لفظ، خاموش ہے اور دیدۂ حیرت چُپ ہے

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 20:21، 17 اگست 2019ء از ADMIN 2 (تبادلۂ خیال | شراکتیں)

(فرق) → پرانا نسخہ | Approved revision (فرق) | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search

شاعر : مقصود علی شاہ

کتاب : مطاف ِ حرف

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

مطاف ِ نعت صفحہ ۱۰۱/۱۰۲

لفظ، خاموش ہے اور دیدۂ حیرت چُپ ہے

مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت چُپ ہے


سوچتا ہوں مَیں مدینے کا سفر کیسے کروں

دل دھڑکتا ہے مگر جانے کی ہمت چُپ ہے


ایک تبریک کی صورت میں کہی، جب بھی کہی

ورنہ یہ نعت ہے اور ساری بلاغت چُپ ہے


روبرو آپ کے پھر کون رکھے حرفِ نیاز

جذب و اظہار تو دیوار کی صورت چُپ ہے




نطق ویسے تو محبت کی ہے تطبیق، مگر

چہرۂ مصحفِ زندہ کی تلاوت، چُپ ہے


حیطۂ فہم سے آگے کا سفر ہے معراج

اور معراج سے آگے کی حقیقت چُپ ہے


ایک پتھرائی ہوئی آنکھ ہو جیسے خاموش

مرے احساس کی مقؔصود عقیدت چُپ ہے



پچھلا کلام : اذن ہو جائے تو تدبیر سے پہلے لکھ لوں مطاف ِ حرف اگلا کلام : نور کی اوٹ کے ما بعد زیارت ہو جائے

مزید دیکھیے

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات