وُفورِ شوق میں نعتِ نبی جب گنگنائی ہے
شاعر: مشاہد رضوی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
وُفورِ شوق میں نعتِ نبی جب گنگنائی ہے
اُسی کی برکتوں سے اپنی قسمت جگمگائی ہے
وہ آئے تو ہوئی طرزِ حیا انسان کو حاصل
انھیں سے روشنی تہذیب کی عالم نے پائی ہے
شعورِ علم بخشا مصطفیٰ نے نورِ اقرا سے
جہالت کی ہر اک شمع تدبر سے بجھائی ہے
مچا کہرام دنیا کے صنم خانوں میں اُس لمحہ
صدا تکبیر کی خیرالبشر نے جب لگائی ہے
بڑھا دیجے شہِ والا ذرا دستِ کرم اپنا
گھٹا چاروں طرف رنج و ملال و غم کی چھائی ہے
مظالم روز افزوں ہورہے ہیں اہلِ ایماں پر
امیرِ بدر آقا آپ ہی کی اب دہائی ہے
علاجِ خستگیِ زیست ہے الفت شہ دیں کی
انھیں کی سنتِ اقدس پہ چلنے میں بھلائی ہے
میں دل سے ان صحابہ پر نہ کیوں قربان ہوجاؤں
نویدِ خلد جن کو شاہِ بطحا نے سنائی ہے
رسد آئی ہے طیبہ سے مری امداد کی خاطر
مشاہدؔ جب صدا محبوبِ داور کو لگائی ہے
۲۰؍ رمضان المبارک 1443ھ /22 ؍اپریل 2022ء بروز جمعہ
٭٭٭
پچھلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
وادیِ شرک میں توحید کی دعوت کے لیے