یثرب
یثرب مدینہ منورہ کا پرانا نام تھا ۔ "یثرب " کا مطلب "ہلاکت " و "بیماری" ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدلا تو پہلے مدینہ پھر مدینتہ النبی اور پھر مدینہ منورہ ہوا
بخاری و مسلم کی حدیث
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے مطلب والے ناموں کو بدل دیا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف "یثرب" کا نام بدلا بلکہ اسے یثرب کہنے سے منع بھی فرمایا ۔ حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں
یقولون یثرب و ھی المدینہ
"لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ یہ مدینہ ہے "
امام احمد بن حنبل کی روایت
"من سمی المدینۃ یثرب فلیستغفر اﷲ ھی طابۃ ھی طابۃ" <ref> ۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۸۵ </ref>
"جو مدینہ کو یثرب کہے اس پر توبہ واجب ہے۔ مدینہ طابہ ہے مدینہ طابہ ہے"
اشعار میں استعمال
خاک یثرب ہے مرتبے میں حرم
واہ رے احترام احمد کا <ref> شرح حدائق بخشش از مولانا غلام حسن قادری </ref>
خوف کہتا ہے کہ یثرب کی طرف تنہا نہ چل
شوق کہتا ہے کہ تو مسلم ہے ، بے باکانہ چل
بے زیارت سوئے بیت اللہ پھر جاؤں گا کیا
عاشقوں کو روز محشر منہ نہ دکھلاؤں گا کیا
خوف جاں رکھتا نہیں کچھ دشت پیمائے حجاز
ہجرت مدفون یثرب میں یہی مخفی ہے راز <ref> ایک حاجی مدینے کہ راستے میں ، بانگ درا </ref>
یثرب کے والی، شاہِ مدینہ، شاہِ مدینہ سارے نبی تیرے در کے سوالی
تنویر نقوی