لوری
لوری ایسا کوئی بھی گیت یا شاعرانہ جملے، جو عورتیں بچوں کو سلانے یا روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کے لیے آہستہ آہستہ سر میں گاتی ہیں۔اب تک کی تحقیقات کے مطابق، 2 ہزار قبل مسیح میں بھی لوری کا ثبوت ملتا ہے۔ لوری برصغیر میں لوک گیتوں کی طرح رائج رہی ہے۔ جس کی ایک ادبی اور مذہبی حثییت بھی ہے جیسے جھولنا جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بچپن کو منظوم انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔
نعتیہ ادب میں "لوری" کی مثالیں بھی ملتی ہیں
آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
پڑھتے ہیں صلی اللہ وسلم آج در و دیوار نبی جی ا للہ اللہ اللہ ھو لا الہٰ الا ھو
بارہ ربیع الاول کو وہ آیا در یتیم
ماہ نبوت مہر رسالت،
صاحب خلق عظیم نبی جی
اللہ اللہ اللہ ھو لا الہٰ الا ھو
حامد و محمود اورمحمد دو جگ کا سردار
جان سے پیارا راج دلارا رحمت کی سرکار نبی جی
اللہ اللہ اللہ ھو لا الہٰ الا ھو
یٰسین و طہٰ کملی والا قرآن کی تفسیر حاضر و ناظر،
شاہد و قاسم آیا سراج منیر نبی جی
اللہ اللہ اللہ ھو لا الہٰ الا ھو
اول و آخر سب کچھ جانے دیکھے بعید و قریب
غیب کی خبریں دینے والا اللہ کا پیارا حبیب نبی جی
اللہ اللہ اللہ ھو لا الہٰ الا ھو
دور بلائیں کرنے والا امت کا غم خوار حافظ و حامی ،
شافع و نافع رحمت کی سرکار نبی جی
اللہ للہ اللہ ھو لا الہٰ الا ھو
پیاری صورت ہنستا چہرہ منہ سے جھڑتے پھول
نور کا پتلا چاند سا مکھڑا حق کا پیارا رسول
نبی جی اللہ اللہ اللہ ھو لا الہٰ الا ھو
جبریل آئے جھولا جھلانے لوری دے ذیشان
سوجا سوجا رحمت عالم میں تیرے قربان نبی جی
اللہ اللہ اللہ ھو لا الہٰ الا ھو
کفر وشرک کی کالی گھٹیائیں ہوگئیں ساری دور
مشرق و مغرب و دنیا اندر ہوگیا نور ہی نور نبی جی