موسمِ گل ہو کوہِ صحرا ہو

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 10:38، 14 جولائی 2024ء از 106.216.252.45 (تبادلۂ خیال) («شاعر: مشاہد رضوی ==={{نعت }}=== موسمِ گل ہو کوہِ صحرا ہو ہر نَفَس مصطفیٰ کا چرچا ہو دور دنیا کے غم سے ہوجاؤں ان کی الفت کا دل پہ پہرا ہو رب نے اپنا کیا جنھیں نائب کیوں نہ ہر شَے پہ ان کا قبضہ ہو جگمگا اٹّھوں میں دُرودوں سے راستہ زندگی کا نکھرا ہ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search

شاعر: مشاہد رضوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

موسمِ گل ہو کوہِ صحرا ہو

ہر نَفَس مصطفیٰ کا چرچا ہو

دور دنیا کے غم سے ہوجاؤں

ان کی الفت کا دل پہ پہرا ہو

رب نے اپنا کیا جنھیں نائب

کیوں نہ ہر شَے پہ ان کا قبضہ ہو

جگمگا اٹّھوں میں دُرودوں سے

راستہ زندگی کا نکھرا ہو

گر چلیں سنتِ پیمبر پر

سارا عالم ہمارا شیدا ہو

میری قسمت کو یوں ملے معراج

وقتِ آخر ہو ان کا روضہ ہو

ہے تیقن سے منسلک آمد

کیوں نہ پھر قبر میں اجالا ہو

خاورِ حشر سے ملے راحت

زلفِ والا کا سر پہ سایہ ہو

وقتِ آخر ہو جب مشاہدؔ کا

لب پہ نعتِ نبی کا نغمہ ہو

۲۲؍ رمضان المبارک 1443ھ /24 ؍اپریل 2022ء بروز اتوار

٭٭٭


پچھلا کلام

دل سے جو محوِ نعتِ سرور تھا


اگلا کلام

جدھر بھی دیکھیے خیرالوریٰ کا چرچا ہے