بزمِ کونین میں اجالا ہے۔ مشاہد رضوی
نعت کائنات سے
بزمِ کونین میں اجالا ہے
کون تشریف لانے والا ہے
جس کی رفعت عیاں رفعنا سے
ہاں وہی تو سبھی سے اعلیٰ ہے
اس کی آمد کا جشن ہے ہرسُو
جس نے ہر موڑ پر سنبھالا ہے
گونج ہے مرحبا کی ہر جانب
رنگ عالم کا اب دوبالا ہے
جو ہے رحمت تمام عالم کی
اس کا ہر سمت بول بالا ہے
اس پہ پڑھیے دُرود ہر لمحہ
غم مسرت میں جس نے ڈھالا ہے
شرک و بدعت کا زور ٹوٹے گا
ماہِ وحدت کا ہر سو ہالہ ہے
ہے شفاے مَرَض نہاں اس میں
موے سرور کا جو غسالہ ہے
اس کے الطاف نے مشاہد کو
نرغۂ رنج سے نکالا ہے