"نعت کائنات" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(استغاثہ نعت)
م (اس نعت کے شاعر ایڈوکیٹ اظہار راشد قادری ہیں جو کہ اکولا مہاراشٹر الہند کے رہنے والے ہیں۔)
 
(ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 1: سطر 1:
#رجوع_مکرر [[نعت کائنات:نعت کائنات]]
نعت پاک رسول صل اللہ علیہ وسلم
یا حبیبِ خدا یا حبیبِ خدا ہم پہ نظر کرم فرما دیجیۓ
ہم گناہ گار ہیں ہم سیاہ کار ہیں نارِ دوزخ سے ہم کو بچا لیجئے


صدقہ حسنین کا غوثِ ثقلین کا حشر میں جب جان لبوں پر ہو
ہو آمنہ کے لعل، حبیبِ خدا کی جئے
جامِ کوثر ہاتھوں سے پِلا دیجیۓ پیاس آقا ہماری بُجھا دیجیۓ
بدر منیرختمِ رُسل کی ثنا کی جئے


گرمئِ حشر سے جب تڑپیں بدن وحشتِ دوزخ سے ہو آنکھیں نم
رحمت کا ہے پیام، سراپا کرم نبی
اپنے دامن کی ٹھنڈی ہوا دیجیۓ کالی کملی میں ہم کو چھپا لیجئے
اُن کے کرم کی بات ہو انکی ادا کی جئے


دل تڑپتا ہے آقا جدائی میں اب آنکھیں بھی ہیں دید کی منتظر
مکہ کی وادیوں میں جو لایا چراغِ حق
پاس اپنے ہم کو بُلا لیجئے اور جلوؤں کی بارش میں نہلا دیجیۓ
اُس روشنی کا شکر، عطائے خدا کی جئے


کاش پیشِ نظر ہو ہمارے وہ در جان ہو آقا لبوں پر جب
دیتا ہے دشمنوں کو بھی امن و امان جو
ہم کو ایسی بھیک عطا کیجئے اپنے قدموں میں تھوڑی سی جاہ دیجیۓ
آقا کریم رحمت بے انتہا  جئے


آپکا مُکھڑا ہے واضحٰی کی مِثل آپکی آنکھیں ہیں ماذاغ البصر
ہے رحمتِ الٰہی کا مظہر وجودِ پاک
ہماری مرجھائی ہوئی جانوں کو اپنی اِک مسکراہ سے جِلا دیجیۓ
رحمت ہے عالمین کی اس مجتبیٰ کی جئے


آپکے در پہ ہم کھڑے ہیں شہا اپنے خالی دامن بِچھائے ہوئے
طائف میں زخم کھا کے بھی لب پر ہیں دعاوشکر
درِزھراء سے لو لگائے ہوئے اپنی بیٹی کا صدقہ عطا کیجئے
میرے حبیبِ پاک کے صبر و رضا کی جئے


حشر کا دن ہے آقا آئے ہوئے آپکی رحمت پہ نظریں جمائے ہوئے
آدم کی ذات پاک میں روشن ہے جسکا نور
دائیں ہاتھ میں پرچہ تھما دیجیۓ ساتھ خلد میں نامٓی کو بسا دیجیۓ
اس ابتدا کی خیر ہو اس انتہا کی جئے
 
راشد! نبی کے عشق میں روشن ہو زندگی
کیا اس سے بڑھ کے اور ہو نعمت خدا کی جئے
 
راشد ہے کیا مجال جو لکھوں میں نعت پاک
صد شکر مصطفیٰ کی عنایت عطا کی جئے
 
 
شاعر: اظہار راشد قادری
آکولہ مہاراشٹر الہند
9823132714📲

حالیہ نسخہ بمطابق 17:02، 13 ستمبر 2025ء

نعت پاک رسول صل اللہ علیہ وسلم

ہو آمنہ کے لعل، حبیبِ خدا کی جئے بدر منیرختمِ رُسل کی ثنا کی جئے

رحمت کا ہے پیام، سراپا کرم نبی اُن کے کرم کی بات ہو انکی ادا کی جئے

مکہ کی وادیوں میں جو لایا چراغِ حق اُس روشنی کا شکر، عطائے خدا کی جئے

دیتا ہے دشمنوں کو بھی امن و امان جو آقا کریم رحمت بے انتہا جئے

ہے رحمتِ الٰہی کا مظہر وجودِ پاک رحمت ہے عالمین کی اس مجتبیٰ کی جئے

طائف میں زخم کھا کے بھی لب پر ہیں دعاوشکر میرے حبیبِ پاک کے صبر و رضا کی جئے

آدم کی ذات پاک میں روشن ہے جسکا نور اس ابتدا کی خیر ہو اس انتہا کی جئے

راشد! نبی کے عشق میں روشن ہو زندگی کیا اس سے بڑھ کے اور ہو نعمت خدا کی جئے

راشد ہے کیا مجال جو لکھوں میں نعت پاک صد شکر مصطفیٰ کی عنایت عطا کی جئے


شاعر: اظہار راشد قادری آکولہ مہاراشٹر الہند 9823132714📲