جن کے دلوں میں الفت خیرالوریٰ نہیں

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

شاعر: مشاہد رضوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

جن کے دلوں میں الفت خیرالوریٰ نہیں

وہ مستحقِ رحمت ِرب العلیٰ نہیں

فردوس میں ملے گی جگہ کس طرح انھیں

جن کو شہِ انام سے بالکل وفا نہیں

وہ شاہراہِ فوز و ترفع سے دور ہے

رستہ رسولِ پاک کا جن کو جچا نہیں

ان کو ملی گی بہجت و فرح و سرور کیا

دل جن کا عشقِ شاہ میں غم آشنا نہیں

ان کا کرم تو عام ہے کل کائنات پر

حاجت نہ پوری ہو کبھی ایسا ہوا نہیں

ایسا کوئی مریض جہاں میں نہیں کہیں

در پر شہِ مدینہ کے جس کی دوا نہیں

بعدِ ممات ہے وہ بقا کے جہان میں

جو مٹ گیا حضور پہ اس کو فنا نہیں

منگتوں کو پل میں داتا بنادیتے ہیں وہی

محروم کوئی طالبِ جود و سخا نہیں

ایسی سخن شناشی مشاہدؔ عبث ہی ہے

جب محورِ خیال نبی کی ثنا نہیں

ستائیسویں شبِ رمضان المبارک /28 ؍اپریل 2022ء شب ِ جمعہ

٭٭٭


پچھلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

ہے زمینوں میں آسمانوں میں


اگلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

جب سے مری زباں پر نعتِ نبی سجی ہے