منیبہ شیخ

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Muneeba Sheikh.jpg

منیبہ شیخ کے والد کا تعلق دہلی سے تھا جبکہ ان کی والدہ صغریٰ بیگم درس و تدریس کے شعبے سے منسلک تھیں۔منیبہ شیخ نے فارسی ،ْ اسلامی تاریخ ،ْانڈین اسٹڈیز میں ایم اے کیا جبکہ استاد امراؤ بندو خان سے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور استاد امیر احمد خان کی شاگردی بھی اختیار کی۔ریڈیو سے پہلی نعت مرحبا سیّدی مکّی مدنی العربی پڑھی، اس کے بعد ریڈیو کے پروگرام پلیٹ فارم کی پانچ سال تک کمپیئرنگ بھی کی۔معروف نعت خواں کو 1979ء میں حج کا موقع نصیب ہوا۔حکومت پاکستان کی جانب سے منیبہ شیخ کی ان خدمات کے پیش نظر 14 اگست 1988ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔

منبیہ شیخ کی فنی تربیت[ترمیم]

معروف نعت گو شاعر اور کالم نگار یونس ہمدم اپنی ایک یاداشت [1] میں لکھتے ہیں

منیبہ شیخ جتنی سریلی ہے ایسے سر تو کسی بڑی سے بڑی گلوکارہ کو بھی مشکل سے نصیب ہوتے ہیں۔ منیبہ شیخ اگر چاہتی تو ایک کامیاب گلوکارہ بھی بن سکتی تھی مگر اپنے گھر کے مذہبی ماحول کی وجہ سے اس نے کبھی ایسا سوچنے کا تصور ہی نہیں کیا۔ ہاں البتہ اس نے اپنے شوق کی خاطر موسیقی کی تھوڑی بہت تعلیم مشہور کلاسیکل سنگر استاد امراؤ بندو خان سے حاصل کی تھی اور یہ استاد امیر احمد خان کی بھی شاگر د رہی ہے۔ منیبہ شیخ سے ہم نے کئی بار یونیورسٹی کے زمانے میں یونیورسٹی کے سبزہ زار پر بیٹھ کر فلمی گانے بھی سنے ہیں۔ منیبہ شیخ استاد امراؤ بندو خان کے گھر ہر ماہ کے آخری ہفتے کی شام منعقد ہونے والی محفل موسیقی میں بھی شرکت کیا کرتی تھی۔ استاد امیر خان اکثر منیبہ شیخ سے یہ کہا کرتا تھا منیبہ! اگر تم گلوکاری کے شعبے میں آ جاؤ تو تم بڑی بڑی فلمی گلوکاراؤں کو دھول چٹا دو گی۔ تو وہ امیر خان سے ہنس کر کہتی تھی، بس بس رہنے دیں خان صاحب! میں نعت خواں ہی بھلی۔

وفات[ترمیم]

آپ 14 مئی 2017 کو انتقال فرما گئیں ۔

اولاد[ترمیم]

آپ کی بیٹی تحریم شیخ بھی ایک نعت خواں ہیں

بیرونی روابط[ترمیم]

معروف نعت خواں منیبہ شیخ چل بسیں ۔ سما ٹی وی

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. نعت خواں بھی سریلے ہوتے ہیں ۔ یونس ہمدم