کوثر نیازی
نعت کائنات سے
نمونہ کلام
خورشید رسالت کی شعاوں کا اثر ہے
خورشید رسالت کی شعاوں کا اثر ہے
احرام کی مانند مرا دامن تر ہے
نظارہ فردوس کی یا رب نہیں فرصت
اس وقت مدینے کی فضا پیش نظر ہے
اس شہر کے ذرے ہیں مہ و مہر سے بڑھ کر
جس شہر میں اللہ کے محبوب کا گھر ہے
یہ راہ کے کنکر ہیں کہ بکھرے ہوئے تارے
یہ کہکشاں ہے کہ تری گرد سفر ہے
اس صاحب معراج کے در کا ہوں بھکاری
قرآن میں جس کیلئے ماذا غ البصرہے
اک مہر لقا ، ماہ ادا کا ہے یہ اعجاز
ہر اشک مری آنکھ کا تابندہ گہر ہے
میں گنبد خضری کی طرف دیکھ رہا ہوں
کوثر مرے نزدیک یہ معراج نظر ہے