"تبادلۂ خیال:قصیدہ بردہ شریف" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(نیا صفحہ: أمنْ تذكر جيرانٍ بذى ســــلمٍ مزجْتَ دمعا جَرَى من مقلةٍ بـــدمِ کیا ان ہمسایوں کی یاد کی وجہ سے...)
 
(تمام مندرجات حذف)
 
سطر 1: سطر 1:
أمنْ تذكر جيرانٍ بذى ســــلمٍ


مزجْتَ دمعا جَرَى من مقلةٍ بـــدمِ
کیا ان ہمسایوں کی یاد کی وجہ سے جو ذی سلم کے مقام پر رہتے ہیں
آنکھ سے جاری آنسؤوں کو تو نے خون میں ملا دیا؟
أَمْ هبَّتِ الريحُ مِنْ تلقاءِ كاظمـــةٍ
وأَومض البرق في الظَّلْماءِ من إِضـمِ
یا کاظمہ نامی مقام کی طرف سے ہوا آئی ہے
یا اضم نامی مقام کے اندھیرے میں بجلی چمکی ہے
فما لعينيك إن قلت اكْفُفا هَمَتــا
وما لقلبك إن قلت استفق يهــــمِ
پس کیا ہوگیا ہے تمہاری آنکھوں کو کہ اگر انہیں کہوں بس کرو تو یہ اور بھی روتی ہیں۔
اور کیا ہوگیا ہے تمہارے دل کو اسے جب بھی کہوں ہوش میں آ اور بھی بے بس ہوجاتا ہے۔
أيحسب الصبُ أنّ الحب منكتـــمٌ
ما بين منسجم منه ومضْطَّــــــرمِ
کیا عاشق سمجھتا ہے کہ محبت چھپ جائے گی؟
چاہے وہ آنسؤوں کا بہنا ہو یا شعلوں کا بھڑکنا؟
لولا الهوى لم ترق دمعاً على طـللٍ
ولا أرقْتَ لذكر البانِ والعَلــــمِ
اگر محبت نہ ہوتی تو تو کسی کھنڈر پر آنسو نہ بہاتا،
نہ ہی البان اور العلم کے مقامات کی یاد میں بے خوابی کا شکار ہوتا۔

حالیہ نسخہ بمطابق 20:45، 26 جولائی 2017ء