ابوالفیض : حسانِ حافظِ ملت واصف رضا واصف کا عقیدت مندانہ اظہاریہ

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

ابوالفیض : حسانِ حافظِ ملت واصف رضا واصف کا عقیدت مندانہ اظہاریہ

سپہرِ علم کے ماہِ درخشاں، حریمِ زہد کے شمعِ شبستاں، جلالۃ العلم، حضور حافظِ ملت نور اللہ مرقدہٗ کی حیاتِ پاکیزہ کا ایک ایک گوشہ ایسا روشن اور تاب ناک ہے کہ جس کی ضیائیں آج اکنافِ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔ جامعہ اشرفیہ مبارک پور ان کی ایسی مہتم بالشان علمی یادگار ہے جس نے دین و دیانت اور علم و ہدایت کے صدہا چراغ جلائے اور نہ جانے کیسے کیسے علم و فضل اور زہد و اتقا کے آفتاب و ماہ تاب اس دیارِ شوق نے مذہبی دنیا کو عطا کیے۔ یہ سب کاوشیں ہیں اسی مردِ مجاہد کی جسے دنیا حافظِ ملت کے نام سے جانتی ہے۔

حافظِ ملت نور اللہ مرقدہٗ کی شانِ باکمال میں جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ ان کی ذاتِ فیض بخش نے فیضانِ علم و عمل کا جو بحرِ بیکراں رواں دواں فرمایا اس کے سبب انھیں "ابوالفیض" کہنا کسی بھی طرح سے مبالغہ نہیں۔ اہلِ محبت و الفت نے خلوص و وفا کے پاکیزہ جذبوں سے سرشار ہوکر آپ کی بارگاہِ عزت نشان میں منظوم و منثور نذرانہ ہاے عقیدت نچھاور کیے ہیں۔ ایسے مخلص افراد کی فہرست کافی طویل ہے۔ عصرِ رواں میں حافظِ ملت کی مدّاحی کے باب میں جو چار چاند واصف رضا واصف نے جگمگائے ہیں وہ ہر اعتبار سے قابلِ ستائش اور انفرادیت کا جلوہ لیے ہوئے ہے۔ انھوں نے رنگارنگ متنوع بحروں، ردیفوں، قافیوں، استعاروں، ترکیبوں، پیکروں اور طرزوں میں منقبتِ حافظِ ملت کی جو لہلہاتی فصلِ تازہ اگائی ہے وہ مشامِ جاں کو معطر و معنبر کرتی ہے۔ واصف رضا واصف کا اپنے محسن سے متعلق یہ عقیدت مندانہ خراجِ محبت اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ وہ مخلصانہ رویوں کے حامل ہیں اور اپنے محسنین کو فراموش کرنا ان کی لغت میں موجود نہیں ہے۔ ازواج مطہرات، صحابۂ کرام، اہل بیت اطہار، اولیاے اسلام اور دیگر نامور اسلامی شخصیات اور مجاہدینِ اسلام پر لکھی گئیں ان کی مناقب محض عقیدت کی آئینہ دار نہیں اور نہ ہی مناقب نگاری کے فرسودہ اسلوب سے مملو ہے بلکہ ان کی مرقومہ منقبتیں شعری و فنی خوبیوں سے آراستہ، ممدوح کی سیرت اور اوصافِ حمیدہ کے گوشوں پر محیط، حسنِ زبان و بیان سے سجی سنوری ہے، حافظِ ملت قدس سرہٗ کی شان میں لکھی گئیں۔

زیرِ نظر منقبتی مجموعے میں 111 مناقب شامل ہیں جن میں رنگارنگی، پختگی، شگفتگی، تازگی، طرفگی، شیفتگی اور وارفتگی دیدنی و شنیدنی ہے۔ مناقب کا مطالعہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ واصف رضا واصف کے زرنگار قلم نے بڑی حسن و خوبی سے ان مناقب سے کو قرطاسِ عقیدت پر سجایا ہے۔ واصف رضا واصف کی شعری عقیدت مندی پر مبنی کتاب "ابوالفیض" کا مطالعہ انھیں "حسانِ حافظِ ملت" کہنے پر انگیز کرتا ہے۔

یہ منقبتیں روایتی مناقب نگاری سے قدرے مختلف ہیں۔ یہاں مضامین کا تنوع ہے۔ الفاظ کے در و بست میں رنگارنگی ہے۔ جذبات میں صداقت ہے۔ خیالات میں وارفتگی ہے۔ واصف رضا واصف کا اندازِ والہانہ ایسا محتاط ہے کہ کہیں بھی حقیقت پر عقیدت حاوی ہوتی نظر نہیں آتی۔ موصوف نے اپنے ممدوح کی تعریف و توصیف اور منقبت زیبِ قرطاس کرتے ہوئے سیرت و سوانح اور حالات و کوائف کو تحقیق و تفحص کے اصولوں کو مدنظر رکھا ہے۔ بے جا مبالغہ آرائی اور غلو و اغراق سے اپنے منقبتی شعری اثاثے کو آلودہ نہیں ہونے دیا ہے۔

میرے خیال میں باضابطہ طور پر جلالۃ العلم حضور حافظ ملت نور اللہ مرقدہٗ کی شان میں لکھی گئیں مناقب پر مشتمل یہ اولین مجموعہ ہوگا۔ واصف رضا واصف نے جس عقیدت مندی اور والہانہ وارفتگی کے ساتھ حافظ ملت کو خراج عقیدت پیش کی ہے وہ اپنے آپ میں ہر اعتبار سے قابلِ تحسین ہے۔ اللہ کریم ان کی اس مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبول بخشے، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم

...محمد حسین مشاہد رضوی