اندھیرے چھٹ گئے موسم خزاؤں کا نہ رہا
نعت کائنات سے
شاعر: معین شاداب
بشکریہ:عالم نظامی
اندھیرے چھٹ گئے موسم خزاؤں کا نہ رہا
حضور آئے تو پھر کوئی مسئلہ نہ رہا
کھلا وہ راستہ غار حرا سے تا بہ فلک
کہ گمرہی کا مسافر سے رابطہ نہ رہا
یہ سن کے علم کا سورج چمکنے والا ہے
جہالتوں کے اندھیروں میں حوصلہ نہ رہا
نبی کے ذکر کا دل میں خیال آیا تھا
پھر اس کے بعد مرے درد کا پتہ نہ رہا