دل بھی سلگاؤ کہ پھر عشق نکل کر آئے ۔ آل عمر

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search


شاعر : آل عمر

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

دل بھی سلگاؤ کہ پھر عشق نکل کر آئے

روشنی اصل میں وہ ہے کہ جو جل کر آئے


کب سے منسوخ زمانہ تھا زمیں پر رائج

پھر حضور (ص) آپ گئے وقت بدل کر آئے


کیا سفر تھا وہ مدینے سے محمد کی طرف

لوگ بےہوش تھے اور ہوش میں چل کر آئے


دوستا باغ کی بدلی ہوئی حالت پہ نہ جا

ان کو بھی دیکھ جو مکے سے نکل کر آئے


چل کے سرکار گئے غارِ حرا تک جبکہ

غار کو چاہیے تھا پاس وہ چل کر آئے


مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات