ہے زمینوں میں آسمانوں میں

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

شاعر: مشاہد رضوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

ہے زمینوں میں آسمانوں میں

بات ان کی چلی اذانوں میں

جب جمیل الشیم ہوئے پیدا

نور پھیلا سیاہ خانوں میں

ان کی داد و دہش کے کیا کہنے

ان سے ہیں برکتیں مکانوں میں

لحظہ لحظہ انھیں کا چرچا ہے

سارے وعّاظ کے بیانوں میں

چار سُو ہیں حکومتیں ان کی

ان کا سکہ رواں خزانوں میں

ان کا ثانی کہیں نہیں پایا

ڈھونڈا جبریل نے زمانوں میں

عنبریں زلف سے بہاریں ہیں

خلد کے سارے گلستانوں میں

سر کٹاتے تھے نام والا پر

ایسی تعظیم تھی دوانوں میں

اے مشاہدؔ ہمیشہ ہوتی ہیں

مدحتیں ان کی ہر زبانوں میں

۲۶؍رمضان المبارک 1443ھ/28؍اپریل 2022ء بروز بدھ

٭٭٭

پچھلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

زہے قسمت زیارت کی سعادت ہم کو مل جائے


اگلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

جن کے دلوں میں الفت خیرالوریٰ نہیں