تبادلۂ خیال:دنیا نہیں دیتی تو نہ دے ساتھ ہمارا ۔ حبیب جالب

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

دنیا نہیں دیتی تو نہ دے ساتھ ہمارا

ہم کو بہت شاہِ عرب تیرا سہارا


ہر چیز بدل جائے ترا پا کے اشارہ

کیا گردشِ افلاک ہے، کیا وقت کا دھارا


ہر سمت تھا پھیلا ہوا، طوفانِ تباہی

انسان کی کشتی کو ملا، تجھ سے کنارہ


پھر آپ کی جانب ہیں زمانے کی نگاہیں

پھر ایک نظر حاصل کونین خدارا


جالب کو یقیں ہے کہ تری چشمِ کرم سے

چمکے گا غریبوں کے مقدر کا ستارا Tashree