نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں ۔ منور بدایونی

"نعت کائنات" سے
نظرثانی بتاریخ 05:12, 20 مارچ 2018 از ADMIN (تبادلۂ خیال | شراکت)$7

(فرق) ←پرانی تدوین | Approved revision (فرق) | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش


شاعر : منور بدایونی


نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]


نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے

جسے چاہیں اُس کو نواز دیں یہ درِحبیبﷺ کی بات ہے


جسے چاہا دَر پہ بُلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے


وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جُدا نہیں

وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیبﷺ کی بات ہے


وہ مَچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے دَ ر سے لپٹ گئی

وہ کِسی امیر کی آہ تھی، یہ کِسی غریب کی بات ہے


تُجھے اے منوّرِ بے نوا درِ شاہ سے چاہئیے اور کیا

جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے.


نعت خوانوں میں کلام کی پذیرائی[ترمیم]

| ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی آواز میں

نئے صفحات

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png


زیادہ پڑھے جانے والے کلام