دوسرے مشاعرے کی مفصل کارروائی کی رپورٹ ۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش
معروف ادبی تنظیم چوپال پاکستان کے اشتراک سے
محفلِ نعت حسن ابدال کا دوسرا ماہانہ نعتیہ مشاعرہ[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
برائے ایصالِ ثوابِ خصوصی ملک عبد الحمید رحمہ اللہ (تیسرا سالِ وصال) -
| زیرِ صدارت : جناب محمد عثمان نائم |
| مہمانانِ خصوصی : جناب پروفیسر محمود الحسن قیصر ابدالی (صدر محفلِ نعت حسن ابدال ) |
| مہمانانِ اعزاز : جناب سید نصرت بخاری |
| نظامت و میزبان : ڈاکٹر ملک ذوالفقار علی دانش (سیکرٹری محفلِ نعت حسن ابدال – صدر چوپال پاکستان اسلام آباد ریجن ) |
| مقام : رہائشگاہ ڈاکٹر ملک ذوالفقار علی دانش حسن ابدال |
| تاریخ : جمعہ 27 جنوری 2017 – بمطابق 28 ربیع الثّانی 1438ھ |
شرکائے مشاعرہ[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
محفل میں شرکت کرنے والے شعراء کرام کے اسمائے گرامی درجہ ذیل ہیں
حسن ابدال سے جناب پروفیسر محمود الحسن قیصر ابدالی (صدر محفلِ نعت حسن ابدال ) ، جناب ہروفیسر ہاشم علی خان ہمدم (گاؤں خدّہ خرشین حسن ابدال ) اور راقم الحروف ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش ، اٹک و کامرہ سے جناب سید نصرت بخاری ، جناب سعادت حسن آس ، جناب ابرار نیّر ، جناب حسین امجد ، جناب عمران حیدر اور جناب حافظ عبدالغفّار واجد اور واہ کینٹ سے جناب ڈاکٹر طارق فردوسی ، جناب آصف قادری ، جناب عارف قادری اور جناب عثمان نائم ۔
مشاعرے کی کاروائی[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
محفل کا باقاعدہ آغاز جناب قاری مفتی محمد جہانگیر قادری کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا ۔ جس کے بعد میزبانِ محفل نے محفلِ نعت کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی جسے تمام شرکا نے سراہا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔
محفل کے اختتام پر جناب مولانا حفیظ الرحمٰن عابد الازہری مہتمم جامع گلزارِ مدینہ حسن ابدال نے راقم الحروف کے والدِ گرامی قدر ملک عبد الحمید رحمہ اللہ (تیسرا سالِ وصال ) حضرت طارق سلطانپوری رحمہ اللہ اور تمام جملہ حاضرین کے فوت شدگان کے لیے خصوصی دعا فرمائی ۔
جناب صدرِ محفل ، جو باوجود عمرِ پیری اور علالتِ طبع کے ، اس محفل میں رونق افروز ہوئے تھے ، نے اس محفل کے انعقاد پر بے انتہا خوشی کا اظہار فرمایا اور اپنی خصوصی دعاؤں سے نوازا اور صدر اور سیکرٹری محفلِ نعت حسن ابدال کو اس سلسلے میں ہر ممکن معاونت اور رہنمائی کا یقین دلایا ۔ اپنے صدارتی خطبے میں انھوں نے نعتیہ محافل کے انعقاد کی ضرورت و اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اسے نہ صرف رضائے رسول ﷺ بلکہ شخصی فلاح و دارین کا بھی وسیلہ قرار دیا ۔
اس مشاعرے کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ بیشتر شرکا وقت پر پہنچ چکے تھے اس لیے مشاعرہ اپنے وقت پر شروع ہونا تھا لیکن بوجہ نمازِ عصر ، اتفاقَ رائے سے وہیں باجماعت نماز ادا کر کے 20 منٹ دیر سے آغاز کیا گیا ۔ اور یہ دیر صرف نمازِ عصر اوّل وقت میں ادا کرنے کی وجہ سے قصداً کی گئی ۔ انشا اللہ محفلِ نعت حسن ابدال اپنی اس پالیسی پر ہمیشہ کاربند رہے گی کہ ہر محفل مقررہ وقت پر ہی شروع ہو ۔
مشاعرے میں پیش کیے گئے گلہائے عقیدت[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
اس پاکیزہ بزم میں پیش کیئے گئے گلدستہ ہائے نعت میں سے نمونہِ کلام ملاحظہ کیجیے
محمد عثمان نائم – صدرِ محفل
سراغِ تابشِ ہستی ، چراغِ جاں سمجھتے ہیں
نبی کے ذکر کو ہم حاصلِ ایماں سمجھتے ہیں
ہمیں بھی شاہِ شاہاں جرّات آموزی عطا کیجے
ذرا سی موج اٹھتی ہے اور ہم طوفاں سمجھتے ہیں
پروفیسر قیصر ابدالی - مہمانِ خصوصی
جب سے بھولے ہیں اطاعت کا سبق اللہ کا
تب سے رسوا ہیں زمانے میں مسلمان بہت
میری کشتی کا محافظ ہے مدینے والا
مجھ کو کیا خود جو آجائیں طوفان بہت
سید نصرت بخاری - مہمانِ اعزاز
وہ مری نعت کا محتاج نہیں ، جنّت سے
جس کی اولاد کی پوشاک سلی آئی ہو
رحمتِ عالی ! فزوں تر سخن آرائی ہو
نعت کہتا ہوں ، مری حوصلہ افزائی ہو
سعادت حسن آس
پیار میں گوندھے ہوئے لفظ ہوں ، داد ہر حرف پائے بڑی دیر تک
نعت سرکار کی ہو رقم اس طرح ، ہر زباں گنگنائے بڑی دیر تک
عارف قادری
کر دیتا ہے حاضر درِ محبوب پہ عارف
یہ عشق تو پابندِ وسائل نہیں ہوتا
بن جاتا ہے کونین میں پستی کی علامت
جو عظمتِ سرکار کا قائل نہیں ہوتا
محمد آصف قادری
کر رہے ہیں جب مری ہر اک ضرورت کا خیال
کیوں میں دیکھوں غیر کا در ، آپ کے ہوتے ہوئے
پروفیسر ہاشم علی ہمدم
کس کو معلوم ہے سجدے کی حقیقت ہمدم
کون سمجھے گا بہتّر کی شہادت کیا ہے
دل کی دھڑکن سے مدینے کی مہک آتی ہے
طیبہِ جان میں صر صر کی طراوت کیا ہے ؟
ڈاکٹر طارق فردوسی
جس زباں سے کلامِ پاک ملا
جاؤں میں اس زبان کے صدقے
عمران حیدر
ترا ذاکر خدا خود ہے ، کراں کیویں ثنا تیری
اساں لبدے ہاں بخشش دا بہانہ یا رسول اللہ
حسین امجد
مدینہ شہر کو ہر شہر پر فضیلت ہے
ہر ایک شہر تو شہرِ رسول ہوتا نہیں
حضور ! آپ سے نسبت کا معجزہ ہے کہ میں
ہزار بار بگڑ کر سنور بھی سکتا ہوں
ابرار نیّر
میرے کردار پہ انگلی نہ اٹھائے کوئی
تیرے کردار سے اتنی تو شناسائی ہو
انگلیاں کاٹ کے حیران نہ ہو ، دیکھ ادھر
سر کٹاتا ہے جو دیکھے مرے آقا کی جھلک
حافظ عبدالغفّار واجد
چند گھڑیاں خواب میں بھی یوں
جیسے تھا پورا مہینہ خواب میں
دیکھا اور مبہوت ہو کر رہ گیا
تھا ادب کا یہ قرینہ خواب میں
ڈاکٹر ملک ذوالفقار علی دانش - ناظمِ مشاعرہ
دل میں نبی کی یاد بسانے کا وقت ہے
ہر وقت ، نعت سننے سنانے کا وقت ہے
دیکھو تو ہے یہ محفلِ میلادِ مصطفےٰ
سوچو تو اپنی بگڑی بنانے کا وقت ہے