"تبادلۂ خیال:قمر رضا شہزاد" کے نسخوں کے درمیان فرق
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(نیا صفحہ: قمر رضا شہزاد کی نعت شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ میں ہوں جیسامجھے اس نام سے باندھے ہوئے...) |
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 2: | سطر 2: | ||
شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ | شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ | ||
میں ہوں جیسامجھے اس نام سے باندھے ہوئے رکھ | میں ہوں جیسامجھے اس نام سے باندھے ہوئے رکھ | ||
میں بھی ہوں اے مرے آقا | |||
میں بھی ہوں اے مرے آقا ترا زندانی عشق | |||
اپنے قید ی کو اسی دام سے باندھے ہوئے رکھ | اپنے قید ی کو اسی دام سے باندھے ہوئے رکھ | ||
مری آنکھوں سے برستے ہوئے ان اشکوں کو | مری آنکھوں سے برستے ہوئے ان اشکوں کو | ||
دل میں برپا کسی کہرام سے باندھے ہوئے رکھ | دل میں برپا کسی کہرام سے باندھے ہوئے رکھ | ||
یہ چمکتا ہوا سورج مری خواہش میں نہیں | یہ چمکتا ہوا سورج مری خواہش میں نہیں | ||
تومجھے اپنی کسی شام سے باندھے ہوئے رکھ | تومجھے اپنی کسی شام سے باندھے ہوئے رکھ | ||
میں نہیں چاہتا آسودہ دنیا ہونا | میں نہیں چاہتا آسودہ دنیا ہونا | ||
بس مجھے راحت انجام سے باندھے ہوئے رکھ | بس مجھے راحت انجام سے باندھے ہوئے رکھ | ||
نسخہ بمطابق 18:58، 14 جنوری 2019ء
قمر رضا شہزاد کی نعت
شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ
میں ہوں جیسامجھے اس نام سے باندھے ہوئے رکھ
میں بھی ہوں اے مرے آقا ترا زندانی عشق
اپنے قید ی کو اسی دام سے باندھے ہوئے رکھ
مری آنکھوں سے برستے ہوئے ان اشکوں کو
دل میں برپا کسی کہرام سے باندھے ہوئے رکھ
یہ چمکتا ہوا سورج مری خواہش میں نہیں
تومجھے اپنی کسی شام سے باندھے ہوئے رکھ
میں نہیں چاہتا آسودہ دنیا ہونا
بس مجھے راحت انجام سے باندھے ہوئے رکھ