نعت اور لغات
مختلف معتبر لغات میں نعت کے معنی اس طرح پیش کیے گئے ہیں ۔
معجم العربیہ
معجم العربیہ : نعت ینعت نعتاوانتعت کسی چیز کو بیا ن کرنا یا اس کے اوصاف بیا ن کرنا (خصوصاً)تعریف میں، سراہنا ،تعریف کرنا،خوبیاں بیان کرنا،صرف و نحو میں صفت کو موصوف کے ساتھ ملانا۔
نعت : صفت ،وصف ،جوہر ،ہنر ،تعریف
نعت(ج) نعوت ،اسم صفت ،وصف ،صفت، خاصیت،گُن
نُعتَہُ: بہت خوبصورت ،حسن
منعوت : وہ اسم جس کے ساتھ صفت بیان کی گئی ہو۔ موصوف (صرف ونحو) [1]
مصباح الغات
نعتہ (ف) نعتاً: تعریف کرنا ،بیان کرنا(اور اکثر اس کا استعمال صفات حسنہ کے لیے ہوتاہے)۔[2]
غیاث الغیاث
نعت (ء) :نعت بالفتح تعریف و توصیف کردن از منتخب اگرچہ نعت بمعنی مطلق صفت است لیکن اکثر استعما ل ایں لفظ ستایش و ثناے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آمدہ است ،بمعنیٰ صیغۂ اسمِ فاعل و اسمِ مفعول و صیغۂ صفتِ مشبہ نیز می آید۔ [3]
فرہنگ آصفیہ
صفت و ثنا ،تعریف و توصیف ،مدح ،ثنا، مجازاًخاص حضرت سید المرسلین رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ وسلم کی توصیف۔ [4]
لغات فارسی
نعت (ء) تعریف ،صفت ،ستایش، تعریف کرنا، خاص کر رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعریف و توصیف کو نعت کہتے ہیں ۔ [5]
لغات کشوری
نعت(ء) :تعریف ،صفت،تعریف کرنا خاص کر رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وسلم)کی /[6]
نور اللغات
نعت (ء : بالفتح ):یہ لفظ بمعنی مطلق وصف ہے لیکن اس کا استعمال آں حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم)کی ستایش وثناکے لیے مخصوص ہے ۔ [7]
مزید دیکھیے
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659 |
حواشی و حوالہ جات
- ↑ ولیم ٹامسن ورٹے :معجم العربیہ ،مولی رام منیجر مفید عام پریس ،چٹر جی روڈ ،لاہور ، ص1121/1122
- ↑ عبد الحفیظ بلیاوی،مولوی:مصباح اللغات ، ایچ ایم سعید اینڈ کمپنی لاہور ،ص887
- ↑ غیاث الدین:غیاث اللغات،رزاق پریس ،کان پور 1332ھ
- ↑ خانصاحب سید احمد دہلوی، مولوی : فرہنگ آصفیہ ،نیشنل اکاڈمی دہلی،1974ء ج4،ص579
- ↑ لغاتِ فارسی : پبلشر لالہ رام نرائن لال بینی مادھو ،الٰہ آباد،1931ء،ص 904
- ↑ لغات کشوری :مولوی تصدق حسین رضوی ،دارلاشاعت کراچی ،ص537
- ↑ نوراللغات : مولوی نورالحسن نیّرؔ کاکوروی ،قومی کونسل براے فروغِ اردو زبان ،نئی دہلی،1998ء،ص 833
