مندرجات کا رخ کریں

ہندکو مثنوی "مدینے دی ہجرت" ایک اجمالی جائزہ

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
ہندکو مثنوی "مدینے دی ہجرت" ایک اجمالی جائزہ
ہندکو مثنوی "مدینے دی ہجرت" ایک اجمالی جائزہ
مصنف سہیل احمد صمیم
موضوع کتاب پر تبصرہ

ہندکو مثنوی "مدینے دی ہجرت" ایک اجمالی جائزہ

مصنف: سہیل احمد صمیم

موضوع: کتاب پر تبصرہ

ہندکو مثنوی "مدینے دی ہجرت" ایک اجمالی جائزہ

تاریخ کے بڑے واقعات اپنی جگہ ہمیشہ بڑے ہوتے ہیں مگر جب کوئی بڑا تاریخی واقعہ کسی قوم کی اپنی زبان میںبیان ہوتا ہے تو اس کی معنوی دنیا میں نئے دروازے کھل جاتے ہیں۔ یعنی اصل واقعہ وہی رہتا ہے، کردار و افعال بھی وہی ہوتے ہیں اور زمانہ بھی وہی رہتا ہے مگر واقعے کو دیکھنے والی آنکھ بدل جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ محض تاریخ نہیں رہتی بلکہ ثقافتی حافظہ بن جاتی ہے۔جناب قاضی ناصر بختیار صاحب کی ہندکو مثنوی "مدینے دی ہجرت" کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔یہ مثنوی ("مدینے دی ہجرت" ) بحرِ متقارب مثمن محذوف یا مقصور کے وزن میں لکھی گئی ہے۔ جس کے ارکان فعولن فعولن فعولن فعل یا فعول ہیں۔ حروف کی تعداد اٹھارہ یا انیس تک ہوتی ہے۔ یہ وہی بحر ہے جس میں فردوسی کا شاہنامہ اور دیگر کئی مشہور رزمیہ و نعتیہ مثنویاں لکھی گئی ہیں۔ اس کی روانی اور سادگی اشعار کے لیے خاص طور پر موزوں بناتی ہے۔ اشعار پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ قاضی ناصر بختیار نے بحر کو نہایت خوبی اور مہارت کے ساتھ نبھایا ہے۔ ابتدائی بند سے لے کر آخر تک ارکان کی پابندی بڑی روانی کے ساتھ برقرار رکھی گئی ہے۔ حالانکہ ہندکو زبان کے مخصوص الفاظ اور تلفظ کو اسی بحر میں سمونا اور وہ بھی ایک خاص واقعے کے تناظر میں خاص ناموں کے ساتھ کوئی آسان کام نہیں۔قاضی ناصر بختیار نے طویل بیانیہ کے باوجود کہیں بھی وزن میں لڑکھڑاہٹ پیدا نہیں ہونے دی۔ یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ انہیں بحور پر مکمل دسترس حاصل ہےاور وہ فارسی و اردو کی عروضی باریکیوں سے واقف ہیں۔ بلاشبہ ہجرتِ مدینہ تاریخِ اسلام کا ایک ایسا عظیم واقعہ ہے۔ جس کے اسباب، مراحل، کردار اور نتائج صدیوں سے کتابوں میں محفوظ ہیں۔ سیرت کی کتب میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ شعرائے کرام نے اس کے مختلف حوالوں اور نکات کو اپنے اشعار میں جگہ دی۔ چنانچہ بظاہر یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ ایک معروف اور بارہا بیان کیے جانے والے واقعے کو دوبارہ منظوم کرنے میں نیاکیا ہے؟۔ اس سوال کا جواب واقعے کے اندر نہیں زبان(ہندکو کے لہجے) کے اندر پوشیدہ ہے۔ بعد از مطالعہ میرے نزدیک "مدینے دی ہجرت" کی اصل انفرادیت یہ ہے کہ ایک عالمگیر تاریخی و روحانی واقعہ ہندکو زبان کے آئینے میں اپنا مقامی چہرہ دکھاتا ہے۔قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ میرے سامنے ہو رہا ہے۔ یہ ایک معمولی فرق نہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جب ہم کوئی واقعہ ایک اجنبی زبان میں پڑھتے ہیں تو اسے جانتے ہیں۔ لیکن وہی واقعہ جب اپنی مادری زبان میں ہمارے سامنے آتا ہے تو ہم اسے صرف جانتے نہیں بلکہ قلبی طور محسوس بھی کرتے ہیں۔ اس میں سانس لینے لگتے ہیں۔ وہ ہمارے دل ودماغ پر ثبت ہو جاتا ہے۔ کیونکہ مادری زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ اس میں نسلوں کی یادداشت،ماؤں کی لوریاں، بزرگوں کی نصیحتیں،روزمرہ و محاورے اور اجتماعی تجربات محفوظ ہوتے ہیں۔ اس لیے جب ہجرت کا واقعہ ہندکو میںبیان ہوتا ہے تو قاری صرف مکہ سے مدینہ کی طرف ہونے والی ایک تاریخی ہجرت نہیں پڑھتا بلکہ وہ اپنے ہی لسانی اور تہذیبی شعور کے اندر اس سفر کی ایک نئیصورت دریافت کرتا ہے۔یہی لوکیل اس مثنوی کی اہم ادبی خصوصیت بن جاتا ہے۔ چند اشعار

"شروع نام اللہ دے رحمٰن دے- رحیم اُس خدا سب دے سلطان دے

نکھند آں میں کہتر گنہگار وی توں ایں نیچھ بہتر تو غفار وی

خدایا کرم مصطفیٰ واسطے نبیؐ جی توجہ خدا واسطے

کرم کر کریما کریما کرم کریں رحم و رحمت رحیما کرم

خدایا کرم کر خطاکار تے کروڑاں درود آخاں سرکار تے

ہووے مثنوی شاہِ لولاک دی مدینے دی ہجرت نبیؐ پاک دی"

مادری زبان کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ وہ بڑے سے بڑے واقعے کو قربِ انسانی عطا کردیتی ہے۔ ہجرت جیسے عالمی اور مقدس واقعے میں بھی ’’مدینے دی ہجرت‘‘ کے اشعار ایک ایسی مقامی فضا پیدا کرتے ہیں جس میں تاریخی کردار کتابی نام نہیں رہتے بلکہ ایک زندہ داستان کے انسان بن جاتے ہیں۔ ابو سلمہؓ کے واقعے کو دیکھیے:

"مثال اے ابو سلمہ دا واقعہ اُناں نال ٹبر وی سب ٹُر پیا

ابو سلمہ ناں دے صحابی ایہے او پہلے وی حبشہ دے پاسے گئے

تے مخزوم والے پریشان ایہ ابو سلمہ ہونڑ جے مسلمان ایہ

قبیلہ اوہ مخزوم ظالم بڑا بڑا ظلم کردا رہوے دل سڑا"

یہاں ’’ٹبر‘‘ جیسے الفاظ تاریخی واقعے کو صرف فرد کی ہجرت نہیں رہنے دیتے۔ خاندان، گھر اور رشتوں کی پوری دنیا اس کے اندر داخل ہوجاتی ہے۔ یہی مزاج اسےرسمی ترجمے میں شاید اتنی شدت سے سامنے نہ آئے۔محسوس ہوتا ہے جیسے مکہ اور مدینہ کے راستے صدیوں کا فاصلہ طے کرکے ہمارے اپنے خطے کے کسیراستے سے جڑ گئے ہوں۔یہاں تاریخ اور لوکیل ایکدوسرے سے ملتے ہیں۔اور یہی ملاقات اس مثنوی کو محض ایک منظوم سیرت نگاری سے آگے لے جاتی ہے۔مادری زبان میں بیان ہونے والی بات دل تک پہنچنے کے لیے کم فاصلے کا سفر کرتی ہے۔ ایک بچہ اپنی ماں سے جس زبان میں محبت سنتا ہےاُسی زبان میں جب رسولِ اکرم ﷺ کی ہجرت کا واقعہ بیان ہوتا ہے تو تاریخیواقعہ ایک خاص جذباتی قرب حاصل کرلیتا ہے۔قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کسی دور کی کتاب میں بند نہیں بلکہ اس کے اپنے تہذیبی گھر کے اندر سانس لے رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہجرتِ مدینہ ہندکو میں بیان ہونے کی وجہ سے اپنی اصل کتابی تفصیل سے زیادہ اثر انگیز محسوس ہوتا ہے۔حضرت علیؓ کے حوالے سے یہ اشعار دیکھیں اور لوکیل کے تناظر میں لطف لیں۔

"تو سُنڑ یار پیارے نگینے علیؓ میں اج راتی جُلساں مدینے علیؓ

تے منجے تے شیرِ خدا سیہ گئے تراڑاں تے جنجو تے سنیہہ بہہ گئے"

یہاں ’’منجے‘‘ جیسے مقامی لفظ کی موجودگی ایک غیر معمولی ادبی کام کرتی ہے۔ مکہ کی وہ تاریخی رات جو صدیوں دور ہے اچانک ہندکو کے گھر، چارپائی اور روزمرہ کی دنیا میں داخل ہوجاتی ہے۔یہی وہ تبدیلی ہے جسے محض ’’ترجمہ‘‘ کہنا اس مثنوی کی معنوی وسعت کو کم کردینا ہوگا۔ہجرت مکہ میں ہوئی تھی، مگر اس کا ایک نیا ادبی منظر ہندکو کے گھر میں پیدا ہوگیا۔یوں یہ مثنوی ایک طرف ہجرتِ مدینہ کی یاد کو محفوظ کرتی ہے اور دوسری طرف ہندکو زبان کی ادبی استعداد کو بھی نمایاں کرتے ہوئے دو یادداشتیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ یونی ایک اسلامی تاریخ کی یادداشت اوردوسری ہندکو تہذیب کی یادداشت۔ علاقائی زبان کی سب سے بڑی طاقت اس کے مقامیاستعاروں اور علامتوں میں ہوتی ہے۔جب ایک شاعر کسی عظیم واقعے کو اپنی زمین کے استعاروں سے دیکھتا ہے تو وہ دراصل اس واقعے کو محدود نہیں کرتا بلکہ اپنے قاری کے لیے اس کی تفہیم کے نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔مدینے دی ہجرت میں قاضی ناصر بختیار خان نے اس حوالے سے شاندار کام کیا ہے۔ اس لیے "مدینے دی ہجرت" کو صرف ایک مذہبی مثنوی کے طور پر پڑھنا شاید اس کے ادبی امکانات کو محدود کردینا ہوگا۔ اسے مقامی زبان، لوکیل و ثقافت اور روحانیت کے باہمی امتزاج کے طور پر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ امِّ معبد کے واقعے کے یہ اشعار بھی اس حوالے سے بہت اہم ہیں:

"حضورؐ اونڑاں فرمایا سُدھ کہڈ کہناں اجازت ہووے اس دا دُدھ کہڈ کہناں

اوہ بولی اے بکری ددھاری تے نینھ ایہہ کھانگڑ جی بکری لیاری تے نینھ"

یہاں بکری، دودھ اور کھانگڑ جیسے الفاظ ، استعارہ یہ ایک پورے دیہی اور گھریلو تہذیبی منظر کو ساتھ لے کر آتے ہیں۔ اس طرح نبی پاک کا حلیہ مبارک جو امِ معبد نے بیان کیا وہ بھی ہندکو لہجے میں ایک الگ حسن پیدا کرتا ہے۔ اشعار دیکھیں

"دراڈوں جے دیکھو تے تن سوہنڑاں ایں جے نیڑے جلو مٹھا چن سوہنڑاں ایں

نہ چالا نہ ٹھمڑراں، برابر جا قد تے مونہہ متھا کھلا او سوہنڑیں بےجد

بڑی اکھ دی گنی تے صاحب جمال اچت گاٹا لمبا تے کالے نیں بال

او پرمٹہے پتلے تے پیڑیل وی او معبد دے ابا بونہہ سوہنڑیں نیں جی

او پہلے ہی ہر لفظ آں تولدن برابر جے لفظاں دے پچ بولدن

زبان اس دی مٹھی تے خوسوہنڑیں ایں غلاماں اُتے پیرز سوہنڑیں ایں

وقاراں دا پہریا دا چپ چاپ اے پیا حسن بولے، تے چپ آپ اے"

یہاں حلیۂ مبارک کی منظرکشی میں ’’مٹھا چن‘‘، ’’متھا کھلا‘، ’’پر مٹہے ‘‘ "خو" اور پیڑیل جیسے مقامی جمالیاتی استعارے ہندکو کے تہذیبی ذوق کو نمایاں کرتے ہیں۔ یوں ایک مقدس اور آفاقی حسن، ہندکو کے اپنے مانوس استعاروں اور مقامی جمالیاتی حس میں ڈھل کر ایک نئی شعری کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔سراقہ کے تعاقب کا منظر اس کی ایک مثال ہے:

"سوار آیا کہوڑی آں چہنگ کیتا دا اُڈردا ہواوں دے سنگ کیتا دا

کسے آخیا او سراقہ آیئے او مالک دا پُتر لڑاکا آیئے

ایہہ سردار حشم دا وے پوترا بہادر لڑائی دا وے کوہترا"

یہاں گھوڑے کی رفتار، ہوا کے ساتھ اڑنے کا تصور اور سراقہ کی شناخت سب مل کر ایک متحرک منظر تشکیل دیتے ہیں۔اس کتاب کی اہمیت اس بات میں نہیں کہ اس نے ہجرت کے ایک معروف واقعے کو دوبارہ بیان کردیا ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ اس نے ایک عظیم اسلامی تاریخی واقعے کو ایک ایسی زبان میں جگہ دی ہے جو اپنے بولنے والوں کے لیے صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ احساس وشناخت اور تہذیبی حافظہ ہے۔یہ کتاب ہمیں یہ بھی یاددلاتی ہے کہ کسی واقعے کو اپنی زبان میں بیان کرنا محض لسانی سرگرمی نہیں یہ ثقافتی خود اعتمادی کا اظہار بھی ہے۔جب ایک علاقائی زبان اپنے دامن میں سیرتِ رسول ﷺ جیسے عظیم موضوع کو سمیٹتیہے تو دراصل وہ اپنی ادبی وسعت کا اعلان کرتی ہے۔اورشاید اسی لیے "مدینے دی ہجرت" کو پڑھتے ہوئے سب سے اہم سوال صرف یہ ہی نہیں ہونا چاہیے کہ اس میں ہجرت کے بارے میں کیا نیا بیان ہوا ہے؟ بلکہ سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ ہجرتِ مدینہ جب ہندکو میں آئی تو اس نے ہمارے دیکھنے محسوس کرنے اور سمجھنے کے انداز میں کیا نیا پیدا کیا؟میرے نزدیک اس سوال کا جواب ہی اس مثنوی کی اصل ادبی معنویت تک لے جاتا ہے۔کیونکہ تاریخ کتابوں میں محفوظ رہ سکتی ہے، مگر تہذیب زبان میں زندہ رہتی ہے۔ جب تاریخ کسی قوم کی مادری زبان میں اترتی ہے تو وہ صرف پڑھی نہیں جاتی وہ گھر کی آواز بن جاتی ہے۔"مدینے دی ہجرت" اسی گھر کی آواز میں سنائی دینےوالی ایک عظیم تاریخی داستان ہے۔ایسی داستان جس میں مدینہ کا سفر صرف ایک تاریخی راستہ نہیں رہتابلکہ ہندکو کے لفظوں، محاوروں، علامتوں اور احساس سے گزرتا ہوا قاری کے اپنے دل تک پہنچنے والا راستہ بن جاتا ہے۔

مزید دیکھیے

نئے صفحات

حواشی و حوالہ جات