جب سے لب پر ثناے سرور ہے

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

شاعر: مشاہد رضوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

جب سے لب پر ثناے سرور ہے

ماہِ قسمت مرا منور ہے

خوشبوے زلفِ مصطفیٰ کے سبب

ہر گلِ گلستاں معطر ہے

جسمِ انور ہے اُن کا بے سایہ

ہاں مگر اُن کا سایہ سر پر ہے

اُن کی سیرت نمونۂ کامل

عام اور خاص کی جو رہبر ہے

اُن کے کوچے کی بات کیا کہیے

ذرے ذرے میں تابِ گوہر ہے

اُن پہ پڑھنا دُرود ہر لمحہ

وجہِ تسکینِ قلب ِمضطر ہے

اُن کی باتیں کمال کی ضامن

اُن کا رستہ نجات کا در ہے

اسم احمد علاج ہر غم کا

ورد سے اُس کے دور ہر شر ہے

برکتِ نعت ہے مشاہدؔ یہ

دل میں جو نور کا سمندر ہے

۱۷؍ رمضان المبارک 1443ھ /19؍ اپریل 2022ء بروز منگل

٭٭٭


پچھلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

جب سے لب پر ثناے سرور ہے


اگلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اُسی کی دعاؤں میں تاثیر ہوگی