گور بخش سنگھ مخمور جالندھری

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

سردار گوربخش سنگھ مخمور جالندھری کانام نامی اُردودنیا کے لئے محتاجِ تعارف نہیں ۔آپ کے والدکانام سردار سیو اسنگھ تھا جو بارہ مولہ (کشمیر ) کے باشندے تھے ۔

تعارف[ترمیم]

مخمورؔ جالندھری کی پیدائش 1953ء کو بارہ مولہ میں ہوئی لیکن آپ کی تعلیم و تربیت جالندھر میں ہوئی اس لیے جب کالج کے زمانے میں لکھنا پڑھنا اور شاعری شروع کی تو مخمورؔ جالندھری ہوگئے۔ مخمورؔ جالندھری سوشیالوجی میں ایم اے کرنے کے بعد حکومت پنجاب کے محکمہ صحت میں ملازم ہوگئے۔ مخمورؔ جالندھری بہترین نثرنگار بھی تھے،انھوں نے بہت سے طبع زاد ناول لکھے اور لاتعداد ‘رومانی جاسوسی ناولوں کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا۔ہندوپاک کے رسائل اوراخبارات میں ان کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ایک کہنہ مشق صحافی کے طور پر انھوں نے دہلی کے روزنامہ ’ملاپ‘ میں کام کرکے اپنی پہچان بنائی۔زندگی کے آخری برسوں میں انھوں نے ہندی میں کرنل رنجیت کے فرضی نام سے ایک بڑے پبلشنگ ادارے کے لیے دلچسپ جاسوسی ناول بھی لکھے،بحیثیت مجموعی گورنجش سنگھ مخمورؔ جالندھری ایک ہمہ صفت انسان تھے

شاعری[ترمیم]

شاعری میں علامہ سیمابؔ اکبرآبادی اور دل شاہجہاں پوری سے اصلاح لی۔نظریاتی طور پروہ ترقی پسند شاعر تھے سماجی موضوعات پران کی نظمیں بیحد معیاری اور اثرانگیز ہیں۔

نعتیہ شاعری[ترمیم]

مخمور جالندھری ایک ترقی پسند اور بے باک حقیقت نگار شاعر کی حیثیت سے اردو دنیا میں جانے جاتے تھے۔ہمارے اکثر مسلمان ترقی پسند شعراء خود کو مذہب ومسلک سے بالاتر دِکھانے کے لیے حمدونعت سے گریز کرتے رہے ہیں یا پھرانھیں اس کارِ نیک کی توفیق ہی نہیں ہوئی،لیکن مخمور جالندھری نے مزاجاً اشتراکی اور ترقی پسند ہوتے ہوئے ایسی نورانی نعت شریف تخلیق کی جس کی مثال ہمعصر بڑے مسلمان شعراء کے یہاں بھی مشکل سے ملے گی

نمونہ ءِ نعت[ترمیم]

پھیلا اُفق پہ نور رسالت مآب کا

ہیبت سے منہ اُترنے لگا آفتاب کا

سیاحِ عرش ، سائرِ کون و مکاں ہے تو

روح الامیں ہے نام ترے ہم رکاب کا

وعدے کا اِک مغنیِ آتش نوا ہے تو

ہر نغمہ کفر سوز ہے تیرے رباب کا

تاروں میں روشنی ہے تو پھولوں میں تازگی

یہ وقت ہے ظہورِ رسالت مآب کا

ظلمت کدوں میں ہیں سحر نو کی تابشیں

یہ فیض ہے ولادتِ حتمی مآب کا

مخمورؔ کیف نوررسالت سے مست ہوں

سب جانتے ہیں میں نہیں خوگر شراب کا

وفات[ترمیم]

یکم جنوری 1979ء کو ان کا انتقال دہلی میں ہوا ۔شعروادب سے بے پناہ دلچسپی آخرتک قائم رہی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

کنور مہندر سنگھ بیدی | کرپال سنگھ بیدار | ستنام سنگھ خمار | درشن سنگھ دکل | بلونت سنگھ فیض | گور بخش سنگھ مخمور جالندھری | پورن سنگھ ہنر | کرنیل سنگھ پنچھی | بی ڈی بیگم بوڑھ سنگھ