لے کے آئے مدینہ سے ہم روشنی

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search

شاعر : اسلم فیضی

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

لے کے آئے مدینہ سے ہم روشنی

اب نہ ہوگی کبھی دل سے کم روشنی


نُور پھیلا زمانے میںجب آپؐ کا

ہر طرف ہو گئی یم بہ یم روشنی


میرے آقاؐ کا جس دَم کرم ہوگیا

قریہ قریہ ہوئی دَم بہ دَم روشنی


آپؐ آئے تو سارے اندھیرے مٹے

ہر زماں ہوگئی محترم روشنی


ساری دنیا کے نورِ مبیں آپؐ ہیں

اب نہ ہو گی زمانے میں کم روشنی


جن کے دل میں محبت رہے آپؐ کی

چوم لیتی ہے اُن کے قدم روشنی


جب چلے پڑھ کے اسمِ محمدؐ کو ہم

بَن گئی بابِ لطف و کرم روشنی

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات