لاکھوں درود، کروڑوں سلام
لاکھوں درود، کروڑوں سلام
مضمون نگار: سہیل احمد صمیم
زاہد اقبال بھیل کی نعتیہ کتاب" لاکھوں درود، کروڑوں سلام " ردیف کی وحدت اور عشقِ رسالتِ مآب ﷺ کی تسبیح۔
نعت میں عقیدت و محبت اور ادب کے توازن کا سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔ ذرا سی کوتاہی یا لغزش، فنی کمزوری نہیں بلکہ اعتقادی بے احتیاطی سمجھی جا سکتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شاعر پوری نعتیہ کتاب کو ایک ہی ردیف "لاکھوں درود، کروڑوں سلام" میں باندھنے کا فیصلہ کرے تو یہ محض فنی تجربہ نہیں بلکہ ایک تخلیقی جرات بن جاتی ہے۔ زیرِ نظر مجموعہ اسی جرات و ہمت کا ثبوت ہے۔ عموماََ ردیف اور قافیہ میں تنوع رکھا جاتا ہے تاکہ معنوی تازگی برقرار رہے۔ مگر اس کتاب میں شاعر نے مسلسل ایک ہی ردیف کے ذریعے نعت کو اجتماعی درود کی صورت دے دی ہے۔ یہ طرزِ احساس و اظہار ہمیں اس نعتیہ روایت سے جوڑتا ہے جہاں شعر فرد کی داخلی کیفیات سے نکل کر اجتماعی عقیدت کی فضا قائم کرتا ہے۔ کتاب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہی ہے کہ ردیف محض ایک فنی جزو نہیں بلکہ پورے مجموعے کی روح دکھائی دیتا ہے۔ ہر شعر میں ردیف کا لوٹ آنا اک خاص احساس و یقیں کو جنم دیتا ہے کہ جیسے ہر مصرع ایک موتی ہے۔ ہر موتی اپنے اندر ایک معنیٰ رکھتا ہے، اور ہر معنیٰ ایک چھوٹا سا جہاں، ایک روشنی کا قطرہ، جو نبی پاک ﷺ کی محبت کے بحر میں غرق ہے۔ یوں یہ تسبیح محض موتیوں کا سلسلہ نہیں، بلکہ ایک گونجتی ہوئی دعائیہ ہوا، ہر مصرع میں عشقِ نبی ﷺ کا نغمہ اور ہر لفظ میں روحانی روشنی کی موج۔ بلاشبہ پوری کتاب ایک روحانی سفر ہے جو دل کو عشقِ نبی ﷺ کی روشنی میں منور کرتا ہے۔ عموماََ تکرارِ ردیف کی بدولت ایک خطرہ بھی ہوتا کہ اشعار نعرہ بن جاتے ہیں مگر یہاں شاعر نے ردیف کی تکرار کو نعرہ نہیں بننے دیا۔ ہر شعر میں نیا حوالہ، نئی نسبت اور نیا معنوی زاویہ پیش کیا ہے۔ کہیں آدمؑ سے قیامت تک کی کائناتی نسبت ملتی ہے۔ کہیں اہلِ بیتؑ اور صحابہؓ کی محبت کا بیان ہے۔ کہیں قرآن، نور، شفاعت اور رحمت جیسے موضوعات کو یوں سلیقے سے نبھایا گیا ہے کہ "ردیف ایک ہی" رہتے ہوئے معنوی دائرہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔
جمالِ رسالت پہ لاکھوں درود، کروڑوں سلام کمالِ بصارت پہ لاکھوں درود، کروڑوں سلام ۔۔۔۔ رہبرِ صراطِ مستقیم پہ لاکھوں درود، کروڑوں سلام صاحبِ کمالات و نعیم پہ لاکھوں درود، کروڑوں سلام
زبان کے اعتبار سے یہ نعتیہ مجموعہ سادہ مگر باوقار اسلوب رکھتا ہے۔ الفاظ میں ثقالت نہیں، مگر وقار موجود ہے۔ شاعر نے صفاتی تراکیب میں عربی–فارسی روایت کے ساتھ ساتھ اردو کی صوتی نرمی کو برقرار رکھا ہے۔ "لسانِ صداقت" اور "نشانِ شجاعت" جیسے مرکبات کلاسیکی وقار رکھتے ہیں، جبکہ ردیف کی عوامی مانوسیت نظم کو ترسیل اور قبولِ عام کے درجے تک لے آتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں فن اور عقیدت ایک دوسرے کو دبانے کے بجائے سہارا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اشعار میں خطیبانہ جوش کے باوجود نعتیہ ادب کی نزاکت قائم رہتی ہے۔ یہ اسلوب مجالسِ نعت، محافلِ میلاد اور اجتماعی درود کی فضا کے لیے نہایت موزوں ہے۔ قاری یا سامع ان اشعار کو پڑھتے یا سنتے ہوئے خود کو اس تکراری ردیف کا حصہ محسوس کرتا ہے، گویا وہ بھی اس درود میں شامل ہو گیا ہو۔ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ایک ہی ردیف پر پوری کتاب لکھنا آسان نہیں۔ یہاں سب سے بڑا خطرہ معنوی یکسانیت کا ہوتا ہے۔ تاہم زیرِ نظر مجموعے میں شاعر نے اس خطرے کو بڑی حد تک مختلف موضوعات، مختلف نسبتوں اور متنوع بیانیہ کے ذریعے کم کیا ہے۔ اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں نعت فرد کی ذاتی واردات کے بجائے اجتماعی شعور کی نمائندہ بن کر سامنے آتی ہے۔ شاعر اپنی ذات کو پیچھے رکھ کر امت، تاریخ اور روایت کو آگے لاتا ہے۔ زیرِ نظر نعتیہ مجموعہ اردو نعت میں ایک منفرد تجربہ ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ نعت میں فنی اور نیا تجربہ ممکن ہے، بشرطیکہ وہ ادب، احترام اور فکری دیانت کے دائرے میں ہو۔ شاعر نے ایک ہی ردیف کو بنیاد بنا کر نعت کو درود، سلام اور عقیدت کی اجتماعی صورت دے دی ہے۔ یہ مجموعہ اس لحاظ سے قابلِ توجہ ہے کہ یہ نعت کو محض اظہارِ محبت نہیں بلکہ مسلسل عبادت بنا دیتا ہے۔ یہی اس کتاب کی اصل کامیابی ہے اور یہی اس کی ادبی شناخت۔ مجموعی طور پر مذکورہ نعتیہ مجموعہ اس اعتبار سے منفرد ہے کہ یہاں "ردیف کی وحدت" کو محض ایک فنی کرتب کے طور پر نہیں برتا گیا بلکہ اسے پورے متن کی روح بنا دیا گیا ہے۔ "لاکھوں درود، کروڑوں سلام" کی مسلسل تکرار قاری کو ایک ایسی صوتی اور جذباتی فضا میں داخل کر دیتی ہے۔ جہاں ہر شعر ایک نئے زاویے سے پیارے رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کے کسی نہ کسی پہلو کو منکشف کرتا ہے۔ یہ کتاب جدید نعتیہ ادب میں ردیف کے امکانات، صوتی تکرار کی قوت اور معنوی تنوع کے حوالے سے ایک قابلِ توجہ اضافہ ہے۔ بلاشبہ شائقینِ نعت اور سنجیدہ قارئین دونوں کے لیے مطالعے کا حق ادا کرتی ہے۔
مزید دیکھیے
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||
