مصور کارنجوی

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

مصور کارنجوی کا اصل نام مرزا احمد بیگ اور تخلص مصور تھا. وہ 1907 میں انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے ضلع آکولہ کے شہر کارنجہ (موجودہ ضلع واشم)میں پیدا ہوئے. تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسی کا پیشہ اختیار کیا. ان کی تعلیم اور بعد ازاں ملازمت بھی مراٹھی اسکول میں ہوئی تھی اس لیے وہ اردو سے ناواقف تھے. انہیں تھیٹر سے دلچسپی تھی. انہوں نے کئی ڈراموں میں اداکاری بھی کی جسے دیکھ کر سہراب مودی نے ان کی تعریف کی اور انہیں بمبئی چل کر تھیٹر میں اداکاری کی دعوت دی. لیکن گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے انہوں نے انکار کردیا. تھیٹر کے لیے لکھے جانے والے ڈراموں اور مکالموں کی وجہ سے مصور کارنجوی اردو کی طرف مائل ہوئے اور اردو سیکھی. بعد ازاں انہوں نے شاعری کی جس کے نتیجے میں ان کے چار مجموعے شائع ہوکر مقبول عام ہوئے. ان میں رنگینیاں (1953) نیرنگِ مصور (1966) جلال و جمال (1977)اور رنگِ حیات (1980) شامل ہیں.

مصور کارنجوی کی نعتیں :


نعتیں

مرزا احمد بیگ مصور کارنجوی (مرحوم) مہاراشٹر،؛ انڈیا




شفیع المذنبیں آئے جہاں کے تاجدار آئے وہ آئے اس طرح جیسے بہارِ جلوہ. بار آئے


سراپا رحمتِ کونین کے آئینہ دار آئے
ندا آئی، مبارک ہو، شہ عالی وقار آئے


نگاہِ حق نگر کرتی تھی جن کا انتظار آئے

عجب انداز لے کر گردشِ لیل و نہار آئے

فضا رنگینیاں لائی، ہوائے مشکبار آئی

صبا گلریزیاں کرتی ہوئی بے اختیار آئی
زمین کو چومنے گلزارِجنت کی بہار آئی
تیرے محبوب کیسی شان سے پروردگار آئے


بتاؤ تو کسی نے راہبر ایسا بھی دیکھا ہے

حق و صدق و صفا کا مستقر ایسا بھی دیکھا ہے

خدا کی خاص ہو جس پر نظر ایسا بھی دیکھا ہے نبی دیکھے ہیں دنیا نے، مگر ایسا بھی دیکھا ہے کہ جس کو اپنی امت کی خطاؤں پر بھی پیار آئے


مصور امتی ہم بھی ہیں لیکن بے عمل، توبہ! کچھ ایسا پڑ گیا ہے اب دماغوں میں خلل توبہ! دکھائیں گے وہاں کیا منہ جو آئے گی اجل توبہ! نظر آئیں گے ہم ان کی حضوری میں خجل توبہ! خدا توفیق دے تو بے قراروں کو قرار آئے


نعت


کونین کے ظہور میں کن کی صدا ہیں آپ

شمس و قمر سلام کریں وہ ضیا ہیں آپ 


حسنِ ازل نثار ہے، وہ دلربا ہیں آپ

کتنے حسیں وجود میں جلوہ نما ہیں آپ 

یہ شان، آن ہے تو خدا جانے کیا ہیں آپ


فہم و خیال سے ہی ورا الورا رسول حق آشنا نگاہ میں نورِ بقا رسول

آواز آئی عالمِ بالا سے یا رسول
صلے علی شفیعِ امم، مرحبا رسول 

پروردگار کُل کا حسیں مدعا ہیں آپ


کونین کا ظہور فقط آپ کے سبب

قدسی بھی نام آپ کا لیتے ہیں باادب

المختصر کہ حق نے کیا عرش پر طلب 

پوچھا جو انبیاء نے کبھی آپ کا لقب فرمادیاخدا نے حبیب خدا ہیں آپ

تمثیل کیا وجودِ عدیم المثال کی

توصیف کیا حضور کے حسن و کمال کی ممکن نہیں رسائی شعور و خیال کی

تصویر کیا بناؤں مصور جمال کی

حق یہ کہ ہر کمال کی اک انتہا ہیں آپ


نعت


عالم ہے گدائے درِ دربارِ محمد

فردوسِ بریں سایہءگلزارِ محمد
ہر شے سے عیاں جلوہء اسرارِ محمد
اللہ رے یہ نیرنگیء انوارِمحمد

دیدارِخداوند ہے دیدارِ محمد

کونین میں آتا ہے نظر جلوہء رحمت
ہر لمحہ فراوانیء اعجاز کی کثرت
ہر پل ہے نمودار فضیلت ہی فضیلت

ملتی ہے یہاں طالبو! ایمان کی دولت


سرکارِ محمد ہے یہ سرکارِ محمد

اللہ کو دیدارِ محمد کی طلب تھی

پوری ہوئی معراج میں جو مرضیء رب تھی
خود اپنے ہی پرتو سے ملاقات کی شب تھی
فردوس میں آراستہ اک بزمِ طرب تھی
افلاک نشیں کر گئے دیدارِ محمد 


کیا عالمِ بالا میں محمد کا اثر ہے معراج کی شب عرشِ معلیٰ پہ گزر یے چرچا ہے فرشتوں میں یہ کیا شانِ بشر ہے

کیا ذات محمد ہے کسے اس کی خبر ہے

ہے صرف خدا واقفِ اسرارِ محمد کونین کے سردار ہیں، وہ شافعِ محشر وہ حسنِ مکمل ہیں وہ اوصاف کے پیکر

وہ جانِ دو عالم ہیں رسولوں کے ہیں رہبر

مصرعہ ہے یہ تصویرِ مصور کی زبان پر

ہر حسن میں ہے پر توِانوارِ محمد


نعت


اعجاز نمایاں ہیں اسرارِ محمد سے

کونین ہوئے روشن انوارِمحمد سے

کیا کیا نہ کھلے عقدے گرفتارِ محمد سے

اللہ متاثر ہے کردارِ محمد سے
ولیوں نے رسولوں نے افلاک نشینوں نے 

تقدیس خریدی ہے بازارِ محمد سے کیا اس کی بلندی ہے کیا اس کی حقیقت ہے نیچا ہے فلک اوجِ معیارِ محمد سے

دنیا کے رسولوں سے، گردوں کے فرشتوں تک

پاتے ہیں فضیلت سب دربارِ محمد سے

رفتارِ محمد سے تا عرش نشاں ابھرے وحدت کی ہوئی شہرت گفتارِ محمد سے اللہ کے بندوں نے آرام و سکون پایا سایہ جو ملا اوجِ ایثارِ محمد سے

تبدیل بہاروں میں ہو جائے خزاں و اللہ

گزرے جو کبھی راہِ گلزارِ محمد سے دنیا میں رہو اعلیٰ، عقبیٰ میں رہو افضل پاجاؤ تو کچھ صدقہ دربارِ محمد سے

پھر کیوں نہ شمار اس کا مستوں میں کرے کوئی سرشار مصور ہے اذکارِ محمد سے