مطاف حرف
|
|
مطاف حرفمطاف حرف پر احباب کی آراء
مکمل مطاف حرف آن لائن پڑھیےپرنٹ لائناوپر ترمیم کا بٹن دبا کر یہاں پرنٹ لائن لکھیے نام کتاب : مطافِ حرف شاعر : مقصود علی شاہ وغیرہ انتسابممتاز دانشور، شاعر، پروردہء حضور ضیاء الامت "' محمد رضا الدین صدیقی"' کے نام وہ پہلی آواز جس نے 1982میں چودہ سال کے ایک بچے سے کہا تھا: " تمھاری جبین میں ایک صاحبِ اسلوب نعت نگار کے آثار دیکھ رہا ہوں- الحمدللہ " میں آج کم و بیش چار دہائی بعد سامنے آنے والی اپنی پہلی نعتیہ کاوش " مطافِ حرف" کو محمد رضا الدین صدیقی کی اسی آواز کی بازگشت سمجھتا ہوں- مطاف حرف، با کمال تازہ کاری از ڈاکٹر ریاض مجیداردو نعت کے معاصر منظر نامے میں معیار اور مقدار دونوں حوالوں سے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ نہ صرف برصغیر پاک و ہند میں جہاں اردو کا چلن عام ہے نعتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں نادرہ کاری کے نمونے سامنے آ رہے ہیں بلکہ اُردو کے مراکز سے دُور اُردو سے محبت کرنے والوں نے جو بستیاں آباد کی ہیں اُن میں بھی نعت کی صنف مقبول ہو رہی ہے۔ بقول میرزا عبدالقادر بیدل
تصوّر چوں تواں کردن جمالِ بے مثالی را
نعت کا موجودہ بیانیہ قریب قریب سارے کا سارا بغیر کسی خارجی تحریک کے چونکہ غزل کی صنف سے وابستہ ہو رہا ہے (بلکہ ہو چکا ہے) لہٰذا غزل کے علائم و رموز، اس کے معنوی میلانات اور طرز ہائے ادا غیر محسوس طور پر آج کی نعت میں پوری تابانی کے ساتھ جھلک رہے ہیں۔ اردو شاعری میں غزل کی صنف اور ہیئت جن تخلیقی محرکات اور فنّی سہولیات و روایات کے باعث آج کی سب سے زیادہ مستعمل ،پسندیدہ اور مقبول عام صنف قرار پائی ہے اس کا سراغ ایک طویل تحقیقی و تجرباتی مطالعے کا متقاضی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کے تخلیقی منظر نامے میں سب سے زیادہ اظہار اسی ہیئت اور صنف میں ہو رہا ہے آج حمد، منقبت، سلام اور نعت کے جذبات و خیالات کا اظہار نظم، رباعی، مثنوی اور دوسری کلاسیکی اصنافِ سخن کے مقابلے میں اگر کسی صنف میں نمایاں ہُوا ہے تو وہ صنف غزل کی ہے۔ مقصود علی شاہ کی نعت پر اپنے تاثرات قلم بند کرتے ہوئے یہ تمہید از خود اس لئے زبان پر آ گئی کہ مقصود شاہ نے بھی آج کے دوسرے شاعروں کی طرح اپنے نعتیہ خیالات و جذبات کا اظہار غزل ہی کی صنف میں کیا ہے غزل کی ہیئت تخلیق کار سے جو مسلسل توجہ مانگتی ہے اس کا تعلق ردیف و قافیہ اور آہنگ و اوزان کے شمول سے برتی جانے والی شعری زمینوں سے ہے یہ زمینیں جتنی نادر الوقوع ، ندرت خیز اور جدّت آمیز ہوں گی ان میں اظہار کے تنوع کے اتنے ہی امکانات زیادہ ہوں گے مقصود شاہ کے درج ذیل مطلعے دیکھئے:
مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت ُچپ ہے
اُبھر رہی ہے پسِ حرف روشنی کی نوید
………
بخدا نعت ہے بس اُن کی عطا کا جھونکا ………
کس سے ممکن ہے کرے کوئی حسابِ توفیق ………
کہ میری زیست نے دیکھی ہے اِک کمال گھڑی ………
آنکھ کے طاق میں رکھ نقشِ قدم کا جلوہ ……… آپ کی رحمتِ بے پایاں کے اظہار کے رنگ رنگ تو جیسے ہوئے گردِ رہِ یار کے رنگ ……… آپ کی آمدِ رحمت کے سبب ہیں قائم حضرتِ آدم و حوّا کے نسب ہیں قائم مقصود علی شاہ کی نعت نگاری کا نمایاں پہلو اُن کی ایسی ہی نعتیہ زمینیں ہیں انہوں نے اپنے نعتیہ مضامین کے اظہار کے لئے نئی زمینیں تخلیق کی ہیں اہلِ نظر اس راز سے بخوبی واقف ہیں کہ اظہار میں خوبی اور ندرت کا سارا سحر ان زمینوں ہی کی عطا ہوتا ہے آپ کسی ایسے انداز، طرز، سانچے یا زمین میں کوئی نئی بات کر ہی نہیں سکتے جو سالہا سال سے استعمال ہو رہی ہو اور جسے اب تک سینکڑوں شاعروں نے برتا ہو جدّت و ندرت کی تلاش میں جب ہم مقصود علی شاہ کے نعتیہ کلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ان کے اس تخلیقی وصف کا احساس ہوتا ہے نعتیہ کلام میں ندرت کا بڑا انحصار جس وصف اور اسلوب پر ہے مقصود علی شاہ اس سے بخوبی واقف ہیں ان کی انفرادیت کی تشکیل میں ان دوسرے عوامل کے ساتھ جن کا تعلق ان کی افتادِ طبع، طرزِ فکر و احساس اور مشاہدہ و مطالعہ سے ہے بڑا سبب ان کی جدّت کوشی ہے۔کچھ اور مثالیں دیکھئے:
معدنِ ُجود و عطا، قاسمِ نعمت ُتو ہے ……… اِذن ہو جائے تو تدبیر سے پہلے لکھ لوں نعت کے نور کو تنویر سے پہلے لکھ لوں ……… وہ میری نعت میں ہے، میری کائنات میں ہے حیات محوِ سفر اُس کے التفات میں ہے ……… ہاتھ میں تھامے ہوئے اُن کی عطا کا دامن رشکِ ایجاب ہُوا حرفِ دُعا کا دامن
خامۂ عجز سے ہوتی نہیں مدحت تیری شوق بیتاب ہے ، جبریل کا پَر چاہتا ہے ……… حیطۂ فہم سے آگے کا سفر ہے معراج اور معراج سے آگے کی حقیقت چُپ ہے
قاسمِ حرف مجھے حرفِ عطا مِل جائے
نکہت و رنگ کو ہے نسبتِ ُگل کی حاجت یعنی معراج تھی حیرت، پسِ حیرت ُتو ہے
حمد کے رنگ میں لکھی گئی مدحت ُتو ہے
ہم ایسے خواب گروں کے سلام حاضر ہیں ……… کاش رہ جاؤں مدینے کا مقامی ہو کر کاش تقدیر میں ایسی کوئی ہجرت آئے ……… ایک ہی لَے میں ہیں سب لالہ و گُل مدح سرا نعت تو جیسے ہوئی پورے چمن کی خواہش ……… حدیثِ قولی ہو، فعلی ہو یا کہ تقریری زمانہ ان سے ہی لیتا ہے آگہی کی نوید
غلام جسم نے پائی تھی خواجگی کی نوید
اُس کی بخشش نے محتشم رکھا
اُس نے پیہم مگر کرم رکھا
یہ الگ بات کہ حیرت کرے، حسرت نہ کرے دیدۂ شوق کہاں جائے جو مدحت نہ کرے ………
بس مقدر سے عطا ہوتا ہے رستہ ایسا ………
سامنے آنکھوں کے ہے کعبے کا کعبہ ایسا ………
………
………
لبوں سے چوم نہ پاؤں، قلم سے لکھ نہ سکوں ……… آپ کا ذکر ہو اور صبح کی کرنیں جاگیں آپ کی نعت ہو اور شام کا منظر مہکے ……… سیّدہ آپ کی تطہیر کی رحمت کے سبب میری بیٹی کو ملے شرم و حیا کا دامن
ردیف کی اہمیت نعت میں قافیے کی طرح بلکہ بعض شکلوں میں اس سے بھی اہم ہے ردیف جتنی بڑی ہو گی تین لفظی، چار لفظی، یا پانچ لفظی___وہ نعت کی کیفیت اور مضمون میں اتنی زیادہ کیفیت آفرینی کا سبب ہوگی بعض شاعروں کے ہاں ردیف ہر شعر میں نعت کی معنوی فضا سے ہم آہنگ نہیں ہوتی آج کل میڈیا پر دیکھی یا سنی جانے والی کئی معروف نعتوں میں یہ بے توجہی کھٹکتی ہے جو خیال کی تفہیم اور تاثیرمیں حارج ہوتی ہے ردیف مطلع اور دو تین شعروں تک تو نعت کی فضا سے ہم آہنگ ہوتی ہے پھر کئی شعروں میں وہ غیر متعلقہ حصۂ شعر لگتی ہے اور ’بروزن بیت‘ ہر شعر میں ساتھ ساتھ چلتی ضرور ہے مگر اس کے خیال میں اضافہ نہیں کرتی۔ مقصود علی شاہ کی خوبصورت ردیفوں اور قافیوں سے اظہار پذیر ہونے والے چند خوبصورت اور مؤثر شعر دیکھئے: خامہ و نطق پہ ہے کیسی عنایت تیری مجھ سے بے ساختہ ہو جاتی ہے مدحت تیری ……… رفعتِ میم سے اِک دال کی رعنائی تک چار حرفوں کی ہے مقصود سخن کی خواہش ……… رُخ کو رکھا بہ روئے کعبہ، مگر دل کو سُوئے مدینہ خَم رکھا ……… جو اِذن ہو تو حضوری کے شہر جا پہنچے مَیں آنکھ میں لئے پھِرتا ہوں ایک خواب، حضور ………
نعت تو نعت ہے رہتی ہے خیالوں سے پرے ………
ساتھ رکھتا ہوں مَیں نعتوں کا حوالہ ایسا ………
آپ نے نام دیا، آپ نے تھاما آقا ………
اِک بے بسی سی ہے مرے حرفوں کے درمیاں
بقول شاعر: نقاش نقشِ ثانی، بہتر کشد زا،دل مجھے یقین ہے کہ آئندہ وہ اپنی تنہائیوں کا زیادہ حصہ نعت کو دیں گے، توقع ہے کہ ان کے ماہرانہ اسلوب اور تخلیقی وابستگی سے اردو نعت کو ایک با کمال شاعر نصیب ہو گا میں اُن کے لئے دعا گو ہوں اور اپنے تاثرات اس رباعی پر ختم کرتا ہوں۔
الفاظ ہوئے سبھی کُشادہ ظرف اب
مقصود علی شاہ مطافِ حرف اب
ہے مطافِ حرف اس کو مصحفِ ولا کہیے
آپ اس صحیفے کو گوہرِ ثنا کہیے
مطاف ِ حرف ٹھنڈی ہوا کا اشارہ از ڈاکٹر اجمل نیازیجب کوئی سچا عاشقِ رسول نعت لکھتا ہے یا نعت پڑھتا ہے تو اُسے حضورِ کریم صل اللہ علیہ وسلم کی موجودگی، ایک عجیب ان دیکھی آسودگی کی طرح، اپنے آس پاس محسوس ہوتی ہے، وہ زندگی کے سارے رنگوں کی محبتوں میں بھیگ بھیگ جاتا ہے، نعت اور غزل کی دو تخلیقی وارداتوں سے برصغیر کو ایک ایسا اعزاز حاصل ہے جسے رستے کی دھول اور منزلوں کے سارے کناروں پر کھلے ہُوئے پھول میں فرق مٹ جاتا ہے، نعت اور غزل دونوں اصناف میں بات محبوب کے گرد گھومتی رہتی ہے اور ہمارے لئے سب سے بڑے محبوب، محبوبِ رب العالمین صل اللہ علیہ وسلم ہیں، غزل بھی نعت کا ایک روپ ہے، بس یہ کہ محبت کی پاکیزگی اور دیوانگی کا خیال رکھ لیا جائے، نعت ہر زبان کا اعزاز ہے مگر پاکستان میں لکھی گئی نعت ایک ایسا راز ہے جس کا سارا کشف مقصود علی شاہ کی کتاب “ مطافِ حرف “ میں گم ہو گیا ہے، ہم اس کتاب کو صرف پڑھتے نہیں ہیں اسے تلاش بھی کرتے ہیں جو کچھ پڑھنے والوں کو ملتا ہے وہ سارے کا سارا پہلے ہی مقصود علی شاہ کے پاس ہے۔۔۔۔ مقصود علی شاہ کی نعت پڑھتے ہوئے صرف ایک بات یاد آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلُم نے اس خطے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مجھے اس طرف سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے۔۔۔ میں نے یہ ٹھنڈی ہَوا “ مطافِ حرف “ کی نعتیں پڑھتے ہُوئے اپنے وجود میں وجد کرتی محسوس کی ہے۔۔۔۔ مقصود علی شاہ کی نعتیں وہی ڈھنڈے جھونکے ہیں جن کی طرف سرکار کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تھا۔۔۔۔۔ میانوالی سے مقصود علی شاہ کا تعلق مدینے سے کیسے جُڑا مجھے معلوم نہیں مگر اتنا معلوم ہے کہ میانوالی اور مدینے کے لفظ میں میم مشترک ہے اور مقصود علی شاہ اور ان کی نعتیہ کتاب “ مطافِ حرف “ میں بھی میم مشترک ہے ۔۔۔ میم کے حرف میں کئی راز چھپے ہوئے ہیں جو “ مطافِ حرف “ میں آشکار ہوتے ہیں، حروف کی دُنیا میں میم کی جو اہمیت ہے وہی نعتیہ شاعری میں “ مطافِ حرف “ کی بھی ہے، یہ کتاب پڑھتے ہوئے میں نے جذبوں کو طواف کرتے بھی دیکھا۔۔۔۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں حرفوں کا طواف ہی نعت ہے جس نےاس کیفیت میں اپنے دل کی ساری ناآسودگیوں اور بے قراریوں کو شامل کر لیا وہ کامیاب ہو گیا اور بارگاہِ رسول میں کامیابی کے معانی کچھ اور ہیں۔۔۔۔۔ مَیں جُدائیوں اوربے تابیوں سے بھرے ہُوے اپنے دل کی ساری طاقتوں کی گواہی میں کہہ رہا ہوں کہ مقصود شاہ کامیاب ہے، یہ وہ کامیابی ہے کہ آدمی اپنی ساری ناکامیوں کو بھول جاتاہے۔۔۔۔۔ مقصود علی شاہ ایک بڑا نعت گو ہے کہ وہ ایک مختلف، منفرد اور ممتاز شاعر ہے۔۔۔ نعت وہاں کہی گئی جہاں وہ رہتا ہے، میرا خیال ہے جس شہر میں سچی نعت لکھنے والا ایک بھی شاعر موجود ہے وہ رسول اللہ کا شہر ہے اور میں اس شہر کے خوش قسمت شاعر کو سلام کرتا ہوں۔۔۔۔ شاعر تو اپنے شعری مجموعوں میں صرف ایک حمد اور نعت لکھتے ہیں۔۔۔۔ شاہ صاحب نے پوری کتاب لکھ دی جس کا حرف حرف، لفظ لفظ، مصرع مصرع اور شعر شعر محبتِ رسول کے والہانہ جذبوں سے جگمگا رہا ہے۔۔۔۔ “ مطافِ حرف “ کے شاعر کا اسلوب جُداگانہ اور محبوب اسلوب ہے میں نے کسی نعت گو کے ہاں ایسی وابستگی اور وارفتگی نہیں دیکھی جو مقصود شاہ کے ہاں پائی جاتی ہے۔۔۔۔۔ نعتیہ ادب کی کہکشاں کے سب سے نمایاں ستارے کا نام حفیظ تائب ہے جن کا نام میرے دل، دماغ اور روح میں چمکتا اور دمکتا ہے، پھر مقصود علی شاہ کے عشقِ رسول سے معطر اور منور دل کی روشنی مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے لگتا ہے کہ اس محبت کی روشنی میں قلم ڈبو کر شاہ جی نے نعت لکھی ہے، شاعر تو ایک نعت میں وہ جذبہ پیدا نہیں کر سکتے جو مقصود شاہ نے نعتوں کی پوری کتاب میں لفظ در لفظ پرو دیا ہے، میرے لئے یہ اعزاز بھی ایک مرتبے کی بات ہے کہ برادرم نواز کھرل کے مطابق مقصود علی شاہ کا تعلق میرے شہر میانوالی سے ہے۔ اب وہ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مقیم ہے وہاں بھی اسے شاہِ خوباں کی محبت لازوال رکھتی ہے جس کا کمال ساری دُنیا میں موجود ہے ، برطانیہ میں رہنے والے اس عاشقِ رسول کے لئے میرے دل میں جذبات کا ایک ڈھیر ہے جس پر مجھے کھڑا کر دیا گیا ہے جہاں سے گرنے سے بچنے کے واسطے مقصود علی شاہ کی نعتیہ کتاب “ مطافِ حرف “ بہت بڑی نعمت ہے ۔۔۔۔۔ جوں جوں کوئی یہ کتاب پڑھے گا وہ بلند ہوتا جائے گا بلکہ سربلند ہوتا جائے گا
وہ جو محبوبِ خُدا ہے، وہ مِرا ہے آقا
ایک امرت سا اُتر آیا ہے جسم و جاں میں جب موذن نے ترا نام لیا ہے آقا مطاف حرف، ادب کا ایک استدلالی حوالہ ، میرزا امجد رازیسابق ریسرچ آفیسر محی الدین اسلامی یونیورسٹی، آزاد کشمیر
کیونکہ ان کے بغیر قدیم و حادث میں امتیازِ صحیح حاصل نہیں ہوتا۔عبد و معبود میں تفہیمِ شراکت کے ابواب پوری طرح وا نہیں ہوتے۔ ذاتِ رسالت مآب علیہ السلام کی حیثیت و عدمِ مماثلت کا فلسفہ سمجھ نہیں آتا۔۔۔ بہت سے شعراء ان امور سے عدمِ معرفت کے سبب نعت کے تقدس کو برقرار نہیں رکھ سکے ۔
انہی پاسبانِ حرمتِ الفاظ و معانی میں ایک نام سیّد مقصود شاہ کا بھی ہے۔۔۔ احساس کو دل کے کس دروازے پر کس طرح دستک دینی ہے اور کب دینی ہے ، لفظ کو معنی کے ساتھ کیسے معاملہ طے کرنا ہے اور کیسا کرنا ہے ، اس طلسماتی اظہاریے کا تفصیلی بیانیہ ان کی شاعری کے مصرع مصرع سے مترشح ہے، بھرتی اور عجلت کے نقائص کسی جگہ بھی قاری کے ذوق کو گدلا نہیں کرتے ، صاف اور شستہ لب و لہجہ پڑھنے والے کو اُس آئینۂ احساس کے سامنے لاکھڑا کرتا ہے جس میں اسے اپنے ان تصوراتِ نظری کی بدیہی اشکالِ تنوّع پذیر دکھائی دیتی ہیں جن تک اس کی قوّتِ خیال رسائی نہیں پاسکتی۔ یہ بات اہلِ فن سے پوشیدہ نہیں کہ مضمون تو ہر کوئی ادا کر سکتا ہے ،اصل بات تو یہ دیکھنا ہے کہ مضمون کن الفاظ میں ادا کیا گیا ہے! مضمون اعلیٰ ہو مگر الفاظ پست یا متروک ہوں یا رؤوسِ مجازات دستارِ لطائفِ معنوی سے محروم رہیں تو عروسِ قبولیت ذوقِ سلیم کی دہلیز پر پاۓ وجد و انبساط رکھنے سے انکار کر دیتی ہے ۔ سیّد مقصود شاہ نے اپنے سخن نامے میں لفظ و مضمون کے انتخاب میں بڑی ابتہاج خیز طرزِ ادا اپنائی ہے ۔ صدیوں سے دشت و صحراۓ سخن میں پھرنے والے آبلہ پا قوافی جب مقصود علی شاہ کی جمالِ تازہ سے نکھری ہوئی ردیفوں کے آئینۂ رخسار کو دیکھتے ہیں تو نِت نئے معانی و مفاہیم کا ایک جہان ملاحظہ کرتے ہیں۔۔۔۔وہ حضود علیہ السلام سے اظہارِ محبّت اور بیانِ عظمت کو جس لطیف پیرایہ میں اداۓ سخن کی نیرنگیوں میں عیشِ جلوہ کا سامان مہیا کرتے ہیں وہ عالمِ جذب و وارفتگی سے مربوط ہے۔۔۔سیّد مقصود شاہ جہاں بے مثال ادبی ذوق کی حامل شخصیت ہیں وہیں ایک عالِم انسان بھی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ علم اور ادب کے دو دریا ان کی نوکِ قلم سے بیک وقت بہتے ہیں ادب پر علم اور علم پر ادب کی رنگینیاں انہیں ابتدائی معاصر شعراء سے الگ کرکے جیّد اور ممتاز اساتذہ کی صفِّ اوّل میں جگہ دیتی ہیں ۔بلاشبہ سید مقصود اپنے لب و لہجہ اور جہت خیز اندازِ سخن کی وجہ سے ادب کا ایک استدلالی حوالہ ہیں اور ان کے اشعار بطورِ استشہاد پیش ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔۔۔ میں ان کے آمدہ نعتیہ مجموعہ کا تہِ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہ ذوق و جذبہ بارگاہِ رسالت مآب میں شرفِ قبولیت سے ہمکنار ہو اور یہ کارِ مدحت ذریعۂ نجات ہو ۔۔۔۔آمین از : میرزا امجد رازی سابق ریسرچ آفیسر محی الدین اسلامی یونیورسٹی ،آزاد کشمیر ’’مطافِ حرف‘‘ اور اسلوب کی طرفگی از سیّد محمد نور الحسن نور نوابی عزیزی ( انڈیا )سیّد محمد نور الحسن نور نوابی عزیزی (بانی و صدر دبستان نوابیہ عزیزیہ قاضی پور شریف، فتح پور ،انڈیا)
ردیف و قافیہ کی ندرت اور سلاستِ بیاں کی ترجمان ایک نعت ملاحظہ کیجیے:
گدائے شہرِ سخن ہوں، مری بھی سُن، مرے دل
رہے سوار ہمیشہ ثنا کی دُھن، مرے دل
یہ شعر ہیں انہیں پلکوں سے جا کے ُچن، مرے دل
سو نعت ہوتی ہے کہتے ہیں جب وہ ُکن، مرے دل
نہیں ہے اس کے سوا کوئی مجھ میں ُگن مرے دل
شعور کو کہیں لگ ہی نہ جائے گھن، مرے دل
بہ سوئے شاہ نظر کن و غم ُمکن، مرے دل
انہی کا کھاتا ہوں، گاتا ہوں جن کے ُگن، مرے دل
سو اپنے دیپ جلا، اپنے خواب ُبن، مرے دل
تو اِذن دے تو بارگۂ نعت تک چلیں جوڑے ہوئے ہیں ہاتھ بلاغت کے سلسلے
ہے رتجگوں کے تصرّف میں پھر حرائے شوق ……… تو اپنی دید کی صبحِ کرم بنا اس کو کھڑا ہوں اپنی ہتھیلی پہ ایک شام لیے
نگارِ عصر کی تسبیحِ ماہ و سال ہے تو ………
سبز گنبد سامنے ہے اور میں ہجرت میں ہوں ………
من کے نگار خانے کے اندر حضور ہیں شاعرِ ممدوح ایک حقیقی تخلیق کار ہیں۔ آپ کا ہر نعتیہ فن پارہ آپ کی خلاقانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ اپنے ہم سخنوں کے سکے اُچھالنے کی بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والے شعرا کی جماعت میں شامل ہیں اور ایسے شعرا ہی درحقیقت اپنی ہنروری سے ادب کا دامن بھرتے رہتے ہیں۔ آپ کی تراکیب منفرد اور بیشتر آپ کی اپنی وضع کردہ ہیں۔ چند ملاحظہ ہوں: کیفِ کرم، علاجِ کربِ دروں، کرم بار طلعتیں، نکہت نواز، حجرۂ رحمت،گدائے حرف، صبحِ تازگی، مطافِ حرف، قبلۂ مقال، حرائے خواب وغیرہ وغیرہ۔ دُعا ہے کہ اللہ رب العزت شاعرِ ممدوح کے رزقِ سخن میں مزید برکات نازل فرمائے اور ان کی نعتیں مقبولِ بارگاہ ہوں۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الکریمﷺ سیّد محمد نور الحسن نور نوابی عزیزی (بانی و صدر دبستان نوابیہ عزیزیہ قاضی پور شریف، فتح پور ،انڈیا)
اندازِ بیاں اور از سید فاضل میاں میسوری ( انڈیا )سید فاضل میاں اشرفی ، میسور، بھارت نعت گوئی توفیقِ الہیٰ اور اذنِ مصطفیٰ کے امتزاج کا حسین نقش ہے. جو اپنے دامن میں حسنِ فطرت کے تمام رنگوں کو سمیٹے ہوئے ہے. تخلیقِ کائنات سے گلدۂ مدحِ رسول میں عجب رنگ و خوشبو کے شگوفے کھلتے رہے ہیں اور قیامِ محشر تک اس میں بہارِ نو کا سلسلہ رہے گا. خلاقِ کائنات اس گلدے کے پھول اپنے چنیدہ بندوں کے دامن میں ڈالتا ہے ۔ انہیں فیروز بختوں میں محترم المقام سید مقصود علی شاہ صاحب ہیں. جن کا دامنِ سخن رنگ برنگے گلہائے مدحت سے بھرا ہوا ہے. خدائے کریم نے اپنے محبوب نبی کی مدحت کے لیے جو الہام کے باب موصوف پر وا کیے ہیں اس پر یقیناً رشک کیا جانا چاہیے. کیوں نہ ہو کہ یہ توفیق ان کے یہاں سیادت سے ہوکے آئی ہے جس میں یکتائی اور انفرادیت کا ہونا ایک امرِ حقیقی ہے. شاہ صاحب کا لہجہ اتنا موثر و شاذ ہے کہ پڑھنے والا قاری ان کے حصارِ عقیدت سے باہر نکل نہیں پاتا. کونسا رنگِ سخن ہے جو ان کی نعت گوئی میں نہیں. روایتی مضامین کو بھی اس ندرت و جدت سے باندھا ہے کہ قاری عش عش کر اٹھتا ہے. ردیف و قوافی کا استعمال ہو یا بحر کی روانی ہو یا اسلوبِ بیاں ہو یا لفظیاتی جمال ہو یا کیفِ حضوری ہو یا طرزِ استغاثہ ہو ہر جہت سے آپ کا سخنِ دلنواز ایک شہپارہ معلوم ہوتا ہے. ویسے تو شاہ صاحب کا ہر شعر ہی جمالِ سخن کا آئینہ ہے. لیکن طوالتِ مضمون کے خوف سے بس کچھ شعر درج کر رہا ہوں جن میں موصوف کی خوش اسلوبی، جدتِ نوائی , تنوعِ مضمون, حسنِ نگارش, شعری ساخت اور دیگر محاسن کی بھر پور ترجمانی ہوسکتی ہے. کمالِ عجز سے ہے عجزِ باکمال سے ہے یہ نعت ہے یہ عقیدت کے خدوخال سے ہے
سوال میرا بجا طور پر سوال سے ہے ہر شاعر نعت حضور کی بارگاہ میں اپنے کلماتِ فن پیش کرنے کے بعد عجزِ بیاں کی منزل پہ آجاتا ہے. کہیں غالب کہہ اٹھتا ہے کہ [[غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم]], کہیں حسان الہند امام احمد رضا بریلوی کہتے ہیں "حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے". شاہ صاحب کا امتیازِ فن یہ ہے کہ ان کے یہاں عجز ,نعت کا ایک جزوِ لاینفک ہے جسے آپ اول تا آخر محسوس کرسکتے ہیں. یہ بات عقائد کے باب سے ہے کہ وجودِ مصطفےٰ علیہ السلام ہی سے وجودِ کائنات ہے. وجودِ آنحضور کے بغیر کسی ایک شئے کا بھی وجود ناممکنات سے ہے. یہ ممکنات کی ساری رعنائیاں اسی وجود کی مرہونِ منت ہیں. مندرجہ ذیل شعروں میں اک غلامِ صادق کا اپنے آقا کے جود و کرم پر منحصر ہونے کا مکمل اظہار ملاحظہ کیجے. تو سراپا خیر ہے اور رحمت و رافت تمام میں سراپا معصیت ہوں اور تری قدرت میں ہوں
جیسے میں اک بوند ہوں اور بحر کی وسعت میں ہوں
اب میں تیرا نعت گو ہوں اور بڑی شہرت میں ہوں شاہ صاحب کے فن پر یہ کچھ کلمات لکھتے ہوئے مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہونے لگا ہے کہ ان کو جو حسنِ فن بارگاہِ رسالت سے تفویض ہوا ہے وہ کم از کم مجھ جیسے بے مایہ بندے کے بیان کا محتاج نہیں. میرے لیے یہ بات باعثِ مسرت و شادمانی ہے کہ آپ کی نعوت کا اولین مجموعہ منظرِ عام پر آرہا ہے. میں سمجھتا ہوں یہ ادب پارہ صحت مند ادبی ذوق رکھنے والے قارئین کی تشنگی کے لیے جرعۂ تسکین سے کم نہیں ہے. میں بصمیمِ قلب موصوف کو اس مجموعۂ نعت کی اشاعت پر ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ مولیٰ کریم اس مجموعے کو غیر معمولی پذیرائی اور شرفِ قبولیت بخشے. نجات مدحِ پیمبر کی آبرو سے ہو نمازِ صبحِ قیامت اسی وضو سے ہو
حسن کے سارے تناظر ہیں اسی منظر کے از ڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیمڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیم
مقصود علی شاہ کی نعت حقیقتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا جمالیاتی بیان ہے۔ حقیقتِ محمدیہ کے تناظر میں یہ ساری کائنات اپنی تمام تر خوبصورتیوں اور رعنائیوں کے ساتھ تنویرِ جمالِ مصطفائی ہے۔ مصنف عبدالرزاق میں روایت کردہ حدیث نور کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کائناتِ ارض و سما اور آب و گل میں جو کچھ بھی ہے وہ حقیقت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی نمود ہے اور بقول اقبال: یا نور مصطفی اورا بہاست یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفی است مقصود علی شاہ نے اس فکری اور اعتقادی تناظر کو ایک جمالیاتی طرزِ احساس میں ڈھال کر نعت گوئی کی ہے۔ یہ ایک منفرد لہجہ اور اچھوتا طرزِ احساس ہے۔ حقیقت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام جسے صوفیاء تعین اول کہتے ہیں۔ اس فکری و علمی بیان میں جس قدر پیچیدگی اور گہرائی ہے اس کے پیش نظر اس تناظر میں نعت کہنا ایک انتہائی علمی و فکری سرگرمی نظر آنا چاہیے لیکن مقصود علی شاہ نے اس فکری و اعتقادی تناظر کو ایسا رچائو، سلاست اور جمالیاتی اسلوب و اظہار دیا ہے جو عطائے محض کا نتیجہ نظر آتا ہے۔ مقصود علی شاہ کے نعتیہ کلام میں تکلف نام کو بھی نہیں ہے۔ ایک ایسی سلاست، روانی اور رچائو ہے کہ اس کے بیان کے لیے الفاظ کم پڑتے محسوس ہوتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مقصود علی شاہ جس چیز پر نظر ڈالتے ہیں اسے نعت میں ڈھال دیتے ہیں۔ اس جہانِ رنگ و بو کی ہر چیز، ہر منظر، آسمان پر چمکتے دمکتے ستارے، شمس و قمر، اُڑتے بادل، چلتی ہوئیں، کھلتے شگوفے، چٹکتی کلیاں، رنگ اور روشنی سب نعتیہ استعارے بن جاتے ہیں۔
بہارِ تازہ کے پہلو میں زندگی تجھ سے
وجودِ عشق نے پائی ہے تازگی تجھ سے
نگارِ صبح کے دامن میں روشنی تجھ سے
آپ کے اِسم سے قائم ہیں یہ کونین ابھی
نعت گویا ہے اک کمالِ ُنور
چٹک اُٹھے کوئی ُغنچہ شکستہ ڈال کے ساتھ
ڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیم
وہبی نعت گو از عباس عدیم قریشیعباس عدیم قریشی
الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیّد المرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد قادرِ مطلق اپنے کچھ خاص بندوں میں کچھ خاص صلاحیتوں کے جوہر رکھ کر اپنی صفتِ خاص ’’وہاب‘‘ کی خاص تجلیات سے ان کی آبیاری فرماتا ہے اور کسی خاص اور معین وقت (جس کی مصلحت اور مشیت سے یقینا وہ خود ہی واقف ہے) پر ان صلاحیتوں کو اظہارو نمود کا اذن عطا فرماتا ہے اور عالم کسب کو ورطۂ حیرت و استعجاب میں ڈال دیتا ہے۔ سو اس تناظر میں آپ تصور فرمائیے کہ وہ قادر و وہاب رب العالمین جل مجدہ اپنے کسی بندے میں قوتِ ناطقہ کے خاص جواہر میں سے حمد و نعت گوئی کے خاص اوصاف رکھ کر اپنے خاص اسم ’’وہاب‘‘ کی تجلیات کے فیضان سے نوازے اور بعد ازاں ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کی عملی اور حرکی تفسیر کا حصہ بنا دے تو اس کی خوش بختی کا کیا اندازہ کیا جا سکتا ہے؟ قارئین کرام! سیّد مقصود علی شاہ صاحب ایسے ہی چنیدہ خوش بختوں میں سے ہیں جنہیں قدرت نے رسالت مآبﷺ کی مدح کے لیے خاص کیا اور انہیں حمد و نعت گوئی کی یہ صلاحیت کسبی نہیں بلکہ وہبی طور پر نہایت فراخ دلی کے ساتھ عطا فرمائی ہے۔ وہ اپنے قلب و روح، فکر و نظر اور قلم و قرطاس کے ساتھ ہمہ وقت مطافِ عشق رسولﷺ میں اس طور محو طواف ہیں کہ ان کا ہر طواف نعت افزا ہے۔ آخر میں دعا گو ہوں کہ ’’مطافِ حرف‘‘ بارگاہ رسالت پناہﷺ میں مزید شرف یابیوں اور سعادتوں کے حصول کا باعث ہو۔ اللہ جل مجدہ الکریم صلاحیتوں میں عمر اور علم کے ساتھ مزید برکات عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامینﷺ عباس عدیم قریشی (خانیوال) مبہوت کر دینے والی شاعری از اشفاق احمد غوری(قومی سیرت ایوارڈ یافتہ) الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیّد المرسلین مقصود علی شاہ صاحب سے میری پہلی ملاقات برقی ذریعۂ ارتباط سے اس وقت ہوئی جب وہ مدینہ منورہ میں گنبدِ خضریٰ کے حسین منظر سے قلب و نظر کو حیات آفرین ٹھنڈک پہنچا رہے تھے۔ اگرچہمقصود علی شاہ سے تعلق کی عمر محض اڑھائی ماہ ہے لیکن در حقیقت ہم نے اس مختصر عرصہ میں صدیوں کا سفر طے کیا ہے یعنی یہ اڑھائی ماہ کا تعلق کئی طویل مدتی تعلقات پر بھاری ہے۔
دل دھڑکتا ہے مگر جانے کی ّہمت ُچپ ہے
مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت ُچپ ہے
اور معراج سے آگے کی حقیقت ُچپ ہے
وہ تیرا روئے منور علاجِ کربِ درود ………
مرے کریم یہ تیرے غلام، حاضر ہیں ………
رفیع مرتبے، اعلیٰ مقام حاضر ہیں دعا ہے کہ اللہ رب العزت مقصود علی شاہ کی اوّلین کاوش ’’مطافِ حرف‘‘ کو کلامِ سعدی و جامی جیسی شہرت اور کلامِ بوصیری جیسی قبولیت عطا فرمائے۔ آمین (قومی سیرت ایوارڈ یافتہ) مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت ُچپ ہے از مقصود علی شاہmaqsoodshah105@gmail.com Whatsapp: 00447506748986
مطافِ حرف آپ کے پاس ہے۔ نہیں بلکہ میرے مکرم بھائی، اُستاد اور محسن ممتاز نعت گو اشفاق احمد غوری صاحب کہا کرتے ہیں ’’ہم نعت کے سامنے پیش و حاضر ہوتے ہیں۔ نعت لکھنا یا پڑھنا تو تنِ احساس میں روح کے موجود ہونے کا استعارہ ہے۔‘‘ قارئینِ محترم! یہ چند نعتیں محض اور محض ربِ کریم کا ایک بندۂ عاجز پر، بغیر کسی استحقاق کے احسان ہے، یہ محض اور محض کریم آقاﷺ کی ایک درماندہ و بے مایہ اُمتی پر، بغیر کسی استحقاق کے، عطا ہے۔ رب و محبوبِ رب… کریم ہیں۔ کرم ان کو زیبا ہے… سو کرم ہو گیا… الحمدللہ والصلواۃ والسلام علیٰ رسول اللہ۔ اظہارِ تشکر کے لئے اپنی تنگ دامانی کا احساس ہے… ’’مطافِ حرف‘‘ کو بطورِ کلام، اپنے حرفوں کے ذریعے اعتبار عطا کرنے والے… جناب ڈاکٹر ریاض مجید، جناب صبیح رحمانی، جناب محمد اجمل نیازی، جناب راجہ رشید محمود، جناب خورشید بیگ میلسوی، جناب ڈاکٹر ظفراقبال نوری، پیر ڈاکٹر ابوالحسن محمد شاہ الازہری، جناب سیّد نور الحسن نور (انڈیا)، جناب اشفاق احمد غوری، جناب علامہ ڈاکٹر شہزاد مجددی، جناب ڈاکٹر پروفیسر احمد ندیم، جناب سرور حسین نقشبندی، جناب رضا الدین صدیقی، جناب سید فاضل میسوری (انڈیا)، جناب عباس عدیم قریشی، جناب میرزا امجد رازی اور جناب نور محمد جرال سمیت سوشل میڈیا کے وہ تمام خواتین و حضرات جو کم و بیش ایک سال سے ہر روز میری ایک نعت شریف پر اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ میرے شکریے کے اوّلیں مستحق ہیں۔ میری مادرِ علمی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ (بھیرہ شریف) کے جملہ اساتذۂ گرامی اور طلبہ ساتھی بالخصوص میرے بھائی احمد نواز حجازی (خوشاب)، میرے بے حد عزیز دوست ثنااللہ خان (پشاور)، جہانداد منظر القادری (کراچی)، عصمت حنیف اعوان، ظہیر باقر بلوچ، میرے بھائی میاں امیر اکبر شاہ میانہ، میاں عرفان علی شاہ میانہ اور میاں اظہر قیوم شاہ میانہ کے لئے میرے جذباتِ اظہار و محبت اور سب کے لئے سلامتی کی دُعائیں۔ کتاب کی طباعت کے حوالے سے میرے دوست زاہد محمود زاہد، حمدان خالد اور التمش مبین کی خدمات کو خراجِ تحسین۔ میرا یہ اولیں مجموعہ نعت ’’مطافِ حرف‘‘میرے مرحوم بھائی میاں مظہر قیوم شاہ کی روح کے ایصالِ ثواب کے لئے ہے۔ اللہ پاک انہیں کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے۔ آمین مورخہ 20 جون 2019ء حمد باری تعالیلفظ میں تاب نہیں، حرف میں ہمت نہیں ہے لائقِ حمد، مجھے حمد کی طاقت نہیں ہے
اک نہایت ہے مگر جس کی نہایت نہیں ہے
ایسی جلوت ہے کہ مابعد بھی خلوت نہیں ہے
اس سے آگے تو مری کوئی حقیقت نہیں ہے
خوب معلوم ہے شایانِ رسالتؐ نہیں ہے
ایک بھی حرف بغیر اذن و اجازت نہیں ہے
حرف رنگوں میں ڈھلیں اس میں بھی حیرت نہیں ہے بابِ کرم کے سامنے اِظہار دم بخُودبابِ کرم کے سامنے اِظہار دم بخُود پُورا وجودِ نُطق ہے سرکار دم بخُود
پھر کیوں نہ ہُوں مَیں صورتِ دیوار دم بخُود
خواہش بہ دید دیدۂ بیدار دم بخُود
اے حاصلِ طلب ترے آنے کی دیر ہے دل کی ہے کب سے حسرتِ دیدار دم بخُود
تُو اذن دے تو تشنہ لبی خیر پا سکے کاسہ بہ کف ہیں سارے طلبگار دم بخُود
توبہ نصیب لوگوں کا ہے تجھ سے واسطہ تیری رضا طلب ہیں گنہ گار دم بخُود
مقصود اُن کی یاد کے بادل برس پڑے تھے دشتِ دل کے سارے ہی اشجار دم بخُود خیالِ خام لئے، حرفِ نا تمام لئےخیالِ خام لئے، حرفِ نا تمام لئے گدائے شوق ہے حاضر فقط سلام لئے
کہ دستِ ساعتِ تسکیں نے بڑھ کے تھام لئے
سوال جیسے بھی تھے ہم نے تیرے نام لئے
کہاں کہاں لئے پھرتا انہیں غُلام لئے
ابھی تھے حرف نے مشکل سے چار گام لئے
کھڑا ہوں اپنی ہتھیلی پہ ایک شام لئے
ابھی تھے خواب نے دستِ عطا سے جام لئے انداز لگ رہے ہیں مرے خوش خرام کےانداز لگ رہے ہیں مرے خوش خرام کے جاگیں گے آج رات مقدر خیام کے
ہیں رنگ دیدنی در و دیوار و بام کے
خیر الانام کے سبھی، خیر الا نام کے
جوبن پہ ہیں کلام ترے اس غلام کے
یہ مہر و ماہ و نجم تو روشن ہیں نام کے
کتنے وقیع ذوق ہیں مجھ ایسے عام کے
تذکارِ نُور ہیں مرے ماہِ تمام کے
وقفِ ثنائے خواجہ ہے ہر لمحۂ حیات مربوط سلسلے ہیں مرے صبح و شام کے
وردِ زبانِ شوق رہیں عمر بھر تمام مقصود جتنے حرف ہیں اُس پاک نام کے حُسنِ بے مثل کا اِک نقشِ اُتم ہیں، واللہحُسنِ بے مثل کا اِک نقشِ اُتم ہیں، واللہ آپ کے نقشِ قدم، رشکِ اِرَم ہیں، واللہ
آپ تو شانِ عطا، جانِ کرم ہیں، واللہ
آپ ہی صاحبِ توفیق و نِعَم ہیں، واللہ
خَلق کے حیطۂ اظہار تو کم ہیں، واللہ
آپ کے ہوتے ہوئے کون سے غم ہیں، واللہ
دل بھی تعجیل میں ہیں، آنکھیں بھی نم ہیں، واللہ
آپ کی رحمتِ بے پایاں کے یَم ہیں، واللہ
آپ کی زُلفِ طرحدار کے خَم ہیں، واللہ
سَر کشیدہ بھی ترے آگے تو خَم ہیں، واللہ
جن کو غفران کا مژدہ ہے وہ ہم ہیں، واللہ قبائے عجز میں سہمے ہوئے سوال کے ساتھقبائے عجز میں سہمے ہوئے سوال کے ساتھ حضور نعت ہُوں لایا نئے خیال کے ساتھ
چٹک اُٹھے کوئی غُنچہ شکستہ ڈال کے ساتھ
جو اذن ہو تو لکھوں نعت اب دھمال کے ساتھ
کہ ربط رکھتے ہیں تجھ سے وہ خوش خصال کے ساتھ
سو اُس کی نعت ہو اُس کے ہی خدّ و خال کے ساتھ
مَیں جی رہا ہُوں سخی کے ہی اُس نوال کے ساتھ
یہ کام قال سے ممکن ہے اور نہ حال کے ساتھ شافعِ روزِ جزا،والئ جنت تُو ہےشافعِ روزِ جزا، والئ جنت تُو ہے معدنِ جود و عطا ، قاسمِ نعمت تُو ہے
مانتا ہوں کہ ہے عصیاں کا تسلسل قائم مطمئن ہوں کہ سدا مائلِ رحمت تُو ہے
نَکہت و رنگ کو ہے نسبتِ گُل کی حاجت یعنی معراج تھی حیرت، پسِ حیرت تُو ہے
ترے اوصاف و کمالاتِ حمیدہ، واللہ حمد کے رنگ میں لکھی گئی مدحت تُو ہے
نُور کے سارے مناظر ہیں ترا عکسِ جمیل رنگ کے سارے حوالوں کی علامت تُو ہے
ابتدا خَلقِ دو عالَم کی ہُوئی تیرے سبب شوکتِ وحی و نبوت کی نہایت تُو ہے
وہ جو تحذیر میں در آتی تھی تبشیر کی بات وہ جو تھی آتی چلی آئی بشارت، تُو ہے
جیسے ہے مولا علی کے لئے تُو جانِ صلاة ویسے صدیق کی نظروں کی تلاوت تُو ہے
آسماں رشک سے تکتا ہے ترا شہرِ کرم کہ زمیں زاد مقدر کی جو قسمت تُو ہے
معنئ وحئ “ رَفَعنَالَکَ ذِکرَک “ واضح اَوجِ بے حد پہ لکھی آیۂ رفعت تُو ہے
جادۂ حرف و معانی پہ ترے پاؤں کی دھُول حرف میں رنگ ترے، معنیٰ میں نُدرت تُو ہے
آپ کے نور کا اظہار ہے “ کُلُّ شئی ” سے سب ترا عکسِ حقیقت ہے، حقیقت تُو ہے
کاسۂ فکر میں رہتی ہے ترے اِسم کی بھیک مرے اشعار کی اُونچی قد و قامت تُو ہے
پھر سے مقصود کو ہو اذنِ سفر کا مژدہ حاصلِ حرفِ دُعا، قاسمِ بہجت تُو ہے کیسے لکھ پائیں تری مدحتِ نعلین ابھیکیسے لکھ پائیں تری مدحتِ نعلین ابھی دیدۂ حیرت و حسرت کے ہیں مابین ابھی
آپ کے پائے مبارک کے یہ نوری جوڑے جیسے جُڑ جائیں گے شرقین سے غربین ابھی
کِس کو معلوم تری شوکتِ معراج کی رمز خَلق تو سمجھی نہیں معنئ قوسین ابھی
قریۂ جاں میں اچانک تری خوشبو مہکی شاید آئے ہیں کہیں سے ترے حسنین ابھی
آپ کے نور سے منجملہ یہ تخلیق ہوئے آپ کے اسم سے قائم ہیں یہ کونین ابھی
لمحۂ دید کا حاصل ہیں زمانے سارے ایک منظر پہ رُکی ہیں مری عینین ابھی
پورے احساس میں مقصود یہ رنگوں کی پھوار چمنِ دل میں یہ کھِلتے ہوئے شفتین ابھی بارگۂ جمال میں خواب و خیال منفعلبارگۂ جمال میں خواب و خیال منفعل تابِ سُخن ہے سر بہ خم، شوقِ وصال منفعل
پہلے تو خوب زور تھا عرضِ نیازِ دید کا تیرےحضور آ کے ہے صورتِ حال منفعل
کاسۂ حرفِ عجز میں تاب و تبِ سُخن کہاں دستِ عطا کے سامنے جود و نوال منفعل
لالہ و گُل کے ساتھ ساتھ سبزہ و ڈال منفعل
جذبِ بیانِ حُسن کے سارے کمال منفعل
صوتِ جواب مضمحل، تابِ سوال منفعل
اُن کے حضور میں تو ہے نفسِ مثال منفعل
اوجِ نمودِ ناز پر طرزِ مقال منفعل شکستہ دل کو یہ کتنا بڑا دلاسہ ہےشکستہ دل کو یہ کتنا بڑا دلاسہ ہے حضور آپ کی مدحت ہی استغاثہ ہے
خبر ہے قاتلِ جاں کو، حریفِ حُرمت کو ہمارا مُرشِد و ہادی ترا نواسہ ہے
مَیں اوڑھ لیتا ہوں پورے بدن کوخیرکے ساتھ کہ تیرا نام تمازت میں اک ردا سا ہے
یہ کشتِ جاں تری رحمت شعار دید طلب یہ دشتِ دل ترے ابرِ کرم کا پیاسا ہے
تہی بہ حرف ہوں پھربھی ہوں تیرا مدح سرا خطا سرشت ہوں لیکن تمھاری آسا ہے
نواز دیتے ہیں مجھ سے بھی بے نوا کو وہ مرے کریم کی بخشش کا یہ ہی خاصہ ہے
بس ایک حرف جو اُس کےکرم کےشایاں ہو کتابِ زیست کا اتنا سا ہی خُلاصہ ہے
گُلوئے عجز میں نعتوں کا طوق ہے مقصود سو مطمئن ہوں کہ بھاری مرا اثاثہ ہے بجا کہ حرفِ شکستہ ہے یہ دعا میریبجا کہ حرفِ شکستہ ہے یہ دُعا میری ترے کرم سے تو باہَر نہیں خطا میری
رواں دواں ہے مدینے کو التجا میری
یہیں کہیں پہ مدینہ میں ہو گی جا میری
بھٹک نہ جائے کہیں فکرِ بے ردا میری
دُعا، اگرچہ تھی بے رنگ و بے ضیا میری
سرہانے آ کے کھڑی ہے مرے، قضا میری
وگرنہ کون تھا صورت جو دیکھتا میری
سنے گا بہرِ محمدﷺ ، مرا خُدا ، میری
یہاں سے بھی یوں ہی سنتے ہیں مصطفی، میری
رکھی ہے قدموں میں اب نعتِ نارسا میری مری طلب تو مری فکرِ نارسا تک ہےمری طلب تو مری فکرِ نارسا تک ہے یہ حرف و معنیٔ مدحت تری عطا تک ہے
مری خطا بھی تو آخر مری خطا تک ہے
تو اذن دے، انہیں جانا تری ثنا تک ہے
خجل ضرور ہوں، نامطمئن نہیں ہوں مَیں کہ سلسلہ تری بخشش کا انتہا تک ہے
حسینؑ ایسے نہیں آیا کربلا تک ہے
خرد تو محوِ سفر پہلے نقشِ پا تک ہے
کرم ہوا ہے کہ یہ سلسلہ گدا تک ہے زمینِ حسن پہ مینارہء جمال ہے توزمینِ ُحسن پہ مینارۂ جمال ہے ُتو مثال کیسے ہو تیری کہ بے مثال ہے ُتو
ورائے فہم ہے ُتو اور پسِ خیال ہے ُتو
جہانِ ماضی ہے ُتو اور جہانِ حال ہے ُتو
مطافِ حرف ہے ُتو، قبلۂ مقال ہے ُتو
نگارِ عصر کی تسبیحِ ماہ و سال ہے ُتو
مری طلب، مرا کاسہ، مرا سوال ہے ُتو
یہ حرف و صوت، یہ اسلوب، یہ خیال ہے ُتو
کرم ہے شہ کا تہہِ دستِ با کمال ہے ُتو حروفِ عجز میں لپٹے ہوئے سلام میں آحروفِ عجز میں لپٹے ہوئے سلام میں آ اے میری خواہشِ باطن مرے کلام میں آ
بس ایک لمحے کو تو حیطۂ خرام میں آ
تو میرے عجز گھروندے کی ڈھلتی شام میں آ
تو آ، زمانوں کے والی، مرے خیام میں آ
اے ُحسنِ تام، مرے شوقِ نا تمام میں آ
مدینے والے ُتو پھِر مسجدِ حرام میں آ
وہ تیرا خاص نہیں ہے، ُتو اپنے عام میں آ رات کے ساتھ ہی جل اٹھتے ہیں طلعت کے چراغرات کے ساتھ ہی جَل اُٹھتے ہیں طلعت کے چراغ حرف بنتے ہی چلے جاتے ہیں مدحت کے چراغ
جیسے ادراک میں رکھ دے کوئی حیرت کے چراغ
یا نبی بھیج کوئی پھر سے خلافت کے چراغ
قبر میں ساتھ لیے جاتا ہوں مدحت کے چراغ
ثور کی کوکھ میں رکھے ہوئے ہجرت کے چراغ
جس کی دہلیز پہ روشن ہیں عقیدت کے چراغ
میری آنکھوں میں ہیں مقصودؔ محبت کے چراغ یہ میم نور سے دالِ کمال باندھنا ہےیہ میمِ نور سے دالِ کمال باندھنا ہے جہانِ شعر میں کیا بے مثال باندھنا ہے
کہ مَیں نے نعتِ نبی کا خیال باندھنا ہے
مَیں سوچتا رہا کیسا سوال باندھنا ہے
حروف نے تو ابھی عرضِ حال باندھنا ہے
کرم ہوا کہ سفر اب کے سال باندھنا ہے
حجابِ قال سے اب کشفِ حال باندھنا ہے
کہ مَیں نے نور سے نعتوں کا جال باندھنا ہے کوئی بھی حرف سپردِ قلم نہیں کیا ہےکوئی بھی حرف سپردِ قلم نہیں کیا ہے کہ تیرے نام کو جب تک رقم نہیں کیا ہے
کریم نے بھی سپردِ ستم نہیں کیا ہے
جنوں نے دید کے منظر کو خم نہیں کیا ہے
سوال ہم نے بھی کچھ بیش و کم نہیں کیا ہے
پسِ حجاب بھی آنکھوں کو نم نہیں کیا ہے
خیال و خواب کو وقفِ ارم نہیں کیا ہے
مرے کریم نے کیا کیا کرم نہیں کیا ہے
زمانہ گرچہ ہے بے طرح سے عدو، لیکن تمھارے ہوتے ہوئے کوئی غم نہیں کیا ہے
عطا و اذن سے نعتِ نبی لکھی مقصودؔ تکلفاً کوئی مصرع بہم نہیں کیا ہے بس ایک حاصلِ خواب و خیال سامنے تھابس ایک حاصلِ خواب و خیال، سامنے تھا مدینہ، شہرِ جمال و کمال، سامنے تھا
وجود پورا مجسم سوال سامنے تھا
وہ ُحسنِ تام بہ حد کمال سامنے تھا
تو شہرِ جود و عطا و نوال سامنے تھا
مَیں ایک برگ بُریدہ سی ڈال سامنے تھا
کریم سامنے تھا، خستہ حال سامنے تھا
کہ بحرِ نعت کے تشنہ مقال سامنے تھا لب بستہ قضا آئی تھی دم بستہ کھڑی ہےلب بستہ قضا آئی تھی، دَم بستہ کھڑی ہے کونین کے والی ترے آنے کی گھڑی ہے
بخشش ہے کہ چپ چاپ ترے در پہ پڑی ہے
تقدیر مگر تیری شفاعت سے ُجڑی ہے
زُلفیں ہیں کہ رنگوں کی ضیا بار جھڑی ہے
واللہ تری آن بڑی، شان بڑی ہے
کٹ جائے گی یہ ہجر کی شب، گرچہ کڑی ہے نور کے حرف چنوں رنگ کا پیکر باندھوںنور کے حرف ُچنوں، رنگ کا پیکر باندھوں نعت لکھنی ہو تو مہر و مہ و اختر باندھوں
آنکھ کے موتی کو جبریل کے پَر، پر باندھوں
نور کے سارے حوالوں کو مکرّر باندھوں
مَیں ترا اسم کہیں بوسے کے اندر باندھوں
بہرِ تفہیم اسے عرش کے اوپر باندھوں
تاجِ نعلین جو مِل جائے تو سَر پر باندھوں چمنِ فکر میں مہکا گلِ خنداں چہرہچمنِ فکر میں مہکا ُگلِ خنداں چہرہ راحتِ قلبِ تپاں ، شوقِ نگاراں چہرہ
نور کے سارے حوالوں سے ہے تاباں چہرہ
اور اس دردِ مسلسل کا ہے درماں ، چہرہ
مر ہی جاؤں جو رہے مجھ سے ُگریزاں چہرہ
ایک اک حرف سے ہوتا ہے نمایاں چہرہ
نور کی ساری کہانی کا ہے عنواں چہرہ
نور کے پردوں سے آگے تھا فروزاں چہرہ
اُمّتی تیرے لئے کیوں ہے پریشاں چہرہ
پڑھتا رہتا ہوں مَیں مقصودؔ وہ قرآں چہرہ اذن ہو جائے تو تدبیر سے پہلے لکھ لوںاذن ہو جائے تو تدبیر سے پہلے لکھ لوں نعت کے نور کو تنویر سے پہلے لکھ لوں
مَیں ترے خواب کو تعبیر سے پہلے لکھ لوں
مَیں ترے نام کو تحریر سے پہلے لکھ لوں
کیا تری زلف کو تفجیر سے پہلے لکھ لوں
کہ معافی کو مَیں تقصیر سے پہلے لکھ لوں
حرفِ تبشیر کو تنذیر سے پہلے لکھ لوں لفظ خاموش ہے اور دیدہء حیرت چپ ہےلفظ، خاموش ہے اور دیدۂ حیرت ُچپ ہے مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت ُچپ ہے
دل دھڑکتا ہے مگر جانے کی ہمت ُچپ ہے
ورنہ یہ نعت ہے اور ساری بلاغت ُچپ ہے
جذب و اظہار تو دیوار کی صورت ُچپ ہے
چہرۂ مصحفِ زندہ کی تلاوت، ُچپ ہے
اور معراج سے آگے کی حقیقت ُچپ ہے
ایک پتھرائی ہوئی آنکھ ہو جیسے خاموش مرے احساس کی مقصودؔ عقیدت ُچپ ہے نور کے اوٹ کے مابعد زیارت ہو جائےنور کی اوٹ کے مابعد زیارت ہو جائے یا نبی خواب دریچے پہ عنایت ہو جائے
اذن ہو جائے تو لکنت مری مدحت ہو جائے
چاہتا ہوں کسی صورت تری صورت ہو جائے
دید کے رنگ کھِلیں، یاد کی نکہت ہو جائے
ساعتِ دید ہی بس دیدۂ حیرت ہو جائے
عرض ہے اے مرے محبوب، اجازت ہو جائے
وہ اگر چاہیں تو مقصودؔ حقیقت ہو جائے حروفِ عجز برائے سلام حاضر ہیںحروفِ عجز برائے سلام حاضر ہیں مرے کریم یہ تیرے غلام حاضر ہیں
ہم ایسے خواب گروں کے سلام حاضر ہیں
جو صبح اذن نہ پائے وہ شام حاضر ہیں
ترے حضور میں سب خاص و عام حاضر ہیں
تری جناب میں سارے امام حاضر ہیں
رفیع مرتبے، اعلیٰ مقام حاضر ہیں
مِرے قعود و سجود و قیام حاضر ہیں
دل و نگہ کے یہ خستہ خیام حاضر ہیں
غلام، جن میں ہے مقصودِؔ خام حاضر ہیں کبھی سناؤنگا آقا کو اپنا بردہء دلکبھی سُناؤں گا آقا کو اپنا بُردۂ دل سجا کے رکھتا ہوں شب بھر مَیں اپنا غُرفۂ دل
کسی کے دستِ اماں میں ہے میرا غنچۂ دل
مَیں تھام لوں ذرا ہاتھوں میں اپنا خامۂ دل
مرے ُخدا کوئی مجھ پر اُتار صیغۂ دل
شمار کرتا ہُوں مَیں بھی ہر ایک لمحۂ دل
یہ جانتا ہُوں مَیں پہلے سے اپنا قصۂ دل
حضور، قدموں میں آیا ہوں لے کے ہدیۂ دل
کہیں سے ُٹوٹنے لگتا ہے جب بھی شیشۂ دل
جھکا ہوا ہے ترے در پہ میرا کاسۂ دل
بسا لوں پہلو میں چھوٹا سا اِک مدینۂ دل دعا کے حرف میں بحرِ عطا میں رہتی ہےدُعا کے حرف میں، بحرِ عطا میں رہتی ہے کہ نعت زیست ہے دستِ ُخدا میں رہتی ہے
وہ زندگی جو ترے نقشِ پا میں رہتی ہے
عطائے خاص جو حرفِ ثنا میں رہتی ہے
ہر ایک شب ترے خوابِ لقا میں رہتی ہے
بکھر کے اور زیادہ فضا میں رہتی ہے
یہ خوئے شوق ترے ہر گدا میں رہتی ہے
قضا کے بعد بھی وقتِ ادا میں رہتی ہے
یہ روشنی ہے، کفِ نا رسا میں رہتی ہے
اسی سفر کی لگن ہر ادا میں رہتی ہے حضور توبہ طلب ہوں سخن ہے لرزیدہحضور توبہ طلب ہوں، ُسخن ہے لرزیدہ خطا سرشت کا پورا بدن ہے لرزیدہ
سو قبر جھوم رہی ہے، کفن ہے لرزیدہ
قلم بہ دست مرا سارا فن ہے لرزیدہ
کہ جیسے مِہر کی ہر اک کرن ہے لرزیدہ
حضور عرض کناں ہوں جتن ہے لرزیدہ
سخن سرا ہیں عنادل، چمن ہے لرزیدہ
وجود سر بہ گریباں ہے، مَن ہے لرزیدہ عیسوی سال کو جب پانچ سو ستر اتراعیسوی سال کا جب پانچ سو ستّر اُترا رات کے پچھلے پہر نور کا پیکر اُترا
وہ مری روح میں ڈھل کر مرے اندر اُترا
وہ محمدﷺ ہے مرے لب پہ مکرّر اُترا
اُفقِ دید پہ حیرت زدہ منظر اُترا
یہ ترا دست عطا ہے کہ برابر اُترا
وہ ابھی زہن میں آیا تھا کہ دل پر اُترا
وہ مگر قریۂ احساس سے اوپر اُترا نظر نظر میں رہا ہے نظر نظر سے فزوںنظر نظر میں رہا ہے، نظر نظر سے فزوں وہ تیرا روئے منور، علاجِ کربِ دروں
مَیں نعت کہنا تو چاہوں، کہوں تو کیسے کہوں
اُتار لمحۂ تسکیں بہ رنگِ حرفِ سکوں
خیال و فکر کی دُنیائیں تیرے آگے نگوں
تو حکم دے تو میں ٹھہروں، اشارہ دے تو چلوں
لبوں سے چوم نہ پاؤں، قلم سے لکھ نہ سکوں
مدینہ سامنے آئے تو مَیں رہوں، نہ رہوں
جو لمحہ لمحہ جیوں مَیں تو سانس سانس مروں کمالِ عجز سے ہے عجزِ باکمال سے ہےکمالِ عجز سے ہے، عجزِ باکمال سے ہے یہ نعت ہے، یہ عقیدت کے خدو خال سے ہے
مری بھی نسبتِ نوکر انہی کی آل سے ہے
عطا کا واسطہ عرضی سے ہے نہ حال سے ہے
جو رنگ و نکہتِ ُگل کو وجودِ ڈال سے ہے
گزارا جب سے ترے ریزۂ نوال سے ہے
بس ایک عرض ہے جو صیغۂ نڈھال سے ہے
سوال میرا بجا طور پر سوال سے ہے
یہ جذبِ حال سے ممکن نہ حرفِ قال سے ہے
معاملہ مرا تجھ جیسے لاج پال سے ہے
بلاوا آیا مجھے قریۂ جمال سے ہے آنکھ کو منظر بنا اور خواب کو تعبیر کرآنکھ کو منظر بنا اور خواب کو تعبیر کر اے دلِ مضطر مدینے کا سفر تدبیر کر
اِذن ہو جائے تو پھر ہر حرف کو تنویر کر
شعر کے شب زاد میں مدحت کی اک تفجیر کر
یہ مدینہ ہے یہاں سانسوں کو بھی زنجیر کر
ایک ہی تصویر ہے اس دل کو دیکھیں چیر کر
آ کبھی حسنِ مکمل مجھ کو بھی نخچیر کر
میں تصور باندھتا ہوں تو اسے تصویر کر
دل کے یثرب میں مدینہ سا نگر تعمیر کر وحشتِ قریہء دل میں کوئی طلعت ہو جائےوحشتِ قریۂ دل میں کوئی طلعت ہو جائے یا نبی خواب دریچے پہ عنایت ہو جائے
اب یہ حیرت ہو مدینہ مری قسمت ہو جائے
آج پھر چہرۂ قرآں کی تلاوت ہو جائے
اذن مل جائے تو تدبیر کو حیرت ہو جائے
مطلعِ نعت اگر آیۂ رفعت ہو جائے
موسمِ دل کو تری خاک سے نسبت ہو جائے
ان کے نعلین کی موہوم زیارت ہو جائے
خامہ و نطق سے پہلے تری مدحت ہو جائے
کیا خبر خواب سفر پھر سے حقیقت ہو جائے ہوگئے نطق کے پیرایہء اظہار تمامہو گئے ُنطق کے پیرایۂ اِظہار تمام حد سے باہَر ہی رہے آپ کے انوار تمام
خود ہی اقرار میں ڈھل جاتے تھے انکار تمام
آپ کے ذِکر سے کھِل اُٹھتے ہیں بیمار تمام
آپ کے آنے کے ہوتے ہیں یہ آثار تمام
کِس قدر صادق و صابر ہیں ترے یار تمام
در ہی بن جائے گی تقدیر کی دیوار تمام
بہرِ ترحیب ہیں یہ ثابت و سیّار تمام
رنگ بردار ہیں یہ آپ سے ُگلزار تمام
آ کے بیٹھے ہیں ترے در پہ گنہگار تمام
آنے کو آتے رہے ناصح و غمخوار تمام
سر خمیدہ ہیں ترے سامنے سردار تمام
صبحِ توفیق کو ملتا رہے دیدار تمام
پھول بن بن کے کھِلے جاتے ہیں اشعار تمام خامہء نور سے خیالِ نورخامۂ نور سے خیالِ نور نعت گویا ہے اِک کمالِ نور
آیتیں ہیں تری خصالِ نور
ساتھ رہتا ہے وہ مآلِ نور
تیری زُلفوں کی کب مثالِ نور
زُلف و رُخ میں تھا اتصالِ نور
میم سے متَّصِل وہ دالِ نور
نور پرور وہ خدّ و خالِ نور
تیرے شانوں پہ رکھی شالِ نور
جھَڑ رہے تھے عجب مقالِ نور
مِل رہا ہے ہمیں نوالِ نور
تیرا شیریں ُگلو بلالِ نور
سارا منظر ہوا نہالِ نور
نور کا نور سے وصالِ نور
دل میں رکھتا ہوں حُبِّ آلِ نور زیست کا لمحہء پر کیف ہے کعبے کا طوافزیست کا لمحۂ ُپر کیف ہے کعبے کا طواف حاصلِ عمرِ رواں ہے ترے کو چے کا طواف
دل کو کرنا تھا ابھی تیرے مدینے کا طواف
دشتِ طیبہ کے مہکتے ہوئے کانٹے کا طواف
صبح پھر کرتی رہی ایک ہی لمحے کا طواف
شعر خود کرتے ہیں ہر صیغہ و لہجے کا طواف
لب پہ رہتا ہے اِسی ایک وظیفے کا طواف
کیا عجب کیف میں مقصودؔ تھا جذبے کا طواف میں کم طلب ہوں پہ شانِ عطا تو کم نہیں ہےمَیں کم طلب ہوں پہ شانِ عطا تو کم نہیں ہے حضور آپ کے ہوتے ذرا بھی غم نہیں ہے
وہ دِل نہیں جو تری بارگہ میں خَم نہیں ہے
جو تیری نعت نہ لکھتا ہو وہ قلم نہیں ہے
تمام رشکِ اِرَم ہے فقط اِرَم نہیں ہے
کچھ اِس طرح کا تو منظر کہیں بہم نہیں ہے
ہے کون ایسا کہ جس پر ترا کرم نہیں ہے
اُس ایک اِسم کے مابعد کچھ رقم نہیں ہے
غلام زادے کی نسبت میں کوئی خَم نہیں ہے امکان جس قدر میرے صبح و مسا میں ہےامکان جس قدر مرے صبح و مسا میں ہیں شکرِ خدا کہ سارے حریمِ ثنا میں ہیں
منظر نظر نواز ترے نقشِ پا میں ہیں
احساس ہُوبہُو وہی بادِ صبا میں ہیں
تسکیں کے سلسلے ترے خوابِ لقا میں ہیں
اِذنِ کرم میں ہیں، ترے دستِ عطا میں ہیں
صحنِ بقا میں ہیں، کبھی دشتِ فنا میں ہیں
سب چشمہ ہائے خیر ہی جس کی رضا میں ہیں ہم سزاوار ایسے کب ہوئے ہیںہم سزاوار ایسے کب ہوئے ہیں تیرے الطاف بے سبب ہوئے ہیں
اُن کی مرضی ہوئی ہے تب ہوئے ہیں
ہم سوالی ہی کم طلب ہوئے ہیں
ترے ہونے سے جیسے سب ہوئے ہیں
بچ رہے ہم کہ با ادب ہوئے ہیں
تذکرے یوں تو روز و شب ہُوئے ہیں
حوصلے پھر سے جاں بہ لب ہوئے ہیں
ہم بھی مقصودؔ کچھ عجب ہوئے ہیں حصارِ خیر میں رکھی رہیں صدائیں سبحصارِ خیر میں رکھی رہیں صدائیں سب عطائیں ساتھ اُڑا لے گئیں دُعائیں سب
یہیں دھرے کی دھری رہ گئیں خطائیں سب
وہ ٹال دیتے ہیں جتنی بھی ہوں بلائیں سب
وجودِ ُحسن میں تاباں تری ادائیں سب
سو رہگذار میں بکھری تھیں کہکشائیں سب
وِداع کے پاؤں سے لپٹی تھیں انتہائیں سب
حضوؐر آپ کا گھر ہے تو کیوں نہ کھائیں سب
کہ زُلفِ نور سے وارد ہوئیں ضیائیں سب
کہ آ رہی ہیں مدینے سے ہی ہوائیں سب ردائے شوق میں مدحت کے تار بن مرے دلردائے شوق میں مدحت کے تار ُبن، مرے دل گدائے شہرِ سخن ہوں، مری بھی سُن، مرے دل
رہے سوار ہمیشہ ثنا کی دُھن، مرے دل
یہ شعر ہیں انہیں پلکوں سے جا کے ُچن، مرے دل
سو نعت ہوتی ہے کہتے ہیں جب وہ ُکن، مرے دل
نہیں ہے اس کے سوا کوئی مجھ میں ُگن مرے دل
شعور کو کہیں لگ ہی نہ جائے ُگھن، مرے دل
ملا ہے عشقِ رسالت کا تجھ کو ہُن مرے دل
بہ سوئے شاہ نظر کن و غم ُمکن، مرے دل
ہے ’’اُن سے عشق‘‘ میں جیسا مقامِ اُن، مرے دل
انہی کا کھاتا ہوں گاتا ہوں جن کے ُگن مرے دل
سو اپنے دیپ جلا، اپنے خواب ُبن، مرے دل زیست گھبرائی ہے شرمائی ہے لہرائی ہےزیست گھبرائی ہے، شرمائی ہے، لہرائی ہے کوئی پیغام مدینے سے صبا لائی ہے
روح بھی جسم کے آنگن میں نکل آئی ہے
حیطۂ شوق میں وہ زُلف جو لہرائی ہے
دل فقط مدحِ محمدﷺ کا تمنائی ہے
حسن کی آنکھ کا معبد تری زیبائی ہے
تیرے شایاں تو فقط حق نے ہی فرمائی ہے
ایک ہی رمز ہے مرشِد نے جو بتلائی ہے
بخدا دونوں سے آگے تری پہنائی ہے
یہ ہی شنوائی ہے، گویائی ہے، بینائی ہے
ہو کے طیبہ سے جو آئی ہے تو اِترائی ہے حسرتِ دیدہء نم قلبِ تپاں سے آگےحسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے مدحتِ سیدِ عالَم ہے ُگماں سے آگے
آپ ہی قبلِ عیاں، آپ نہاں سے آگے
ہو عطا نعت کوئی حرف و بیاں سے آگے
بخدا آپ مگر سارے جہاں سے آگے
تری نسبت سے ہُوا عہد و زماں سے آگے
شبِ معراج تھے وہ حدِ نشاں سے آگے
اُن کی تطبیق عبث، کس سے، کہاں سے آگے زمیں کا گوشہء حیرت ہے یارسول اللہزمیں کا گوشۂ حیرت ہے، یارسول اللہ مدینہ سارا ہی جنت ہے، یا رسول اللہ
سرشتِ شب تری مدحت ہے، یارسول اللہ
کہ نعت کہنا تو قسمت ہے، یارسول اللہ
تجھے بھی دینے کی قدرت ہے، یارسول اللہ
یہ رنگ ہے، کبھی نکہت ہے، یارسول اللہ
وہیں پہ تیری شفاعت ہے، یا رسول اللہ
کرم کرم کہ خجالت ہے، یارسول اللہ
کوئی نہیں، تری عترت ہے، یارسول اللہ
ترے کرم کی بدولت ہے، یارسول اللہ
قبول کر لیں تو مدحت ہے، یارسول اللہ چشمہء جودوسخاوت ہیں ترے گیسوۓ نورچشمۂ جود و سخاوت ہیں ترے گیسوئے نور قاسمِ نکہت و رنگت ہیں ترے گیسوئے نور
خَم بہ خَم گوشۂ حیرت ہیں ترے گیسوئے نور
حسن میں حدِّ نہایت ہیں ترے گیسوئے نور
مصدرِ عِلمِ بلاغت ہیں ترے گیسوئے نور
رشکِ صد رنگِ صباحت ہیں ترے گیسوئے نور
نعت کا مصرعۂ طلعت ہیں ترے گیسوئے نور
اوجِ رنگت میں ملاحت ہیں ترے گیسوئے نور
مظہرِ نزہت و نْدرت ہیں ترے گیسوئے نور تمازتوں میں کرم کی ٹھنڈی پھوار بطحاتمازتوں میں کرم کی ٹھنڈی پھوار بطحا اُجاڑ بنجر زمیں پہ فصلِ بہار بطحا
ہر ایک منظر کو دے رہا ہے نکھار بطحا
بہت ہی نازک مزاج ہیں تیرے خار بطحا
کہ بے قراروں کی ُتو ہے جائے قرار بطحا
فریب خوردہ جہاں کا ہے اعتبار بطحا
کہ تیرے مہماں ہیں بے عدد بے شمار بطحا
وہ یاد ہے نا عظیم ناقہ سوار بطحا
یقیں تھا میری ُسنے گا آخر پکار بطحا دعاؤں اور عطاؤں میں رابطہ تو ہےدعاؤں اور عطاؤں میں رابطہ ُتو ہے خدا و بندے کے مابین واسطہ ُتو ہے
جہانِ فہم و فراست کا ضابطہ ُتو ہے
خزاں رُتوں میں گلابوں کا تذکرہ ُتو ہے
نگارِ وقت کی زُلفوں کا سلسلہ ُتو ہے
بِکھر ُچکے تھے سبھی دشتِ دہر میں نغمے جو تھا، جو ہے، جو رہے گا وہ زمزمہ ُتو ہے
کِتابِ زیست کا تابندہ واقعہ ُتو ہے
اُتر چلا ہے جو نعتوں کا قافلہ ُتو ہے خیمہء دل میں کھلے قریہء جاں میں چمکےخیمۂ دل میں کھِلے، قریۂ جاں میں چمکے آپ کا نام نہاں اور عیاں میں چمکے
یہ الگ بات کہ وہ پورے جہاں میں چمکے
وہ بشر زاد تو ہر نور نشاں میں چمکے
کاش وہ میرے کسی شعر و بیاں میں چمکے
وہ ذرا سا بھی اگر صحنِ گماں میں چمکے
اُس کی مرضی ہے وہ جس دور، زماں میں چمکے
وہ ُگلابوں کا امیں میری خزاں میں چمکے
دل میں وہ رنگ بھرے اور زباں میں چمکے چشمِ الطاف و عنایاتِ مکرر میں ہےچشمِ الطاف و عنایاتِ مکرر میں ہے مجھ سا بے مایہ بھی اُس شہرِ تونگر میں ہے
اُس سے مانگا ہے تو اب اپنے مقدر میں ہے
حسن کا سارا کرشمہ ترے پیکر میں ہے
اور کرنوں کا تواتر ہے کہ منظر میں ہے
شکر ہے فیصلہ خود دستِ پیمبر میں ہے
خواب کا منظرِ دلکش دلِ مُضطَر میں ہے نعتِ تام کا فرمانِ مکمل واللہنعمتِ تام کا فرمانِ مکمل، واللہ آپ کا آنا ہے احسانِ مکمل، واللہ
سیرتِ ُنور ہے ُقرآنِ مکمل، واللہ
ورنہ تو زیست ہے ُخسرانِ مکمل، واللہ
حُبِّ سرکار ہے ایمانِ مکمل، واللہ
آپ ہیں اس کا بھی عنوانِ مکمل، واللہ
بس یہی ہے مرا سامانِ مکمل، واللہ
پا رہی ہے ترا فیضانِ مکمل، واللہ
آپ کو زیبا ہے ُغفرانِ مکمل، واللہ
آپ کا گھر ہے ُگلستانِ مکمل، واللہ
خارِ بطحا بھی مری جانِ مکمل واللہ سہم جاتا ہے تصور سے مگر چاہتا ہےسہم جاتا ہے تصور سے، مگر چاہتا ہے دل ترے شہرِ مدینہ کا سفر چاہتا ہے
ایک زائر تری دہلیز پہ سَر چاہتا ہے
لمحۂ عمرِ رواں پھر سے نظر چاہتا ہے
شوق بیتاب ہے، جبریل کا پَر چاہتا ہے
طائرِ جاں اُسی ماحول میں گھر چاہتا ہے
جانے والا ترے آنے کی خبر چاہتا ہے
اُس کی مدحت کا تو ہر حرف ُگہر چاہتا ہے روح بیتاب ہے اور دل ہے شکستہ آقاروح بیتاب ہے اور دل ہے شکستہ آقا اذن مِل جائے تو جا دیکھوں مدینہ آقا
آپ نے نام دیا، آپ نے تھاما آقا
اِذن ملتے ہی یہ دل خوب ہے دھڑکا آقا
سارے رستوں سے درخشاں ترا رستا آقا
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے آقا آقا
آپ کے ُحسنِ مکمل کا ہے صدقہ آقا
حاصلِ صیغۂ ُکن ہے ترا آنا آقا
اِذن ہوتا تو مَیں کچھ اور بھی لکھتا آقا دھوپ بڑھتی ہے تو بڑھ آتا ہے رحمت کا شجردُھوپ بڑھتی ہے تو بڑھ آتا ہے رحمت کا شجر سائے میں رکھتا ہے مجھ کو تری نسبت کا شجر
دل کے آنگن میں ثمر بار ہے مدحت کا شجر
گلشنِ حرف کی زینت ہے محبت کا شجر
حشر میں سایہ فگن ہوگا شفاعت کا شجر
لوحِ ادراک پہ مرقوم ہے حیرت کا شجر
سبز و شاداب و تناور تری عترت کا شجر
میری نسبت میں ہے مقصودؔ عقیدت کا شجر وقت تھا اپنے ماہ و سال میں گموقت تھا اپنے ماہ و سال میں ُگم دل مگر تھا ترے خیال میں ُگم
اور مَیں تھا ابھی سوال میں ُگم
سب کے سب ہیں ترے جمال میں ُگم
وہ نہیں ہیں کسی ملال میں ُگم
وہ تو خود ہے ترے کمال میں ُگم
دل رہا حرفِ نور دال میں ُگم
سارے بے کس ترے نوال میں ُگم
سارا منظر تھا تیری آل میں ُگم
حسن بھی تیرے خَدّ و خال میں ُگم
سب مثالیں ہیں بے مثال میں ُگم یہ جو شانوں پہ دھری زلفِ دوتا ہے آقایہ جو شانوں پہ دھری زلفِ دو تا ہے آقا یہ بھی اک سلسلۂ جود و عطا ہے آقا
یہ جو اک نور کا ہالہ ہے، یہ کیا ہے آقا
ورنہ یہ دل تو بکھر جانے لگا ہے آقا
جن کو ہونے کا ترے لمس ملا ہے آقا
جب مؤذن نے ترا نام لیا ہے آقا
دل تو پہلے ہی مدینے کو گیا ہے آقا
میں نے جب ہولے سے اک بار کہا ہے ،آقا
وہ جو محبوبِ خدا ہے وہ مرا ہے آقا اک شہرِ دلنواز و دلآرا مدینہ پاکاک شہرِ دلنواز و دلآرا مدینہ پاک ہم بے کسوں کا پاک سہارا مدینہ پاک
دل میں ہے جا گزیں مرے، سارا مدینہ پاک
دنیا ہے بحر اور کنارا مدینہ پاک
لیتے چلو مجھے بھی خدارا مدینہ پاک
ظلمت کدے میں ُنور کا دھارا مدینہ پاک
مجھ ایسے بے نوا کا ہے چارا مدینہ پاک
اور مجھ کو میری جاں سے ہے پیارا مدینہ پاک بخت لگتا ہے کہ یاور ابھی ہونے لگا ہےبخت لگتا ہے کہ یاور ابھی ہونے لگا ہے روبرو نور کا پیکر ابھی ہونے لگا ہے
سنگریزہ تھا تو گوہر ابھی ہونے لگا ہے
دیکھنا نازشِ اختر ابھی ہونے لگا ہے
وہ مرے قد کے برابر ابھی ہونے لگا ہے
شیشۂ دل پہ سمندر ابھی ہونے لگا ہے
میرا گھر بار معطر ابھی ہونے لگا ہے
آپ کی یاد سے بہتر ابھی ہونے لگا ہے
خامۂ شوق منور ابھی ہونے لگا ہے گل و گلاب عنادل کی نغمگی تجھ سےگل و ُگلاب، عنادل کی نغمگی تجھ سے بہارِ تازہ کے پہلو میں زندگی تجھ سے
وجودِ عشق نے پائی ہے تازگی تجھ سے
نگارِ صبح کے دامن میں روشنی تجھ سے
ترے فقیر کو حاصل ہے خواجگی تجھ سے
مَیں بندہ تیرا ہوں سیکھوں گا بندگی تجھ سے
مرے کریم کہ سیکھیں وہ سادگی تجھ سے
وہ طوق، جس کو ملی شانِ سروری تجھ سے کریم اپنی ہی خاکِ عطا پہ رہنے دے(مدینہ طیبہ سے) کریم اپنی ہی خاکِ عطا پہ رہنے دے زمیں سے آیا ہوا ہوں سما پہ رہنے دے
کریم، شاخِ کرم کی وفا پہ رہنے دے
کریم ، ہاتھ مرے دل دِیا پہ رہنے دے
یہ ایک پردہ مری ہر خطا پہ رہنے دے
جبینِ شوق ذرا نقشِ پا پہ رہنے دے
سلامِ خیر کا سایہ دُعا پہ رہنے دے
گلابِ وصل کو شاخِ لقا پہ رہنے دے
خدا کی مرضی حبیبِ ُخدا پہ رہنے دے میں مدینے میں ہوں اور میرا گماں مجھ میں ہے(مدینہ شریف میں لکھی گئی ایک نعت)
ایک لمحے کو لگا سارا جہاں مجھ میں ہے
وہ جو تھا پہلے نہاں اب وہ عیاں مجھ میں ہے
آسماں زاد کوئی خواب رواں مجھ میں ہے
کوئی آواز پسِ صوتِ نہاں مجھ میں ہے
مَیں نہیں ہوں پہ کوئی رفتہ زماں مجھ میں ہے
جیسے خوشبو میں بسا شوخ سماں مجھ میں ہے
حوصلہ لوٹ کے جانے کا کہاں مجھ میں ہے یہ تیری نعت کا منظر کہاں کہاں چمکایہ تیری نعت کا منظر کہاں کہاں چمکا ترا کرم، مرے حرفوں کے درمیاں چمکا
یہ تیرا اذنِ تکلّم کہ بے زباں چمکا
اشارہ ملتے ہی یہ تو کشاں کشاں چمکا
حرا کی کوکھ سے اُبھرا تو ُکل جہاں چمکا
وہ اسمِ پاک جو لفظوں کے درمیاں چمکا
عجیب شب تھی کہ سورج پسِ نہاں چمکا
تمھارے نور کے مابعد خاکداں چمکا
یقیں کے نور میں مہکا، پسِ گماں چمکا التزامِ کیف خوش کن، اہتمامِ رنگ و نورالتزامِ کیفِ خوش کن، اہتمامِ رنگ و نور ماہِ میلاد النبی ہے صبح و شامِ رنگ و نور
شعر و مصرع، حرف و لہجہ سب کلامِ رنگ و نور
قدسیوں کے لب پہ جاری ہے سلامِ رنگ و نور
نکہتوں نے گاڑ رکھے ہیں خیامِ رنگ و نور
وقت بھی خوش ہو رہا ہے پی کے جامِ رنگ و نور
آج تو کچھ اور ہی ہے یہ خرامِ رنگ و نور
کیا عجب ہونے لگا ہے انتظامِ رنگ و نور
پھینک رکھے ہیں فضاؤں نے بھی دامِ رنگ و نور
نور اپنے ساتھ لایا ہے پیامِ رنگ و نور
ظلمتوں کی تاک میں ہیں اب سہامِ رنگ و نور
ہر طرف ہونے لگا ہے التزامِ رنگ و نور وہ میری نعت میں ہے میری کائنات میں ہےوہ میری نعت میں ہے، میری کائنات میں ہے حیات محوِ سفر اُس کے التفات میں ہے
وہ روشنی ہے کہ تا حدِ ممکنات میں ہے
سخی یہ طائرِ جاں سخت مشکلات میں ہے
کمال ایسا کہاں میری لفظیات میں ہے
نگہ تو دید کی حیرت گۂ ثبات میں ہے
قسم خدا کی دُعا بھی تو تیری نعت میں ہے
حیات خود ہی وہاں خواہشِ ممات میں ہے
یہ تازگی جو تری حرف حرف بات میں ہے محورِ دوسرا پہ قائم ہےمحورِ دو سرا پہ قائم ہے زیست ان کی رضا پہ قائم ہے
تیری مدح و ثنا پہ قائم ہے
آپ کے نقشِ پا پہ قائم ہے
تیرے لطف و عطا پہ قائم ہے
آپ ہی کی رضا پہ قائم ہے
یہ عقیدہ ُخدا پہ قائم ہے
سارا منظر عطا پہ قائم ہے شایانِ شان کچھ نہیں نعتوں کے درمیاںشایانِ شان کچھ نہیں نعتوں کے درمیاں اِک بے بسی سی ہے مرے حرفوں کے درمیاں
سہما ہُوا ہے شعر بھی بحروں کے درمیاں
ہے ماہتاب جیسے ستاروں کے درمیاں
غلطاں ہے سوچ کیوں بھلا ہندسوں کے درمیاں
اِک حرفِ نعت اذن ہو حرفوں کے درمیاں
اک منفعل وجود ہے لہروں کے درمیاں
اِک لمحۂ فراق ہے خوابوں کے درمیاں
میرا شمار ان کے گداؤں کے درمیاں
مقصودؔ، جی رہا ہوں میں لمحوں کے درمیاں وفورِ شوق میں ہے کیفِ مشکبار میں ہےوفورِ شوق میں ہے، کیفِ مشکبار میں ہے حیاتِ نعت مری عرصۂ بہار میں ہے
یہ دل، یہ دید طلب، تیرے انتظار میں ہے
مری طلب ترے اکرام کے حصار میں ہے
مری خطا ہے جو حد میں ہے اور شمار میں ہے
وہ دلبری جو تری خاکِ ریگزار میں ہے
حسین ربط تری خاکِ رہگُزار میں ہے
پہ یہ کرم تو فقط تیرے اختیار میں ہے
مرا نصیب ترے قریۂ بہار میں ہے
یہ زیست اب بھی اُسی ساعتِ قرار میں ہے
فلک ستاروں کو تھامے ہوئے قطار میں ہے
نہیں تو زیست کا ہر لمحہ اضطرار میں ہے بات بن جاتی ہے اپنی بھی تری بات کے ساتھبات بن جاتی ہے اپنی بھی تری بات کے ساتھ دائرے ذات کے ُبنتا ہوں تری نعت کے ساتھ
خامۂ شوق بھی جھوم اُٹھتا ہے نغمات کے ساتھ
آپ آ جائیں کسی رات کے لمحات کے ساتھ
اک تری نعت ہو ُقرآن کی آیات کے ساتھ
فتح تعبیر نہ ہو پائی کبھی مات کے ساتھ
جی رہا ہوں مَیں کرم شاہ کے حسنات کے ساتھ
دھڑکنیں مدح سرا ہیں مری ساعات کے ساتھ
نعت مَیں بھیجتا رہتا ہوں مناجات کے ساتھ وہ مری فکر سے ادراک سے برتر مہکےوہ مری فکر سے ادراک سے برتر مہکے اس کی مدحت کا ہر اِک حرف برابر مہکے
وہ مری آنکھ میں چمکے، مرے لب پَر مہکے
اس کی خوشبو کا سفر عرش کے اُوپر مہکے
ان کے ہونے کا گماں بارِ مکرر مہکے
ایک امکان کا منظر ہے کہ شب بھر مہکے
ایک ہی لمحہ ہے وہ جیسے کہ اکثر مہکے
دشتِ امکان میں مدحت کا ُگلِ تر مہکے
آپ کی مرضی پہ ہے، آئیں، مرا گھر مہکے
نور کی بھیک سے مہر و مہ و اختر مہکے
آپ کی نعت ہو اور شام کا منظر مہکے
وحشتِ قریۂ دل میں مرا دلبَر مہکے شہرِ امکان میں وہ ساعتِ حیرت آئےشہرِ امکان میں وہ ساعتِ حیرت آئے لفظ سوچوں تو لبوں پر تری مدحت آئے
دل دریچے سے تری یاد کی نکہت آئے
قریۂ جان میں تنہائی سے وحشت آئے
بہرِ ترحیب سلامی لئے طلعت آئے
دل کی دُنیا میں اگر تیری حکومت آئے
تیری دہلیز کو ُچھونے مری چاہت آئے
کاش تقدیر میں ایسی کوئی ہجرت آئے
چشمِ بیتاب کی منت ہے قیامت آئے ہاتھ میں تھامے ہوئے ان کی عطا کا دامنہاتھ میں تھامے ہوئے اُن کی عطا کا دامن رشکِ ایجاب ہوا حرفِ دُعا کا دامن
اور دھڑکن سے ہے مربوط وفا کا دامن
سایہ کرتا ہے مرے سر پہ ثنا کا دامن
عرضیاں تھام کے بیٹھا ہے ہَوا کا دامن
اے خدا شعر کو دے حرفِ رسا کا دامن
میری بیٹی کو ملے شرم و حیا کا دامن
میرے ہاتھوں میں ہے محبوبِ ُخدا کا دامن جائے تسکین ہے اور شہرِ کرم ہے پھر بھیجائے تسکین ہے اور شہرِ کرم ہے، پھر بھی خلد، صحرائے مدینہ سے تو کم ہے، پھر بھی
ظلِ الطاف تو ہر وقت بہم ہے ، پھر بھی
حسن بڑھ بڑھ کے تری زلف کا َخم ہے، پھر بھی
نعت کا حرف تو اِک اِذنِ کرم ہے، پھر بھی
اس سے آگے ہی ترا نقشِ قدم ہے، پھر بھی
خاورِ دل میں تو پھیلے ہیں تری یاد کے رنگ ا فقِ دید پہ اِک خواب رقم ہے، پھر بھی
ثروتِ شوق کو کیوں ہجر کا غم ہے، پھر بھی ابھر رہی ہے پسِ حرف روشنی کی نویدابھر رہی ہے پسِ حرف روشنی کی نوید کہ تیری نعت ہے سرکار زندگی کی نوید
ہے بے کلی میں تری یاد اِک خوشی کی نوید
زمانہ ان سے ہی لیتا ہے آگہی کی نوید
غلام جسم نے پائی تھی خواجگی کی نوید
حضور آپ نے بخشی ہے خود گری کی نوید
ابھی ابھی کوئی آئی ہے اُس گلی کی نوید
ہر ایک لمحۂ مدحت ہے دل لگی کی نوید رحمت کے موسموں کے پیمبر حضور ہیںرحمت کے موسموں کے پیمبر حضور ہیں بخشش، کرم، عطا کے سمندر حضور ہیں
ایقاں نواز ُنور کے پیکر حضور ہیں
لیکن فصیلِ نعت سے اوپر حضور ہیں
سب رہبروں کے آخری رہبر حضور ہیں
دل کو خبر ہے شافعِ محشر حضور ہیں
نکہت نواز جسمِ معنبر حضور ہیں
من کے نگار خانے کے اندر حضور ہیں
بردہ ہوں میں پہ سیّد و سرور حضور ہیں
سن تشنگی کہ ساقیٔ کوثر حضور ہیں
ویسے ہی خلقِ ُنور میں انور حضور ہیں
منظر حضور ہیں، پسِ منظر حضور ہیں
لوحِ زباں پہ مدحِ مکرّر حضور ہیں
حامی حضور ہیں، مرے یاور حضور ہیں
حمدِ خدا کہ حرف کے محور حضور ہیں
مقصودؔ مجھ کو جان سے بڑھ کر حضور ہیں حبس کے شہر میں اک تازہ ہوا کا جھونکاحبس کے شہر میں اِک تازہ ہَوا کا جھونکا بخدا نعت ہے بس اُن کی عطا کا جھونکا
دل دریچے سے جو آتا ہے ثنا کا جھونکا
مغفرت تھامے ہوئے اُن کی رضا کا جھونکا
اے خدا بھیج مدینے کی ضیا کا جھونکا
باندھ لوں گا اِسی منظر میں دُعا کا جھونکا
کاش احساس کو چھو جائے لقا کا جھونکا
میرے حصے میں بھی آئے گا عطا کا جھونکا چوم آئی ہے ثناء جھوم کے بابِ توفیقچوم آئی ہے ثنا ُجھوم کے بابِ توفیق کس سے ممکن ہے کرے کوئی حسابِ توفیق
پڑھتا رہتا ہوں مَیں دن رات نصابِ توفیق
کھِل اُٹھا ہے مرے آنگن میں ُگلابِ توفیق
غارِ ادراک پہ نازل ہو کتابِ توفیق
اے خدا آنکھ میں رکھ دے کوئی خوابِ توفیق
کہ بہت رائق و نازک ہے حبابِ توفیق
جن سے حاصل ہے مرے شعر کو آبِ توفیق دل کی دہلیز پہ قدم رکھادل کی دہلیز پر قدم رکھا اس نے کتنا مِرا بھرم رکھا
اس کی بخشش نے ُمحتشم رکھا
آنکھ پتھر تھی، دل کو نم رکھا
اس نے پیہم مگر کرم رکھا
رب نے کیا کیا نہیں بہم رکھا
دل کو سُوئے مدینہ خَم رکھا
نعت تھی، نعت کو رقم رکھا حاضری بارِ دگر ہو جائے گیحاضری بارِ دگر ہو جائے گی دیکھنا اُن کی نظر ہو جائے گی
ہجر کی شب مختصر ہو جائے گی
میرے آقا کو خبر ہو جائے گی
کوئے جاناں میں بسر ہو جائے گی
رب کی رحمت بھی اُدھر ہو جائے گی
یہ جبیں رشکِ قمر ہو جائے گی
زیست ورنہ در بدر ہو جائے گی خدائے کل کی محبت کا انتخاب حضورخدائے ُکل کی محبت کا انتخاب حضور نصابِ عشق کی کامل تریں کتاب حضور
ہیں ُکہنہ چرخِ نبوت کے آفتاب حضور
وگرنہ زیست تو جیسے تھی اِک سراب، حضور
وجودِ خلقِ دو عالَم کی آب، تاب حضور
گناہ ساتھ تو لایا تھا بے حساب، حضور
کہ نعت محض ہے جذبوں کا انتساب، حضور
جو آنکھ میں لئے پھِرتا ہُوں ایک خواب، حضور
کہاں مثال ہے تیری، کہاں جواب، حضور
کھلا رہے تری توفیق کا یہ باب حضور
مَیں ایک قطرۂ بے مایہ اور حباب، حضور
کہ عیب ہونے نہیں دیں گے بے نقاب حضور اے شاہِ امم سیدِ ابرار یا نبیاے شاہِ امم، سیّدِ ابرار یا نبی بن جائے کوئی صورتِ دیدار یا نبی
جذبِ دروں کو مہلتِ اظہار یا نبی
کیسے رہے وہ کیفِ کرم بار، یا نبی
ٹھہری رہے یہ زُلفِ طرح دار یا نبی
ڈھے جائے اب تو ہجر کی دیوار، یا نبی
لایا ہے ساتھ اپنے طلبگار، یا نبی
ورنہ یہ ُنطق و خامہ ہیں بیکار، یا نبی
جانے کے اب کہاں ہیں گنہگار، یا نبی
اِک نعت ہو، جو حاصلِ گفتار، یا نبی جہان بھر میں نمایاں ہے اک نظارہء خیرجہان بھر میں نمایاں ہے اِک نظارۂ خیر وہ عالمین کی رحمت کا استعارۂ خیر
نظر میں رہتا ہے میرے مگر کنارۂ خیر
زمینِ ُنور پہ رکھا ہے شاہ پارۂ خیر
عرب کی وادی میں ُگونجا وہ ایک نعرۂ خیر
حرا سے لے کے وہ آیا عجیب پارۂ خیر
فلک پہ صدیوں سے روشن تھا اِک ستارۂ خیر
کچھ ایسے کھینچا ہے جذبوں نے گوشوارۂ خیر
مِلا ہوا ہے ازل سے مجھے اشارۂ خیر خامہ و نطق پہ ہے کیسی عنایت تیریخامہ و ُنطق پہ ہے کیسی عنایت تیری مجھ سے بے ساختہ، ہو جاتی ہے مدحت تیری
جیسے تمثیل نے باندھی ہو عقیدت تیری
شاید امکان میں در آئی ہے نکہت تیری
دل کی دُنیا سے بھی اُونچی ہے حکومت تیری
اس حقیقت سے بھی آگے ہے حقیقت تیری
جانِ ایمان ہے، بس ایک محبت تیری
قبر میں ساتھ لئے جاؤں گا طلعت تیری
چار سطروں کی سنا ڈالوں گا مدحت تیری
ڈھونڈنے نکلی ہے خود اُس کو شفاعت تیری حیطہء فکر کے محدود حوالوں سے پرےحیطۂ فکر کے محدود حوالوں سے پرے مدحتِ شاہِ مدینہ ہے مثالوں سے پرے
ان کا رکھتا ہے کرم مجھ کو سوالوں سے پرے
زلف، تحریر کی تاثیر مقالوں سے پرے
نعت تو نعت ہے رہتی ہے خیالوں سے پرے
دِل کی حالت ہے مگر تیرے حوالوں سے پرے
نور کو نور کا دیدار اُجالوں سے پرے
ان کے ٹکڑوں نے رکھا غیر نوالوں سے پرے کمتر تھا جذب و شوق کرم بیشتر رہاکمتر تھا جذب و شوق، کرم بیشتر رہا مجھ سا غریبِ حرف ترا مدح گر رہا
پڑھتا رہا درود تو بے حد اثر رہا
دل محوِ حرفِ شوق تھا سو بے خبر رہا
پیشِ نظر وہ چہرۂ انور مگر رہا
دِل گردِ رہگذر تھا سرِ رہگذر رہا
مجھ ایسا بے ہنر بھی بہت مُعتبر رہا
اِک ُنور تھا کہ چاروں طرف سر بسَر رہا یہ الگ بات کہ حیرت کرے حسرت نہ کرےیہ الگ بات کہ حیرت کرے، حسرت نہ کرے دیدۂ شوق کہاں جائے جو مدحت نہ کرے
مہرِ محشر سے کہو اتنی تمازت نہ کرے
دل کا کیا کام اگر ان سے محبت نہ کرے
پاسِ آداب، مگر کوئی شکایت نہ کرے
آنکھ پتھرائی رہے اور زیارت نہ کرے
ان کی رحمت یہ نہیں ہے کہ شفاعت نہ کرے
جو بصد بار نوازے پہ نہایت نہ کرے ان کی مدحت نے دیا مجھ کو اجالا ایساان کی مدحت نے دیا مجھ کو اُجالا ایسا بس مقدر سے عطا ہوتا ہے رستہ ایسا
تن کی تقدیر میں لکھ دے مرے مولا ایسا
دستِ بو صیری سے مانگوں مَیں قصیدہ ایسا
سامنے آنکھوں کے ہے کعبے کا کعبہ ایسا
کام آیا ہے تری خاک کا غازہ ایسا
ساتھ رکھتا ہوں مَیں نعتوں کا حوالہ ایسا
قاسمِ رزق نے بخشا ہے نوالہ ایسا
اور تو کچھ بھی نہیں اپنا اثاثہ ایسا گرفتِ حیرت و بہجت میں ہے وصال گھڑیگرفتِ حیرت و بہجت میں ہے وصال گھڑی کہ میری زیست نے دیکھی ہے اِک کمال گھڑی
سراپا ساکت و صامت ہے اب سوال گھڑی
تمام عمر ُمقدر رہی نہال گھڑی
سحر بہ کف ہوئی ظاہر وہ خد و خال گھڑی
سپردِ حرف ہی رہتے ہیں ماہ، سال، گھڑی
وہ بے مثال سے موسم کی بے مثال گھڑی
عجیب نور کے ہالہ میں تھی خیال گھڑی
مدینے پہنچا تو چپ ہی رہی مقال گھڑی
کہ جیسے عمرِ رواں ہو یہ خوش خصال گھڑی تن کے احساس پہ حاوی رہی من کی خواہشتن کے احساس پہ حاوی رہی من کی خواہش عمر بھر ساتھ رہی تیرے وطن کی خواہش
کیسے کر پائیں کسی باغِ عدن کی خواہش
نعت تو جیسے ہوئی پورے چمن کی خواہش
جب صحابہ کو ہوئی مشکِ ختَن کی خواہش
زیست لے آئی ہے سرکار کفن کی خواہش
اب ذرا سی بھی نہیں سر و سمن کی خواہش
مہرِ پُر ُنور تری ایک کرن کی خواہش
چار حرفوں کی ہے مقصودؔ سخن کی خواہش شبِ دیجور کو دے خوابِ کرم کا جلوہشبِ دیجور کو دے خوابِ کرم کا جلوہ آنکھ کے طاق میں رکھ نقشِ قدم کا جلوہ
مجھ کو مِل جائے جو اُس زلف کے خم کا جلوہ
میرے کشکول کو دے اپنی نِعَم کا جلوہ
جس پہ چاہیں وہ کریں جاہ و حشم کا جلوہ
میرے اِک حرف میں رکھ دیدۂ نم کا جلوہ
نعت ہو لب پہ تری آخری دَم کا جلوہ جی جائے گا یہ آپ کا بیمار کسی طورجی جائے گا یہ آپ کا بیمار کسی طَور ہو پائے اگر آپ کا دیدار کسی طَور
مِل جائے اگر خاکِ رہِ یار کسی طَور
جا پہنچے اگر مجھ سا بھی نادار کسی طَور
ہو سامنے وہ نعلِ کرم بار کسی طَور
بن پڑتی نہیں صورتِ اظہار کسی طَور
ہٹ جائے اگر خواب کی دیوار کسی طَور
دیکھوں مَیں ترے ہونے کے آثار کسی طَور
مقصودؔ بلائیں مجھے سرکار کسی طَور آپ کی رحمتِ بے پایاں کے اظہار کے رنگآپ کی رحمتِ بے پایاں کے اظہار کے رنگ رنگ تو جیسے ہوئے گردِ رہِ یار کے رنگ
جیسے خود رنگ چلے باندھنے سنگھار کے رنگ
رشکِ صد ُطور ترے کوچہ و بازار کے رنگ
سطوتِ وقت پہ حاوی ترے نادار کے رنگ
ورنہ نازک ہیں بہت آپ کے بیمار کے رنگ
ساعتِ دید کو مِل جاتے ہیں تکرار کے رنگ
جیسے ادراک میں چمکیں ترے ُگفتار کے رنگ
کون لکھ پائے ترے گیسوئے خمدار کے رنگ
رات کے پچھلے پہر چمکیں گے دیدار کے رنگ آپ کی آمدِ رحمت کے سبب ہیں قائمآپ کی آمدِ رحمت کے سبب ہیں قائم حضرتِ آدم و حوا کے نسب ہیں قائم
آپ کے فیض سے ہی علم و ادب ہیں قائم
آپ کی نعت کی توفیق سے لب ہیں قائم
اب تو میلاد کی محفل پہ یہ سب ہیں قائم
جو سرِ مو بھی اُٹھے وہ بھلا کب ہیں قائم
جس کے فیضان سے اس ارض کے ڈھب ہیں قائم سارے سخن نواز کمالات جوڑ لوںسارے ُسخن نواز کمالات جوڑ لوں ممکن نہیں کہ پھر بھی تری نعت جوڑ لوں
میں کیسے عرض باندھوں، سوالات جوڑ لوں
کچھ ایسا اِلتفات کہ دن رات جوڑ لوں
اے کاش پھر سے خوابِ ملاقات جوڑ لوں
سیلِ رواں کے آگے کہاں ہات جوڑ لوں
میں ریزہ ریزہ صورتِ ساعات جوڑ لوں
تارِ نفس سے جذبوں کی بارات جوڑ لوں
قرطاسِ دل پہ عجز کے رُشحات جوڑ لوں
حرفوں کی َجوت َجوت سے سوغات جوڑ لوں
اے خوابِ دید آ کہ کرشمات جوڑ لوں
تو حرف دے تو اِذن سے جذبات جوڑ لوں
اس جانِ کائنات سے ہر بات جوڑ لوں مزید دیکھیے
|
||||||||||||||||||||||||||
