مندرجات کا رخ کریں

اتصال

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.


ْ

اتصال کے لغوی معنی ملانے، جوڑنے اور ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ پیوست کرنے کے ہیں۔ علمِ عروض و نقدِ شعر میں اتصال اس عیب کو کہتے ہیں کہ دو ایسے الفاظ، جو الگ الگ پڑھے جانے چاہئیں، اس طرح متصل ہو جائیں کہ ان کی اصل ہیئت اور معنی میں التباس پیدا ہو جائے۔ اہلِ فن کے نزدیک کلام میں الفاظ کی حد بندی اور انفرادیت کا قائم رہنا ضروری ہے، کیونکہ غیر ضروری اتصال فصاحت اور حسنِ ادا کو متاثر کرتا ہے۔ بعض اوقات شاعر وزن یا روانی کے شوق میں ایسے الفاظ جمع کر دیتا ہے جن کے ملاپ سے دوسرا لفظ یا دوسرا مفہوم پیدا ہونے لگتا ہے، چنانچہ اسے عیبِ اتصال کہا جاتا ہے۔ اردو اور فارسی کی کلاسیکی شاعری میں اس عیب سے حتی الامکان اجتناب کیا گیا ہے اور میر و غالب جیسے اساتذہ کے کلام میں الفاظ کے ربط اور انفصال کا نہایت باریک اہتمام ملتا ہے۔

عیب اتصال کی مثالیں

وہ اس سال لائے گا ۔۔۔ ل کا اتصال

حسن نے توبہ کرلی ۔۔۔۔ ن کا اتصال

مزید دیکھیے

ابتذال | اتصال | اثقال | اخلال | املاکی اغلاط | بدفضائی | بے معنی | تثلیم | تذکرو تانیث کی اغلاط | ترکیب کے ساتھ اعلان نون | تعقیب | تعقید | تقدیم و تاخیر | تکرار | تطویل | تکلف | تلفظ کی اغلاط | تنافر حروف | تنافر کلمات | توارد | توالی اضافت | حشو | دولخت | ذم کا پہلو | سرقہ | سست بندش | سوءادب | شتر گربہ | ضعف تالیف | ضعف خاتمہ | ضعف نظم | ضلع جگت کی بے لطفی | نا موزونیت | شکست ناروا | عیوب ردیف | عیوب قوافی | غرابت لفظی | غلط العام | غلط العوام | غیر شاعرانہ الفاظ کا استعمال | فارسی الفاظ کے آخر کی ہ | فارسیت | کراہیت سمع | کہ اور نہ کا صیحح تلفظ | حصر | تو سے پہلے 'جو کا استعمال | الفاظ کے استعمال میں عدم احتیاط | مبالغہ | متروکات | محاورہ روز مرہ کی اغلاط | مخالفت لغت | مقدرات | منع صرف | منع نحو | واحد جمع کی اغلاط وغیرہ |