"تبادلۂ خیال:ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے" کے نسخوں کے درمیان فرق
(نیا صفحہ: {{بسم اللہ }} یہ وہ مصرع ہے جس پر رمضان المبارک 2019 کو ایک تاریخ ساز مشاعرہ ہوا ۔ اس کی تفصیلات میں ...) |
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 35: | سطر 35: | ||
کاغذ، قلم ، دوات سے نکلیں تو نعت ہو | کاغذ، قلم ، دوات سے نکلیں تو نعت ہو | ||
میں نے یہ قطعہ [[نعت ورثہ ]] میں پیش کر دیا ۔ دوستوں نے خوب سراہا لیکن مجھے اطمینان نہ ہوا ۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے یہ مصرع بہت اہم ہے ۔ مجھے خواہش ہوئی کہ کسی طرح اس مصرعے کو مطلع میں استعمال کروں ۔ اس پر غور و فکر کیا تو کچھ شکلیں تو سامنے آئیں لیکن اطمینان نہ ہوا ۔ | میں نے یہ قطعہ [[نعت ورثہ ]] میں پیش کر دیا ۔ دوستوں نے خوب سراہا لیکن مجھے اطمینان نہ ہوا ۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے یہ مصرع بہت اہم ہے ۔ مجھے خواہش ہوئی کہ کسی طرح اس مصرعے کو مطلع میں استعمال کروں ۔ اس پر غور و فکر کیا تو کچھ شکلیں تو سامنے آئیں لیکن اطمینان نہ ہوا ۔ مشاورت کے لیے [[جناب ضیا الدین نعیم]] ، [[سعود عثمانی | جناب سعود عثمانی ]] اور [[اظہر فراغ]] کو مختلف شکلیں پیش کیں۔ یہ سلسلہ دو تین دن تک چلا ۔ مجھے یاد ہے کہ [[سعود عثمانی | جناب سعود عثمانی ]] سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعود بھائی ، یہ مصرع میرے لیے بہت اہم ہے ۔ میں اس پر اچھا نہیں بہت اچھا اور اگر ممکن ہو تو ایک بڑا شعر چاہتا ہوں ۔ تفصیل طولانی ہے ۔ المختصر کہ سب سے قابل قبول مطلع یہ رہے | ||
خاور نظر اٹھا ، بڑا سامان ِ نعت ہے | |||
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے " | |||
یہ قیدِ شعر گوئی تو نقصان ِ نعت ہے | |||
" ہر شعبہ حیات میں امکان ِ نعت ہے " | |||
کیا صرف شعر گوئی ہی شایان ِ نعت ہے | |||
"ہر شعبہ حیات میں امکان ِ نعت ہے " | |||
میں [[سعود عثمانی | جناب سعود عثمانی ]] کا شکر گذار ہوں کہ انہیں نے میری جستجو اور طلب کا خیال رکھتے ہوئے اس مصرعے پر مثال کے لیے فورا خود بھی چار گرہیں لگا کر دی ۔شاید یہیں سے اس مصرعے کے ذریعے ہونے والی عنایتیں شروع ہوگئیں ۔ انہوں نے تین چار گرہیں لگائی تو پھر کہ خاور بیماری کے بعد آج تک شعر کہنے کی طرف دھیان نہیں جا رہا تھا ۔ لیکن اس یہ گرہیں لگاتے ہوئے مجھ لگ رہا ہے کہ اس زمین پر شعر گوئی کے لیے میرا ذہن آمادہ ہو رہا ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اس پر نعت کہہ لوں ۔ | |||
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ۔ میں نے اجازت کیا دینی تھی یہ تو سجدہ ءِ شکر کا مقام تھا۔ میں اس مصرعے پر کیا کہتا ۔ مجھے یقین تھا کہ [[سعود عثمانی ]] کہیں گے تو آواز دور تک جائے گی ۔ ہاں میں نے یہ درخواست ضرور کی سعود بھائی ۔ یہ مصرع ضرور استعمال کیجئے گا ۔ | |||
نسخہ بمطابق 12:44، 13 جون 2019ء
یہ وہ مصرع ہے جس پر رمضان المبارک 2019 کو ایک تاریخ ساز مشاعرہ ہوا ۔ اس کی تفصیلات میں ابو الحسن خاور فرماتے ہیں
" 13 مئی 2019 کو دوستوں کے ایک مختصر گروپ میں حسنین محسن نے اپنا تازہ مطلع دوستوں کو پیش کیا کہ اس پر فی البدیہہ مشق کریں ۔ مطلع تھا۔
مخصوص لفظیات سے نکلیں تو نعت ہوہم حد ِممکنات سے نکلیں تو نعت ہو
اس پر اشعار کہتے ہوئے مجھ سے ایک شعر اس طرح موزوں ہوا
ہر شعبہ ءِ حیات میں امکاں ہیں نعت کےکاغذ، قلم ، دوات سے نکلیں تو نعت ہو
"ہر شعبہ حیات میں امکاں ہیں نعت کے "
کا خیال میرے اندر شاید تین سال سے پک رہا تھا جب ایک گفتگو میں جناب مجید اختر نے فرمایا کہ خاور یار، ہم شاعر ہیں تو شعر میں نعت کہتے ہیں لیکن نعت تو ہر انسان کو ہر شعبے میں کہنی چاہیے ۔ یہ خیال اسی وقت ہی میرے دل میں اتر گیا تھا ۔ اس مصرعے کے ہونے سے مجھے خوشی ہوئی ۔ اس فی البدیہہ مشق ِ سخن میں نعت مبارکہ تو مکمل نہیں ہو سکی ۔ لیکن ایک قطعہ ہوگیا
خاور اندھیری رات سے نکلیں تو نعت ہویعنی ہم اپنی ذات سے نکلیں تو نعت ہو
ہر شعبہ ءِ حیات میں امکاں ہیں نعت کے
کاغذ، قلم ، دوات سے نکلیں تو نعت ہو
میں نے یہ قطعہ نعت ورثہ میں پیش کر دیا ۔ دوستوں نے خوب سراہا لیکن مجھے اطمینان نہ ہوا ۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے یہ مصرع بہت اہم ہے ۔ مجھے خواہش ہوئی کہ کسی طرح اس مصرعے کو مطلع میں استعمال کروں ۔ اس پر غور و فکر کیا تو کچھ شکلیں تو سامنے آئیں لیکن اطمینان نہ ہوا ۔ مشاورت کے لیے جناب ضیا الدین نعیم ، جناب سعود عثمانی اور اظہر فراغ کو مختلف شکلیں پیش کیں۔ یہ سلسلہ دو تین دن تک چلا ۔ مجھے یاد ہے کہ جناب سعود عثمانی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعود بھائی ، یہ مصرع میرے لیے بہت اہم ہے ۔ میں اس پر اچھا نہیں بہت اچھا اور اگر ممکن ہو تو ایک بڑا شعر چاہتا ہوں ۔ تفصیل طولانی ہے ۔ المختصر کہ سب سے قابل قبول مطلع یہ رہے
خاور نظر اٹھا ، بڑا سامان ِ نعت ہے
"ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے "
یہ قیدِ شعر گوئی تو نقصان ِ نعت ہے" ہر شعبہ حیات میں امکان ِ نعت ہے "
کیا صرف شعر گوئی ہی شایان ِ نعت ہے"ہر شعبہ حیات میں امکان ِ نعت ہے "
میں جناب سعود عثمانی کا شکر گذار ہوں کہ انہیں نے میری جستجو اور طلب کا خیال رکھتے ہوئے اس مصرعے پر مثال کے لیے فورا خود بھی چار گرہیں لگا کر دی ۔شاید یہیں سے اس مصرعے کے ذریعے ہونے والی عنایتیں شروع ہوگئیں ۔ انہوں نے تین چار گرہیں لگائی تو پھر کہ خاور بیماری کے بعد آج تک شعر کہنے کی طرف دھیان نہیں جا رہا تھا ۔ لیکن اس یہ گرہیں لگاتے ہوئے مجھ لگ رہا ہے کہ اس زمین پر شعر گوئی کے لیے میرا ذہن آمادہ ہو رہا ہے تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اس پر نعت کہہ لوں ۔
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ۔ میں نے اجازت کیا دینی تھی یہ تو سجدہ ءِ شکر کا مقام تھا۔ میں اس مصرعے پر کیا کہتا ۔ مجھے یقین تھا کہ سعود عثمانی کہیں گے تو آواز دور تک جائے گی ۔ ہاں میں نے یہ درخواست ضرور کی سعود بھائی ۔ یہ مصرع ضرور استعمال کیجئے گا ۔