بلال رشید کی حمدیہ و نعتیہ شاعری

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search


بلال رشید کی حمدیہ و نعتیہ شاعری

سننے والا ہے جو دعاوں کا

حمد

سننے والا ہے جو دعاؤں کا

دھوپ میں مہتمم ہے چھاؤں کا

سب عبادات ہیں اسی کے لیے؎

مدعا ہے وہی ثناؤں کا

انتظام اس کے پاس ہے سارا

بارشوں بادلوں ہواؤں کا

ہو کے واقف بھی سارے عیبوں سے

پردہ رکھتا ہے سب خطاؤں کا

اس کی عظمت وہ کیا سمھ پائے

جو ہو بندہ کئی خداؤں کا

سلسلہ اس سے جا کے ملتا ہے

ابتداؤں کا انتہاؤں کا

کون اس کے سوا سہارا ہے

ساری دینا کے بے نواوں کا

علم ہے اے بلال اس کو سب

مجھ سے عاجز کی التجاوں کا حمد حمد کیا ہے ؟ مودت ہے اللہ سے اس قصیدے کی نسبت ہے اللہ سے بزم ہستی میں موجود ہر چیز سے مجھ کو بڑھ کر محبت ہے اللہ سے نو بہ نوجو میں کہتا ہوں حمد خدا یہ ملی مجھ کو دولت ہے اللہ سے مجھ کو نعت پیمبر کی صورت میں خآص حمد کی ملتی اجرت ہے اللہ سے دیں کی خآطر ٹرپتے ہیں جو آج ہم در حقیقت یہ الفت ہے اللہ سے لطف کیوں بندگی میں نہ آئے ہمیں منسلک ہر عبادت ہے اللہ سے کون ہے اس شرف میں نبی کا شریک ان کو حآصل جو قربت ہے اللہ سے ہے علی منفرد وہ امام اے بلال جس نے پائی امامت ہے اللہ سے

رحمت عالم محمد مصطفی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

رحمت عالم محمد مصطفی

نازش آدم محمد مصطفی

سب سے اونچا ہوگا روز حشر بھی

آپ کا پرچم محمد مصطفی

یاد طیبہ میں یہ آنکھیں آج بھی

ہوتیں ہیں پرنم محمد مصطفی

آپ کی نعتیں سنانے کے سبب

مٹ گئے سب غم محمد مصطفی

تا قیامت اب بھرینگے اہل دیں

آپ کا ہی دم محمد مصطفی

تھے شب اسری میں خالق کے فقط

آپ ہی محرم محمد مصطفی

کاش خود آکر سناؤں آپ کو

اپنے سارے غم محمد مصطفی

کاش محشر میں بنیں بحر بتول

میرے بھی ہمدم محمد مصطفی

آپ کی رحمت پہ اس نادار کو

ہے یقیں محکم محمد مصطفی

آپ کا ہی اسم عالی یہ بلال

لیتا ہے ہر دم محمد مصطفی

مزید دیکھیے

بلال رشید