اُسی کی دعاؤں میں تاثیر ہوگی
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
شاعر: مشاہد رضوی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
اُسی کی دعاؤں میں تاثیر ہوگی
شہِ دیں کی جس دل میں توقیر ہوگی
نہ کیوں موت کی عاشقوں کو ہو خواہش
لحد میں شہِ دیں کی تنویر ہوگی
عطا ہو جو طیبہ میں اے کاش مدفن
مکمل یوں خوابوں کی تعبیر ہوگی
اُسے کیا غرض ہو طبیب و مطب کی
وہ خاکِ شفا جس کی اکسیر ہوگی
تو قرآن میں پائے آقا کی سیرت
اگر سامنے تیرے تفسیر ہوگی
مصائب میں پڑھیے دُرود اُن پہ پیہم
شکستہ ہر اک غم کی زنجیر ہوگی
ترے لب پہ ہے اُن کی نعتیں مشاہدؔ
منور تری کیوں نہ تقدیر ہوگی
۱۸؍ رمضان المبارک 1443ھ /20 ؍اپریل 2022ء بروز بدھ
٭٭٭
پچھلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]