"یثرب" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
سطر 38: سطر 38:
خوف جاں رکھتا نہیں کچھ دشت پیمائے حجاز
خوف جاں رکھتا نہیں کچھ دشت پیمائے حجاز


ہجرت مدفون یثرب میں یہی مخفی ہے راز <ref> ایک حاجی مدینے کہ راستے میں ، بانگ درا  </ref>
ہجرت مدفون یثرب میں یہی مخفی ہے راز <ref> بانگ درا، ایک حاجی مدینے کہ راستے میں   </ref>


[[ علامہ اقبال ]]
[[ علامہ اقبال ]]

نسخہ بمطابق 09:12، 26 دسمبر 2016ء

یثرب مدینہ منورہ کا پرانا نام تھا ۔ "یثرب " کا مطلب "ہلاکت " و "بیماری" ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدلا تو پہلے مدینہ پھر مدینتہ النبی اور پھر مدینہ منورہ ہوا

بخاری و مسلم کی حدیث

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے مطلب والے ناموں کو بدل دیا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف "یثرب" کا نام بدلا بلکہ اسے یثرب کہنے سے منع بھی فرمایا ۔ حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں

یقولون یثرب و ھی المدینہ

"لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ یہ مدینہ ہے "

امام احمد بن حنبل کی روایت

"من سمی المدینۃ یثرب فلیستغفر اﷲ ھی طابۃ ھی طابۃ" <ref> ۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۸۵ </ref>

"جو مدینہ کو یثرب کہے اس پر توبہ واجب ہے۔ مدینہ طابہ ہے مدینہ طابہ ہے"

اشعار میں استعمال

کچھ اکابر شعرا بشمول علامہ اقبال اور امیر مینائی نے اپنے اشعار میں مدینہ منورہ کے لئے یثرب کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ یقینا ان تک یہ احادیث نہیں پہنچی ہوں وگرنہ ایسے قادر الکلام شعرا کے لئے ایک لفظ بدلنا کا مشکل تھا ۔ اشعار صرف حوالے کے لئے درج کیے جا رہے ہیں ۔

خاک یثرب ہے مرتبے میں حرم

واہ رے احترام احمد کا <ref> شرح حدائق بخشش از مولانا غلام حسن قادری </ref>

امیر مینائی


خوف کہتا ہے کہ یثرب کی طرف تنہا نہ چل

شوق کہتا ہے کہ تو مسلم ہے ، بے باکانہ چل


بے زیارت سوئے بیت اللہ پھر جاؤں گا کیا

عاشقوں کو روز محشر منہ نہ دکھلاؤں گا کیا


خوف جاں رکھتا نہیں کچھ دشت پیمائے حجاز

ہجرت مدفون یثرب میں یہی مخفی ہے راز <ref> بانگ درا، ایک حاجی مدینے کہ راستے میں </ref>

علامہ اقبال


یثرب کے والی، شاہِ مدینہ، شاہِ مدینہ سارے نبی تیرے در کے سوالی

تنویر نقوی

حوالہ جات