واصف رضا واصفؔ کی وصف نگاری

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 11:18، 4 مارچ 2025ء از نعت زندگی ہے (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (« واصف رضا واصفؔ کی وصف نگاری ( از : طفیل احمد مصباحی ) ادب ( بشمولِ نظم و نثر ) تہذیب و شائستگی کا فن ہے جو مسرت سے شروع ہو کر بصیرت پر منتہی ہوتا ہے اور اپنے قاری کے فکر و شعور اور بصیرت و دانائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے ۔ ادب کے ذریعے انسان اپنی جذب...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search

واصف رضا واصفؔ کی وصف نگاری

( از : طفیل احمد مصباحی )

ادب ( بشمولِ نظم و نثر ) تہذیب و شائستگی کا فن ہے جو مسرت سے شروع ہو کر بصیرت پر منتہی ہوتا ہے اور اپنے قاری کے فکر و شعور اور بصیرت و دانائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے ۔ ادب کے ذریعے انسان اپنی جذباتی ، فکری ، اور تخئیلی کیفیات کو نثر یا نظم میں اس طرح بیان کرتا ہے کہ اس سے پڑھنے والے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ادب وہ ہے جس میں زندگی کی بَہار ٬ پاکیزہ عشق کا اظہار ٬ بندگی کا سکون و قرار اور انسانی تجربات کا حسن و نکھار شامل ہو اور اس سے انسان کو اخلاقی ، تہذیبی ٬ جمالیاتی اور فکری رہنمائی حاصل ہو سکے ۔ یہ تعریف ادب کی خصوصیات مثلاً : فکر کی گہرائی ، تخیل کی بلند پروازی ، جذبات کی عکاسی ٬ احساسات کی آئینہ داری اور اخلاقیات کی طرف رہنمائی کو اجاگر کرتی ہے ۔ ادب کی مختلف اصناف جیسے شاعری ، افسانہ ، تنقید اور ڈرامہ وغیرہ مذکورہ تمام عناصر کا احاطہ کرتی ہیں اور انسان کے جذبات و افکار کو مہذب انداز میں پیش کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں ۔ صوری و معنوی لحاظ سے نعت و منقبت اور غزل میں کافی حد تک مناسبت و مشابہت اور ہم آہنگی و یک جہتی پائی جاتی ہے ۔ تینوں اصناف میں ہر شعر مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر شعر مختلف معنی و مفہوم کو اجاگر کرتا ہے ۔ موضوعات کے لحاظ سے بھی تینوں میں کافی حد تک مماثلت ہے ۔ غزل میں حسن و عشق اور محبت و عقیدت کا اظہار سلیقے سے کیا جاتا ہے اور یہ چیز بقدرِ مشترک نعت و منقبت میں بھی پائی جاتی ہے ۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ غزل کا شاعر دنیاوی محبوب اور فرضی معشوق کے حسن کے قصیدے پڑھتا ہے اور اپنے جذبۂ عشق کا اظہار کر کے آنسو بہاتا ہے ۔ جب کہ نعت و منقبت میں شاعر کا ممدوح کوئی دنیاوی محبوب نہیں ہوتا ٬ بلکہ رب کا محبوب و مقبول بندہ ہوتا ہے ۔ شاعر رب کے اسی محبوب کی مدح سرائی کرتا ہے ٬ اس کے حسن اور خوبیوں کا چرچا کرتا ہے ۔ ان کے اوصاف و کمالات کا تذکرہ کر کے اپنی غلامی و نیاز مندی کا ثبوت دیتا ہے ٬ جو دنیا و آخرت کے لیے ایک مندوب اور مستحسن عمل ہے ۔ ایک غزل گو اپنی محبوبہ یا پھر الّھڑ حسینہ کی بیجا تعریف کر کے کسی قسم کے اجر و ثواب کا مستحق تو نہیں ہوتا ٬ لیکن ایک نعت گو یا منقبت نگار حضور نبی اکرم ﷺ کی تعریف و ثنا یا اولیائے کرام کی مدح و ستائش کر کے " عند ذکر الصالحين تتنزل الرحمۃ " رحمتِ خدا وندی کا حقدار ضرور بنتا ہے ۔ جب ان تینوں اصناف ( نعت و غزل و منقبت ) میں یگ گونہ مماثلت ثابت ہو گئی تو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ غزل اور نعت و منقبت کے لیے حسن و عشق کے اظہار کے ساتھ سوز و گداز ٬ درد ٬ کسک ٬ والہانہ پن اور وارفتگی و ربودگی بھی ضروری ہے ۔ غزل کی خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رئیس المحققين حضرت علامہ سید سلیمان اشرف بہاری علیہ الرحمہ ( سابق صدر شعبۂ دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ) لکھتے ہیں : غزل کا کمال یہ ہے کہ درد ، سوز و گداز ، شکستگی و نیاز ، عشق کی ہنگامہ آرائی ، حسن کی دلکشی و دلربائی اس طرح عام محاورہ اور روز مرہ کی بول چال میں ادا ہو کہ اس میں کسی طرح کی پیچیدگی نہ پائے جائے ۔ اسلوبِ بیان ایسا ہو جس سے دل شگفتہ ہو جائے ۔ تشبیہ ایسی لطیف ہو کہ جذبات میں ہلچل پڑ جائے ۔ واقعاتِ عشق اس طرح کہے جائیں کہ سننے والے کو بھی عاشق پر رحم آ جائے ۔ غزل میں شاعر کا بس یہی کمال ہے ۔ ( الانھار / مقدمۂ مثنوی ہشت بہشت ، ص : ٨٣ - ٨٤ ٬ ناشر : نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی ٬ لاہور ) کامیاب نعتیہ شاعری و منقبت گوئی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں غزل کے مذکورہ بالا اوصاف پائے جائیں ۔ حمد و نعت ہو یا منقبت و قصیدہ ٬ ہر ایک میں وصف و مدح کا مفہوم شامل ہے ۔ اگر مدح سرائی کا تعلق اللہ رب العزت سے ہو تو اس کو " حمد " کہتے ہیں اور اگر وصف نگاری حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ قدسی صفات سے متعلق ہو تو " نعت " بن جاتی ہے ۔ صحابۂ کرام ٬ اہلِ بیت اطہار اور اولیائے عظام رضی اللہ عنہم اجمعین کی مدح کو " منقبت " کہتے ہیں ۔ یوں ہی اگر مدح حکام و سلاطین اور امرا و رؤسا کی ہو تو اصطلاحِ سخن میں اسے " قصیدہ " کہا جاتا ہے ۔ تقدیسی شاعری میں حمد و نعت کے بعد منقبت کو بلند ترین مقام حاصل ہے ۔ تقدیسی اصنافِ سخن میں اس وقت نعت شریف کے بعد سب سے زیادہ منقبتیں لکھی جا رہی ہیں ۔ یہاں تک کہ " قصیدہ نگاری و مرثیہ گوئی " سے یہ دو قدم آگے ہے ۔ لیکن ادبی طبقہ کی اس دھاندلی اور ہٹ دھرمی پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ مرثیہ کو تو مستقل صنفِ سخن کا درجہ دیتے ہیں ٬ لیکن حمد و نعت اور منقبت کو مستقل صنفِ سخن ماننے میں بخل اور تعصب سے کام لیتے ہیں ۔ اسی کو کہتے ہیں : الناس اعداء ما جھلوا . حسن و جمال ٬ تعریف و توصیف کا تقاضا کرتا ہے ٬ خواہ وہ جسمانی حسن ہو یا علمی ٬ اخلاقی اور روحانی حسن ۔ حسن جہاں ہوگا ٬ وہاں لا محالہ تعریف و توصیف بھی ہوگی ۔ حسن و جمال ٬ فضل و کمال ٬ جود و نوال ٬ علم و عمل ٬ اخلاص و تقویٰ ٬ تقدس و طہارت ٬ دین داری و دیانت داری ٬ فضیلت و کرامت ٬ شرافت و مروت ٬ حلم و و برد باری ٬ عجز و انکسار ٬ تواضع و خاکساری وغیرہ ۔ آخر یہ سب کیا ہیں ? حسن کے دل آویز پہلو ہی تو ہیں ۔ انبیائے کرام و رسولانِ عظام علیہم التحیۃ و التسلیم کے بعد حسن کی یہ سارے دلنواز پہلو اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کے اندر علیٰ وجہ الکمال پائے جاتے ہیں اور دنیا ان کی تعریف و توصیف پر خود کو مجبور پاتی ہے ۔ حدیث کی کتابوں میں " مناقب الصحابہ " کے عنوان سے ایک مستقل باب ہوتا ہے ٬ مروجہ منقبت نگاری کی اصل یہی ہے ۔ منقبت نگاری کا آغاز دکن سے ہوا ہے اور صنفِ مثنوی نے صنفِ منقبت کو پروان چڑھایا ہے ۔ دکن کے درجنوں شعرا کی مثنویوں میں منقبت کے کچھ نہ کچھ اشعار آپ کو ضرور ملیں گے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ مثنوی کے اجزائے ترکیبی میں منقبت جزوِ لازم کی حیثیت سے شامل ہے ۔ راقم الحروف دلیل اور ثبوت میں دو درجن ایسی مثنویوں کا نام پیش کر سکتا ہے ٬ جن میں منقبت کے کچھ نہ کچھ اشعار ضرور موجود ہیں ۔ قلی قطب شاہ ٬ ولی دکنی ٬ مرزا رفیع سوداؔ ٬ میر تقی میرؔ اور مرزا غالبؔ نے کثرت سے منقبتیں لکھی ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق " قصائدِ سوداؔ " اور " کلیاتِ میرؔ " منقبت کے اشعار کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہے ۔ غالبؔ نے اتنی کثرت سے منقبتیں لکھی ہیں کہ کمیّت و کیفیت کے لحاظ سے وہ قلی قطب شاہ ، سودا اور میرؔ سے بھی آگے نکل گئے ہیں ۔ ان کی ہمہ گیر شاعری کا ایک روشن پہلو " منقبت نگاری " بھی ہے ، جسے کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ غالبؔ اتنے بڑے منقبت نگار شاعر تھے کہ عصرِ حاضر کے ممتاز محقق و ناقد ڈاکٹر سید تقی عابدی ( کنیڈا ) نے اس موضوع پر تقریبا پانچ سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب ہی " غالب : شاعرِ نعت و منقبت " کے نام سے لکھ ڈالی ہے ۔ اس کتاب کی روشنی میں غالب کی اردو و فارسی منقبتوں کی مجموعی تعداد دو ہزار آٹھ سو اٹھاسی ( ٢٨٨٨ ) ہے ۔ اسی طرح حکیم مومن خان مومن دہلوی ، بہادر شاہ ظفرؔ اور علامہ اقبالؔ نے بھی متعدد منقبتیں لکھی ہیں ۔ راقم کا مقصد منقبت نگاری کی تاریخ بیان کرنا نہیں ٬ بلکہ اس کی اہمیت و مقبولیت کی جانب اشارہ کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ جس مبارک صنف کو مولویوں کا فن قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ٬ وہ فن کس قدر مقبول اور ہمہ گیر ہے کہ اردو کے نامی گرامی شعرا نے اس میں طبع آزمائی کی ہے اور اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے ۔ دورِ حاضر کے نعت گو شعرا اور منقبت نگاروں میں ایک مشہور اور معتبر نام محب گرامی حضرت مولانا واصف رضا واصفؔ مصباحی ( مدھوبنی ٬ بہار ) زید شرفہ کا بھی ہے ٬ جو ابھی چند سال پیشتر بساطِ شعر و ادب پر وارد ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے شہرت و مقبولیت کے بامِ رفیع پر فائز ہو گئے ۔ ایک طرف ان کی نو خیزی کو دیکھتا ہوں اور دوسری جانب ان کی قادر الکلامی اور استادانہ مہارت پر نظر کرتا ہوں تو حیرت و استعجاب کے اتھاہ سمندر میں ڈوب جاتا ہوں ۔ کافی مشق و ممارست اور کثرتِ مزاولت کے بعد پچاس ٬ ساٹھ سال کی عمر میں جو ادبی بالا دستی اور شعری پختگی آتی ہے ٬ وہ چند سالوں میں موصوف نے حاصل کر لی ہے ۔ سچ کہا گیا ہے : ایں سعادت بزورِ بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

راقم الحروف بھی جادۂ شعر و سخن کا ایک معمولی مسافر ہے ٬ لیکن محترم واصفؔ صاحب کی شاعری کے سامنے خود کو طفلِ مکتب سمجھتا ہے ۔ علوئے فکر ٬ نفاستِ خیال ٬ تخیل کی بلندی ٬ حسنِ زبان ٬ لطفِ بیان اور اسلوب کی جدت و ندرت کلامِ واصفؔ کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ہے ۔ زود گو اور بسیار گو ہیں ۔ مسلسل اور بے تکان لکھتے ہیں اور اچھا لکھتے ہیں ۔ ابھی دو سال پیشتر ان کا نعتیہ مجموعۂ کلام منظرِ عام پر آیا تھا اور عوام و خواص میں بیحد مقبول ہوا تھا اور اب " *ابو الفیض* " کے نام سے جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی شان میں ایک سو گیارہ ( ۱۱۱ ) مناقب کا حسین اور دلکش مجموعہ قارئین کو دعوتِ مطالعہ دے رہا ہے ۔ موصوف نے یہاں بھی اپنی قابلیت و انفرادیت کا لوہا منوایا ہے کہ متعدد بزرگانِ دین کے بجائے صرف ایک بزرگ کی شان میں ایک سو گیارہ مناقب لکھ کر جہاں ممدوح سے اپنی گہری قلبی وابستگی کا ثبوت دیا ہے ٬ وہی اپنی فنی برتری کو بھی اجاگر کیا ہے ۔ اللہ رب العزت آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آپ کے فکر و فن میں مزید پختگی و بالیدگی بخشے آمین !