سخن کو ان کے حسیں نام سے سجاتے ہیں ۔ شان الحق حقی

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


شاعر: شان الحق حقی

نعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

سخن کو ان کے حسیں نام سے سجاتے ہیں

ہم اپنا مان اسی صورت سے کچھ بڑھاتے ہیں

بساطِ فکر چمن زار ہو گئی گویا

جو لفظ ہوتے ہیں موزوں ،مہکتے جاتے ہیں

ملی ہے ان کوجو کچھ ان کے رنگ وبو کی رمق

توپھول جامے میں پھولے نہیں سماتے ہیں

بہ پیشِ نور ازل جائے استعارہ کہاں

جو نقش سامنے آتے ہیں بجھ سے جاتے ہیں

ہے ذاتِ حق اَحَد وحیّ و مالک وداور

ہم ان حروف میں ان کابھی نام پاتے ہیں

خداکی دین یہ گلہائے نعت ہیں،جن کو

ہم اپنی ہیکلِ تخییل پر سجاتے ہیں

ہمیں شکایتِ محرومیِ نظارہ نہیں

انہیں توہم کھلی آنکھوں سے دیکھ پاتے ہیں

کرشمے ہیں اسی نورِ ازل کے ماہ و نجوم

یہ سب انہی کے ہیں جلوے جو جگمگاتے ہیں

اداہو کس سے بھلا حق ثنائے خواجہ کا

نہ پوچھئے کہ یہ مضموں کہاں سے آتے ہیں


رسائل و جرائد جن میں یہ کلام شائع ہوا[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نعت رنگ ۔شمارہ نمبر 25