پکارتا ہے کسی بشر کو نہ دیکھتا ہے کسی کی جانب ۔ قاسم برکاتی

نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
Jump to navigationJump to search

شاعر : قاسم برکاتی

مطبوعہ : 2017 - بہترین نعت کی تلاش

کیٹگری: 1

کلام نمبر : 4

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پکارتا ہے کسی بشر کو نہ دیکھتا ہے کسی کی جانب

گدائے طیبہ ہے دیکھتا ہے مدینے والے سخی کی جانب


گل شفاعت کی خوشبوؤں سے فضائے محشر مہک اٹھے گی

وہ جب بھی دیکھیں گے روز محشر گناہگار امتی کی جانب


ہم اپنی پہچان کھوچکے ہیں ہم اپنے اوسان کھو چکے ہیں

حضور شفقت بھری نگاہیں ہماری بے چہرگی کی جانب


ہوائے طیبہ کی نسبتوں سے بلند پروازیاں ملی ہیں

خلا کی وسعت بھی دیکھتی ہے مری شکستہ پری کی جانب


حسیں تخیل حسیں تصور کے بیل بوٹے سمیٹ لے گا

غزال افکار جا رہا ہے شہ امم کی گلی کی جانب


بس اک کرن کا سوال لے کر سواد شب کا ملال لے کر

غریب صدیاں بھی دیکھتی ہیں طلوع مہر صدی کی جانب


ملے گی خیرات نور و نکہت مٹے گا رنج فراق و ہجرت

سفر میں ہیں سورجوں کے لشکر نقوش پائے نبی کی جانب


ہزار وں سورج نثار جس پر ہزاروں مہتاب جس پہ قرباں

مکان ظلمت میں رہنے والو چلو اسی روشنی کی جانب


ہے جن کے دل میں غبار طیبہ کی تابشوں کا حسیں سویرا

نظر اٹھاتے نہیں وہ قاسم کبھی شفق منظری کی جانب

نئے صفحات

2017 کی بہترین نعت کی تلاش[ماخذ میں ترمیم کریں]

تعارف
کیٹگری 1
کیٹگری 2
کیٹگری 3

کیٹگری 2 کی نعتیں[ماخذ میں ترمیم کریں]

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 |44 45 46 47 48
49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نئے اضافہ شدہ کلام