خادم اعلی پنجاب قرات، نعت اور تقاریری مقابلے

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search


خانیوال (نمائندہ پاکستان) محکمہ تعلیم نے صوبہ بھر میں خادم اعلیٰ پنجاب قرات، نعت اور تقاریر مقابلوں کے شیڈول کا اعلان کردیا۔ تفصیل کے مطابق محکمہ تعلیم پنجاب نے خانیوال سمیت صوبہ بھر کے 36 اضلاع میں قرات، نعت، سیرت النبیؐ پر تقاریر کے لیے تحصیل، ضلع، ڈویژن اور صوبائی سطح پر مقابلوں کے لیے شیڈول کا اعلان کردیا ہے۔ 8 جنوری کو تعلیمی اداروں 9 جنوری کو یونین کونسل کی سطح پر، 10 جنوری کو تحصیل، 12 جنوری کو ضلعی، 16 جنوری کو ڈویژن اور 18 جنوری کو صوبائی سطح پر طلباء کے مابین فیصلے کئے جائیں گے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

قصیدہ بردہ شریف کے شاعر امام بوصیری کی ولادت یکم شوال608ھ یا610ھ (1211ء) میں مصر کے ایک گاؤں بوصیری میں ہوئی ۔ پورا نام شرف الدین ابو عبداللہ محمد بن سعید بن حماد بن محسن بن عبداللہ الصنہاجی،البوصیری ہے ۔یہ مصری شاعر نسلاً بربر تھے۔اور شاعر ی میں ابنِ حناء کی سرپرستی حاصل تھی ۔اُن کی تمام تر شاعری کا مرکز و محور مذہب اور تصوف رہا۔ تصوف میں ابو الحسن شاذلی کی بیعت کی۔ امام بوصیری کی وفات 694ھ یا 695ھ یا 696ھ میں اسکندریہ میں ہوئی ۔
مولانا نور الدین عبد الرحمن المعروف مولانا جامی ((1414-1492)) صوبہ خراسان کے ایک قصبہ خرجرد میں پیدا ہوئے۔اوائل عمر ہی میں آپ اپنے والد کے ساتھ ہرات اور پھر سمرقند کا سفر کیا ۔ جہاں علم و ادب کی تحصیل کی اور دینی علوم، ادب اور تاریخ میں کمال پایا ۔ تصوف کا درس سعد الدین محمد کاشغری سے لیا ۔اور مسند ارشاد تک رسائی ملی ۔ حج بیت اللہ کے لیے بھی گئے اور دمشق سے ہوتے ہوئے تبریز گئے اور پھر ہرات پہنچے۔ جامی ایک صوفی صافی اور اپنے دور کے بہت بڑے عالم تھے۔تصوف کا معتبر نام اور فنِ شاعری میں بھی یکتا
سیماب اکبر آبادی کا بنیادی وصف آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات گرامی سے بے پناہ عشق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعت گوئی اور ان کی قومی و ملی شاعری میں جگہ جگہ اللہ کے پیارے رسول صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی الفت و محبت کے حوالے ملتے ہیں۔ سیماب اکبر آبادی کی نعت گوئی ان کی زودگوئی، سخن فہمی اور قادر الکلامی سے عبارت ہے۔ ان کی نعتیں عوام الناس اور بالخصوس حلقۂ خواص میں بے حد پسند کی جاتی ہیں۔