ پاک ‘‘ کے صنف کا آغاز کیا ہے سمجھایا نہیں گیا ہے۔امید کہ صاحب ِ مقالہ نگار اپنے آئندہ مضامین میں اصول ِ تحقیق و تنقید ‘‘ کا ضرور خیال رکھیں گے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ مقبول بارگاہ ِرسالت نعت گو شاعرحضرت رؤف ؔ امروہوی مرحوم ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر صابر سنبھلی صاحب کا مضمون ’’ مقبول بارگاہ ِرسالت نعت گو شاعرحضرت رؤف ؔ امروہوی مرحوم ‘‘ ایک تعارفی مضمون ہے۔ رؤف ؔ امروہوی صاحب کے جن’’ مجموعہائے نعت ‘‘ کا انہوں نے ذکر کیا ہے۔ وہاں تاریخِ اشاعت کا ذکر نہیں کیا ہے شاید انہیں تاریخ دستیاب نہ ہوئی ہوگی۔ روفؔ صاحب کی جانب سے ایک طویل مدّت تک نعتیہ محافل کا انعقاد کیا جانا واقعی ایک عاشقِ رسول ﷺ کی اظہار عقیدت و محبت کا نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ آپ کا یہ عمل ہر عاشقِ رسول ﷺ کو نہ صرف مسرور کر جاتا ہے بلکہ ان کے اندر جذبہ ٔ ایثار و قربانی کو بڑھانے کا سبب بن جاتا ہے۔ ان کی قربانیوں کو دیکھ کر ہر عاشقِ رسول ﷺ کے دل میں تا حیات اپنی قربانیوں کو پیش کرنے کا جذبہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ مقبول بارگاہ ِ رسالت ﷺ ‘‘ کا ہونا ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کے ہونے کی دلیل ہے۔ خدا کرے یہ شرف ہر عاشقِ رسول ﷺ کو نصیب ہو آمین۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جہاں تک تحقیق و تنقید کا معاملہ ہے اس سلسلہ میں جناب ڈاکٹر صابر سنبھلی صاحب نے ایک سطحی طور پر تحقیق کے سلسلہ کو جاری رکھا۔ ان کی تحقیق میں نہ گہرائی ہے اور نہ ہی گیرا ئی پائی جاتی ہے صرف معروضانہ شکل ابھر کر سامنے آتی ہے۔ تحقیق کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ اشعار کی تشریح کی جائے۔انہوں نے ایسا نہیں کئے۔ اگر اشعار کی تشریح کی جاتی تو بہتر ہوتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر موصوف سے میری گذارش ہے کہ جب کبھی وہ مضمون لکھیں تحقیق و تنقید دونوںپہلوؤں کو اجا گر کر کے قارئین کے لیے دلچسپی کا سامان مہیا کریں۔ تاکہ تشنگی کا سبب بن نہ جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ مولانا سعید اعجاز کامٹوی کے رُخِ حیات کی جھلکیاں اور سعادت افروز نعتیہ و سلامیہ شاعری ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی صاحب کا’’مضمون‘‘ باعتبار انتخاب ِ مضمون کے بہت ہی طوالت لئے ہوئے نظر آتا ہے۔ عنوان اس طرح انتخاب کیا جانا چاہیے یا عنوان کو اس طرح بنایا جانا چاہیے کہ قاری کو اس کے پڑھنے میں یا سمجھنے میں آسانی ہو اور قاری حالت تذبذب میں نہ پڑ جائے۔ مثال کے طور پر آپ نے مولانا سعید اعجاز صاحب کے ’’ رُخِ حیات کی جھلکیاں ‘‘ لکھ کر قاری کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ رُخِ حیات کی جھلکیاں آخر کس کی ہیں ؟ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کے خیال میں عنوان اس طرح انتخاب کیا۔ ’’ مولانا اعجاز کی نعتیہ و سلامیہ شاعری ‘‘ اوراسی طرح عنوان کی وضاحت کرنے سے پہلے ضمناً شاعر کی حیات پر ایک اختصاریہ،پیش کرتے ہوئے اصل موضوع پر کُھل کر بحث کی جاتی تو مناسب ہوتا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوا آئندہ اس بات کی طرف صاحب مقالہ نگار توجہ فرمایں گے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مضمون کی شروعات شاعر کے حالات ِزندگی اورشعری تخلیقات کو وضاحت کے ساتھ کی گئی۔ اس کے بعد نفس مضمون نعتیہ و سلامیہ شاعری پر کھُل کر بحث کی گئی ہے۔ جوکہ تقریباً تیرہ صفحات پر موجود ہے۔ مولانا اعجاز کامٹوی صاحب کی شاعری ان کی شخصیت کی آئینہ دار دکھائی دیتی ہے۔ جس طرح انہوں نے’’ صنفِ نعت پاک ‘‘ کو اپنی زندگی کا موضوع بنایا ہے بالکل اسی طرح انہوں نے ہر ایک شعر کے ہر ایک لفظ میں اپنی حقیقی محبت کا اظہار کیا ہے جس میں اخلاص بھی ہے ، محبت بھی ہے تمنّا بھی ہے ، اور یہاں تک کہ اپنے آپ کو قربان کر دینے کا پاکیزہ جذبہ بھی کار فرما دکھائی دیتا ہے۔ یہ واقعی ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کی حقیقی تمنا ہے جو انہیں اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں وہ جانا چاہتے تھے ۔  ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نکلی ہے روح ذکرِ جمال ِ نبی کے ساتھ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہم گوشۂ لحد میں چلے روشنی کے ساتھ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کے خیال میں مولانا اعجاز کامٹوی صاحب کے دل سے نکلی ہوئی صدا ان کے اشعار میں ایک صدائے گونج لے کر نکلتی ہے۔ ہر عاشقِ رسول ﷺ کے دل و دماغ کو گرماتی چلی جاتی ہے۔ صاحب مضمون نگار نے تشریح بڑے ہی عمدہ پیرائے میں کی ہے۔ لیکن راقم کے خیال میں ان کا ہر ایک شعر وضاحت کا ایک سمندر چاہتا ہے جو اسی کا ہی حق ہے۔ میں صاحب مقالہ نگار ڈاکٹرمحمدحسین مشاہد رضوی صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ان کے مقالہ لکھنے پر ان کے انتخاب مضمون پر ان کے انتخاب ِ شاعری پر خدا کرے ہر ایک شاعر کے اندرکایہ پاکیزہ جذبہ پیدا ہو۔ آمین۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ علمائے گھوسی کی نعت نگاری ‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر شکیل احمد اعظمی صاحب کا لکھا ہوا مضمون ’’ علمائے گھوسی کی نعت نگاری ‘‘تقریباً چھتیس صفحات پرمشتمل ہے۔ غالباً اس رسالے میں موجود تمام مضامین میں یہی ایک طویل مضمون ہے۔ کیوں کہ آپ نے جن شعرأ کا تعارف کروایا ہے وہ خود طوالت چاہتا ہے۔ آپ کا مضمون طویل ہونے کے باوجود معلومات کا ایک خزانہ دکھائی دیتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر صاحب نے گھوسی کے علم و ادب کے تعارف پر ایک سیر حاصل نوٹ لکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اصولِ تحقیق کی پابندی کرتے ہوئے مستند حوالوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔ اصول تحقیق کی روشنی میں یہ بات مستند سمجھی جاتی ہے۔ ان کا اسلوب بیان معروضی ہے جن میں بات کو بڑے سلیقے کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے ۳۷؍ گھوسی کے نعت گو شعرأ کا تذکرہ کیا ہے اور ساتھ ہی علی الترتیب ۱۶؍ مشہور و معروف نعت گو شعرأ کا تذکرہ مختصر حالات زندگی کے ساتھ ان کی ادبی خدمات کی بھی وضاحت کی آپ کا یہ مقالہ قاری کی معلومات میں اضافہ کا سبب دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے شعرأ کی تاریخِ ولادت اور وفات کو بھی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے یہ ایک کامیاب محقق کی علامت ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ شعرأ کرام جن کا تذکرہ آپ نے کیا ہے حسبِ ذیل ان کے نام پیش کئے جا رہے ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
۱۔ علامہ اویسؔ برکاتی ۲۔علامہ عبد المصطفیٰ اعظمیؔ ۳۔ قاری محمد عثمانؔ اعظمی ۴۔ مولانا محمدرمضان مسلمؔ۵۔مولاناغلام ربّانی فائق ؔ ۶۔ مولانا اکرام الحق اکرام ؔ نقشبندی ۷۔علامہ بدر القادری بدرؔ ۸۔ مولانا ڈاکٹر شکیل احمد شکیل ؔ ۹۔ مولانا سیف الدین سیف ؔ انصاری ۱۰۔ مولانا فدألمصطفیٰ فدأ ۱۱۔ مولانا فروغ احمد فروغ ؔاعظمی ۱۲۔ مولانا مظفر الدین سحر ؔ اعظمی ۱۳، مولانا وصال احمد وصالؔ ۱۴۔ ڈاکٹر شکیل احمد شکیل ؔاعظمی۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شعرأ کے تعارفی عبارت میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہاں اکثرعربی الفاظ کوا ستعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایک عام قاری کے سمجھنے میں رُکاوٹ کا سبب بن سکتاہے۔ اردو ادب کے قاری کو دلچسپی کا فقدان نظر آتا ہے۔ اردو ادب میں اگر چہ عربی اور فارسی الفاظ زیادہ پائے جاتے ہیں اس کے باوجود جو تراکیب ہمارے مقالہ نگاروں میں بالخصوص ہمارے علمائے کرام کی تحریروں میں عربی تراکیب کثرت کے ساتھ استعمال کرجاتی ہے جس کی وجہ سے اردوادب میں ایک جھول سارہ جاتا ہے جو کہ ادب کو خوب سے خوب تر بنانے میںروکاوٹ کاسبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ اویس ؔ برکاتی کے تعارف میں آپ نے لکھا ہے :-&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ بریلی جاکر مدرسہ منظر اسلام میں داخل ہو نے کے بعدہ صدر الشریعہ کی معیت میں دار الخیر اجمیر شریف جامعہ عثمانیہ میں پہنچے۔‘‘ صفحہ ۲۲۳&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آگے لکھتے ہیں :۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ شیخ العلماء جامع فضائل و الکمالات شخصیت کے مالک تھے۔‘‘ صفحہ۲۲۴&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اشعار کا جو تعارف آپ نے کروایا ہے وہ عبارت حسب ذیل پیش کی جاتی ہے :۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ عشق رسول ﷺ سے معمور ، حبِّ رسالت سے بھر پور اور فصاحت و بلاغت سے تر بتر مندرجہ ذیل نعت ملاحظہ کریں۔‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذکورہ عبارت میں ’’ حبّ رسالت سے بھر پور اور فصاحت و بلاغت سے تر بتر ‘‘ یہ جملہ صحیح نہیں ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شروع ہی میں آپ ’’ عشقِ رسول ﷺ سے معمور ‘‘ لکھ دیا ہے کافی ہے۔ ’’ حُبّ رسالت سے بھر پور ‘‘ ضروری نہیں ہے وضاحت ہو چکی ہے۔ ’’ فصاحت و بلاغت سے تر بتر ‘‘ یہ جملہ بھی صحیح نہیں ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جملہ اس طرح سے ہونا چاہئے :۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’فصاحت و بلاغت کا ایک خوش نما گل دستہ دکھائی دیتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فصاحت و بلاغت سے بھر پور خوش نما کلام دیکھنے کو ملتا ہے‘‘وغیرہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کو علامہ اویس ؔ برکاتی کے یہ اشعار بہت ہی دل کو مسرور کر گئے۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کبھی دیوانگی میں قیس مجھ سے بڑھ نہیں سکتا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ دیوانہ ہے لیلیٰ کا میں دیوانہ ہوں پیمبر کا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سکندر سے کہو آبِ بقا سے کچھ نہیں کم ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ آنسو جو نکلتا ہے ہمارے دیدۂ تر کا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آپ نے علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی کے تعارف میں لکھا ہے :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ علم کے دھنی مصنف تھے جن کے قلم سے موسم ِ رحمت ،معمولات الابرار‘‘ جیسی کتابوں کا آپ نے جو تذکرہ کیا ہے ایک عام قاری کو سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عبارت ہے یا کتابوں کے نام۔ اس طرح عبارت لکھنی چاہیے جس سے کہ قاری کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ یہ تحریر بھی ادب کے خلاف ہے۔(دبستان نعت،صفحہ ۲۲۶۔۲۲۷)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی کے اشعار میرے دل کو منوّر کر گئے۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نہ پوچھ اعظمیؔ منزل سر بلندی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرا سر ہے محبوب کا آستاں ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہے خریدار گنہ رحمت کا تاجر جس جگہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عاصیو!وہ مصطفی بازار تھوڑی دور ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عشق و مستی میں قدم آگے بڑھا کر دیکھ لو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
گنبد خضریٰ کا وہ مینار تھوڑی دور ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دشت طیبہ ہے یہاں چل سر کے بل اے اعظمیؔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مصطفی ﷺ کا جنتی دربار تھوڑی دور ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علامہ عبد المصطفیٰ ماجدنے اپنے اشعار میں ایک عاشق رسول ﷺ کے دلی کیفیت کا اظہار بڑی خوبی کے ساتھ کیاہے:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فرقت کوئے نبی ﷺ میں یہ ہوا حال مرا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آہ بھی دل سے مرے سینہ فگار آتی ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
گلشنِ زندگی ہوا بار آوار&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زخم دل لے کے مدینے سے بہار آئی ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آہ دل گیر کا مرکز ہے ترا پاک دیار &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لوٹ کے عرش سے سوئے مزار آئی ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قاری محمد عثمان اعظمی کے تعلق سے آپ نے لکھا ہے :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ رسم زمانہ کے مطابق ابتدائی تعلیم قصبہ کے مکتب میں حاصل کی ‘‘ رسم زمانہ جملہ صحیح نہیں ہے۔ بلکہ ’’روایتی اعتبار ‘‘سے آپ کی ابتدائی تعلیم لکھا جانا درست ہے۔ یہ اصلاح ادبی ہے۔ ادبی اعتبار سے دیکھا جائے تو ’’ رسم ِ زمانہ ‘‘ صحیح نہیں۔ آپ نے کتابوں کا تعارف بھی غیر ادبی طرزِ تحریر کے ساتھ کیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جیسا کہ آپ نے صفحہ ۲۳۱میں لکھا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نظم خیال ِ حرم‘ ’نغمہ رسول ‘ ’ نغمہ ٔ حجاز اور منظوم سیرت النبی ﷺ آپ کی منظوم تصانیف ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قلمی یادگار غیر ادبی جملہ ہے۔ اصلاح کر لیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قاری محمد عثمان صاحب کے وہ نعتیہ اشعار جو ہمارے قلب و ذہن کو منور کرتے ہیں حسب ذیل پیش کئے جا رہے ہیں ملاحظہ کیجئے!جو کہ راقم الحروف کو بہت پسند آئے۔  ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محمد ﷺسا حسیں دیکھا نہ ایسی دل بری دیکھی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خدا نے مصطفی ﷺ میں اپنی خود جلوہ گری دیکھی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ آئے سامنے تو بت بھی سجدے میں چلے آئے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خدا شاہد ہے دنیا نے نہ ایسی رہبری دیکھی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صحن عالم میں یہ کیسی چمن آرائی ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صبح دم بادِ صبا پیغام یہ کیا لائی ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بلبلوں کی ہے زبانوں پہ ترانہ کس کا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پھول ہنستے ہوئے سنتے ہیں ترانہ کس کا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسکراتی ہوئی کلیوں کا نہ عالم پوچھو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راز ہے راز کوئی جس کو اسی دم پوچھو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا محمد رمضان مسلم ؔ کے تعارف میں آپ نے لکھا ہے :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ فن طب پر بھی دسترس رکھتے تھے۔‘‘ (صفحہ ۲۳۴)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ جملہ صحیح نہیں ادبی اعتبار سے۔ جملہ اس طرح ہونا چاہیے تھا۔ وہ فن پر طب کے بھی ماہر تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یا انہیں فن طب پر کامل مہارت تھی۔ وغیرہ۔ ادبی جملہ کہلاتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا غلام ربانی فائق ؔ کے تعارف میں آپ نے لکھا ہے کہ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ سا لانہ جلسہ ٔ دستار بندی میں آپ کو تاجِ فضیلت سے سرفراز کیا گیا۔ ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
(صفحہ ۲۳۶)		&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ جملہ ادبی اعتبار سے صحیح نہیں۔ تاجِ فضیلت سے نوازا گیا۔ تاجِ فضیلت سے سرفراز ترکیب صحیح نہیں ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پھر آپ نے لکھا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ فراغت کے بعد تا حین ِ حیات درس و تدریس کی با فیض خدمات انجام دئے۔‘‘ (صفحہ ۲۳۶)&lt;br /&gt;
جملہ اس طرح ہونا چاہیے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تا حین ِ حیات کے بجائے تا حیات کافی ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
درس و تدریس کی با فیض خدمات کی ضرورت نہیں بلکہ درس و تدریس کی خدمات کو انجام دیا کافی ہے۔ درس و تدریس میں خود فیض پہچانے کے معنی چھپے ہوئے ہیں اس میں با فیض لکھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے ان کی تصانیف کا ذکر جملہ میں کر دیا۔ تصانیف کا ذکر شروع میں کر دیتے تو مناسب تھا۔ تصانیف کا لفظ نہیں لکھا بلکہ ترجمہ کی بات کہی ہے۔یہ جملہ لکھا جانا چاہیے جو کہ قاری کے سمجھنے میں آسانی ہو۔آپ نے لکھا ہے سیال قلم کے مالک تھے۔ یہ جملہ غیر ادبی ہے۔ ان کے قلم میں زبان کی روانی دیکھنے کو ملتی ہے۔ وغیرہ لکھتے تو بہتر ہوتا اس طرح ان کی تحریر میں اکثر جگہ طویل عربی ترکیبات پائی جاتی ہیں جو کہ قاری کو پڑھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی تحریر کو پڑھنے کے بعد مجھے ایک شعر یاد آگیا۔ شعر یہ ہے۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو بات سمجھ آ جائے فصاحت اس کو کہتے ہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو بات دل پر اثر کر جا ئے بلاغت اس کو کہتے ہیں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آپ کی تحریروں میں فصاحت و بلاغت دونوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ بات ایسی کی جاتی جو کہ ادبی پیرائے میں ہو۔ ادبی پیرایہ اسے کہتے ہیں جن میں فصاحت و بلاغت کی ملی جلی کیفیت ہو۔ یعنی بات ادبی پیرائے میں کہی گئی ہو جو کہ سمجھ میں بھی آئے اور دل پر اثر بھی کرے۔ اس بات کی جانب ڈاکٹر شکیل احمد اعظمی صاحب کو راغب ہو نا چاہیے۔ ( راقم الحروف)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا اکرام الحق اکرام ؔ کے بارے میں لکھتے ہیں :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ مولانا تصوف آشنا طبیعت رکھتے تھے ‘‘ صفحہ ۲۳۸&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ جملہ بھی غیر ادبی ہے۔ ادبی اس طرح ہونا چاہیے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ مولانا تصوف کے پیچیدہ مسائل سے آشنا تھے۔‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عربی تراکیب کو اس طرح استعمال کیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سلیم الطبع، منکسر المزاج ، وسیع النظر وغیرہ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علامہ بدر القادری کے تعلق سے لکھتے ہیں :۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ علامہ بدر القادری کی شخصیت کئی جہت رکھتی ہے۔‘‘ یہ جملہ غیر ادبی ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ادبی جملہ اس طرح ہونا چاہئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علامہ بدر القادری کی شخصیت میں مختلف خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ وہ کئی خوبیوں کے مالک تھے وغیرہ۔ مناسب جملے ہیں۔ (راقم الحروف )&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علامہ بدر القادری کی شاعری کے تعلق سے لکھتے ہیں :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ علامہ بدر القادری ، حمد ، نعت، نظم ، غزل ، قطعہ مناجات اور سہرا ان تمام اصناف پر ’’ استادانہ طبع آزمائی کی ہے‘‘۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اُستادانہ طبع آزمائی کی ہے۔ یہ جملہ غیر ادبی ہے۔ ادبی جملہ اس طرح ہو نا چاہئے۔ ان تمام اصناف پر آپ کو قدرت حاصل تھی۔ وغیرہ (راقم الحروف ) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علامہ بدر القادری کے یہ اشعار میرے دل کو چھو گئے۔    ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پڑھو حمد نعتِ نبی ﷺ گنگناؤ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضور ﷺ آگئے ہیں حضور آ گئے ہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دلوں کو لٹاؤ نگاہیں بچھاؤ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضور ﷺ آگئے ہیں حضور آ گئے ہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر شکیل اعظمی کے تعارف میں لکھتے ہیں :- &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ڈاکٹر شکیل اعظمی ایک استاد شاعر ہیں جن کو شاعری پر عبور حاصل ہے ‘‘ یہ جملہ غیر ادبی ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ادبی جملہ اس طرح ہونا چاہئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ڈاکٹر شکیل اعظمی کو فن عروض و بلاغت پر عبور حاصل ہے وہ ایک کہنہ مشق شاعر ہیں۔ یہ جملہ مناسب ہے ( راقم الحروف ) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ اشعار جو میرے دل کو متاثر کر گئے انہیں حسب ِ ذیل پیش کیا جا رہا ہے۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ارباب ذوق سُن لیں ادب کا مقام ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب میرے لب پہ مدحت ِ خیر الانام ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ جس کے فیض سے اب تک شام ِ جاں معطر ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ خوشبوئے بدن ہے نکہتِ زلف پیمبر ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زیارت شہر طیبہ کی نہ بوسہ ارض اقدس کا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ابھی میں کیسے سمجھوں اوج پر میرا مقدر ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا سیف الدین سیف ؔ انصاری کے تعارف میں لکھتے ہیں:-&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ غزل کی ہیئت میں انہوں نے کئی نعتیں کہی ہیں جو فن کی کسوٹی پر بھی پورا اترتی ہیں۔ ان کے ذخیرہ ٔ نعت میں سے ایک کلام بطور نمونہ نذرِ قارئین ہے۔‘‘ (صفحہ ۲۴۳)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ غزل کی ہیئت میں انہوں نے کئی نعتیں کہی ہیں۔ یہ جملہ کافی ہے اسی میں فن کی بات پوری ہوگئی ہے۔ ‘‘ پھر جملہ ’’جو فن کی کسوٹی پر بھی پوری اترتی ہے۔‘‘ غیر ادبی جملہ ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
پھر اس کے بعد آپ نے لکھا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ان کے ذخیرہ ٔ نعت میں سے ایک کلام بطور نمونہ نذرِ قارئین ہے۔‘‘ اس کے بجائے آپ لکھتے ان کے کلام میں سے ایک بطور نمونہ نذرِ قارئین ہے ، کافی تھا۔ راقم الحروف۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا سیف الدین صاحب کی نعت کے چند اشعار راقم الحروف کو بہت متاثر کر گئے وہ حسب ِ ذیل پیش کئے جا رہے ہیں ملاحظہ کیجئے۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ترے پیغام حق افزا سے ہمیشہ دم بدم &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
گلشنِ ہستی کا ہر پودا لہکتا جائے ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ترا رستہ امن عالم صلحِ عالم کا امیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جس نے چھوڑا اس روش کو وہ بھٹکتا جائے ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان کی زلفیں ہیں کہ ہے مشک تتار بے مثال &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جس طرف وہ چل دئے کوچہ مہکتا جائے ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہکشاں بن جائے اس عارضِ پر نور پر &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نر گسی آنکھوں سے جو آنسو چھلکتا جائے ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قافلے والو بتاؤ کیا مدینہ آگیا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کیوں دلِ مضطر مرا اتنا مچلتا جائے ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ مجسم نور ہیں نورانیت سے ان کی سیف ؔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
گوشۂ تاریک دل میرا چمکتا جائے ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا فدأ المصطفیٰ فدأ ؔ کے تعلق سے لکھتے ہیں :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’علامہ قادری صاحب اعلیٰ درجہ کے مدرس ہیں جن کو افہام و تفہیم کا گراں قدر ملکہ حاصل ہے۔‘‘ صفحہ ۲۴۵ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ ایک غیر ادبی جملہ ہے۔ حالانکہ اس جملہ میں افہام و تفہیم کا ملکہ حاصل ہے۔ کافی تھا لفظ ’’گرانقدر ‘‘ یہاں بے جا و بے محل دکھائی دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے ادبیت کھو بیٹھا ہے۔ راقم الحروف۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کوفداؔ ٔ صاحب کے حسب ِ ذیل اشعار متاثر کر گئے۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہر دِل میں یاد تیری ہر لب پہ نام تیرا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے رحمتِ دو عالم ہے ذکرِ عام تیرا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شمس و قمر ستارے سب میں تری چمک ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بیلا گلاب جوہی سب میں تری مہک ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہر جز و کل میں جلوہ خیر الانام تیرا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سارے جہاں سے ظلمت کافور ہو گئی ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا فروغ احمد فروغ ؔ کے تعلق سے لکھاہے :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ان کی نعتوں میں وفور عشق ، سوزِ باطن در حبیب کی تڑپ اور شوقِ زیارت کے جلوے ملتے ہیں۔ ‘‘ صفحہ ۲۴۷&lt;br /&gt;
مذکورہ جملہ میں سوزِ باطن در حبیب کی تڑپ ’’ میں درِ حبیب ‘‘ کے الفاظ غیر ادبی ہیں۔ جملہ یہی کافی تھا۔ سوزِ باطن کی تڑپ ، ( راقم الحروف ) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس طرح ایک دو جگہ کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس طرف ڈاکٹر صاحب خیال کریں تو مناسب ہوگا۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کو مولانا فروغ صاحب کی نعت کے چند اشعار بے حد متاثر کر گئے جنہیں حسب ِ ذیل پیش کیا جا رہا ہے ملاحظہ کیجئے۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جبیں ہو جھکی میری کعبہ کی جانب &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرے دل کا قبلہ نبی کا حرم ہو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مدینہ پہنچ کر میں واپس نہ آؤں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جنازہ مرا خاکِ طیبہ میں ضم ہو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرا عشق لے جائے گا مجھ کو طیبہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر چہ مری راہ میں پیچ و خم ہو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہند بھیجیں گر تو پھر میری لحد کے واسطے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اپنے قدموں میں جگہ رکھیں خالی یا رسول ﷺ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا ظفر الدین سحر ؔ صاحب کے نعتیہ اشعار راقم الحروف کے دل کو گرما گئے۔جنہیں حسب ذیل پیش کئے جا رہے ہیں۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دولتِ دنیا نہیں ہے غم نہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تیرے کہلائیں یہ عزت کم نہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دل نہیں جس میں نہ تیری یاد ہو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سر نہیں جو تیرے درپہ خم نہیں &lt;br /&gt;
٭&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اپنی قسمت کو یوں جگاتے ہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نعتِ شاہِ امم سناتے ہیں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لب کے بوسے فرشتے لیتے ہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جب گُہر نعت کے لُٹاتے ہیں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یا نبی اذنِ حاضری دیجئے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہجر میں اشکِ خوں بہاتے ہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہم تصور میں ان کے کوچے میں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
روز جاتے ہیں روز آتے ہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا وصال احمد کے اشعار راقم کو متاثر کر گئے انہیں حسبِ ذیل پیش کیا جا رہا ہے۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خواب میں جس نے بھی دیکھا ہے جمالِ مصطفی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کامراں و اللہ اس کی زندگانی ہو گئی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ناز کر اے خاکِ پاکِ ارض طیبہ ناز کر&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آئے جب سرکار ہر سو شادمانی ہو گئی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اپنی قبر وںمیں ہیں زندہ جاں نثاران ِ نبی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ان کی ذاتِ پاک کی نقلِ مکانی ہوگئی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مقالہ نگار ڈاکٹر شکیل،احمد شکیل ؔ صاحب اپنے تعلق سے لکھتے ہیں:۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ان کا نعتیہ مجموعہ ’’ فانوسِ حجاز ‘‘ ترتیب و تہذیب کی منزل سے گذر کر طباعت کی منزل میں ہے۔ ‘‘ صفحہ ۲۵۳&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذکورہ جملہ میں یہ الفاظ ’’ ترتیب و تہذیب ‘‘ غیر ادبی جملہ ہے یہاں یہ لکھنا چاہیٔ۔’’ ترتیب و تدوین یا ترتیب و تزین ‘‘ کی منزل سے گذر کر طباعت کی منزل میں ہے۔ ٹھیک ہے۔ ( راقم الحروف) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا فروغ اعظمی اور ان کی نعتیہ شاعری &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا نور الہدیٰ صاحب نے اپنے مقالہ ’’ مولانا فروغ اعظمی اور ان کی نعتیہ شاعری ‘‘ میں جو تعارفی انداز اختیار کیا ہے وہ تو عربی طرزِ تحریر کا نمونہ دکھائی دیتا ہے۔شاعر کے نام کی وضاحت صرف اس کے نام کے ساتھ کردینی چاہئے عربی اسلوب ِ تحریر کی طرح فروغ احمد اعظمی ابن ممتاز احمد قادری ابن قمرالدین اشرفی وغیرہ کا ایک ساتھ لکھ دینا اردو ادب کے طرز ِ تحریر کے خلاف ہے۔ اردو ادب میں شاعر کا اگر آپ تعارف کروانا چاہتے ہیں تو پہلے شاعر کا پوارا نام پھر اس کے بعد اس کا تخلص اور عرف عام میں اگر اسے کسی مخصوص نام کے ساتھ بلایا جاتا ہے تو اس کی بھی وضاحت کرنے کے بعد شاعر کے باپ کا نام لکھ دیا جاتا ہے ایک ساتھ ایک ہی جملہ میں شاعر کا نام ، باپ کا نام ، دادا کا نام نہیں لکھا جاتا اصول ِ ادب کے خلاف ہے۔ اس طرف مولانا نور الہدیٰ صاحب کو دھیان دینا چاہئے۔آگے آپ نے لکھا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ مولانا اعظمی دورِ طالب علمی ہی سے قلم و قرطاس سے جُڑ گئے تھے۔‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
(دبستان نعت، صفحہ۶ ۲۵)		&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مذکورہ جملہ غیر ادبی ہے۔ ادبی جملہ اس طرح ہونا چاہئے کہ قاری کو بات سمجھ میں بھی آجائے اور ادبی کیفیت کی نکھار بھی جملہ میں پایا جائے۔ یہ دونوں باتیں مذکورہ جملہ میں دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ دور طالب علمی نہیں بلکہ دوران ِ طالب علمی صحیح جملہ ہے۔ اس طرح کی بہت سی باتیں آپ کے مقالہ میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان باتوں سے ادیب کو بچنا چاہئے۔ اس طرح تحریر کا اسلوب اختیار کیا جائے جس کے ذریعہ زبان میں آسانی اور معانی میں ادبی نکھار خود بخود نکھر نے لگے۔ اسی کو ادبی تحریر کہتے ہیں۔ (راقم الحروف ) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا نورالہدیٰ صاحب نے عربی الفاظ کے بوجھ کو اردو زبان پر اس طرح ڈال دیا کہ زبان اپنی توانائی اور خوبی کوعربی الفاظ کے بوجھ کے نیچے دب کر رہ گئی ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے لکھا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ضرع عقیدت ‘‘ صفحہ ۲۵۷قارئین کو محظوظ ، مستفیض اور مستنیر کرتی ہیں وغیرہ۔ (صفحہ ۲۶۴)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جملوں کی ساخت میں بھی وہ پیچیدہ تراکیب استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ان کے شعری اجمال میں تہدار تفصیلیں ہیں۔ صفحہ ۲۶۴&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زبان کو اس طرح استعمال کرنی چاہئے۔ جس سے کہ قاری کو معنوی افہام و تفہیم میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آپ کے مقالہ کو پڑھنے کے بعد قاری کو معنوی افہام و تفہیم میں دشواریاں زیادہ سے زیادہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔ وہ آئندہ مقالہ لکھیں تو اس بات کا ضرور خیال رکھیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نثار ؔکریمی ایک قادر الکلام شاعر ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا وصال احمد اعظمی صاحب کا لکھا ہوا مقالہ ’’ نثارؔ کریمی ایک قادر الکلام شاعر ‘‘ ’’دبستان ِ نعت ‘‘ کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’ دبستانِ نعت ‘‘مدیر ڈاکٹر سراج احمد قادری صاحب نے حُسن تر تیب کے ساتھ ان تمام مقالوں کو شائع کیا جو کہ موضوع کے اعتبار سے موضوع کے ساتھ انصاف کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے بر خلاف وہ آخر میںہی سہی مذکورہ مضمون کو شائع کرنے پر اس لئے مجبور ہوئے کہ نثارؔ کریمی صاحب کی شاعری میں ’’ نعت پاک ‘‘ جیسی مقدس صنفِ سخن بھی شامل ہے۔ خود نثارؔ کریمی صاحب نے اپنی شاعری سے متعلق اس بات کا اظہار کیا ہے کہ میری اپنی کہی ہوئی شاعری میں میری زندگی کا مقصد وہ صنفِ سخن ہے جس کو نعت گوئی کہتے ہیں۔ یہی صنفِ سخن میری زندگی کا واحد مقصد ہے دیگر ا صناف کے شائع ہونے یا نہ ہونے کی انہیں ذرا برابر بھی فکر نہیں تھی وہ چاہتے تھے کہ اپنی حیات ہی میں ’’نعتیہ مجموعہ ‘‘ شائع ہوجائے اس بات کا اظہار کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’شعر و شاعری کے میدان میں تقریباً چا لیس سال سے سر گرم ہوں حالات سازگار ہوتے تو غزلوں ،نظموں کے کئی مجموعے بہت پہلے منظر ِ عام پر آ چکے ہوتے۔غزلوں کے دو مجموعے نظم کا یک مجموعہ مرتب کر چکا ہوں چھپے یا نہ چھپے اس کی مجھے فکر نہیں۔ نعتیہ مجموعہ جسے میں حاصلِ زندگی سمجھتا ہوں آج آپ کے ہاتھوں میں ہے میں مطمئن ہوں اس میدان میں ذکر رسول ﷺ کے حوالہ سے پہچانا جاؤں بہت بڑی سعادت اور خوش نصیبی سمجھتا ہوں۔‘‘(دبستانِ نعت،صفحہ ۲۶۶)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا وصال احمد صاحب اپنے والد بزرگ وار کی خواہش و تمنّا کے خلاف ایک ایسا موضوع انتخاب کیا جو ان کی خود قادرالکلامی پر بات کی ہے حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ جناب نثارؔ کریمی صاحب کی نعتیہ شاعری پر اپنا مقالہ لکھ کر ’’ دبستانِ نعت ‘‘ میں شائع کرواتے تو بات بڑی ہی خوب ہوتی جس سے موضوع کے ساتھ انصاف بھی ہوتا اور مرحوم نثار کریمی صاحب کی روح بھی خوش ہوتی۔ مگر ایسا نہ ہوا۔مولاناموصوف نثارؔ کریمی صاحب کی نعتیہ شاعری کو موضوع بنا کر صرف نعتیہ شاعری پر کھل کر بحث کرتے ، صنف نعت پاک کے ہر ایک پہلو پر وضاحت کے ساتھ ان کے فن پر بات کرتے۔ راقم الحروف نے آپ کو پورے مقالہ کو پڑھا جس میں آپ نے نثارؔ کریمی صاحب کے مجموعہ کلام ’’ سَیلِ نور ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کی وہ نعتیں جو سالانہ طرحی مشاعروں میں پڑھا تھا اس پر بھی اپنے خیال کا ظہار کرتے تو بہتر ہوتا مگر ایسا نہ ہوا۔ آئندہ مولانااس بات پر دھیان دیں کہ رسالہ کس عنوان کے ساتھ شائع ہورہا ہے ، اس رسالے کو کس صنفِ سخن کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے۔ مضمون نگار سے کس بات کی خواہش کی گئی ہے ان تمام باتوں پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نثارؔ کریمی صاحب ایک قادر الکلام شاعر ‘‘ یہ ایک ایسا عنوان ہے جو کہ عام رسالوں یا پرچوںمیں شائع کیا جا سکتا ہے۔ ’’دبستان ِ نعت ‘‘ کے لئے یہ موضوع مناسب نہیں ہاں اگر نثارؔ احمد کریمی صاحب کی نعتیہ شاعری کو موضوع بنایا جاتا تو یہ مضمون ’’ دبستانِ نعت ‘‘ کے لئے بہت ہی بہتر ہوتا۔ اس کے باوجود مدیر ’’ دبستان نعت ‘‘ ڈاکٹر سراج احمد قادری صاحب نے ’’ دبستان ِ نعت‘‘ کی فہرست میں آپ کے مضمون کو اس لئے شامل اشاعت کیا ہے کہ اس مقالہ میں شاعر کے نعتیہ مجموعہ پر بحث کی گئی ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تنقیدی اعتبار سے اصولِ تنقید کی روشنی میں موضوع کے اعتبار سے یہ مقالہ ’’ دبستان ِ نعت ‘‘ کے قابل نہیں ہے۔ مولانا موصوف صاحب ِ مقالہ آئندہ مقالہ لکھتے وقت موضوع کے صحیح انتخاب کا ضرور خیال رکھیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ آفتاب ِ آسمان ِ نعت مولانا نور الدین عبد الرحمن جامی کی دو مشہور نعتیں ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;quot; دبستانِ نعت&amp;quot; کے آخری حصے کوفارسی زبان کی شاعری کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ فارسی زبان میں بلند مقام رکھنے والے شاعر مولانا جامی علیہ الرحمہ کی شاعری سے نہ صرف آغاز کیا بلکہ آپ کی شاعری سے متعلق لکھے جانے والے مقالوں کو بھی ترتیب وار پیش کیا گیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا جامیؔ علیہ الرحمہ کی دو فارسی زبان میں لکھی گئی نعتوں کو اردو ترجمہ کے ساتھ جناب تنویر پھول ؔ صاحب نے شرح کی ہے۔ قارئین کی معلومات میں اضافے کا سبب دکھائی دیتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کو مولانا جامی ؔ علیہ الرحمہ کی نعتوں کو پڑھنے کے بعد اُن کا طرزِ تخیل نہ صرف مسرور کر گیا بلکہ حرارتِ عشق کی لو کو بڑھا تا گیا۔ واقعی مولانا جامیؔ رحمۃ اللہ علیہ کے طرزِ تکلم میں ایک حقیقی عاشق کے وارداتِ قلب کی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ بالخصوص آپ کا حسب ِ ذیل شعر مقام محمد ﷺ کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے وہ شعر یہ ہے۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
و صلی اللہ علیٰ نور کز و شد نورہا پیدا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زمیں از حُبّ او ساکن فلک در عشقِ او شیدا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جناب تنور پھول ؔ صاحب نے دوسرے شعر کی تشریح کرتے ہوئے اردو میں جو شعر لکھا ہے کیا وہ ان کا خود کہا ہوا ہے یا کسی دوسرے شاعر کا وضاحت نہیں ملتی۔ یہاں شرح کرتے وقت شاعر کا نام یا خود کا لکھا ہوا شعر لکھنا ضروری ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مولانا جامی ؔ نے چھٹے شعر میں قرآن پاک کی آیت کے جو الفاظ ’’ مَا زَاغَ البَصرُ ‘‘ ’’ وَ اَلّیل ِ اِذَ یَغشیٰ ‘‘ کو شعر میں بہتر طریقے سے لایا ہے جس میں شعری حُسن میں دو بالگی پائی جاتی ہے۔ لیکن تنویر پھول صاحبؔ نے ان دو آیت کے الفاظ کا اردو ترجمہ قوسین میں کر دئے ہوتے تو ایک عام قاری کی سمجھ میں بہت آسانی ہوتی مگر ایسا نہیں کیا۔ ساتویں شعر میں بھی یہی بات دکھائی دیتی ہے۔ اس طرح دوسری نعت شریف کے صرف چار اشعار شرح کے ساتھ پیش کیا ہے۔ میں تنویر پھول ؔ صاحب سے خواہش کروں گا کہ وہ شرح کرتے وقت پہلے دونوں نعتوں کو نمبر دیکر بتا دیتے پہلی نمبر والی نعت اور دوسرے نمبر والی نعت۔ اس کے بعد شرح کرتے۔ آپ نے دوسری نعت کے چوتھے شعر کی شرح کرنے کے بعد آخر یہ لکھا ’’ ایک نعت گو شاعر نثار علی اجاگر کرنے والے اس فارسی نعت کا منظوم اردو ترجمہ اس طرح کیا ہے۔‘‘(دبستان نعت، صفحہ ۲۸۰ )&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نثار علی کیا شاعر کا نام ہے ؟ اُجاگر کرنے کا جملہ یہاں میل نہیں کھا تا۔ اس بات کی یہاں اصلاح ہونی چاہیٔ۔ ’ راقم الحروف )&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ مولانا جامی ؔ رحمۃ اللہ علیہ کی نعت گوئی ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر سید یحیٰٰ نشیط صاحب کا لکھا ہوا مقالہ ’’ مولانا جامی ؔ کی نعت نگاری ‘‘ پڑھنے کے بعد بعض اہم نکات راقم الحروف کے سامنے آئے ہیں۔ جن میں فنی خامیاں بھی ہیں اور تشریحی خوبیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جملوں کی ساخت میں بعض جگہ خامیاں دکھائی دیتی ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ فارسی میں محارباتی شاعری کو بڑا فروغ حاصل ہوا ‘‘(دبستان نعت، صفحہ ۲۸۱)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم کو ’’ محارباتی ‘‘ شاعری کسے کہتے ہیں سمجھ میں نہیں آیا اور رہی دوسری بات دوسری جگہ ’’ ان کے اندرون کو سنوارنے کے جتن کئے ‘‘(دبستان نعت، صفحہ ۲۸۱)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لفظ ِ اندرون کے بجائے باطن کا لفظ استعمال کرتے تو بہتر ہوتا کیوں کہ یہ لفظ ادبی جملہ کے بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ لفظ اندرون غیر ادبی لفظ ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ آگے لکھتے ہیں :۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’اس طرز فکر کی وجہ سے اردو ، فارسی کی نعتیہ شاعری میں ’’ میم کا گھونگھٹ ‘‘، ’’احمدِ بے میم ‘‘ مسٔلہ امتناع النظیر ‘‘ ’’ مدینے کا پیا ‘‘ ’’ کملی والا ‘‘ ’’ دیدار خداوندی سے مشرف ‘‘’’ شہزادہ ٔ لولاک ‘‘ ،’’ آقا و مولیٰ ‘‘، ’’بگڑی بنانے والا ‘‘،’’ ذاتِ اوّل و آخر ‘‘، ’’ ظاہر و باطن ‘‘ ، ’’ عالم الغیب ‘‘ وغیرہ کی تراکیب کو اوصاف نبی ﷺ میں شمار کر لیا گیا ہے۔ ‘‘ صفحہ ۲۸۲&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لفظِ ’’ میم کا گھونگھٹ ‘‘ ،’’ احمدِ بے میم ‘‘ ، مسٔلہ امتناع النظیر ‘‘ یہ تینوں الفاظ حضور پاک ﷺ کے اوصاف کے معنی میں نہیں آتے بلکہ یہ الفاظ تصوف کے مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ علم تصوف میں لفظِ میم کے معنوی پسِ منظر میں ایک دوسرے میں یعنی ’’ احد ‘‘ اور ’’ احمد ‘‘ میں تعریف کی باریکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اہلِ تصوف کے یہاں لفظِ ’’ میم ‘‘ بظاہر لکھا جاتا ہے جیسا کہ لفظِ’’ احمد ‘‘ میں لفظِ ’’ میم ‘‘ ہے۔ حقیقت میں وہ ایک پردے کی شکل اختیار کر گیا ہے ورنہ لفظِ میم کے پردے کو ہٹا دیا جائے تو وہ ’’ احد ‘‘ ہو جائے گا۔ یہ علم تصوف کی اصطلاحات ہیں یہاں ادبی طرزِ تحریر سے کوئی واسطہ نہیں۔ معنوی پسِ منظر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو فاضل مقالہ نگار ڈاکٹر سید یحیٰ نشیط صاحب کا مغالطہ ہے۔ مذکورہ تینوں الفاظ کا تعلق ، اصطلاحات تصوف سے ہے۔ اوصاف ِ نبوی ﷺ کے معنی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ البتہ باقی کے الفاظ اسی ضمن میں آجاتے ہیں۔ اس بات کی جانب ڈاکٹر صاحب اپنی توجہ مبذول کر لیںتو مناسب ہوگا۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مقالہ نگار نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مولانا جامی ؔ علم و عرفان کے مدارج طے کئے وغیرہ۔ ظاہر سی بات ہے کہ مولانا کو علم تصوف سے کتنا لگاو ٔ ہے اور علم و عرفان کے کس منزل کو پہنچ چکے ہیں۔ اور راہِ سلوک میں اُن کا مقام و مرتبہ کیا ہے یہ ساری باتیں اہلِ تصوف کی شاعری میں دیکھنے کو ملتی ہیں جن کا مقام ، مقام ِ ولایت سے سرفراز ہوتا دیکھنے کو ملتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آپ نے آگے لکھا ہے :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’حضوری کی تمنا ئے بے تاب والے مضامین کی افراط ہے۔‘‘ (دبستان نعت، صفحہ ۲۸۲ )&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
معنی اور ترکیب کے لحاظ سے یہ جملہ غیر ادبی ہے۔ وہ اس لئے کہ نہ تو معنی سمجھ میں آتا ہے اور نہ ہی ایک دوسرے میں معنوی ترتیب پائی جاتی ہے جو کہ ادب کا خاصہ ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک اور جگہ لکھا ہے :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ انہوں نے اپنی تخلیقات میں جہاں نعت گوئی کو جگہ دی ہے۔ ‘‘ صفحہ ۲۸۲&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ جملہ غیر ادبی بھی ہے اور بے ادبی کا حامل بھی ہے۔غیر ادبی اس لئے کہ معنوی تسلسل سے خالی ہے ، اور بے ادبی کا حامل اس لئے کہ ’’ نعت گوئی ‘‘ یہ تو خدا کی طرف سے بندہ کو دیاجانے والابہت ہی بڑا شرف ہے جس کی فضیلت ناچیز بندوں کی زبانی بیان نہیں کی جا سکتی۔ یہاں ’’ جگہ دینا کیا معنی رکھتا ہے۔ یہ بے ادب جملہ ہے ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ نعت کے ان اشعار میں جامی ؔ نے حضرت محمد ﷺ کی حقیقت مرتبہ اور وجود روحانی کو تمام امکانی مراتب پر مقدم مانا ہے۔‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جملہ میں حقیقت مرتبہ صحیح نہیں حقیقی مرتبہ ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شاید کتابت کی سہو ہوئی ہوگی۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کے بعد آپ نے تین اشعار فارسی کی نعتیہ شاعری کے لکھ کر جو شرح کی ہے تین یا چار سطور میںشرح مکمل ہو گئی ہے۔ باقی شرح جو کی ہے تقریباً دو صفحات پر مشتمل ہے۔ تشریح کردہ عبارت تعلق رکھنے والے اشعار کو نہیں لکھا ہے جو کہ یہ ایک غیر ذمہ دارزنہ حرکت ہے تحقیق میں اس طرح کے عمل کو ’’ غیر مستند حوالہ تحریر ‘‘ کہتے ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آپ نے صفحہ ۲۸۵ پر تحریر کیا ہے کہ :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ مولانا جامی ؔ کی مشہور تصنیف ’’ یوسف زلیخا ‘‘ بھی ہے۔ یہ مثنوی صوفیائے کرام کے نزدیک تصوف کا گُلِ سر سبد بھی مانی جاتی ہے۔‘‘ صفحہ ۲۸۵&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
راقم الحروف کے خیال میں یہ ایک ایسی تحریر ہے جس میں نفس موضوع سے متعلق بات نہیں ہے بلکہ موضوع سے ہٹ کر بات کہی گئی ہے۔ انہیں چاہئے تھا کہ مولانا جامی ؔ کے نعتیہ مضامین سے متعلق بات کو آگے بڑھاتے۔ البتہ مقالہ کے آخر میں آپ نے چند منتخب اشعار پیش کرکے مقالہ کو ختم کیا ہے۔ یہی سلسلہ شروع سے آخر تک ایک ہی موضوع کی لڑی میں پُر جاتا تو ایک خوبصورت موتی کہلاتا۔ صاحب مقالہ نگار اپنے آئندہ لکھے جانے والے مقالوں میںاصول تحقیق کی جانب توجہ دی جائے تو بہتر ہوتا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ حضرت عبد الرحمن جامی ؔ نادر روزگار شخصیت ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ڈاکٹر رضوان انصاری صاحب کا لکھا ہوا مضمون ’’ حضرت عبد الرحمن جامی ؔ نادر روزگار شخصیت ‘‘ حضرت جامیؔ کے تصوفانہ کلام اور ان کے اندر چھپی عرفانی کیفیت کے اظہار کو بڑے عمدہ پیرایہ میں بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ تصوف کے اصطلاحات پر بھی تفصیل کے ساتھ کھل کر بحث کی ہے جو کہ قارئین کے لئے ایک معلومات کا خزانہ فراہم کر جاتا ہے۔ راقم الحروف کے خیال میں اگر ڈاکٹر رضوان صاحب اپنے عنوان کو تبدیل کرتے ہوئے صرف ان کی نعتیہ شاعری پر بات کرتے اور نئے نئے گوشوں کو جو انہوں نے اپنے مقالہ میں لانے کی کوشش کی ہے۔ اگر نعتیہ شاعری کے ضمن میں بیان کرتے تو بہت ہی مناسب ہوتا۔ ’’ حضرت جامی ؔ کی نعتیہ شاعری ‘‘ کو عنوانات بنانا مناسب تھا۔ کیوں گوشہ ٔ جامی ؔ ہی سہی گوشہ ٔ جامی میں نعتیہ شاعری کا اظہار ضروری ہے۔ تصوف اور عرفان کا عنوان ’’ دبستان نعت ‘‘ کے لئے مناسب نہیں ہے۔ ہاں اگر آپ ’’صنف ِ نعت ‘‘ کے ضمن میں تصوفانہ کلام میں موجود نعتیہ اشعار کی نشان دہی کرکے اس کی تشریح کرتے تو بہت ہی بہتر ہوتا۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نعتیہ شاعری کے عنوان میںتصوفانہ کلام میں موجود نعتیہ اشعار بڑی اہمیت کے حامل نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ اسرار و رموز کی باتوں میں اظہار عقیدت ومحبت کی باتوں کو بر موقع بر محل استعمال کرنا یہ واقعی فنی تکنیک ہے جو شاعر اپنے اوپر غلبہ کی کیفیت کو اعتدال پسند رویّے میں پیش کرتا ہے۔ تاکہ قاری بات کی باریک بینی سے واقف ہو جا ئے۔ تصوف کی بعض باتیں راز و نیاز میں رکھی جاتی ہیں ان باتوں کو کھلم کھلا قارئین کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا جس کے لئے ایک مخصوص طبقہ مختص ہے جو ان باتوں کو معنوی گیرائی و گہرائی کو نہ صرف محسوس کر سکتا ہے۔ بلکہ اس سے محظوظ بھی ہوتا ہے۔ عام قاری ان باتوں سے نہ واقف ہونے کی وجہ سے ظاہرکی معنی ، مطلب ہی سے فرحت و مسرت کی کیفیت کو اپنے دامنِ شوق میں لئے حقیقت ِ حال سے واقف ہونے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ بحیثیت مجموعی آپ کا مقالہ بڑا ہی پرُ مغز اور پرُ اثر دکھائی دیتا ہے۔ تصوف کی باتوں کو انہوں نے بڑے ہی گہرائی کے ساتھ ایک معنوی پیکرمیں واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور قاری کو تصوف کے تعلق سے معلومات بہم پہنچائی ہے۔ میں مبارک باد دیتا ہوں ڈاکٹر رضوان انصاری صاحب کو ان کے کامیاب مقالہ پر اور ساتھ ساتھ یہ مشورہ دیتا ہوں کہ اگلے مقالہ کا عنوان نعتیہ شاعری پر ہوگا اور اس عنوان کے تحت قارئین کو ایک بھر پور معلومات افزأ مقالہ عنایت فرمائیں گے۔ ( راقم الحروف)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ ایک تبصراتی خط مدیر ’’ دبستان ِ نعت ‘‘ کے نام ‘‘ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مدیر ڈاکٹر سراج احمد قادری کی ادارت میں ایک شاندار معلومات افزأ نعتیہ فنِ شاعری سے متعلق مختلف آرأ ، مختلف انداز تحریر کے ساتھ مضامین کا مجموعہ تصنیف کو چار چاند لگا دینے میں کامیاب نظر آتا ہے۔ راقم الحروف کو ’’ دبستانِ نعت ‘‘ تصنیف کے نگراں کار جناب فیروز احمد سیفی صاحب نے نیو یارک سے فون کرکے ایک بڑے ہی اہم کام کے لیے خواہش ظاہر کی جس کو میں نے تہِ دل سے قبول کیا۔ میں جناب فیروز صاحب کا بہت ہی ممنون و مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے پیارے نبی آں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے مقدس ’’ صنفِ نعت ‘‘ پر تبصرہ کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔ساتھ ہی ساتھ جملہ مقالہ نگاروں کی تحریروں پر اپنی رائے لکھنے کا شرف عطا کیا۔ میں اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ ایک مقدس صنف ’’ صنفِ نعت ‘‘ پر اپنے خیالات و نظریات کی کسوٹی پر بات کرنے کا ذریعہ عنایت کیا۔ اس بہترین رسالہ کے اجرا ٔ سے دو اہم باتوں کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ پہلا نعت گو شعرأ کی فنی اعتبار سے ان کی بہتر طور پر رہنمائی کی جا رہی ہے۔ دوسرا فائدہ دور جدید اور مستقبل کے افراد کو ان کی خود ساختہ غلط عقائد کی بڑے ہی عمدہ پیرایہ میں بیخ کنی کرانے کا ذریعہ دکھائی دیتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر گزار ہوں کہ اس نے چند ایسی شخصیتوں کو قبول فرمایا جو کہ ہندوستان میں ’’ فن ِ نعت ‘‘ پر ایک تحقیقی ادارہ قائم کرکے اس کے ذریعہ ایک رسالہ بعنوان’’ دبستان نعت‘‘جاری کیا۔ اس مقدس کام کو بڑے پیمانے پر پاکستان میں کیا جا رہا ہے۔لیکن ہندوستان میں جناب فیروز احمد سیفی صاحب اور ان کے رفقائے کار نے بڑے ہی عزم و حوصلہ کے ساتھ اس کی بنیاد ڈالی ہے۔ خدا کرے کہ یہ کام دوسرے ممالک سے بھی زیادہ ہندوستان بھر میں ہوتا رہے اور مستقبل میں اس کی روشن امکانات سامنے آتے رہیں۔ آمین ثم آمین۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میں نے تمام مقالوں کو ترتیب وار پڑھنے کے بعد اپنی آرأ و نظریات کو بیان کیا ہے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں نے وعدہ کے مطابق اپنے تبصراتی مضمون کے مجموعہ کو ارسال کر رہا ہوں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>182.185.156.245</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AC%D8%B1%DB%8C%D8%AF_%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%94_%D9%85%D8%AA%DB%8C%D9%86_%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%AF%DB%8C&amp;diff=20065</id>
		<title>جرید دبستان ِ نعت پر ایک نظر ۔ متین عمادی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AC%D8%B1%DB%8C%D8%AF_%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D9%86%D8%B8%D8%B1_%DB%94_%D9%85%D8%AA%DB%8C%D9%86_%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%AF%DB%8C&amp;diff=20065"/>
		<updated>2018-03-23T18:19:40Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;182.185.156.245: نیا صفحہ: متین ؔعمادی( پٹنہ )  جریدہ ’’ دبستانِ نعت ‘‘ پر ایک نظر   ’’ دبستان ِ نعت ‘‘ حمد و نعت کا ششماہی ت...&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;متین ؔعمادی( پٹنہ )&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جریدہ ’’ دبستانِ نعت ‘‘ پر ایک نظر &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ دبستان ِ نعت ‘‘ حمد و نعت کا ششماہی تحقیقی جریدہ ہے جو خلیل آباد ، یو۔پی سے شائع ہوا ہے اور ۴۰۰؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر سید حسین احمد۔ سجادہ نشین دیوان شاہ ارزانی ، پٹنہ اس کے سر پرست ہیں۔ معاو نین میں سید صبیح الدین صبیحؔ رحمانی، کراچی۔ پاکستان ڈاکٹر عبد القادر غیاث الدین فاروقی ( نیو یارک ) اور قاضی اسد ثنائی۔ حیدرآباد اور نگراں فیروز احمد سیفی ہیں جو نیویارک میں رہتے ہیں۔ مدیر میں ڈاکٹر سراج احمد قادری کا نام ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایک دن مجھے امریکہ سے فون آیا بات کرنے والے فیروز احمد سیفی تھے جو اس جریدے کے نگراں ہیں ان سے رابطے کا سلسلہ یوں بنا کہ میرا ایک تبصرہ جس کا عنوان تھا مدینہ منورہ سے آنے والی کتب شائع شدہ پندار ان کی نگاہوں سے گزرا شاید مصنف کتاب نے اس تبصرے کو ان کے پاس بھیج دیا تھا۔ تبصرہ پڑھ کر سیفی صاحب نے میرے تبصرے کی تعریف کی اور انہیں اس کا اندازہ ہوا کہ میں بھی شاعر ہوں۔ انہوں نے بہت شستہ و مودبانہ الفاظ میں مجھ سے باتیں شروع کیں۔اور کہا کہ آپ بزرگوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپکا رشتہ بہت مستحکم ہے۔ میرے لیے دعائیں فرمائیے۔ مجھے ندامت کا احساس ہوا کہ ایں خاک را چہ نسبت بہ عالم پاک۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ وہ نعت انسٹی ٹیوٹ قائم کئے ہوئے ہیں آپ نعت لکھتے ہیں یا آپ کے بزرگوں کی نعتیں ہیں تو مجھے بھیجے ان کی گفتگو میں ایسی اپنائیت اور چاشنی تھی کہ میں حیرت زدہ ہو گیا۔ سوچنے لگا کہ امریکہ میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو حُبّ رسول ﷺ سے اس قدر شرسار ہیں کہ نعت انسٹی ٹیوٹ قائم کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بہت جلدنعت کا ایک جریدہ منظر عام پر آنے والا ہے۔آپ کی نعت اُس میں شامل کرونگا میں نے ان کی خواہش کی تکمیل میں کئی نعتیں اور حمد اُنکی خدمت میں بھیج دیں۔ کئی ماہ انتظار کے بعد ایک جریدہ ’’ دبستان ِ نعت ‘‘ کے نام سے موصول ہوا۔ اس جریدہ کو دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوئی۔ سیفی صاحب کا نام نگراں کی حیثیت سے دیکھ کر سمجھ میں آیا کہ سیفی صاحب نے اسی جریدے کی طرف اشارہ کیا تھا اور اس میں میری بھی نعت شامل تھی۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مدیر جریدہ سراج احمد قادری کی کاوشیں سراہنے کی لائق ہیں۔ اس میں کئی ابواب قائم کئے ہیں۔ ان ابواب سے پہلے مدیر نے نعتیہ جریدہ نکالنے کی غرض و غایت بیان کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ’’ مجلہ پیش کرنے کا مقصد حمد و نعت کے فروغ و ارتقأ کے حوالے سے ادبا، شعرأ اور محققین کی کاوشوں کو اہلِ علم سے رو شناس کرانا ہے۔ ‘‘ نعتیں اور حمدیں بے شمار لکھی گئی ہیں لیکن یا تو وہ شعرأ کی بیاض تک محفوظ ہیں یا الماریوں کی زینت ہیں۔ مدیر کی مستحسن کوشش ہے کہ عوام کے سامنے اسے منصۂ شہود پر لایا جائے اور اس کی جوت سے لوگوں کے دلوں کو جگمگایا جائے۔ لوگ اس عظیم فن کی طرف متوجہ ہوں۔ بہت سے شعرأ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی حمد ونعت کے لیے وقف کر دی لیکن وہ عوام الناس کی نگاہوں سے دور ہیں۔مدیر کا یہ فرمانا ہے کہ دوسری اصنافِ سخن سے نعت کا سرمایہ زیادہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے محبتِ رسول ﷺ کے پاکیزہ نقوش و جذبہ کو پیش کرتے ہوئے مشہور شعرأ کے چند اردو نعتیہ اشعار بھی پیش کیٔ ہیں۔ ان کے پیش کئے ہوئے نعتیہ اشعار کو میں نقل کر رہا ہوں۔ آپ دیکھیں کہ بزرگ شعرأ نے کس انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے ۔  ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضور دہر میں آسودگی نہیں ملتی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علامہ اقبال ؔ 	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کریم اپنے کرم کا صدقہ لئیم بے قدر کو نہ شرما &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو اور رضاؔ سے حساب لینا رضاؔ بھی کوئی حساب میں ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت رضاؔ بریلوی 	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اک ر ند ہے اور مدحتِ سلطانِ مدینہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطانِ مدینہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جگر ؔ مرادآبادی 	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہاں ساقی ِ کوثر سے صبا عرض یہ کرنا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اک رند سیہ مست بہت یاد کرے ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نفیسؔ لاہوری 	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غمِ رسول فروزاں ہو جس کے سینے میں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہ ظلمتوں سے گزرتے ہیں روشنی کی طرح &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
احسان دانشؔ	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس مجلے میں مدیر نے کئی ابواب قائم کئے ہیں۔ اب میں ان ابواب کی طرف نگاہ ڈالتا ہوں۔ پہلا باب تحمید و تقدیس ہے۔ اس میں تین حمد شامل کی ہے۔ اور یہ لکھا ہے کہ حمد و نعت کا با ہمی رشتہ توحید کے مانند ہے۔ جس طرح کلمۂ توحید لا الہ الاّ اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کے کسی جز کو علاحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے اسی طرح حمد و نعت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس مجلے کی پہلی حمد تنویراحمد پھولؔ ( نیو یارک ) کی ہے جن کا تعلق ہندوستان سے ہے لیکن ایک عرصہ سے وہ نیو یارک میں رہ رہے ہیں اور اپنی مصروف ترین زندگی کے باوجود حمد ونعت سے شغف رکھتے ہیں اس طرف مائل ہو کرپُر اثر حمد کہتے ہیں۔ بطور نمونہ ان کی حمد کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔    ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو ہے رحمانِ دنیا بقولِ نبی ﷺ سب پہ تیری عطا تو کرم ہی کرم &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آخرت میں رحیم اہلِ ایماں پہ تو کون د ے گا جزا تو کرم ہی کرم &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خوان ِیغما ترا ہے بچھا ارض پر، اپنی مخلوق کا تو ہی رزّاق ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
منکروں کو بھی دنیا میںہے دے رہا ،یہ تحمل ترا، تو کرم ہی کرم &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
عالم الغیب بے شک تری ذات ہے ،تو ہے نعم الوکیل اور غفار بھی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہم گناہوں کا ہیں بار سر پر لئے ،تجھ سے ہے آسر،ا تو کرم ہی کرم &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو نے بے مثل قران ہم کو دیا ،ہر ورق میں ہے نورِ ہدایت بھرا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تیرا احسان ہے بعثتِ مصطفی ﷺتو نے خود ہے کہا، تو کرم ہی کرم &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دوسری حمد طاہرؔ سلطانی کی ہے جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔ طاہرؔ سلطانی نے حمد ونعت کے حوالے سے جو خدمت انجام دیا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ آپ کراچی سے حمد ونعت کا ایک ماہنامہ ’’ارمغانِ نعت ‘‘ نکالتے ہیں اور حمد و نعت ٹرسٹ قائم کیا ہے۔ اس عظیم خدمت کے ذریعہ انہوں نے اپنی شناخت بنائی ہے۔ ان کی حمد کے بھی تین اشعار ملاحظہ ہوں ۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دل میں کچھ بھی نہ رہے رب کی محبت کے سوا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور کیا چاہیٔے سرکار ﷺ کی چاہت کے سوا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
رب کی رسی کو پکڑ، ورنہ بکھر جائے گا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہاتھ آئے گا نہیں کچھ بھی ندامت کے سوا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کچھ نہیں مانگتا مولا! ترا بندہ تجھ سے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حشر میں سیّدِ عالم کی شفاعت کے سوا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تیسری حمد ابرار ؔ کرت پوری کی ہے جو سرزمینِ دہلی میں قیام فرما ہیں اور حمد و نعت نگاری میں مشغول ہیں۔ ان کے یہاں بھی جذبات اور وارفتگی کا اندازہ لگاییٔ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صاحب ِ لطف جود و عنایت سخا ربّنا ربّنا آفریں آفریں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو نے بندوں کو اعزاز ِ ایماں دیا ربّنا ربّنا آفریں آفریں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دین فطرت کی انساں نے پائی ضیا،گمرہوں کو ملی منزلِ ارتقأ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سرورِ دیں سا بخشا گیا رہ نما ،ربّنا ربّنا آفریں آفریں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زندگیٔ بشر زندگی ہو گئی ،ہر طرف دہر میں روشنی ہوگئی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تو نے بخشی کتاب ِ مبیں کی ضیا ربّنا ربّنا آفریں آفریں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مجلے کے دوسرے باب کا عنوان ’’ گنجینۂ نقد ونظر‘‘ ہے اس میں پانچ مقالے قابلِ مطالعہ ہیں۔میں ان مقالوں کی تفصیل میں نہیں جاونگا۔ کیوں نکہ مضمون کی طوالت سے گریز مقصود ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تیسرے باب کا عنوان ’’رحمتِ بیکراں‘‘‘ ہے۔ اس باب میں دو مقالے ہیں ایک مقالہ نعت گو غیر مسلم شاعرکرشن کمار طور ؔ پر ہے جس کو فہیم احمد صدیقی نے تحریر کیا ہے۔ دوسرا مقالہ فیروز احمد سیفی کا ہے جس کا عنوان ہے ’’ ڈاکٹر صغریٰ عالم ایک خوش فکر نعت گو شاعرہ‘‘ مدیرِ مجلہ کا بیان ہے کہ ہم نے نظریہ رکھا ہے کہ نعت گو غیر مسلم شعرأ اور خواتین کو بھی نعت گوئی میں ان کا جائز مقام دیا جائے۔ فیروز احمد سیفی نے صغریٰ عالم کی نعت گوئی کو پیش کرتے ہوئے بڑی عمدہ بات کہی ہے۔ ان کے جملے ملاحظہ کیجئے ۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قدرتِ الٰہی کا نظام کچھ ایسا ہے کہ محبت انسان کا محور و منبع ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس وہ ذات ہے جو محبت کا خالق ہے۔ پھر عظیم ترین ہستی نیّرِ اعظم ﷺ جن سے خود اس ذاتِ مقدس نے محبت کا حُکم صادر فرمایا ہے اور یہی درس دیا ہے کہ یہی صراطِ مستقیم ہے اور خود نبی کی تعریف و توصیف کو اپنی زبانِ مبارک سے یوں ارشاد کر رہا ہے۔ وما ارسلنٰک الاّ رحمۃ للعالمین۔ مگر اس کج فہمی کو کیا کیجیٔ کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو حضور ﷺ کو صرف ایک بشر ماننے پر مُصر ہیں۔ جبکہ غالب ؔ جیسا بادہ نوش شاعر بھی ہوش کے ساتھ کہتا ہے۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غالب ؔ ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ آں ذاتِ پاک مرتبہ دان ِ محمد است &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس مفہوم سے ملتا ہوا اس ناچیز کا بھی ایک شعر دیکھئے۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نعت گو سب سے بڑا تو ہے مری کیا ہستی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سب تو قراں کے اشارے ہیں وہاں پر یا رب &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
متین ؔ عمادی 	&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں کہ تیسرا باب ’’ رحمتِ بیکراں ‘‘کے عنوان سے ہے جس میں دو مقالے ہیں پہلا مقالہ غیر مسلم نعت گو شاعر کرشن کمار طورؔ پر ہے ان کے بھی چند اشعار حمد و نعت کے ملاحظہ کے لائق ہیں۔ حمد کے یہ اشعار دیکھئے ۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آجائے کہیں جان مری جان میں مولا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اک حمد لکھوں میں بھی تری شان میں مولا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کرشن کمار طورؔبھی جگن ناتھ آزاد ؔ کی طرح مستند نعت گو شاعر ہیں۔ اُنکا ایک مجموعہ نعت ۲۰۰۰؁ ء میں ’’ چشمِ نم‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر آچکا ہے۔ جس میں ۳۵؍ حمد اور پچاس کے قریب نعت و سلام ہیں۔ ایک دو شعر حمد کے اور بھی دیکھئے ۔  ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہی ہے ہم کو عشقِ غیر فانی باٹنے والا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہی ہے وعدہ ٔ جنّت فشانی باٹنے ولا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہی ہے جس نے بخشی ہے ضیأ لفظوں کو قرآن کے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہی ہے نور عِلمِ آسمانی بانٹنے ولا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب اُن کا نعتیہ شعر بھی نقل کر رہا ہوں۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بیاں نقطہ قرآں محمد ﷺ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چراغِ خانۂ ایماں محمد ﷺ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرتب اُن سے ہوتی ہے محبت &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مثالِ رحمتِ یزداں محمد ﷺ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دوسرا مقالہ جو ڈاکٹر صغریٰ عالم کے نعتیہ شعری مزاج پر ہے ان کا بھی ایک شعر بطور نمونہ ٔ دیکھئے۔    ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میں نہ لکھ پاؤنگی توصیفِ محمد صغریٰؔ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اتنا آسان نہیں توصیفِ پیمبر لکھنا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جریدے کا چوتھا باب ’’ مقالاتِ نعت ‘‘ ہے اس باب میں چودہ مقالات ہیں۔ سبھی اپنی الگ نوعیت رکھتے ہیں۔ ان سبھی مقالات پر تنقیدی نگاہ ڈالنا اور انکو احاطہ تحریر میں لانا آسان نہیں ہے۔ میں یہاں صرف ان کے نام گنوا رہا ہوں۔ ان مقالات کے عنوانات یہ ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حرفِ آرزو ،ناعت پر فیضانِ منعوت ، انسان کامل ﷺ کا ذکرِ خیر ، مظفر ؔ وارثی کا حمدیہ آہنگ ، طاہر ؔ سلطانی کے نعتیہ کلام ( نعت روشنی) کا تنقیدی جائزہ ، غیر منقوط حمدیہ و نعتیہ شاعری کا اجمالی جائزہ ، حمدِ اِلہ جلّ جلالہ و مدحِ رسول ﷺ ،میلادِ اکبرؔ ایک مطالعہ ، نعتیہ شاعری کا تاریخی پسِ منظر ، مقبولِ بارگاہِ رسالت نعت گو شاعر حضرت رؤفؔ امروہوی ، اعجاز ؔکامیٹھوی کی نعتیہ شاعری ، علمأ گھوسی کی نعت نگاری ، مولانا فروغؔ اعظمی اور ان کی نعتیہ شاعری ، نشارؔکریمی ایک قادرالکلام نعت گو شاعر،ان مقالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مدیر موصوف نے سعیِ بلیغ سے کام لیا ہے۔ اور نعتیہ و حمدیہ شاعری پراچھا مواد فراہم کیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس جریدے کا پانچواں باب گوشۂ جامیؔ کے عنوان سے ہے جس میں حضرت جامی ؔ پر چار مضامین ہیں۔ ان مقالات میں جامی ؔ سے متعلق اچھے خاصے تذکرے ہیں۔ ان کی مشہور فارسی نعتوں کا اردو ترجمہ بھی ہے۔ جامیؔ وہ شاعر تھے جو ہر وقت محبت رسول ﷺمیں  ڈوبے رہتے تھے ان کے کلام میں جو تاثیر ہے وہ کم شاعروں کے کلام کا خاصہ ہے۔ان کا متصوفانہ رنگ دل کی گہرایوں میں اتر جاتا ہے۔ جامیؔ کے حالات سے متعلق میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا یا کسی سے واقعہ سن رکھا تھایہاں ضمناً تحریر کر رہا ہوں۔ جو دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ کہ جامیؔ جب بھی روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کی خواہش لے کر روانہ ہوتے بادشاہِ وقت کو حضور ﷺ سے حُکم ملتا کہ جامیؔ آرہاہے اس کو لوٹا دو۔ اس طرح حاضری کے بغیر لوٹا دیئے جاتے۔ آخر ایک بار بادشاہِ وقت نے ہمت کرکے پوچھ لیا کہ حضور! وہ اتنا ذوق و شوق سے آتا ہے اور آپ لوٹا دیتے ہیں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا تم نہیں جانتے ہو وہ میرا عاشق ہے اگر آجائے گا تو مجھے قبر سے نکل کر اُس کا استقبال کرنا ہوگا۔اور میں قبر سے نکل جاؤنگا تو دنیا میں تہلکہ مچ جائے گا۔ اس واقعے سے اندازہ لگاییٔ کہ جامیؔ کا کیا مقام تھا۔ مدیر نے اس جریدے کو جامیؔ سے منسوب بھی کیا ہے۔تنویراحمد پھول ؔ نیو یارک نے جامیؔ کی چند مشہور نعتیں پیش کی ہیں اور اُنکا اردو ترجمہ بھی لکھا ہے ان کی پیش کردہ نعتوں کے چند اشعار مع ترجمہ دیکھئے۔    ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دو چشمِ نرگسینس را کہ ما زاغ البصر خواند&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دو زلفِ عنبرینش را کہ والیّل اذا یغشیٰ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ترجمہ! حضور ﷺ کی دو نرگسی آنکھیں مجھے مازاغ البصر پڑھنے کو کہتی ہیں۔ اور دو عنبریں زلفوں کا کہنا ہے کہ ہم والیّل اذ یغشیٰ پڑھیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ز سرّ سینہ اش جامی ؔ الم نشرح لک بر خواں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ز معراجش چہ می پرسی کہ سُبحان الذی اسریٰ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ترجمہ ! اے جامی ؔ تو حضور ﷺ کے سینہ ٔ اطہرکے راز کے بارے میں الم نشرح پڑھ لے اور ان کی معراج کی شان کیا پو چھنا سُبحان الذی اسریٰ سے ظاہر ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جامی ؔ کے اشعار میں عقیدت کے جو پہلو ہیں وہ بڑی کیفیت رکھتے ہیں۔ اُن کا یہ شعر بھی بہت مشہور ہوا ہے۔    ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہنوز نامِ تو گفتن کمالِ بے ادبیست &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب گوشہ ٔ جامیؔ کے علاوہ اس جریدے کے چند مقالے ایسے ہیں جن پر نگاہ ِ شوق ٹھہر جاتی ہے جیسے ایک مقالہ ہے۔ ’’ مظفرؔ وارثی کا حمدیہ آہنگ ‘‘ اس کے قلم کار ڈاکٹر عزیز احسن ہیں۔ حمدیہ شاعری وہ ہے جس میں ربّ ذوالجلال کی حمد و ثنا کا اظہار ہوتا ہے۔ ایک بندہ اپنے خالق کی جتنی بھی تعریف کرے، جتنی بھی ثنا کرے کم ہے۔ وہ کرم و فضل کا ایسا بہتا دھارا ہے جس کو توصیف کی زبان دینا مشکل ہے۔ بہترے شعرأ حیرت و استعجاب میں ڈوب جاتے ہیں۔ دیکھئے خسروؔ کس انداز سے فرماتے ہیں۔    ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ما یم تحیر و خموشی ہمہ آفاق بگفتگویت &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور خدا بھی فرما رہا ہے تم میری کن کن نشانیوں کے منکر بنو گے۔ شاعر اپنی بساط بھر کوشش کرتا ہے کہ شاید اُسکا ایک شعر بھی مقبولِ بارگاہ ہو جائے اور نجات کا ذریعہ بن جائے۔ مظفر ؔ وارثی کا حمدیہ آہنگ بڑا دلکش ہے۔ انہوں نے اپنے تحت الشعور کو مسجد قرار دیتے ہوئے کس خوبی سے کہا ہے۔    ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسجد الفاظ میں بھی دے رہا ہوں میں اذاں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میرا فن ، میرا ہُنر، میرا ادب تیرے لیے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس مضمون میں انکے بہت سے اچھوتے اور دلکش حمدیہ اشعار بھی ہیں۔ مگر میں ان کے چند اشعار پیش کرکے اپنی تنقیدی نگاہ کو سمیٹ رہا ہوں ، آپ ان کے اشعار سے لطف اندوز ہوں ۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زمینِ تیرہ کے منھ سے لگا دیا کس نے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مہ و نجوم بھر ا آسماں کا پیالہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میں ان اشعار کو پڑھکر خود عجیب کیفیت میں ڈوب گیا ہوں۔ جی چاہتا ہے کہ ان کے چند شعر اور بھی آپ کے گوشِ گزار کر دوں۔ وحدت الوجود کے مسئلہ کو بڑی خوبی سے مظفر ؔ وارثی نے اپنے اشعار میں ڈھال لیا ہے ۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خدا ہے ایک مگر ایک کی بھی حد میں نہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اکائی اس کی کسی زمرہ ٔ عدد میں نہیں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مظفرؔ وارثی کی حمدیہ شاعری میں جو تنوع اور ہنر مندی کے پہلو ہیں وہ بے شمار اور قابلِ دید ہیں۔ چند اشعا اور پیش کرکے اپنی بات کو ختم کر رہا ہوں ان اشعار کو دیکھیٔے اور جھوم جائے ۔  ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دنیائے رنگیں کی دلہن جاتے لمحوں کی ڈولی میں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شبنم کی ابرق پھولوں پر موتی دریا کی جھولی میں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ کس کی مینا کاری ہے ! کون ایسی خوبیوں والا ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بندو اللہ تعالیٰ ہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دوسرا مقالہ جس نے میری دید کو اپنی طرف کھینچا ہے وہ ہے طاہرؔ سلطانی کے نعتیہ کلام ’’ نعت روشنی ‘‘ کا تنقیدی مطالعہ ہے۔ اس مقالے میں طاہر ؔ سلطانی کی نعتیہ شاعری پر روشنی ڈالی گئی ہے اور مقالہ نگار نے یہ بتانے کہ کوشش کی ہے کہ طاہر ؔ سلطانی نے سرکار دو عالم ﷺ کی عملی زندگی کو ماحصل بنانے پر زور دیا ہے اور یہ بتایا کہ سرکار دو عالم ﷺ کا اسوہ ہی ایک مومن کی اصلی زندگی ہے۔ بطور نمونہ ان کے چند اشعار دیکھئے۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سرورِ دیں کا اگر سامنے کردار رہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مہکا مہکا ہوا پھر اپنا بھی کردار رہے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آپ کی نسبت سے ہم کو روشنی مل جائے گی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آپ کے علم و عمل سے آگہی مل جائے گی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
جو غلام سید ابرار دل سے بن گیا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس کو رحمت سے مزّین زندگی مل جائے گی &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس جریدے کے اہم مقالوں میں غیر منقوط حمدیہ و نعتیہ شاعری پر یہ بہت اہم مقالہ ہے۔ اس کو طاہر ؔ سلطانی نے بڑی محنت سے لکھاہے۔ غیر منقوط کلام وہ بھی حمد و نعت میں مشکل امر ہے۔ اکبر بادشاہ کے دربار میں رہنے والے فیضی ؔ نے’’ سواطع الالہام ‘‘ نام کی غیر منقوط تفسیر قرآن لکھ کر دنیا میں اپنا نام روشن کیا گرچہ وہ تفسیر مکمل نہیں ہے پھر بھی اُنکا یہ کارنامہ شہرت کا سبب بنا۔ اسی طرح کچھ اور خوش نصیب افراد نے غیر منقوط سیرت لکھنے کی کوشش کی ہے جن میں ایک نام ولی رازی کا ہے۔ غیر منقوط حمد و نعت لکھنے والے شعرأ خال خال ہیں لیکن مقالہ نگار طاہر ؔ سلطانی نے اپنی تحقیق سے دس غیر منقوط کلام لکھنے والے شعرأ کے نام لییٔ۔ یہاں میں ان شعرأ کی جھلکیاں ہی پیش کر رہا ہوں۔ مقالہ نگار نے یہ بات بھی لکھی ہے کہ یوں تو بیسوں غیر منقوط حمدیہ و نعتیہ اشعار لکھنے والے شعرأ ہیں لیکن انہوں نے صرف انہیں شعرأ کو لیا ہے جن کا کلام زیور طبع سے آراستہ ہوکر منظرِ عام پر آچکا ہے۔ اس غیر منقوط کلام میں انہوں نے پہلا نام سیّد محمد امین عالی شاہ کا لیا ہے ان کے دو غیر منقوط مجموعے منظرِ عام پر آئے ہیں۔ انہوں نے عربی زبان میں بھی غیر منقوط کلام پیش کیٔ ہیں۔ اس مجموعہ کا نام ’’ محمد رسول اللہ‘‘ ﷺ رکھا ہے اور اردو میں غیر منقوط کلام کے مجموعہ کا نام ’’ محمد ہی محمد‘‘ ﷺ رکھا ہے۔ عربی مجموعہ میں ۳۳ ؍منظومات ہیں جن میں ۱۲؍ حمدیں ہیں ، اکیّس نعتیں ہیں۔ نعت و حمد سے پہلے نثری طور پر آغاز کلام بھی کیا جو غیر منقوط ہے۔ میں اس کی سطریں نہیں پیش کرکے شاعری کی صلاحیت واضح کر رہا ہوں ملاحظہ کیجئے:-&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ کروڑوں حمد ہوں سارے عالم کے مالک و مولا اور حاکم ِ اعلیٰ کے لیئے کہ اس کی امداد و عطا سے سرکار دو عالم سرورِ اولاد ِ آدم صلی اللہ علیٰ زوجہ و اٰلہٖ وسلم کے سارے مدح سراوں سے اوّل اس لا علم اور معمولی آدمی کو اس رسالہ کی لکھائی کا حوصلہ ہوا کہ اس کا ہر کلمہ اور مصرع اردوئے معرّاے مسطور اور مہر ولائے رسول سے معمور ہے۔ ‘‘ &lt;br /&gt;
اب ان کے غیر منقوط کلام کا کچھ نمونہ دیکھئے۔    ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہادئی راہ مولیٰ الوریٰ آ گئے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سارے عالم کے صدرالعلیٰ آگیٔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہو کے اللہ کے محمود حامد مگر&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دہر کے دردِ دل کی دوا آگئے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مرسلوں کے امام و حسام الہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سرورِ کُل، دلِ دوسرا آگئے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اب ان کے حمدیہ اشعار بھی ملاحظہ کیجئے۔    ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صدائے دورِ عطا لا الہ الا اللہ طوائے راہ ہُدیٰ لا الہ الا اللہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہی ہے عالم ِ امکاں کا مالک و مولیٰ دواے درد ِ ولا لا الہ الا اللہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اسی کے در کا سہارا ہے سارے عالم کو رسل کا ورد ہو ا لا الہ الا اللہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مقالہ نگار نے دوسرے شاعر راغب ؔ مراد آبادی کو فہرست میں رکھا ہے۔ راغبؔ مرادآبادی نے ’’ مدحِ رسول ‘‘ ﷺ کے نام سے اپنا غیر منقوط نعتیہ کلام ۱۹۷۹؁ء میں مرتب کر لیا تھا لیکن ان کے مجموعہ کی اشاعت ۱۹۹۳؁ء میں ہوئی۔ یہ مجموعہ ۱۷۶؍صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کے چند اشعار بطور نمونہ ملاحظہ کیجئے۔    ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محمد کو داد مدّعا لکھ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دو عالم کا سہارا آسرا لکھ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محمد راکع و حماد مولا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اٹھا کلک اور رودادِ حرا لکھ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تیسرے شاعر حضرت شاعرؔ لکھنوی ہیں۔ان کا شمار ممتاز صاحب طرز نعت گو شعرأ میں ہوتا ہے۔ ان کا مجموعہ نعت غیر منقوط ’’ روحِ الہام ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس میں حمد و نعت اور قطعات و رباعیات شامل ہیں۔ اس کی اشاعت کا موقع ۲۰۱۱؁ء میں ہو ا اگر چہ ۱۹۷۶۔۷۷ ء میں مرتب ہو چکا تھا۔ شاعر کا انتقال ۱۹۸۹؁ء میں ہوا ہے۔ مقالہ نگار نے یہ لکھا ہے کہ غیر منقوط کلام کے وصف میں وہ سب کو پیچھے چھوڑ گیٔ ہیں۔ میکانکی پابندی کے باوجود ان کا کلام بوجھل ادق اور بے روح نہیں ہے۔بلکہ ان کی شگفتگی اور بے ساختگی قابلِ دید ہے۔ گویا یہ فنی جمالیات کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ میں یہاں قاری کی ضیافت طبع کے لئے ان کی صرف ایک غیر منقوط رباعی پیش کر رہا ہوں ۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہر گرد سے روح و دل کو سادہ کر لو&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہر لمحہ درودوں کا اعادہ کر لو&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مائل ہو کوئی وسوسۂ دہر اگر&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سرکار کی مدح کا ارادہ کر لو&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شاعر کے مجموعہ نعت و حمد میں ۶۳؍ قطعات ہیں۔ یہ تعداد رسول خدا ﷺ کی حیات ِ مبارکہ سے منسوب ہے۔ فاضل مقالہ نگار نے چوتھے غیر منقوط نعت گو شعرأ میں لطیف ؔ اثر کا نام لیا ہے۔ان کے دو غیر منقوط حمد و نعت کے مجموعے ہیں۔ پہلا غیر منقوط مجموعہ ’’ سرکار دو عالم ‘‘ نام سے ہے۔ اور غیرمنقوط حمدیہ کا نام اہم ہے۔ ان کے بھی دو تین حمدیہ اور نعتیہ اشعار دیکھئے۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حمد اللہ کی لکھ رہا ہوں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لمحہ لمحہ اسی کا ہو گیا ہوں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مالکِ دو سرا مدد کر دے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہر رحم و ہر کرم کی حد کر دے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دل سے اٹھے صدائے اللہ ھو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دل کو گہورۂ احد کر دے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اللہ کے رسول کا کلمہ ادا کروں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اور عام دل کے واسطے راہ ہدیٰ کروں&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دل کو مرے ملے درِ احمد کھلا ہوا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہر لمحہ محو درسِ محمد رہا کروں &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مقالہ نگار نے پانچویں شاعرتا بش الوریٰ کو پیش کیا ہے۔ان کے غیر منقوط مجموعہ نعت کا نام ’’سرکارِ دو عالم ‘‘ ہے۔ یہ مجموعہ ۱۰۶؍ صفحات پر مشتمل ہے ان کے بھی چند اشعار دیکھئے۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مالک الملک ہے وہ ملک ہے سارا اسکا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آسماں اسکا سمک اسکا ہے صحرا اس کا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
لہر در لہر رواں اس کا کرم اس کی عطا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ساحل اس کا ہے ہوا اس کی ہے دھارا اسکا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میرے اللہ مرا ولولہ اعلیٰ کر دے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میرا ہر کام محمد کے حوالہ کر دے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چھٹے شاعر قریشی ؔ کو مقالہ نگار سامنے لایا ہے اور ان کے کئی غیر منقوط اشعار کو اپنے مقالے میں لکھا ہے۔ ان میں سے ایک دو شعر آپ بھی سماعت کیجئے ۔   ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محمد ﷺ سا کوئی ہے طٰہٰ دکھا دو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کسی کا محمد ﷺ سا اسوہ دکھا دو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محمد ﷺ کے کلمے سا کلمہ ہے کس کا &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محمد ﷺ سا اک حلم ولا دکھا دو &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چونکہ میرا تبصرہ بہت طویل ہو گیا ہے اور چار سو صفحات کی کتاب پر مکمل تبصرہ معنی رکھتا ہے اس لیے تمام شاعر کے نمونہ ٔ کلام کو پیش نہ کر کے صرف ان کے نام پر اکتفا کر رہا ہوں۔ اس مقالے کے ساتویں شاعر صادق ؔ بستوی ہیں ان کی کتاب کا نام’’ ہادی عالم‘‘ ہے۔ جس میں نثری غیر منقوط تحریر کے ساتھ کچھ غیر منقوط اشعار بھی ہیں۔ آٹھویں شاعر ظفر ؔ ہاشمی قادری ہیں۔ ان کے مجموعہ کا نام ’’ معلم عالم ‘‘ ہے۔ جو ۹۹؍ غیر منقوط نعتوں پر مشتمل ہے۔ مقالہ نگار نے نواں نام قدرت اللہ بیگ راوؔ ملیح آبادی کا لیا ہے۔ راؤؔ ملیح آبادی کہنہ مشق شاعر وں میں تھے۔ ان کا سنِ ولادت ۱۸۷۳؁ء ہے۔ ان کا بڑا کار نامہ غیر منقوط فارسی مثنوی ہے جس کا نام ’’مطالع المحامد ‘‘ ہے۔اس میںچار ہزار تین سو پچپن اشعار ہیں۔ ا س میں ایک قصیدہ ٔ نعتیہ بھی ہے۔ جوش ؔ ملیح آبادی نے اپنی کتاب ’’ یادوں کی بارات ‘‘ میں حضرت راؤؔ کا ذکر خیر کیا ہے۔ آخر میں دسویں شاعر کی حیثیت سے مقالہ نگار نے محسن ؔ ملیح آبادی کا نام لیا ہے یہ زود گو اور قادرالکلام شاعر ہیں ان کے کچھ اشعار بطور نمونہ پیش ہیں۔ جس سے ان کی علمی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ، ملاحظہ ہو۔    ؎ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہے اللہ کا ہمسر کہاں اللہ اللہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
وہی ہے ہر اک سے کلاں اللہ اللہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حمدیہ اشعار :-&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہاں آئے گا وہ سر دل کسی کے &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
کہ وہ ہے ورائے گماں اللہ اللہ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نعتیہ اشعار :۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علم و عمل کی آگہی صلِ علیٰ محمد ﷺ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علم ہے اس کا سر مدی صلِ علیٰ محمد ﷺ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سارے رسولوں کا امام اس کی عطا دوام &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اللہ رے اس کی سروری صلِ علیٰ محمد ﷺ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ مقالہ بہت عمدہ مقالوں میں ہے اور تحقیقی مقالہ ہے۔ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ صنعتِ عاطلہ میں جن شعرأ نے کلام لکھے وہ قابلِ مبارک ہیں ’’ دبستان ِ نعت ‘‘ کا آخری باب کا عنوان ’’ گلہائے عقیدت ‘‘ ہے۔جس میں۴۳؍ شعرأ کی ایک مکمل نعت پیش کی گئی ہے۔جس میں علیم صبا ؔ نوید ی کی سہ سطری شاعری بھی ہے اس کے علاوہ ایک شاعر کا نعتیہ دوہا بھی ہے۔ چہار در اک یعنی (Foure in one ) کے عنوان سے ایک قابلِ دید نعت بھی ہے۔ مجلے کے آخر میں مدیر نے اور فیروز احمد سیفی نے اہلِ علم و ادب سے گذارش کی ہے کہ اپنا معیاری کلام اور مضامین بھیجیں تاکہ مجلہ کو عمدہ سے عمدہ بنایا جائے۔ میںڈاکٹر سراج احمد قادری اور فیروز احمد سیفی کو دل کی گہرایوں سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے عمل کو قبول کرے اور ان کے درجات بلند کرے آمین۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>182.185.156.245</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%D8%A7%D8%AB%D8%B1_-%D9%BE%D8%B1%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%B3%D8%B9%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81&amp;diff=20064</id>
		<title>دبستان ِ نعت ایک تاثر -پروفیسر محمد سعد اللہ</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%AA%D8%A7%D8%AB%D8%B1_-%D9%BE%D8%B1%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%B3%D8%B1_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%B3%D8%B9%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81&amp;diff=20064"/>
		<updated>2018-03-23T18:08:29Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;182.185.156.245: نیا صفحہ: پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد اللہ ( مہارشٹرا)  دبستان ِ نعت: ایک تاثر   ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی م...&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد اللہ ( مہارشٹرا)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دبستان ِ نعت: ایک تاثر &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سب سے اعلیٰ افضل و اکبرہے۔ اور اس کے بعد رسول اکرم ﷺ افضل البشر کا درجہ ہے۔ آنحضرت کی فضیلت و عظمت کا یہی ثبوت ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وجہ تخلیقِ کائنات فرمایا ہے ( لو لاک لما خلقت الافلاک ) آپ ﷺ کو رحمۃ للعالمین فرمایا ہے (وما ارسلنا ک الاّ رحمۃ للعالمین ) اور یہ فرمایا کہ اللہ اور فرشتے آپ ﷺ پہ صلوٰۃ بھیجتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجیں ( انّ اللہ و ملا ئکۃہ یصلون علی النبی یا ایھا الّذین آمنوا صلوا علیہ و سلموا تسلیما) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حضرت محمد ﷺ نے دنیا میں اللہ کا آخری پیغام قرآن مجید کی شکل میں پہنچایا اور دین ِ اسلام پھیلایا۔ آپ ہمارے نبی ہیںاس لئے ہر مسلمان کو آپ ﷺ سے محبت و عقیدت فطری امر ہے۔ جس کا اظہار وہ اپنے اعمال و افعال و اقوال کے ذریعے کرتا رہتا ہے۔ اہلِ دانش و بینش نے احادیث مرتب کرکے، آپ کی سیرت مبارک تحریر کرکے آپ ﷺ کی تعلیمات کی تصریح و تفسیر کرکے ، اور شعرأنے آپ ﷺ کی شان میں نعتیں کہ کر اس فریضہ کو انجام دیا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی شان میں کہی گئی نظم حمد کہلاتی ہے اسی طرح رسول اکرم ﷺ کی شان میں کہی گئی نظم کو نعت کہا جاتا ہے۔ اسلامی زبانوں عربی، فارسی، ترکی ، اردو وغیرہ میں نعت گوئی ہمیشہ مروّج و مقبول رہی ہے۔ اس کا آغاز عربی میں ہوا وہاں سے یہ فارسی میں مروّج ہوئی۔ اردو کے گجری و دکنی دور۔ آخر ی مغلوں کے عہد کے دہلوی و لکھنوئی دور۔ برطانوی عہد کے جدید شاعری کے دور اور آزادی کے بعد ہند و پاک کی شاعری میں نعت گوئی مروّج و مقبول رہی ہے اور بے شمار شعرأ نے نعت کہ کر رسول اکرم ﷺ کی شان میں اظہار خیال کیا ہے۔ اردو چونکہ ہندوستان کے تمام مذہبی طبقات کے افراد کی لکھنے پڑھنے بولنے کی مشترکہ زبان ہے۔ اس لئے اس کی شاعری اور نعت گوئی میں بھی مسلموں کے ساتھ غیر مسلم شعرأ کی تخلیقات ملتی ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اردو میں نعت ایک زندہ مشہور و مقبول مروّج صنفِ سخن ہے اور اس کا بے حد وسیع و بسیط وسیع فراہم سرمایہ مہیّا ہو گیا ہے۔ساتھ ہی محققین و نقادان ِ ادب نے اس صنف کی تحقیق و تنقید کے کارنامے انجام دئے ہیں۔اس سلسلے میں ناگپور کے ڈاکٹر رفیع الدین اشفاقؔ اور محمد اسماعیل آزاد فتح پوری کے مقالات اور نور احمد میرٹھی مرحوم کی کتاب غیر مسلم شعرأ کی نعت گوئی قابلِ ذکر ہیں۔ راقم کو ناگپور۔امراوتی جل گاؤں وغیرہ جامعات کی اردو تحقیق کی رہنمائی کے سلسلے میں مختلف ادبی موضوعات کے مطالعہ کا موقع ملا اور ان میں نعت گوئی کے سرمایہ۔ارتقأ اور خصوصیات قدر و قیمت و اہمیت سے بھی تھوڑی بہت واقفیت ہو گئی۔ اور جب مکرمی جناب ڈاکٹر سراج احمد قادری صاحب اور جناب فیروز احمد سیفی صاحب (نیویارک ) کی عنایت سے مجلہ ’’ دبستانِ نعت ‘‘ کی ایک جلد موصول ہوئی تو اس صنف کے مطالعے و جائزے کا احیأ سا ہو گیا۔ راقم کے نزدیک صنف نعت پر یہ ایک بسیط و بلند معیار ادبی معلوماتی تالیف ہے۔ اس سے نہ صرف نعت ریسرچ سینٹر ، خلیل آباد کے سرپرست جناب پروفیسر ڈاکٹر سید حسین احمد صاحب۔ نگراں جناب فیروز احمد سیفی ، نیویارک اور مدیر جناب ڈاکٹر سراج احمد قادری کی حضور اکرم ﷺ سے محبت وعقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔ بلکہ ان کی بہترین ادبی صلاحیتوں اور ذوق و شوق کا بھی ثبوت مہیّا ہوتا ہے۔ بنظرِ انصاف دیکھا جائے تو یہ اردونعت کے فکر و فن و سرمایہ پہ معلومات کا بیش بہا خزینہ معلوم ہوتا ہے۔ کتاب کے موضوعات پرنظر ڈالنے سے اس کے متنوع مشمولات کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
تحمید و تقدیس کے باب میں تین شعرأ کی حمد باری تعالیٰ پیش کی گئی ہے جو جذبات عبودیت سے پُر ہیں۔ گنجینہ ٔ نقد ونظر میں فنِ نعت گوئی صنفِ نعت کا فکری و فنی تعارف ہے۔ اس کے ارتقأ پر نظر ڈالی گئی ہے۔ عربی فارسی اردو زبانوں میں اس صنف کے فروغ کو بیان کیا گیا ہے۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
رحمتِ بیکراں میں ایک غیر مسلم نعت گو شاعر جناب کرشن کمار طورؔ کی نعت گوئی کا جائزہ ہے۔ اور ایک معلوماتی مضمون ڈاکٹر صغریٰ عالم صاحبہ کی نعت گوئی پر ہے جو جناب فیروز احمد سیفی کے زورِ قلم کا ثمر ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
صنفِ نعت کے مختلف پہلوؤں پر مقالات کے باب میں نظر ڈالی گئی ہے۔ مختلف موضوعاتِ نعت۔خصوصیات نعت۔ کچھ شعرأ کی نعت گوئی وغیرہ پر فاضل مقالہ نگاروں نے بیش بہا معلومات فراہم کی ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فارسی کے مشہور شاعر۔ مثنوی نگاراور نعت گومولانا عبد الرحمن جامی ؔ رحمۃ اللہ علیہ کی نعت گوئی پر تین مقالات اور ان کی فارسی نعت کا ترجمہ ایک خاصے کی چیز ہے۔ اردو والوں کے لئے یہ ایک نعمتِ غیر مترقبہ کی حیثیت کی چیز ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
گلہائے عقیدت۔ مختلف شعرأ کے ہدیۂ نعت پر مشتمل ہے۔یہ نعتیں رسول اکرم ﷺ کی محبت و عقیدت میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس طرح یہ پوری تالیف صنفِ نعت گوئی۔ اس کی نوعیت حیثیت خصوصیات۔ قدر و قیمت ، اہمیت، فکر وفن وغیرہ کی معلومات کا ایک منفرد و بیش بہا خزینہ بن گیا ہے۔ اس کے مرتبین نے ستائش و صلہ کی تمنا و پروا کئے بغیر محض عشق و عقیدتِ رسول ﷺ کے جذبہ سے سرشار ہو کر یہ کارنامہ انجام دیا ہے اس لئے بمصداق ’’من یحب الرسول یحب اللہ‘‘ ( جو رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا ہے اللہ سے محبت کرتا ہے۔ ) یہ تمام حضرات رسول اکرم ﷺ کے ساتھ اللہ کی محبت کے بھی یقینا حقدار ہو گئے ہیں۔ جزاک اللہ۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>182.185.156.245</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84%DB%82_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84:%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%81%D9%84%D8%A7_%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%81_-_%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%B4%D9%85%DB%8C%D9%85_%DA%AF%D9%88%DB%81%D8%B1_%D9%85%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%DB%8C&amp;diff=20063</id>
		<title>تبادلۂ خیال:دبستان ِ نعت کا پہلا شمارہ - ڈاکٹر سید شمیم گوہر مصباحی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84%DB%82_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84:%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%DA%A9%D8%A7_%D9%BE%DB%81%D9%84%D8%A7_%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%81_-_%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1_%D8%B3%DB%8C%D8%AF_%D8%B4%D9%85%DB%8C%D9%85_%DA%AF%D9%88%DB%81%D8%B1_%D9%85%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%DB%8C&amp;diff=20063"/>
		<updated>2018-03-23T18:03:48Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;182.185.156.245: نیا صفحہ: ڈاکٹر سید شمیم گوہر مصباحی ( الہ آباد ) دبستان نعت کا پہلا شمارہ  محب گرامی جناب ڈاکٹر سراج احمد قاد...&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;ڈاکٹر سید شمیم گوہر مصباحی ( الہ آباد )&lt;br /&gt;
دبستان نعت کا پہلا شمارہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
محب گرامی جناب ڈاکٹر سراج احمد قادری&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مدیر ’’ششماہی دبستان نعت‘‘ خلیل آباد سنت کبیر نگر&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
چار سو صفحات پر مشتمل ’’ششماہی دبستان نعت‘‘ کا اولین شمارہ دستیاب ہوا دیکھتے ہی دل جھوم گیا یاد آوری کاشکریہ اداکرتا ہوں۔ آپ کے دبستان نعت نے دنیائے نعت کے عظیم مجاہد و شاعر اور دیدہ ور قلمکار جناب سیدصبیح رحمانی کی یادتازہ کر دی جنہوں نے’’نعت رنگ کراچی‘‘کی ادارتی فوقیت اوربے لوث کثرت خدمات کی روشنی میں ساری دنیا کے مسلمانوںکو حیرت میں ڈال دیاجس کا ہر ضخیم شمارہ ایک نورانی دستاویز اور تاریخی شاہکار ہوتا ہے۔ بیشتر ممتاز و نامور اور پختہ کار اصحاب قلم کی مبارک جماعت کے تحقیقی و علمی کارنامے اور تنقیدی وتجزیاتی امانتیں، ’’صفحات نعت رنگ‘‘ پر لولو و مرجان کی طرح تابندہ و مجلّٰی ہیں۔دبستان نعت کا اجرابھی بڑے حوصلے اور جرأت مندانہ پیش قدمی کا اظہار ہے ،امت مرحومہ کے دل کی دھڑکن اوراسیران مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ و التسلیم کے آفاقی جذبات کا آئینہ دار ہے۔ اتنے وسیع پیمانے اور اتنے عظیم حوصلے کے سائے میں اس نوعیت کے معیاری مجلے کا اہتمام کرنا آپ کی بے لوث نعت نوازی کی ضمانت ہے، اگر آپ اس اشاعتی تسلسل کو بر قرار رکھ سکے تو تاریخ آپ کو اپنی قربت سے ضرور نوازتی رہے گی، عشق رسالت مآب کی آنچ میںتپتے ہوئے آپ کے اس خدماتی اثاثے کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں اور عمر دراز کی دعامانگتا ہوں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ عہد رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے لیکر تا ہنوز بیشتر زبانوں میںنعتیہ شعر و ادب کا سمندر بہہ رہا ہے ،ہردور میں خاصان خداکامحبوب مشغلہ رہاہے ،بالخصوص عربی و فارسی اوراردوزبانوںمیں اس کے وسیع گنجینوںکااندازہ نہیں لگایاجا سکتا۔ صرف اردو میںہزارہا ہزار کتابیں اور مجموعے لگاتار منظر عام پرآتے رہے اور قیامت تک آتے رہیں گے۔ ورفعنا لک ذکرک کا فریضہ نعتیہ شاعری نے ہمیشہ نبھایا ہے۔ اتنی عظمتوں اور سرفرازیوں کے باوجود ادبی دنیا کے بعض افرادنعتیہ شاعری پر طنز کرتے اور اس کے مراتب پر حملہ کرنے سے باز نہیں آتے، اس کی وسعت پذیری پر پردہ ڈالنے کی برابر کوشش کرتے رہتے ہیں،اسی نعت بیزاری اور ہجود نوازی کا نتیجہ ہے کہ ادبی دنیا کی بیشترسرگرمیاںتقویٰ و طہارت ، احتیاط و اجتناب اور مسائل و فتاویٰ سے ہمیشہ دوررہی ، نہ جانے کتنے ہندو شعراء ہر دور میںنہ صرف نعتیہ شعر و ادب کااحترام کرتے رہے بلکہ بطور خاص طبع آزمائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نعتیہ شاعری کا کثیر سرمایہ پیش کر دیاجبکہ اسی ادبی پلیٹ فارم کے بے شمار مسلم شاعروں کو ایک نعت کہنے کی توفیق نہ ہوئی اور نہ ہی اس کے بے پناہ فکر و فن اور صنائع و بدائع کی بارگاہ میںخراج عقیدت پیش کرنے کا جذبہ بیدارہوا۔ نذرانۂ محبت نہ پیش کرنے کا مطلب یہ تونہیں کہ اس آفاقی اورجبروتی شاعری کی شان میںباغیانہ حملہ کیا جائے۔ادبی پلیٹ فارم سے یہ آواز برابر بلندہوتی رہی ہے کہ نعت کوئی صنف نہیں کہ اس کے پاس کوئی ہیئت نہیں۔ لا علمی کے سبب یہ رخنہ طرازی اگرچہ تنگیٔ ذہن کی مجروح علامت ہے جو غیروں کے لئے تفریح کا سامان مہیا کر سکتا ہے تا ہم مجھ پر لازم ہے کہ اسے تفریحی عناصر کی تردیدمیں کار خیر کی کچھ سعادت حاصل کر لی جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اگر صنف نعت ہیئت سے وابستہ نہیں تو کیا اس کے دامن میں عظمت و انفرادیت اور بے شمار صنائع و بدائع کاخزانہ بھی نہیں ،اس کی آغوش میں فضیلتوںکے پھول بھی نہیں، عظمت کی معرفت ہیئت سے نہیں تجزیۂ فکر وفن سے حاصل ہوتی ہے۔ موضوع و مواد اور فکری بلاغتیں کسی ہیئت کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ہر بڑی شاعری کواس کے موضوع اور تخئیلی بالیدگی کی روشنی میںپرکھا جاتا ہے ہیئت کی بنیاد پر نہیں۔جس مبارک شاعری کو صحابۂ کرام،تابعین کرام، اولیائے کرام اور بیشمار اقطاب وغوث نے کلیجے سے لگاکررکھاہواور فکر وفن کی نئی نئی آنچ میں تپایاہو اس کے لئے کسی مخصوص تلاش ہیئت کی کبھی ضرورت نہیںمحسوس کی گئی اور نہ ہی اس کی وسعتیںکسی ہیئتی خول میں مقید رہنے کی مستحق ہیں،اس کے لئے ہردروازہ کو کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ اس نعتیہ شاعری کا عروج وارتقاء کبھی تنگئی داماںکااحساس نہ کرنے پائے تبھی تواس بے ہیئت والی شاعری کے دم سے ہر صنف سخن کی دنیا آباد ہے۔زمانہ گزر گیا ادبی پلیٹ فارم سے قصیدہ،مرثیہ، مثنوی، شہر آشوب، بارہ ماسہ دوہا،مسدس، مخمس،رباعی اور قطع وغیرہ کا جنازہ نکل کر رہ گیا، یہ صنعتیں اپنے شاعروں کو ترس گئیں، غزل کے سوااساتذۂ کرام کی تمام روایتوںاورتمام امانتوں کو غارت کر ڈالا،وہ نعتیہ شاعری جوتمام اصناف شعروادب پر ہمیشہ جاری رہی اس کااحسان ہے کہ وہ اپنی وظیفہ خوانی اور پرخلوص طبع آزمائی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ہر صنف کو زندگی عطا کرتی رہی حتیٰ کہ ہائکواورسانیٹ میںبھی بیسوں مجموعے پیش کر دئیے ورنہ ادبی دنیا کی ساری کارکردگی کب کا دم توڑ چکی ہے۔صنف نعت کی بابت عدم ہیئت کی بات کرنے والے افراد اپنے تخئیلی برتاؤ کے سہارے مذکورہ اصناف سخن کے حق میں کون سا کردارنبھا رہے ہیں۔صنفیںمحض ادب وادیب کے تذکرۂ خدمات سے زندہ نہیںرہتیں۔ ان کے لئے لگاتارتخئیلی سفر اورپرخلوص جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
واضح ہو کہ شاعروںکی بابت قانونی ہیئت کادائرہ شروع ہی سے بہت محدود رہاہے ہیئت مثنوی جس کے دونوں مصرعے مقفیٰ ہوتے ہیں اورہیئت قصیدہ جس کے ہر دوسرے مصرعے میں قافیہ ہوتا ہے اس کے علاوہ تیسری ہیئت کا کوئی نام ونشان نہیں۔ قصیدہ و مثنوی کا ہیئتی نظام قوافی کی روشنی میں اس طور پر وضع کیا گیا کہ کوئی بھی شاعری اس کی قانونی گرفت سے الگ نہیںرہ سکتی، اس کی وضع داری ہر صنف پر موضوع کی کفالت کرتی ہے، مرثیہ ، شہر آشوب، بارہ ماسہ، غزل،مسدس،مخمس، رباعی اورقطع وغیرہا اپنے اپنے مصاریعی تنظیم و ترتیب کے آئینے میںقصیدہ و مثنوی کی ہیئت کے تابع ہوتے ہیں، یہ مختلف مصاریعی تنظیم ، تعین صنف سخن کی وضاحت تو کرتی ہے مگر ہیئتی شناخت و قانون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہر شاعری خواہ وہ جس بھی صنف سے وابستہ ہو اس کے دونو ں مصرعے ہیئت قصیدہ و مثنوی سے بے تعلق نہیں رہ سکتے۔شاعری کا سفر اوزان و بحور اور موضوعات کی بنیاد پرجاری رہتا ہے وابستگیٔ ہیئت کی بنیاد پر نہیں۔ ایسا نہیں کہ قصیدہ و مثنوی کا نام پہلے رکھ دیا گیا اور ان کے اصول بعد میں وضع کئے گئے ہوںاگر ایسے کسی بھی ضابطہ وقانون کی علامت موجود ہوتی تو آج ہر شاعری کے لئے ہیئتوں کا دریا بہہ رہا ہوتا۔غزل کی بھی کوئی ہیئت نہیں یہ بھی قانون قصیدہ پر موقوف ہے ،غزل مسلسل کو قصیدے ہی کاایک شعبہ کہا جاتا ہے۔ بعد میں جب اس کے ما بعداشعار، ما قبل اشعار کے فکری و تخئیلی تناظر سے الگ کر دیئے گئے تو غزل کی منفرد صنفی حیثیت تسلیم کر لی گئی۔ یہی قاعدہ مثنوی میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔خیال وفکر کے سلسلۂ مربوط کوحذف کر دیجئے۔ دائرۂ مثنوی میںرہتے ہوئے بھی کلام کسی دوسرے صنف سے وابستہ ہو جائے گا۔ شاعری کا آخری درجہ یہ بھی ہے کہ قافیہ و دریف کا اہتمام کئے بغیرمحض اوزان و بحور کے سہارے خیالات کی بندش کی جائے، اس تجربے کوکسی صنف کے زمرے میں تو شامل نہیں کیا جا سکتاتاہم شاعری کہلانے کی ضرور مستحق ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
بعض ایسے افراد جن کے پاس عقیدت و محبت کا کوئی پیمانہ نہیں،جنہیں سر جھکانے کا شعور نہیں اور جو مصلحت نوازعقیدوںکی راہیں بدلتے رہتے ہیںوہ صنف نعت سے کیسے ہمدردی کرسکتے ہیں، انہیںنعت جیسی مقدس شاعری میں کوئی خوبی تو نظر نہیںآئی ہیئت و اجزائے ترکیبی کی کمی ضرور دکھائی دے گی،اجزائے ترکیبی کاعنوان ہی غلط ہے،اسکاعنوان ’’اجزائے مطلوبہ‘‘ ہونا چاہئے تھا کہ شاعر جس بھی حسن خیر کا طالب ہو بیان کرے۔حیرت کی بات ہے کہ سوداؔ وذوقؔ کے قصیدوں اور میرحسنؔ و شوقؔ کی مثنویوںمیں اجزائے ترکیبی تو نظرآگئے مگر چار حصوں پر مشتمل حضرت حفیظ جالندھری کی مثنوی، شاہنامہ اسلام کی وسیع ترین اجزائے ترکیبی کی کوئی خبر نہیں۔صنف نعت کے آئینے میںعہد دیرینہ سے لیکر اب تک قصیدوں اور مثنویوںکی ہزاروں شمعیں روشن کی جاچکی ہیں، بالخصوص غلام امام شہیدؔ،کرامت علی شہیدیؔ،کافیؔ مرادآبادی، لطفؔ بریلوی، محسنؔ کاکوری، امیر ؔ مینائی ، شاہ رضاؔ بریلوی، حسنؔ بریلوی، جمیلؔ بریلوی اور کیف ٹونکوی وغیرہم کے علاوہ سیکڑوں شعرائے نعت نے جم کر اجزائے ترکیبی کا اہتمام کیا ہے(تفصیل کیلئے دیکھئے خاکسار کی کتاب صنف نعت اورشعرائے نعت) میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے موضوع پر شروع ہی سے شاعری کی جاتی رہی ہے، مولودی مجموعوںکاکثیرتعداد میں پتہ چلتا ہے جس میں تخلیق نور نبی،ولادت رسول، بعثت رسول،محبت رسول، جمال وکمال، اخلاق حسنہ،اسوۂ مبارکہ، معجزات و غزوات، علم غیب، معجزۂ معراج، اور ازواج مطہرات کے علاوہ قرآن و احادیت کی روشنی میں بے شمار احکام و فضائل اور کردار و عمل کا ذکر موجود ہے۔ اب اگر ایسے افراد، موضوع نعت میں میر حسن کے اجزائے ترکیبی چاہتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے البتہ مرثیے کے اجزائے ترکیبی کے بعض گوشے نعت سے ضرورہم آہنگ ہوتے رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دبستان نعت کا بیشترحصہ انتہائی تحقیقی و تاریخی وعلمی ہے، عظمت رسول اورفضائل رسالت کے آئینے میں ایک بار پھریہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ نعتیہ شاعری کتنی وسیع وبلند ہو سکتی ہے جسکے تناظرمیںبعض مضامین کے تحقیقی جوہرنے خوب جلوے بکھیرے۔ نعتیہ شاعری کی فوقیت و فضیلت کا سایہ ہر شاعر کے سر پر ہوتا ہے،عقیدت و محبت کی تجلّیوں میں ڈوبا رہتا ہے، ہر شاعر قرآن واحادیث اور احکام وفرائض کے حوالوں کی روشنی میں شاعری نہیں کرتا بلکہ اس کا جذبۂ والہانہ اور دیوانگیٔ عشق خود بخودکسی نہ کسی حقیقی گوشے سے وابستہ ہو جاتی ہے، خراج عقیدت اور نذرانۂ محبت کی خوشبوؤں میں ہرشاعر اس یقین وایمان کے ساتھ شاعری کرتا ہے کہ آپ ہی (صلی اللہ علیہ وسلم)سب سے زیادہ عزت و عظمت والے ہیں، آپ ہی سب سے زیادہ جمال و کمال والے ہیں ، آپ ہی دانائے غیوب اور معجزات والے ہیں، آپ ہی صاحب قرآن اور خاتم المرسلین ہیں، آپ ہی رحم و کرم اور شفاعت عطا فرمانے والے ہیں، آپ ہی آقا وملجا اورمعراج والے ہیں، آپ ہی احادیث و سنن کی دولت تقسیم کرنے والے ہیں،اسی نورانی پس منظر میں لکھا ہواقاضی محمدرفیق فائز فتح پوری کامقالہ’’ناعت پر فیضان منعوت‘‘(یعتی شاعرنعت پرفیضان نعتیہ) معلوماتی نمونہ ہے۔اردوشاعری میںجس قدر کثرت کے ساتھ صنائع و بدائع اور اوزان وبحور کا استعمال نعتیہ شاعری میںہوتا رہا ہے ان کی مثالیں اور حوالے کسی بھی غیر نعتیہ شاعری میںنہیں مل سکتے۔ گویا جتنی مقدس و مبارک یہ شاعری ہے اسی تقدس مآبی کے سائے میں جملہ ندرتوں سے وابستہ بھی ہوتی رہی۔صنعت غیر منقوطہ کا بھی کثیر خزانہ صرف صنف نعت ہی میں تلاش کیا جاسکتا ہے،اس سلسلہ میں جناب طاہر سلطانی (کراچی) نے اپنی خصوصی سرگرمیوںکی روشنی میںمتعدد شاعروں کے غیر منقوطہ شاعری کے بیشتر حوالے جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔صنعت غیر منقوطہ میںاس خاکسار کے بھی تین اشعار ملاحظہ کر لیں۔  ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سارے درد و الم سے دور رہا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مدح سرور سے ہر سرور رہا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مدح مولیٰ سے دل مرا مہکے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ہرگھڑی دل الم سے دوررہا&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
درد دل کو سکوں ملے مالک&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
درد دل کی دوا کہاں گم ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’نعتیہ شاعری کاتاریخی پس منظر ‘‘ کے عنوان علیم صبا نویدی کے مضمون کا آغاز بہت عمدہ ہے مگر مضمون مزید جس تحقیقی عمل کامتقاضی تھا اختصار و قلت کے سبب تشنہ رہ گیا۔ ’’گوشۂ جامی‘‘ نے دبستان نعت کے معیار و وقار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ صوفیانہ، عارفانہ، اور نعتیہ شعرائے فارسی کی صف میںحضرت جامیؔ کی حیثیت و اہمیت تابندہ و روشن ہے،ان کے تعلق سے سارے ہی مضامین لائق تحسین ہیںبا لخصوص ڈاکٹر رضوان انصاری (لکھنؤ) احوال حیات کے ساتھ حضرت جامی کے تقریباً ۲۹؍نعتیہ کلام کا حوالہ مع ترجمہ پیش کرکے کار خیر انجام دیا ہے۔ دیگر شعرائے نعت کی طرح قدیمی معمول کے تحت محفل سماع میں حضرت جامی کے مندرشہ ذیل کلام پابندی سے پڑھے جاتے ہیں اور بعض حضرات پر وجدو کیف بھی طاری ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ز رحمت یک نظر بر حال زارم یا رسول اللہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
غریبم بے نوایم خاک سارم یا رسول اللہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یا شافع روز جزا پرساں توئی پرساں توئی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
رشک ملک نور خدا انساں توئی انساں توئی&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نسیما جانب شہ بطحا گزر کن&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ز احوالم محمد را خبر کن&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
علمائے گھوسی کی نعت نگاری کا ذکر آپنے پہلے ہی شمارے میں کرکے فرصت پا لی بہت اچھاکیا۔ جناب ڈاکٹر شکیل احمد اعظمی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ششماہی دبستان نعت کے پہلے ہی شمارے کے بعد پورا سال گزر گیا ، اللہ مدد فرمائے۔اور آپ حضرات کے حوصلوں پر خیر و برکت کی برسات کرے آمین۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>182.185.156.245</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_-%D9%BE%D8%B1%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%B3%D8%B1_%D9%81%D8%A7%D8%B1%D9%88%D9%82_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%B5%D8%AF%DB%8C%D9%82%DB%8C&amp;diff=20062</id>
		<title>دبستانِ نعت پر ایک طائرانہ نظر -پروفیسر فاروق احمد صدیقی</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://naatkainaat.org/index.php?title=%D8%AF%D8%A8%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%90_%D9%86%D8%B9%D8%AA_%D9%BE%D8%B1_%D8%A7%DB%8C%DA%A9_%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%81_%D9%86%D8%B8%D8%B1_-%D9%BE%D8%B1%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%B3%D8%B1_%D9%81%D8%A7%D8%B1%D9%88%D9%82_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%B5%D8%AF%DB%8C%D9%82%DB%8C&amp;diff=20062"/>
		<updated>2018-03-23T17:59:35Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;182.185.156.245: نیا صفحہ: پروفیسر فاروق احمد صدیقی(مظفر پور )   دبستان نعت (شمارہ جنوری تا جون2016ء) پر ایک طائرانہ نظر  مکرمی سل...&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;پروفیسر فاروق احمد صدیقی(مظفر پور ) &lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دبستان نعت (شمارہ جنوری تا جون2016ء) پر ایک طائرانہ نظر&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مکرمی سلام و تحیت!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ششماہی ’’دبستان نعت‘‘ شمارہ جنوری تا جون 2016ء سرمہ بینش بنا۔ آپ نے بڑی محنت، محبت، خلوص اور خوش دلی سے یہ ضخیم شمارہ ترتیب دیا ہے۔ مبارکباد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
آپ نے یہ اچھا کیا ہے کہ شروع کے صفحات کو تین حمدیہ کلام سے مزین کیا ہے۔ جناب تنویر پھولؔ، طاہرؔ سلطانی اور ابرارؔ کرت پوری کے تقریباً تمام حمدیہ اشعار فکر بلند اور فن لطیف کے آئینہ دار ہیں۔ تینوں حضرات کو تہہ دل سے ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’گنجینۂ نقد و نظر‘‘ کے تحت پہلا مضمون ڈاکٹر شاہ حسین احمد صاحب کا ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں نعت کی صنفی حیثیت کو زیر بحث لاتے ہوئے یہ فیصلہ ارقام فرمایا ہے کہ چونکہ نعت کی کوئی خاص ہیئت متعین نہیں ہے۔ اسلئے اس کو صنف کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ یہ تصوف کی طرح موضوعِ کلام تو ہے، صنف سخن نہیں۔ میرا معروضہ ہے کہ عربی، فارسی اور اردو میں جتنی بھی مروجہ اصناف سخن ہیں وہ آسمان سے نازل نہیں ہوئی ہیں۔ شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے اصحاب علم و فن نے ہی ان کی درجہ بندی کی ہے اور ان کی مخصوص ہیئتیں مقرر کی ہیں۔ ان کی محدود نگاہی کی انتہا تو یہ کہ قصائد کے ناپاک دفتر تک کو بھی انہوں نے صنف سخن کا مرتبہ دے دیا۔ یہی نہیں ریختی، واسوخت، خمریات اور شہر آشوب جیسی شاعری کو بھی اصناف سخن کے دائرے میں رکھاا ہے۔ مگر حمدیہ اور نعتیہ شاعری کو شعوری طور پر اصناف کا درجہ دینے سے احتراز کیا گیا۔ اس کو ان کی چشمِ فراست کی نابصیری کے علاوہ اور کیا نام دیا جائے۔ نعت جو اردو شعر و ادب کے وجود میں آنے کے پہلے سے عربی اور فارسی میں موجود ہے۔ اس کو صنف سخن قرار دیتے ہوئے زبانِ قلم لڑکھڑا جائے۔ مگر مغرب سے مستعار ہائیکو، سانیٹ اور نظم معرا وغیرہ کو جدید شعری اصناف کے طور پر قبول کرلیا جائے۔ اس کو احساس کمتری، بے حسی اور کج فکری کے علاوہ کس جذبہ پر محمول کیا جائے حالانکہ نعت کو سخن تو سب مامنتے ہیں صرف صنف کا سابقہ لگانے میں تردد اور تامل ہے یالعجب!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ نعت میں چونکہ رحمۃ للعالمین کی مدح و ثنا ہوتی ہے اسلئے فارسی اور اردو کی تمام مروجہ اصنافِ سخن نے زبان حال سے بارگاہِ رب العالمین میں یہ استغاثہ پیش کیا کہ یہ اعزاز و اکرام انہیں بھی حاصل ہو، دعا مستجاب ہوئی اس طرح تمام مروجہ اصنافِ شاعری نے مدح سیدالمرسلین کے لئے اپنی اپنی آغوش محبت وا کردی۔ اسی لئے یہ غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی، قطعہ، مثلث، مخمس اور مُسدّس وغیرہ کی ہیئتوں میں لکھی جانے لگی۔ اس طرح یہ ایک ممتاز و محترم صنف سخن کے مقام و مرتبہ تک پہنچ گئی اور اب بلاتکلف تمام اہلِ علم و ادب اس کو ایک اہم صنف سخن کی حیثیت سے لکھتے پڑھتے اور بولتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مسئلہ زیر بحث کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ مرثیہ جس میں ممدوح کائنات اور محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسۂ محترم حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اعوان و انصار کی المناک شہادت کا بیان ہوتا ہے۔ اس کی ہیئت اور اجزائے ترکیبی طے کئے جائیں۔ مگر نعت جس میں خود امام عالی مقام کے جدّکریم حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ستائش ہوتی ہے۔ اس کے اجزائے فن اور عناصر ترکیبی کی تشکیل سے تغافل اور تجاہل برتا جائے۔ اور یہ امر محتاج وضاحت نہیں کہ حضرت امام حسین کی زندگی کی تمام بہاریں نانا جان سے انتساب کی بدولت ہی ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مقصود نگارش یہ ہے کہ بعض اہلِ علم سے یقینا یہ تسامح ہوا ہے کہ اصناف سخن کی درجہ بندی میں ان اصناف سخن کو جن کا ذکر سطور بالا میں کیا گیا ہے صنف کا مرتبہ بخشا۔ اگرچہ ان کی ہیئت متعین نہ ہو اور نعت جیسی صنف اطہر کو صنف سخن کہنے کے لئے ہیئت کے تعین کی بنیاد ڈھونڈھیں۔ نامناسب نہیں ہوگا اگر اس سلسلے میں اردو کے مشہور شاعرو ناقد جناب ناوک حمزہ پوری کی یہ قیمتی رائے بھی نقل کردی جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’ہر چند کہ نعت عربی، فارسی اور اردو نیز دیگر زبانوں میں تقریباً ڈیڑھ ہزار برسوں سے کہی جارہی ہے۔ لیکن بعض کوتاہ نظر ناقدین کے نزدیک یہ اب بھی صنف سخن کا درجہ نہیں پاسکی۔ ان کے بقول وجہ صرف اتنی سی ہے کہ نعت کی کوئی متعین ہیئت نہیں۔ ان کج فہموں کی سمجھ میں اتنی سی بات نہیں آتی کہ صنفی شناخت کے لئے صرف ہیئت واحد معیار نہیں بلکہ موضوع بھی بہت اہم رول ادا کرتا ہے اور موضوعی اہمیت کے لحاظ سے نعت وہ مہتمم بالشان صنف ہے کہ دوسری صنف اس کے پاسنگ کے برابر بھی نہیں۔ چنانچہ حضرت مولانا سیدابوالحسن علی ندوی مرحوم نے بجا فرمایا:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’وہ فارسی اور اردو شاعری کا مطالعہ اگر عام ڈگر سے ہٹ کر انصاف اور حقیقت پسندی کے ساتھ کیا جائے تو سب سے زیادہ مؤثر اور سب سے زیادہ بھرپور صنف نعت قرار پائے گی۔ تنوع اور مقدار و معیار ہر اعتبار سے نمایاں اور ممتاز۔ (اردو شاعری میں نعت گوئی)۔(فنکار مصنفہ ناوک حمزہ پوری 56/57)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حقیقت یہ ہے کہ اصناف سخن کے تعین کی دو الگ الگ بنیادیں ہیں۔ ہیئت اور موضوع ناچیز کا موقف یہ ہے کہ نعت پاک جیسی صنف سخن کسی ہیئت کے چوکھٹے میں بند نہیں ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شمارے کا دوسرا مضمون ڈاکٹر خسروحسینی کا ہے۔ انہوں نے فن نعت اور نعت گوئی کے عنوان پر بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ تحریر بہت معلوماتی اور بصیرت افروز ہے۔ معروف و مستند اہل علم و قلم ڈاکٹر صابر سنبھلی نے حدائق بخشش کے صنائع بدائع کو موضوع بنایا ہے۔ یہ ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنے موضوع کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ڈاکٹر عزیزاحسن کو بہت پہلے سے ’’نعتِ رنگ‘‘ کراچی کے حوالے سے جانتا ہوں۔ خوب لکھنتے ہیں وہ واقعی فنا فی النعت ہیں۔ ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی نے شری کرشن کمار طور ؔکی نعتیہ شاعری کا عمدہ تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔ مگر ان کے نام کے پہلے لفظ ’’حضرت‘‘ اچھا نہیں لگا۔ یہ لفظ ایک اہل ایمان کو ہی زیب دیتا ہے۔ جناب فیروزاحمد سیفی نے ڈاکٹر صغریٰ عالم کی نعتیہ شاعری کو بہت سلیقے سے متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے شاعرہ کے کلام سے وافر مقدار میں حوالے دے کر اپنے نقطۂ نظر کو مدلل کیا ہے۔ اندازِ بیان بھی بہت سلیس، شائستہ اور پاکیزہ ہے۔ منیراحمد ملک (اسلام آباد) کا مقالہ ’’حرف آرزو‘‘ بھی بہت گرانقدر ہے۔ انہوں نے اپنے مقالہ میں ایک ایسا خوبصورت شعر بھی نقل کیا ہے جو یقینا روح ایمان سے معمور ہے۔ ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
نبی کا عشق، خدا کی اطاعت کامل&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ دیں کی اصل ہے، باقی تمام افسانہ&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
قاضی رفیق فائزؔ فتح پوری کا مقالہ ’’ ناعت پرفیضانِ منعوت‘‘ بیحد اہم، فکر انگیز اور چشم کشا ہے۔ انہوں نے حدیث پاک لولاک لما سے بڑی عالمانہ اور محققانہ بحث کی ہے۔ بار بار پڑھنے کے لائق ہے۔ بات لمبی ہوتی جارہی ہے۔ اس لئے دیگر مضامین و مشملات سے صرفِ نظر کرتا ہوں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
مگر ’’گوشۂ علامہ جامی‘‘ کے تحت ڈاکٹر یحییٰ نشیط کا مضمون ’’مولانا جامی کی نعت نگاری جا نبِ توجہ‘‘ ہے۔ موصوف کے ایک معروف قلمکار ہونے میں شبہ نہیں۔ وہ ’’نعت رنگ‘‘ کراچی میں بھی تواتر کے ساتھ لکھتے رہے ہیں۔ مگر زیر نظر مضمون کی تمہید میں وہ کچھ ایسی باتیں لکھ گئے ہیں جو یقیناً خوش عقیدگی کی مظہر نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا یہ ارشاد:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’… اسی طرزِ فکر کی وجہ سے اردو فارسی نعتیہ شاعری میں میم کا گونگھٹ، احمد بے میم، مسئلہ امتناع النظر، مدینہ کا پیا، کملی والا، دیدار خداوندی سے مشرف، شہزادہ لولاک آقا و مولا، بگڑی بنانے والا، ذاتِ اوّل و آخر، ظاہر و باطن، عالم العنت، وغیرہ تراکیب کو اوصاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شمار کرلیا گیا ہے۔ بعض عقیدت کا یہ غلو حدود شریعہ کو پھلانگ جاتی ہے اور عقیدے کے مبالغہ میں شان ِ اُلوہیت میں استخفافکا پہلو نکل آتا ہے ‘‘ (صفحہ ۲۸۲)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان سطور کے لکھتے وقت ڈاکٹر صاحب کا ذہن و قلم صحرائے توہّب کی سیر کررہا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کے دینی معتقدات کیا ہیں۔ انہوں نے جن جن الفاظ و تراکیب پر اعتراضات جڑے ہیں اور شانِ رسالت میں ان کے استعمال کو ممنوع بلکہ موہم الی الشرک قرار دیا ہے۔ ان کے انطباقات اطلاقات ہر دور میں علمائے حق اور محبان رسول کی تحریروں اور تقریروں میں ہوتے رہے ہیں۔ مفصل بحث کا یہ موقع نہیں۔ صرف ایک مثال پر بات ختم کرتا ہوں۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو آج تک کسی ذمہ دار عالم اور اہل قلم نے ’’عالم الغیب ‘‘ نہیں کہا۔ ہاں ’’عالم غیب‘‘ ضرور کہا ہے۔ لفظ غیب پر الف لام کے داخل کرنے اور نہ کرنے سے معنوی سطح پر کتنا بڑا فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کسی مستند عالم سے رجوع کرکے اطمینان حاصل کرسکتے ہیں۔ بصورت دیگر یہ راقم الحروف حاضر ہے۔ انہوں نے بحث کے دائرے کو پھیلادیا ہے۔ ان کی فہرست میں شامل تمام الفاظ و تراکیب کا شرعی جواز و جواب موجود ہے۔ مسئلہ ’’امتناع النظیر‘‘ پر علامہ فضل حق خیرآبادی کی شاہکار کتاب ’’امتناع النظیر‘‘ لا جواب ہے۔ اور حدیث لولاک لما کی صحت کے تعلق سے اسی شمارے میں خاصہ مواد موجود ہے۔ رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کی تربیت کے لئے جن کو بات بات میں شرک کا آزر نظر آتا ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت بریلوی نے کیا خوب کہا ہے۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس برے مذہب پہ لعنت کیجئے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
’’گوشہ جامی میں‘‘ ہی ڈاکٹر رضوان انصاری نے اپنے مضمون ’’حضرت عبدالرحمن جامی ایک نادر روزگار شخصیت‘‘ کی تمہید میں حضرت خواجہ غریب نواز سے منسوب یہ رباعی نقل کی ہے۔   ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
شاہ است حسین بادشاہ است حسین&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
دین است حسین دیں پناہ است حسین&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
سرداد و نہ داد دست در دست یزید&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
حقّا کہ بنائے لا الہ است حسین&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اطلاعاً عرض ہے کہ یہ رباعی حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی نہیں ہے۔ مشہور محقق پروفیسر حنیف نقوی کی تحقیق ملاحظہ فرمائیں:&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
فارسی کی یہ رباعی بہت مشہور ہے اورخواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب کی جاتی ہے۔ پروفیسر مسعودحسن رضوی نے روح انیسؔ کے مقدمے میں اس رباعی کو ’’امام حسین کے عظیم الشان کارنامے پر مذہبی زبان میں خواجہ معین الدین اجمیری کا مختصر اور جامع ’’تبصرہ‘‘ قرار دیا ہے، لیکن درحقیقت یہ رباعی خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ایک ہم نام شاعر معین کاشانی کی طبع زاد ہے۔‘‘&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
(حنیف نقوی کی ابتدائی تحریریں: مصنفہ ڈاکٹر شمس بدایونی، ص:169)&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
زیرنظر شمارہ کا شعری حصہ بھی بہت خوب ہے۔ ڈاکٹر نذیر فتح پوری (پونہ) کی نعتیہ تضمین میں اقبال کے ساقی نامہ جیسی سلاست اور روانی ہے، بہت خوب ہے۔ مگر ان کا یہ شعر محل نظر ہے۔ ؎&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خدا نے یہ قرآن میں کہہ دیا ہے&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
یہ دنیا بنی ہے انہیں کی بہ دولت&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
خدائے پاک نے قرآن میں یہ بات کہاں کہی ہے؟ ڈاکٹر صاحب اس کی نشاندہی فرمائیں تو میرے علم میں بھی قیمتی اضافہ ہوگا۔’ محمد نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا، یہ قرآن نہیں ہے۔ لو لاک لما خلقت الافلاک کا خلاصہ ہے اس سلسلے میں مزید وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>182.185.156.245</name></author>
	</entry>
</feed>