سرمایہ جاں ہیں شہ ابرار کی باتیں ۔ بشیر منذر

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 09:11، 22 ستمبر 2017ء از تیمورصدیقی (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (نیا صفحہ: {{بسم اللہ}} شاعر: بشیر منذر ==== {{نعت}} ==== سرمایہ جاں ہیں شہِ ابرار کی باتیں کس درجہ سکوں دیتی ہیں...)

(فرق) → پرانا نسخہ | Approved revision (فرق) | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search


شاعر: بشیر منذر

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

سرمایہ جاں ہیں شہِ ابرار کی باتیں

کس درجہ سکوں دیتی ہیں سرکار کی باتیں


کرتے ہیں کرم سب پہ کہ عادت ہے یہ ان کی

سنتے ہیں وفا دار وخطا کار کی باتیں


ہاں! کیسے ہیں وہ کوچہ وبازار وگلیاں

کچھ اور کرو شہرِ پُر انوار کی باتیں


ہاں! کیسے برستا ہے وہاں نور کا بادل

کچھ اور کرو گنبدِ ضوبار کی باتیں


ہاں! کیسے غبارِ دل وجاں دُھلتا ہے زائر

کچھ اور کرو ابر گُہر بار کی باتیں


ہاں! کیسے وہاں چلتی ہیں تھم تھم کے ہوائیں

کچھ اور مچلتی ہوئی مہکار کی باتیں


جی چاہے کہ ہرآن سنوں ذکرِ پیمبرﷺ

ہوتی رہیں کونین کے سردار کی باتیں