"بلال رشید کی حمدیہ و نعتیہ شاعری" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(کلام)
 
(2 صارفین 14 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 5: سطر 5:
==== سننے والا ہے جو دعاوں کا ====
==== سننے والا ہے جو دعاوں کا ====


حمد
{{حمد}}
 
 


سننے والا ہے جو دعاؤں کا  
سننے والا ہے جو دعاؤں کا  
سطر 38: سطر 40:


مجھ سے عاجز کی التجاوں کا
مجھ سے عاجز کی التجاوں کا
حمد
 
حمد کیا ہے ؟ مودت ہے اللہ سے
==== مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے ====
اس قصیدے کی نسبت ہے اللہ سے
{{حمد }}
بزم ہستی میں موجود ہر چیز سے
 
مجھ کو بڑھ کر محبت ہے اللہ سے
 
نو بہ نوجو میں کہتا ہوں حمد خدا
 
یہ ملی مجھ کو دولت ہے اللہ سے
مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے
مجھ کو نعت پیمبر کی صورت میں خآص
 
حمد کی ملتی اجرت ہے اللہ سے
حمد سے منسوب میرا نام ہے
دیں کی خآطر ٹرپتے ہیں جو آج ہم
 
در حقیقت یہ الفت ہے اللہ سے
 
لطف کیوں بندگی میں نہ آئے ہمیں
جو صفات کبریا دے غیر کو
منسلک ہر عبادت ہے اللہ سے
 
کون ہے اس شرف میں نبی کا شریک
ایسے انساں کا برا انجام ہے
ان کو حآصل جو قربت ہے اللہ سے
 
ہے علی منفرد وہ امام اے بلال
 
جس نے پائی امامت ہے اللہ سے
جس کا ہے توحید خالص پر یقیں
 
بس وہی تو صاحب اکرام ہے
 
 
شرک کی تعلیم دے منبر پہ جو
 
اپنے ہاں وہ داخل دشنام ہے
 
 
کیوں نہ عظمت دل میں ہو توحید کی
 
جب پیا میں نے غدیری جام ہے
 
 
نعت کہنا اور لکھنا حمد حق
 
اپنا تو معمول کا یہ کام ہے
 
 
میں نہیں کرتا رعایت ان کے ساتھ
 
مشرکوں کا مجھ پہ یہ الزام ہے
 
 
جن کو بھی چھبتے مرے اشعار ہیں
 
نام میرا ان کے ہاں بدنام ہے
 
 
سلطنت میں اہل ایماں کی بلال
 
ذکر اس کا ہی تو صبح و شام ہے


====رحمت عالم محمد مصطفی ====
====رحمت عالم محمد مصطفی ====
سطر 100: سطر 134:
لیتا ہے ہر دم محمد مصطفی
لیتا ہے ہر دم محمد مصطفی


=== مزید دیکھیے =
=== مزید دیکھیے ===
حمد
 
نوائے قلب ونظر لا الہ الا ھو
ہے معرفت کی خبر لا الہ الا ھو
اسی کا ورد ازل تا ابد رہے گا سدا
اگر نہ اس میں مگر لا الہ الا ھو
بروز حشر جو رب کا جلال دیکھیں گے
کہین گے نوع بشر لا الہ الا ھو
اسی کے حکم سے روشن ہیں کہکشاہیں تمام
ہے نور شمس و قمر لا الہ الا ھو
اسی کی شمع کرے گا جہاں میں پھر روشن
وہ عسکری کا پسر لا الہ الا ھو
اسی کے فیض سے محشر میں اہل عصیاں پر
کھلے گا فضل کا در لا الہ الا ھو
اسی کے ورد سے زندہ ہوں میں بلال حزیں
ہے میرا شوق سفر لا الہ الا ھو==


[[بلال رشید ]]
[[بلال رشید ]]

حالیہ نسخہ بمطابق 22:41، 31 اگست 2017ء


بلال رشید کی حمدیہ و نعتیہ شاعری[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

سننے والا ہے جو دعاوں کا[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

حمدِ باری تعالی جل جلالہ


سننے والا ہے جو دعاؤں کا

دھوپ میں مہتمم ہے چھاؤں کا

سب عبادات ہیں اسی کے لیے؎

مدعا ہے وہی ثناؤں کا

انتظام اس کے پاس ہے سارا

بارشوں بادلوں ہواؤں کا

ہو کے واقف بھی سارے عیبوں سے

پردہ رکھتا ہے سب خطاؤں کا

اس کی عظمت وہ کیا سمھ پائے

جو ہو بندہ کئی خداؤں کا

سلسلہ اس سے جا کے ملتا ہے

ابتداؤں کا انتہاؤں کا

کون اس کے سوا سہارا ہے

ساری دینا کے بے نواوں کا

علم ہے اے بلال اس کو سب

مجھ سے عاجز کی التجاوں کا

مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

حمدِ باری تعالی جل جلالہ


مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے

حمد سے منسوب میرا نام ہے


جو صفات کبریا دے غیر کو

ایسے انساں کا برا انجام ہے


جس کا ہے توحید خالص پر یقیں

بس وہی تو صاحب اکرام ہے


شرک کی تعلیم دے منبر پہ جو

اپنے ہاں وہ داخل دشنام ہے


کیوں نہ عظمت دل میں ہو توحید کی

جب پیا میں نے غدیری جام ہے


نعت کہنا اور لکھنا حمد حق

اپنا تو معمول کا یہ کام ہے


میں نہیں کرتا رعایت ان کے ساتھ

مشرکوں کا مجھ پہ یہ الزام ہے


جن کو بھی چھبتے مرے اشعار ہیں

نام میرا ان کے ہاں بدنام ہے


سلطنت میں اہل ایماں کی بلال

ذکر اس کا ہی تو صبح و شام ہے

رحمت عالم محمد مصطفی[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

رحمت عالم محمد مصطفی

نازش آدم محمد مصطفی

سب سے اونچا ہوگا روز حشر بھی

آپ کا پرچم محمد مصطفی

یاد طیبہ میں یہ آنکھیں آج بھی

ہوتیں ہیں پرنم محمد مصطفی

آپ کی نعتیں سنانے کے سبب

مٹ گئے سب غم محمد مصطفی

تا قیامت اب بھرینگے اہل دیں

آپ کا ہی دم محمد مصطفی

تھے شب اسری میں خالق کے فقط

آپ ہی محرم محمد مصطفی

کاش خود آکر سناؤں آپ کو

اپنے سارے غم محمد مصطفی

کاش محشر میں بنیں بحر بتول

میرے بھی ہمدم محمد مصطفی

آپ کی رحمت پہ اس نادار کو

ہے یقیں محکم محمد مصطفی

آپ کا ہی اسم عالی یہ بلال

لیتا ہے ہر دم محمد مصطفی

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

بلال رشید