سوز میں تو ہے ساز میں تو ہے
نعت کائنات سے
شاعر:عرفان جعفری
بشکریہ:عالم نظامی
حمدِ باری تعالی جل جلالہ
سوز میں تو ہے ساز میں تو ہے
زندگانی کے راز میں تو ہے
تو ہویدا ہے سبزہ و گل سے
نغمئہ کن کے ساز میں تو ہے
تیرے قبضے میں فکر کی تنویر
ضوفشاں حرص و آز میں تو ہے
تو ہی ہے مستحق پرستش کا
سب کے روزہ نماز میں تو ہے
ختم تجھ پر ہے ہر گماں کا وجود
پنہاں درس مجاز میں تو ہے
اس زبیر حزیں کی کیا ہے بساط
جلوہ گر چشم باز میں تو ہے