جلوہ گاہِ مصطفےٰ کا گوشہ گوشہ نور ہے
نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 07:48، 3 اکتوبر 2019ء از محمد فیضان (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (نیا صفحہ: {{بسم اللہ }} link=|اطہرعبداللہ سوداگر شاعر : اطہر عبداللہ سوداگر === {{نعت }} === مظ...)
شاعر : اطہر عبداللہ سوداگر
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مظہرِ نورِ خدا ہیں وہ ، سراپا نور ہے
شکلِ انساں میں ہوا ظاہر خدا کا نور ہے
سرفرازِ نور ہوجاتے ہیں سب آکر یہاں
جلوہ گاہِ مصطفےٰ کا گوشہ گوشہ نور ہے
جبلِؔ رحمت ہو ، حراؔ ہو ، ثورؔ ہو ، یا ہو منیٰ
نور افشاں ہر جگہ بدر الدجےٰ کا نور ہے
ہر طرف ہے دیکھئے ان کی تجلّی کا ظہور
جلوہ فرما ہر جگہ نورِ خدا کا نور ہے
آرزو ہے موت سے پہلے مری یا مصطفےٰ
دیکھ لوں دربارِ نورِ حق میں کیسانور ہے
شہر طیبہ کا تو دن بھی ہے سُہانا رات بھی
روز و شب یکساں ہیں ، یہ کیسا سہانا نور ہے
کہکشاں روشن ہوئی ، شمس و قمر روشن ہوئے
ہے منور جس سے ہر عالم یہ ایسا نور ہے
بھیک اطہرؔ کو نہ حاصل ہو یہ ممکن ہی نہیں
مانگتا ہے اس کے در سے جو سراپا نور ہے
مزید دیکھیے
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659 |