"سانچہ:زیادہ پڑھے جانے والے صفحات" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 48: سطر 48:
|
|
{|  style="float:right; margin-left: 10px;"
{|  style="float:right; margin-left: 10px;"
| [[ملف:1.logo naat virsa 2.jpg|300px |link=نعت گوئی ]]
| [[ملف:1.logo naat virsa 2.jpg|120 px |link=نعت گوئی ]]
|}  
|}  
عت گوئی کو شاعری کا نگینہ کہا جاتاہے ۔نعت کا فن بہ ظاہر جس قدر آسان نظر آتا ہے، بباطن اسی قدر مشکل ہے ۔ناقدین ِ ادب اس کو مشکل ترین صنف ِسخن شمار کرتے ہیں کیوں کہ ایک طرف وہ ذات ِگرامی ہے ۔
نعت گوئی کو شاعری کا نگینہ کہا جاتاہے ۔نعت کا فن بہ ظاہر جس قدر آسان نظر آتا ہے، بباطن اسی قدر مشکل ہے ۔ناقدین ِ ادب اس کو مشکل ترین صنف ِسخن شمار کرتے ہیں کیوں کہ ایک طرف وہ ذات ِگرامی ہے ۔
|}
|}



نسخہ بمطابق 09:19، 12 مارچ 2018ء

حفیظ تائب ایک عہدساز نعت گو تھے ۔آپ کا اصل نام عبدالحفیظ ہے اور تائؔب تخلص فرمایا کرتے تھے۔ 14 فروری 1931 کو اپنے ننھیال پشاور چھاونی میں آپ کی ولادت ہوئی ۔ احمد نگر ضلع گوجرانوالہ آپ کا آبائی شہر ہے

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی عظیم المرتبت مفسر،جلیل القدر محدث اور بلند پایہ فقیہ تھے۔نعتیہ کلاموں کی مقبولیت کے حوالے جو پذیرائی احمد رضا خان بریلوی کی نعتوں کو ملی ہے وہ بے مثال ہے ۔


محمد علی ظہوری کے بار احمد ندیم قاسمی فرماتے ہیں کہ جب وہ نعت پڑتے تو ان سارا وجود نعت خوانی میں ڈھل جاتا ۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا کوئی اور نعت خواں نہیں دیکھا۔

ہر چند اقبال نے رسمی معنوں میں کبھی نعت نہیں کہی تاہم عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کا یہ عالم ہے کہ اُن کا تخیل بار بار انھیں اس بارگاہ میں لے جاتا ہے ۔

نعت گوئی کو شاعری کا نگینہ کہا جاتاہے ۔نعت کا فن بہ ظاہر جس قدر آسان نظر آتا ہے، بباطن اسی قدر مشکل ہے ۔ناقدین ِ ادب اس کو مشکل ترین صنف ِسخن شمار کرتے ہیں کیوں کہ ایک طرف وہ ذات ِگرامی ہے ۔


احمد فراز (4 جنوری 193125 اگست 2008) ء میں میں پیدا ہوۓ ۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا ۔ ایڈورڈ کالج ( ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لۓ فیچر لکھنے شروع کیے ۔۔