"عبداللہ ناظر" کے نسخوں کے درمیان فرق
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 29: | سطر 29: | ||
آخری ایام میں آپ کی صحت اور نظر بہت کمزور ہو گئی تھی ۔ چونکہ انٹرنیٹ پر ہی ساری دنیا سے رابطہ تھا تو ای میلز میں ٹیکسٹ بہت بڑا فونٹ استعمال کرتے تھے ۔ لیکن ایسے حالات میں بھی اردو ادب کی خدمت نہیں چھوڑی اور جب تک ممکن ہوا ادب دوستوں سے برقی رابطہ رکھا۔ [[12 دسمبر ]] [[2010]] کو یہ نابغہ روزگار شخصیت اپنے انمنٹ نقوش چھوڑ کر اس دار فانی سے رخصت ہوگی ۔ | آخری ایام میں آپ کی صحت اور نظر بہت کمزور ہو گئی تھی ۔ چونکہ انٹرنیٹ پر ہی ساری دنیا سے رابطہ تھا تو ای میلز میں ٹیکسٹ بہت بڑا فونٹ استعمال کرتے تھے ۔ لیکن ایسے حالات میں بھی اردو ادب کی خدمت نہیں چھوڑی اور جب تک ممکن ہوا ادب دوستوں سے برقی رابطہ رکھا۔ [[12 دسمبر ]] [[2010]] کو یہ نابغہ روزگار شخصیت اپنے انمنٹ نقوش چھوڑ کر اس دار فانی سے رخصت ہوگی ۔ | ||
=== حواشی و حوالہ جات === | |||
نسخہ بمطابق 14:39، 5 اکتوبر 2017ء
منکسر المزاج اور دھیمے لہجہے والی ملنسار شخیصت کے مالک معروف شاعر عبد اللہ ناظر 23 دسمبر 1932 کو حیدر آباد، بھارت میں پیدا ہوئے ۔
شاعری
آپ کی شاعری عصری وابستگی ، ہجرت کے رنگ اور جذبوں کے اظہار کا دبستان ہے ۔ اردو ادب کے نامور نقاد و محقق شمس االرحمن فرماتے ہیں کہ
"عبداللہ ناظر صاحب عقل سے زیادہ دل اور دانش سے زیادہ جذبے کے شاعر ہیں"
شمس الرحمن فاروقی نے مزید فرمایا کہ ان کی شگفتگی اور عشقیہ اظہار انہیں غزل کا کامیاب شاعر بناتا ہے ۔ <ref> مہتاب قدر، "تار انفاس پر تبصرہ </ref>
حمدیہ و نعتیہ شاعری
چونکہ پاکیزگی ، طہارت و اسلامی شعار شخصیت کا حصہ تھے تو آپ نعت گوئی سے بھی دور نہ رہیں ۔ ان کی کچھ نعتیں ذیل میں درج ہیں۔
وفات
آخری ایام میں آپ کی صحت اور نظر بہت کمزور ہو گئی تھی ۔ چونکہ انٹرنیٹ پر ہی ساری دنیا سے رابطہ تھا تو ای میلز میں ٹیکسٹ بہت بڑا فونٹ استعمال کرتے تھے ۔ لیکن ایسے حالات میں بھی اردو ادب کی خدمت نہیں چھوڑی اور جب تک ممکن ہوا ادب دوستوں سے برقی رابطہ رکھا۔ 12 دسمبر 2010 کو یہ نابغہ روزگار شخصیت اپنے انمنٹ نقوش چھوڑ کر اس دار فانی سے رخصت ہوگی ۔
