چشم ِ پرنم کو لیے باب ِ حرم تک پہنچا

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


شاعر : ساغر ہاشمی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

چشم ِ پرنم کو لیے باب ِ حرم تک پہنچا

شکر صد شکر میں دہلیز ِ کرم تک پہنچا


ترے جلووں سے ضیا مانگنے خورشید فلک

سر بہ خم ہو کے ترے نقش ِ قدم تک پہنچا


نعت کا فیض چلا باب ِ ابو طالب سے

نور پھیلاتا عرب سے جو عجم تک پہنچا


ان فدایان ِ رسالت پہ کروڑوں ہوں سلام

دین ِ حق جن کی بدولت ہے جو ہم تک پہنچا


زائر طیبہ نے جب ذکر کیا طیبہ کا

یوں لگا جیسے میں گلزار ِ ارم تک پہنچا


روشنی دینے لگے نعت کے الفاظ مرے

اسم ِ سرکار دو عالم جو قلم تک پہنچا


آپ کے در کی غلامی کا شرف ایسا ہے

جس نے بھی پایا وہی اوج ِ حشم تک پہنچا


در بدر پھرتے اسے پھر نہیں دیکھا ساغر

جو بھی اک بار در ِ شاہ ِ اممُ تک پہنچا

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے صفحات
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے اضافہ شدہ کلام