زہے قسمت زیارت کی سعادت ہم کو مل جائے

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

شاعر: مشاہد رضوی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

زہے قسمت زیارت کی سعادت ہم کو مل جائے

مدینہ طیّبہ کی پھر اجازت ہم کو مل جائے

گدایانِ در اقدس کی پیہم التجا ہے یہ

مدینہ آؤ رمضاں میں، بشارت ہم کو مل جائے

ہمارا اس طرح ہوجائے ایماں کامل و اکمل

شہنشاہِ مدینہ کی محبت ہم کو مل جائے

چلیں جو سیرت و سنت پہ دل سے شاہِ والا کی

مکرر دورِ ماضی کی جلالت ہم کو مل جائے

پڑھیں گے درد کے عالم میں ہم جونہی دُرود اُن پر

غم وحزن والم سے فرح و راحت ہم کو مل جائے

ہماری نیند کہلائے گی بڑھ کر وہ عبادت سے

کبھی جو خواب میں رویت کی لذت ہم کو مل جائے

رہے خود موت پر نازاں ہماری زندگانی خود

بقیعِ پاک میں اے کاش تربت ہم کو مل جائے

ولاے آل اطہارِ پیمبر کی طرح مولیٰ

صحابہ کی بھی الفت اور عقیدت ہم کو مل جائے

مشاہدؔ ہوگا اُس دن انبساطِ جاوداں حاصل

سرِ محشر جو اُن سے اذنِ مدحت ہم کو مل جائے

۲۵؍رمضان المبارک 1443ھ/27 ؍اپریل 2022ء بروز بدھ

٭٭٭

پچھلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

سارے عالم پر رواں ہے شاہِ کوثر کا جمال


اگلا کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

ہے زمینوں میں آسمانوں میں