اے خدا حشر میں اس طور نبھایا جاوں
نعت کائنات سے
اے خدا حشر میں اس طور نبھایا جاوں
ان کے دریوزہ گروں ہی میں اٹھایا جاوں
میں نے مانگی ہے دعا ان کا وسیلہ دے کر
پھر غم ِ دہر سے کیونکر نہ بچایا جاوں
میں نکما ہی سہی ان سے ہے نسبت میری
کب ہے ممکن سر ِ کوثر نہ بلایا جاوں
وقت ِ آخر ہو مرے لب پہ سجی نعت ِنبی
اور غلامان ِ محمد میں سلایا جاوں
جان پر جب ہو بنی شافع محشر للہ
"اوج آزاد کیا ہم نے" سنایا جاوں