تھی جس کے مقدر میں گدائی تیرے در کی ۔ نصیر الدین نصیر

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search


شاعر: پیر نصیر الدین نصیر

نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

تھی کس کے مقدر میں گدائی تیرے در کی

قدرت نے اسے راہ دکھائی تیرے در کی


میں بھول گیا نقش و نگار رخ جنت!

صورت جو کبھی سامنے آئی تیرے در کی


پھر اس نے کوئی اور تصور نہیں باندھا

ہم نے جسے تصویر دکھائی تیرے در کی


رویا ہوں میں اس شخص کے پاوں سے لپٹ کے

جس نے بھی کوئی بات سنائی تیرے در کی


یہ ارض سماوات تیری ذات کا صدقہ

محتاج ہے یہ ساری خدائی تیرے در کی


آیا ہے نصیر آج تمنا یہی لے کے

پلکوں سے کیے جائے صفائی تیرے در کی

کچھ اس کلام کے بارے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

یہ کلام معروف نعت خواں سید منظور الکونین (رح) کی فرمائش پر لکھا گیا ۔ سید منظور الکونین (رح) نے منور بدایونی کا ایک مصرع اللہ نے یوں شان بڑھائی ترے در کی پیر نصیر الدین نصیر کو نعت کہنے کے لیے دیا تھا ۔ <ref> ارسلان احمد ارسل، حضور و سرور، ارفع پبلیکیشنز ، فروری 2011، ص 476 </ref>

اس کلام کے اولین نعت خواں[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

منظور الکونین ہی اس نعت کے اولین نعت خواں ہیں ۔ انہوں نے یہ نعت مبارکہ حج کمپلیکس کے افتتاح پر پڑھی جہاں صدر پاکستان ضیاء الحق نے انہیں خصوصی طور پر بلایا تھا ۔ اس نعت مبارکہ کہ بعد ضیا الحق نے منظور الکونین کو اپنے ساتھ حج پر چلنے کی دعوت دی <ref> ارسلان احمد ارسل، حضور و سرور، ارفع پبلیکیشنز ، فروری 2011، ص 477 </ref>

مزید نعت خواں[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

Naat View - thi jis ke muqaddar men عابد روف عابد کی آواز میں

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نصیر الدین نصیر | منظور الکونین

حواشی و حوالہ جات[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]