شمس الدین رضوی

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

مکمل نام : محمد شمس الدین رضوی علیمی

تخلص : شمسؔ

شہر : سدھارتھ نگر، اتر پردیش انڈیا


نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

ملزم و مجرم و ناکارہ سیہ کار ہوں میں

"خوار و بیمار و خطاوار و گنہ گار ہوں میں"


فرطِ گریہ سے رواں اشکِ ندامت کی ہے سیل

چشمِ الطاف ہو اب حاضرِ دربار ہوں میں


جس کی دشمن نہیں بنتی ہے کبھی فصلِ خزاں

شجرِ ناز کی وہ شاخِ ثمر دار ہوں میں


جس کا ہر پھول بنا مرکزِ عشقِ سرور

وادیِ عشق کا وہ تختۂِ گلزار ہو میں


جلوۂ جاناں کا جب سے ہے لگایا پہرا

دل مرا مرکز انوار ہے ، بیدار ہوں میں


قیدِ ظلمت کی سیاہی سے ہوں آزاد،سنو!

رخِ تاباں کے تصدق ہی ضیابار ہوں میں


جس کی طلعت سے ہو معدوم قنادیلِ عناد

چرخِ الفت کا وہی مہر پر انوار ہوں میں


تذکرہ یوسفِ کنعاں کا بھی ہے خوب مگر

طالبِ حسنِ رخِ سیدِ ابرار ہوں میں


قطرۂِ عشقِ رسالت ہے میسر مجھ کو

یوں سمجھ لیجیے اک قلزمِ زخّار ہوں میں


واصلِ نارِ جہنم جو کیے دیتی ہے

تیغِ حق عشق کی وہ آہنی تلوار ہوں میں


مندمل ہوتا نہیں زخم شناسائی کا

عشق کے درد میں کچھ ایسے گرفتار ہوں میں


نجدیا! جذبۂِ شبّیر ہے دل میں میرے

مجھ کو تنہا نہ سمجھ لشکر جرّار ہوں میں


فرقتِ ہجر میں ملتی ہے کہاں جائے پناہ

وصل کے حجرۂِ راحت کا طلب گار ہوں میں


تشنگی میری بجھانا کوئی آسان نہیں !

بادۂِ عشق کا سن ساقیا ! میخوار ہوں میں


چشمِ عشاق میں رہتا ہوں میں پھولوں کی طرح

دشمنِ شاہِ امم تیرے لیے خار ہوں میں


نقشِ پائے شہِ کونین کا غازہ مل کر

غیرتِ شمس و قمر رشکِ چمن زار ہوں میں


آشیاں نعت کے گلشن میں بنا ہے میرا


شمسؔ صحرائے غزل سے سدا بیزار ہوں میں